Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 13
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 13
Safaid Ishq by Sania Saeed
دلاور آپ یہاں …….اسنےحیران ہو کر پوچھا تھا….وہ بیڈ پر بیٹھی تھی….
جب اسے سفید کپڑوں میں ملبوس دلاور شاہ اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا…..
دلاور شاہ کے ہاتھ میں ایک ….سنہری رنگ کا چمکتا ہوا ڈبہ تھا………….وہ اچانک ابیہا کے پاس آکر بیٹھا تھا………ابیہا کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا……. میں تمہارے لئے لایا ہوں…..اس میں تمہارے میں لئے تحفہ ہے…
..یہ میرا پہلا اور آخری تحفہ ہے تمہارے لیے…..
اور مجھے یقین ہے اسکے بعد تمہاری زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی…….ابیہا ہونقوں کی طرح دلاور کو دیکھے جارہی تھی…..
ساتھ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بھی رواں…تھی………..آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ دلاور شاہ…..مجھے بے آسرا چھوڑکر چلے گئے…..اب یاد آئی ہوں میں آپکو……مجھے اپنے نام کے ساتھ باندھ کر خود دور ہوگئے……یہ پہلی بار تھی جب ابیہا کی زبان سے دلاور شاہ کے لئے شکوہ زبان پر لائی تھی……. ابیہا اب تمہارے یہ آنسو ہمیشہ کےلئے چھٹ جائیں…..گے…….میں تمہیں اپنے نام سے آزاد کرنے ہی تو آیا ہوں..
.. آج…….کے بعد تم میرے نام سے بھی آزاد ہو جاؤ گی…..دلاور شاہ آہستہ آہستہ دور ہو رہا تھا ابیہا سے وہ بس وہی بیٹھی رہ گئی تھی…….
ٹھک….ٹھک…ٹھک……کوئی بہت زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا……جس سے اچانک ابیہا کی آنکھ کھل گئی تھی……ایک دم ابیہا پسینے سے شرابور ہوگئی تھی……تو کیا یہ وہ خواب تھا.؟؟……کیا دلاور میرے خواب میں آئے تھے…؟؟.جب سے وہ دلاور شاہ کے نکاح میں آئی تھی……..پہلی دفع دلاور ابیہا کو خواب میں ملا تھا وہ بھی ایک تحفہ کے ساتھ…..وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ کیا ہو سکتا ہے………کہ ایک بار پھر درازہ بجایا گیا تھا…….وہ اپنی سفید چادر درست کرتی……اٹھی تھی…..دروازے کی چٹکی نیچےکی ……دروازہ واہ……کیا …تو سامنے.
..عائشہ بھابھی کھڑی تھی…..اب وہ ابیہا کا ہاتھ تھامے اندر کمرے کی طرف لی آئ ………کیا ہوا بھابھی خیریت ہے ……وہ عائشہ بھابھی سے مخاطب تھی…..عائشہ آنکھوں میں اشک لئے ابیہا کو دیکھ کر رہ گئ تھی…..کچھ ٹھیک نہیں ہے ابیہا…..آج عشاء کے بعد تمہارا نکاح ہے…….یہ الفاظ ابیہا کے لئے….آری سے کاٹ دینے جیسے لگے تھے……کی….کیا….بھابھی…..الفاظ حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے……آپ کیا فضول طات کررہی ہیں….کیا آپکو نہیں معلوم میں بیوہ ہوں کسی کی……میں سچ کہہ رہی ہوں..
یہ دادا سائیں کا حکم ہے…….تمہارا اور سلمان بھا کا نکاح ہے آج……..نن…نن…..نہیں….بھابھی یہ نہیں ہو سکتا……حویلی کے رواج صرف مجھ پر آکر توڑے جارہے ہیں…..ایسا کیوں بھابھی……….وہ ایک دم عائشہ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی…….جس پر عائشہ اسے تسلی کے دو بول بھی نہیں کہہ پارہی تھی……….اسنے اسے اپنے ساتھ لگائے ہی بیڈ پر بیٹھایا تھا…..اس کم عمر لڑکی پرٹوٹی قیامتوں کا سوچ کر وہ رو دی تھی…….مگر اسے ابیہا کو سنبھالنا تھا…….ابیہا میری جان خود کو ہلکان مت کرو……سب ٹھیک ہو جائے گا…..سلمان بھا نے سب حویلی والوں کے سامنے کہا یے……..وہ تم سے محبت کرتے ہیں….تم ان کے ساتھ خوش رہوگی…..تمہیں تو شکر کرنا چاہئے کوئی تمہیں اس عقوبت خانے سے نکا ل کر لے جا رہا ہے…..ورنہ تو ہمارے رسم و رواج کی پھینٹ چڑھی لڑکیاں……اپنے مرنے کا بس انتظار کرتی رہتی ہیں….تم تو پاگل خوش نصیب ہو جو کوئی تمہاری خاطر اس ظالم لوگوں کے لڑ رہا ہے……بغاوت پر اتر چکاہے…….تمہیں وہ ان لوگوں سے دور کے جا ئیں گے………. جہاں تم سکون سے رہوگی….تمہیں تو دوسری زندگی مل رہی ہے…..میری جان…..عائشہ کے دل میں ابیہا کے کئے ہمیشہ سے نرم گوشہ تھا….کیونکہ وہ تھی ہی اتنی معصوم….ابیہا کو سمجھا رہی تھی……
محبت……؟؟؟ابیہا کی سوئی بس لفظ محبت پر اٹکی ہوئ تھی……باقی باتیں تو جیسے وہ فراموش کر گئی تھی…..اس نے عائشہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تھا…
ہاں محبت ……..محبت کرتے ہیں وہ تم سے ابھی ابیہا…….تمہاری خاطر وہ اپنی جان تک دینے کو تیار تھے……
نہیں…..بھابھی…..کسی کو رسوائی کی دلدل میں دکھیلنامحبت تو نہیں ہو سکتی کم ازکم….اسنے اپنے آنسوؤں کو پونچھ کر….اٹل سے انداز میں باور کروایا تھا…..
ایک دم دروازہ کھلا تھا…..بی بی سائیں اندر آئ تھیں….
عائشہ ابیہا کو لال چنی اوڑاؤ……کچھ دیر میں…نکاح خواہ آتے ہونگے…….
نہیں…..نہیں مامی سائیں نہیں…….یہ الفاظ……مامی سائیں پلیز ایسا مت کریں میرے ساتھ….وہ نامی سائیں دیکھ کر انکے قدموں میں گر گئی تھی……بے بسی کی انتہا تھی یہ…..ایک باکردار لڑکی اپنے کردار کو بچانے کےلئے کسی کے پاؤں میں گر گئی تھی……..میں نے کوئ گناہ نہیں کیا…..میں نے کوئی گناہ نہیں کیا…..آپ مجھ پر بھروسہ کریں…..میں نے آپکے بیٹے کے ساتھ……بے وفائی نہیں کی……سن رہی ہیں ……آپ……ابیہا نے چلا کر کہا تھا….جس سے مامی سائیں…..ہوش میں آئ تھیں…….
اٹھو میرا بچہ ایسے مت کہو…….انہوں نے ابیہا کو اپنے قدموں سے اٹھایا تھا…….میں جانتی ہوں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے….مجھے معاف کردو……میں نے تم پر شک کیا تھا……..انہوں نے ابیہا کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے…..ندامت انکی آنکھوں سے واضع ہو رہی تھی……
تو پھر آپ نانا سائیں کو کہے نہ….ایسا نہیں کریں میرے….ساتھ …..میں مر جاؤں گی…….
ابیہا کیا کبھی اس حویلی میں عورتوں کی چلی ہے جو اب……چلے گی……..یہاں مردوں کی حکومت ہے…..اور ہم عوتیں تو انکے پاؤں کی جوتی کے برابر ہیں……ہم صرف حکم کے غلام ہیں…..میرا بچہ…….باباسائیں کا فیصلے….سے….انحراف کرنا میرے بس میں نہیں…….ابیہا کو اپنے بازؤں کے حلقے میں لے کر اسے سمجھانا چاہا تھا………..عائشہ اسے تیار رکھنا…..
وہ عائشہ کو کہہ کر……..جا چکی تھی….
چلو ابیہا اپنا حلیہ درست کرو……نہ پہلی بار اس سے کچھ کسی نے پوچھا تھا…..نہ اب پوچھا جا رہا تھا……یہ اب ہمارے اردگرد ہوتا ہے……جس چیز کی شریعت اجازت دیتی ہے…..
اسکی چیز کی اجازت فرسودہ رسم و رواج اجازت نہیں دیتے……کچھ حلقوں….میں یہ تبدیلی آئی ہے…..کہ بیٹی کو بتا دیا جاتا ہے…..ہم نے تمہارا رشتہ کر دیا ہے…..مگر یہ نہیں پوچھا جاتا کیا تم شخص سے شادی کرنا چاہتی بھی ہو کہ نہین……مطلب ہر طرف سے عورت کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے…….
حواکی بیٹی کو اس دلدل میں زبردستی ڈال دیا جاتا ہے……………………..””””””””””””””””
“زبردستی جب بیٹھا دی جائیں…
ہیریں ڈولی میں….
جنازے ان کو کہتے ہیں….
وہ باراتیں نہیں ہوتی..”
