Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 4
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 4
Safaid Ishq by Sania Saeed
وہ دادا سائیں کے جانے کے بعد اپنا روم لوک کر کے پھر سے اپنے پرانے شغل میں مصروف ہو چکا تھا…….باہر سے بہت شور ڈھول گانوں کی آوازیں آرہی تھیں جو اس کے لئے نا قابل برداشت تھی وہ چار سے پانج گلاس گندے مشروب کے اپنے اندر انڈیل چکا تھا مگر دل کا درد کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا……جب گھٹن مزید بڑھنے لگی تو وہ اس گھٹن کو کم کرنے کےلئے چھت پر جانے لگا ابھی اپنے کمرے سے باہر نکلا ہی تھا سامنے سے آتے کسی وجود سے اس کا زور دار تصادم ہوا تھا اگر وہ مقا بل کو بروقت اپنے مضبوط بازؤں کی گرفت میں نہ لیتا تو یقینا ابیہا زمین بوس ہوچکی ہوتی وہ تھی بھی تو نازک سی لڑکی کیسے مضبوط چٹان جیسے مرد کا ٹکڑاؤ برداشت کر سکتی تھی ابیہا نے مضبوطی سے آنکھیں بند کر لی تھی جبکہ سلمان شاہ اس کی بند آنکھوں کو تک رہا تھا……..
تو بے مثال ہے تیری کیا مثال دوں؟؟
آسمان سے آئی ہے یہ کہہ کے ٹال دوں….
“تم جب جب گرنے لگو گی میں تمہیں تھامنے کے لئے تیار رہوں گا”اس نے ابیہا کے کان میں سرگوشی کی تھی…….ابیہا نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں اپنی سیاہ آنکھوں سے سلمان شاہ کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تھا وہ برداشت نہیں کر پائی تھی اپنے آپ کو اسکی گرفت سے آزاد کرواتے وہاں سے دوڑ لگا چکی تھی جب کے سلمان شاہ کی نظروں نے اسکا تب تک تعاقب کیا تھا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو پائی تھی…….وہ,اسکی آخری ملاقات تھی ابیہاسے …؟یا آخری دیدار وہ یہ سوچ کر رہ گیا تھا مگر کون جانے وہ غلط ثابت ہونے والا تھا………
وہ آخری دن تھا جب اس نے امریکہ جانے کا اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا اب کچھ دیکھنا اس کے بس میں نہیں رہا تھاوہ اسی رات حویلی کے کسی بھی فرد کو بتائے بغیر کراچی کے لئے نکل چکا تھا……دلاور شاہ کو ایک ٹیکسٹ میں اپنے اچانک فیصلہ کے متعلق آگاہ کیا پھر اپنا موبائل بند کر دیا تھا تا کہ کوئی اس سے رابطہ نہ کر پائے…….کراچی میں اپنے ایک بہت اچھے یونیورسٹی کے دوست کے گھر قیام کیا اور دوسری رات دس بجے کی فلائٹ سے وہ اپنی پاک سر زمین,اپنے محبت کر نے والے اپنوں کو صرف ایک محبت کے لئے چھوڑ kar چلا گیا شاید سچ کہا جاتا ہے محبت بہت خود غرض ہوتی ہے اور اسکا درد تو ناقابل برداشت جو یہ کہتے ہیں محبت کے بنا مر جائیں گے خیر مرتا تو کوئی nai ha پر زندگی کی ترجیحات,اصول سب بدل جاتے ہیں……..
ہم جب دنیا سے تنگ آیا کرتے ہیں..
اپنے ساتھ اک شام منایا کرتے ہیں___![]()
دوسری طرف حویلی میں جب یہ خبر پھیلی سب بہت پریشان و حیران رہ گئے دلاور نے ہر اپنے اور سلمان کے دوست سے پتہ کروایا پر پتہ نہ چل سکا تائی سائیں تو کچھ زیادہ ہی پریشان تھی عباد کی شادی جو انتہائی دھوم دھام سے ہو نی تھی وہ ویسے نہیں ہو پائی…..دلاور شاہ کی منگنی کی رسم بھی بس تائی سائیں کے انگھوٹی پہنانے تک محدود رہ گئی سلمان شاہ نےامریکہ پہنچتے ہی سب سے پہلا فون دلاور شاہ کو کیا تھا اس نے اچھی خاصی سلمان شاہ کی کلاس لی تھی مگر وہ بھی سلمان شاہ تھا کہاں خاطر میں لاتا تھا کسی کی بات کو سو بس ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکالتا چلا گیا……کچھ دن بعد دادا سائیں کو,اس نے فون کیا وہ جانتا تھا,وہ خفا ہونگے پر وہ بھی انہیں منانا جانتا تھا اور منا چکا تھا……….
وقت گزر رہا تھا سلمان شاہ کو امریکہ آئے ہوئے بھی چھ ماہ ہونےکو آئے تھے وہ اپنا بزنس وہیں سیٹ کر چکا تھا کافی حد تک حویلی میں آئے روز بات ہوتی تھی سب بہت دباؤ ڈالتے ملنے آجاؤ وہ کہاں سننے والوں میں سے تھا……..ٹالتا رہتا آجاؤں گا کبھی نئے بزنس کا بہانہ بنا تا…. کبھی کچھ کبھی کچھ……..
امریکہ میں اس ne کام me آپنے آپکو کافی مصروف کر لیا تھا……صبح وہ آفس جاتا اور رات کو دو سے چار گھنٹے وہ کلب میں گزارتا وہاں کلب میں اسکی کافی لڑکیوں سے دوستی ہو گئی جو وہاں کے آزاد ماحول کے لحاظ سے دوستی سے کچھ زیادہ ہی تھی….. دل کی لگی کو وہ اپنے طور مٹانے اور بھلا نے کی کوشش کر نے لگا……..پر ہر بار وہ ناکام ہی رہا وہ پر نور چہرہ اسے لاکھوں حسیناؤں میں بھی نہیں بھول پاتا پھراسی کے خیال کے نظر وہ اپنی پوری پوری راتیں ایسی لڑکیوں کے ساتھ گزار دیتا ابھی شاید اس کی ہدایت کا,وقت نہیں آیا تھا سچ ہے ہدایت بھی انہیں ملتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں…….
ایک سال مکمل ہو ا,تو اسے حویلی سے خوشخبری ملی عباد لالا کے باپ بننے,اور اسکے چاچا بننے کی عباد شاہ کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوزا تھا وہ بہت خوش ہو ا تھا اور اس تمام عرصے میں اسکا پہلی دفع دل چاہا تھا گھر جانے کو مگر وہ خود پر قابو پا گیا تھا…….دلاور شاہ سے اس کی روزانہ ڈھیروں باتیں ہو تی جو زیادہ دلاور شاہ کی طرف سے ہی ہوتی تھی جس میں وہ ابیہا کے متعلق اسے اپنی پسند کا بتا تا اور یہ سب,اس کے لئے انتہائی تکلیف دہ چیز ہوتی……. پر وہ کچھ نہ کہہ پاتا وہ جب سے انکی منگنی ہوئی تھی وہ کبھی بھی دوبارہ حویلی نہیں آئی تھی…….یہی ان کے خاندان کا رواج تھا کہ منگنی کے بعد ہونے والے سسرال نہیں جاتے تھے اورنہ ہی بات کر پاتے تھے منگیتر سے پر وہ نہیں جانتا تھا یہ بات سلمان شاہ کو کتنا سکون دیتی تھی…….وہ اس ایک چیز کو لے کر ہی تو پر سکون رہتا تھا پر آخر کب تک یہ ممکن تھا,آخر وہ نام تو دلاور شاہ کے ہی تھی آج نہ سہی کل ہی……………….
ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﺒﮭﮯ ﮔﯽ، ﮨﻢ ﺗﻮ
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﯾﺴﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ !!!!
وقت کیسے گزرا کسی کو محسوس نہیں ہوا دو سال ہونے کو آئے تھے پر کوئی سلمان شاہ سے پوچھتا یہ دوسال اسکے لئے دو سو سال کے برابر تھے …………دلاور شاہ کی شادی کا شور اٹھا وہاں حویلی میں مگر امریکہ میں ایک دل کو چھبن ہوئی تھی…….اسے بلایا جا رہا تھا وہ بہانے کر رہا تھا وہ کیسے جا سکتا,تھا وہ اس لڑکی کو ایک نسبت میں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا تو,اب کیسے دیکھتا,جب,اس کا روح و جسم کا حقدار ہی بدلنے والا تھا……دادا سائیں….اور حویلی کے تمام لو گ اسے بلا رہے تھے…….دلاور شاہ نے یہاں تک کہہ دیا تھا……اب تو تم نہیں آ رہے نا بس ٹال رہےہو تو خدارا میری میت پر ضرور آ جا نا اور اسکی اس با ت پراس نے دلاور شاہ کو اچھا خاصا ڈانٹاتھا……..وقت, حالات جوبھی ہو…. پر وہ دلاور سےبہت محبت کرتا تھا,اسکے لئے کبھی غلط نہیں سوچ سکتا تھا, اس پر تو,وہ محبت تک قربان کر گیا تھا,دلاور شاہ کے مقابل کوئی اور ہو تا تو وہ کبھی بھی اپنی محبت سے دست بردار نہ ہو تا…….یہی تو تقدیر ہے…….جسے أپ چاہ کے بھی نہ پاسکو………..
آخر وہ دن بھی آ پہنچا تھا جب ابیہا شاہ ……ابیہا دلاور شاہ بننے جارہی تھی وہ آج کے دن بےبس اسی گندھے شوق میں مصروف تھا اللہ کو شاید ہی وہ یاد کر تا تھا وہ اللہ سے شکوہ karta تھا کہ اللہ نے اسے اسکی پسندیدہ شہ نہیں دی حالانکہ آج تک اس نے خود کبھی اللہ کا کوئی احکام .نہیں مانا تھا……مگر وہ نہیں جانتا تھا اللہ کے ہر کام میں ہی اسکی مصلحت چھپی ہو تی ہے اللہ کےتمام فیصلوں کو وہ خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ انسان کی,سوچ کی رسائی وہاں تک ممکن ہی نہیں جہاں اللہ پاک کی ہے………………
وہ خوبصورت سا اناری سرخ لہنگا پہنے جس پر خالص تلے کا گولڈن کا کام ہو,اتھا ہاتھوں میں سرخ اور گولڈن ہی چوڑیاں پہنے……..ہاتھوں phr بنے خوبصورت نقش ونگار سجائے………بیوٹیشن کے کئے گئے خوبصورت میک اپ کے ساتھ مکمل دلہنا کے روپ میں وہ دلاور شاہ کی خواب گاہ میں بیٹھی اسکا انتظار کررہی تھی آج ہی تو وہ دلاور شاہ کے نام ہوئی تھی وہ مسلسل دو گھنٹے سے اس کے انتظار میں بیٹھی تھی بیذ پر بیٹھے,بیٹھے اسکی کمر ٹوٹ رہی تھی مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا شام کے چھ بجنے کو تھے جبکہ اسکا نکاح دن تین بجے اور رخصتی چار بجے ہو ئی تھی……..ابھی وہ اپنی کمر سیدھی کر نے کےلئے لیٹنے ہی والی تھی کہ ایک دم شور اٹھا تھا…..اس نے بے ساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا,تھا……باہر سے مسلسل شور کی آوازے آ رہی تھی جیسے کچھ ہو گیا تھا باہر اسنے سوچا شاید کسی کا جھگڑا ہوا ہو کیونکہ شادی بیاہ کے,موقع پر جھگڑا انکے خاندان میں ہو تا,رہتا رہتا تھا مگر شور بڑھتا جارہا تھا اب شور کی جگہ رونے کی آوازے بھی آنے لگی تھیں…….ابیہا اپنی جگہ سے اٹھی تھی دروازہ کھولا اور دیوانہ وار بھاگتی ہو ئی اپنے لہنگے کو سنبھالتی ہو ئی بھاگی تھی کسی بھی چیز کی پر واہ کئے بغیر جیسے اسنے برآمدے میں قدم رکھا تھا……….لوگوں کا جھرمٹ دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی کچھ عورتیں رو رہی تھی بہت برے طریقے,سے وہ سب کو دھکیلتی ہوئی آگے بڑھی تھی……….اس کے عین سامنے اسکا چند گھنٹے کا شوہر دنیا سے بیگانہ پڑا تھا جس کے چہرے پر بے شمار زخم تھے …..جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا……ابیہا شاہ کے گرد زمین گھومی تھی……آسمان گر جہ تھا وہ ہوش اور خرد سے بے گانہ ہو کر زمین بوس ہوئی تھی……عورتوں کی ملی جلی آوازے آ جا رہی تھی……مردان خانےکے باہر کچھ مرد بتا,رہے تھے…..دلاور سائیں نکاح کے فورأبعد شکار کے لئے نکلے تھے…..اپنے یاروں کے ساتھ….سارے گاؤں کو معلوم تھا دلاور شاہ شکار کے لئے کچھ بھی چھوڑ سکتا تھا وہ یہ بات ثابت کر چکا تھا,آج تو وہ اپنی چند گھنٹے کی بیوی کو بھی چھوڑ گیا تھا……
دلاور شاہ نکاح کے فورأ بعد شکار کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ نکلا تھا…….شکار کر تے ہوئے جنگل میں جنگلی جانوروں نے ان پر حملہ کر دیا تھا جس میں دلاور شاہ سمیت اسکا ایک اور دوست بھی جان کی بازی ہار چکا تھا………..اور کچھ دوست بری طرح زخمی تھےزندگی یوں بھی ستم ڈھائے گی ابیہا نے کبھی نہیں سوچا تھا………ایسے بھی کبھی وہ بے أسرا ہو گی وہ نہیں,جانتی تھی……شاید یہی زندگی ہے پل پل رنگ بدلتی ہوئی…….
کچھ تو اپنے ھی مقدر میں اندھیرہ تھا
کچھ تیری یاد میں دیا بجھا کے رونا اچھا لگا
اسکے مہندی لگے ہاتھوں کی سرخ چوڑیاں بے دردی سے توڑی جارہی تھی وہ جس کے ہاتھوں میں یہ مہندی کل ہی رچی تھی چوڑیاں آج ہی پہنائی گئی تھی وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھی تھی کچھ عورتوں کی آوازے اس کے کان میں پڑ رہی تھی ارے دیکھوں کتنی منحوس لڑکی ہے آتے ہی بڑے دلاور سائین کو کھا گئ حویلی والوں کی خوشیاں ہڑپ کر گئی وہ بے قصور ہوتے ہوۓ بھی مجرم بنا دی گئی تھی وہ ایک دم دھاڑے مار مار کے رونے لگ گئی اپنی قسمت پر رونا تو اسکا بنتا تھا نئی نویلی دلہن نے بیوگی کی چادر جو اوھڑ لی تھی محض بائیس سال کی عمر میں اسکی آگے کی زندگی بیوگی میں ہی گزرنی تھی مگر کون جانے حویلی والوں کے رسم و رواج سے بھی ذیادہ طاقت ور ہر شہ پر قدرت رکھنے والا وہ سوہنا رب کیا لکھتا ہے اس کے نصیب میں آگے…………کوئی تو نجات دلوائے گا اس ظالم رسم و رواج سے ابیہا کو
وہ جو کہتے تھے ساتھ رہےگے عمر بھر
یونہی راہ میں تنہا چھو ڑ گۓ..
