Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 21
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 21
Safaid Ishq by Sania Saeed
ان پانچ ماہ میں حویلی میں کافی تبدیلی آگئی تھی….سب کچھ بدل چکا تھا….جہاں سب کچھ پیر بخش شاپ کے ہاتھ تھا…اب وہ عباد شاہ نے بہت چالاکی سے اپنے ہاتھ کر لیا تھا…..حق نواز شاہ کافی بیمار رہنے لگے کہیں نہ کہیں انکی بیماری کی وجہ انکا بیٹا سلمانن شاہ تھا….دادا سائیں بھی کچھ خاص صحت مند نہیں تھے…. جبکے رب نواز شاہ کسی معاملے اب دخل اندازی نہیں کرتے تھے…جس کی بنیادی وجہ عباد شاہ سب کے ساتھ ناروا سلوک تھا….وہ اپنی جون میں مست ہو چکا تھا….بی بی سائیں یا عائشہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا….اپنے بیٹے کو بھی زیادہ توجہ نہیں دے رہا تھا…بس وپ چاہتا تھا….جلد از جلد یہ حویلی وہ دادا سائیں اپنے نام کروا لے…..
عباد شاہ جانتا تھا دادا سائیں نے سلمان شاہ کو بس لفظی عاق کیا تھا….ورنہ انکے دل میں جو محبت سلمان شاہ کےلئے تھی….وہ یہ فیصلہ کاغذ تک نہیں لے گئے….عباد شاہ کا لالچ کا کٹورا نہیں بھر تھا…دوسری طرف عائش بھی امید سے تھی….پر عباد شاہ کو کچھپرواہ نہیں تھی….وہ ایک اوباش شخص بن چکا تھا…..
سنیں….سنیں…..عائشہ ہانپتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی تھی جہاں ابھی ابھی عباد شاہ نشے میں دھت آیا تھا…..
کیا ہوا کچھ شور مچا رکھا ہے تم نے…..عباد شاہ نے اپنی لڑکھڑاتی آواز میں پو چھا تھا ….
.
چاچا سائیں طبیعت بہت بگڑ گئی ہے….آپ چل کر ڈاکٹر کو کال کریں…عائشہ نے روانی سے کہ کہا…
تو تم بابا سائیں کو بولو وہ بلا لیتے ہیں ڈاکٹر کو مجھے تنگ مت کرو چلو نکلو یہا ں سے….عباد شاہ نے انتہائی نفرت آمیز لہجہ اپناتے ہوئے عائشہ کو کہا….جس پر وہاں عباد شاہ پر ترس کھاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی…..
دادا سائیں….بی بی سائیں…..رب نواز شاہ اور عائشہ حق نواز شاہ کے کمرے میں موجود تھے….تو انتہائی تکلیف میں تھے….ڈاکٹر ابھی انہیں چیک کر کے گئے….تھے…پر ڈاکٹر نے بھی کوئی خاص تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا….
حق نواز شاہ تمہیں کچھ نہیں ہو گا….ابھی تو تمہارا باپ زندہ ہے تمہیں کیسے کچھ ہو سکتا ہے….پیر بخش اپنے بیٹے کے پاس بیٹھے اسے تسلی دے رہے تھے…..
بابا سائیں میری ایک بات مان لیں…..آپکو خدا کا واسطہ میری آخری خواہش سمجھ کر مان لیں…..حق نواز شاہ نے اپنے بابا سائیں کے دونوں ہاتھ تھا م کر کہا….
ہاں بولو…..تم جو کہو گے ہم کریں گے بس مرنے کی بات نہ کرو……پیر بخش کے اندر ایک باپ کا نرم گوشہ جاگ چکا تھا….
سلمان شاہ کو حویلی بلا لیں….میں مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتا ہوں….بابا سائیں….
صرف میرےلئے اسے بلا لیں….
دادا سائیں سمیت کمرے میں کھڑے ہر نفوس کی آنکھیں کھل گئییں تھیں وہ حیران ہو رہے تھے…
کہ یہ کیا کہہ دیا….حق نواز شاہ نے….
ایسا ممکن نہیں……حق نواز شاہ….پیر بخش شاہ نے ازلی جلال میں کہا…
بابا سائیں میں ہمیشہ کے لئے بلانے کا نہیں کہہ رہا …..بس میں اپنے بیٹے کو ملنا چاہتا ہوں آخری دفع……
اب کے سب کی آنکھیں چھلکی تھیں….
پیر بخش شاہ کچھ دیر سوچ میں پڑے تھے….
اپنے بستر مرگ سے لگے بیٹے کو دیکھا تھاجو بہت خطرناک حالت میں تھا………
رب نواز شاہ……..یپر بخش شاہ نے اپنے بڑے بیٹے کو پکارا جو پاس ہی کھڑ ے تھے
جی بابا سائیں…..رب نواز,شاہ نے جلدی سے کہا….
سلمان شاہ کو پیغام پہنچاؤ کہ ادکے بابا سائیں اس سے ملنا چاہتے ہیں……
وہ آگیا تو ٹھیک……پر ہماری یہ شرط بھی سب یاد رکھو….
سلما ن شاہ صرف کچھ گھنٹوں کے لئے حویلی آنا چاہئے اور حویلی کا کوئ فرد اس سے کسی سکسلے میں بات نہیں کرے گا سب سمجھ گئے…
پیر بخش شاہ نے طائرانہ نظر سب پر ڈال کر باور کروانا چاہا…
جی بابا سائیں…
رب نواز شاہ نے فورا حامی بھری پھر وہ سلمان کو کال کرنے چلے گئے تھے..
###########:##########:::::::################
سر آپ کی آج ایک اہم میٹنگ ہے….سلمان شاہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب مینجر نے آکر سلمان شاہ کو اہم میٹنگ کا بتا یا….
آوکے….سلمان شاہ نے فورا کہا….
اتنے دیر میں سلمان شاہ کے موبائل پر بیل بجنے لگی…وہ موبائل کی طرف متوجہ ہوا…..
پر سکرین پر جیسے ہی نظر پھر……..
موبائل پر حویلی کا نمبر دیکھ کر ایک پل کو وہ ساکت رہ گیا….
ہیلو.!!!!…..سلمان شاہ نے فورا کال پک کی…
ہیلو…سلمان شاہ….تایا جان کی آواز سپیکر سے گونجی..
اسلام علیکم !!تایا سائیں…ایک لمحے میں آواز پہچان گیا…
وعلیکم اسلام…
خیریت ہے تایا سائیں….اس کی چھٹی حس نے کہیں کچھ غلط ہونے کا الارم دیا….
خیریت نہیں ہے سلمان شاہ تمہارے بابا سائیں کی طبیعت کافی خراب ہے…..تایا سائیں نے رسان سے کہا….
کیا ہوا بابا سائیں کو تایا سائیں وہ ٹھیک تو ہیں…سلمان شاہ ایک دم اپنی چیئر سے اٹھا….
وہ تم یہاں آکر دیکھ لو…..انہوں نے پر سکون انداز میں کہا….
پر دادا سائیں…حویلی کا سن کر سلمان شاہ خوش ہوا تھا پر دادا سائیں کو سوچ کر وہ مدھم پڑا….
بابا سائیں کی فکر تم مت کرو….یہ اجازت انہوں نے ہی دی ہے…..
کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں…سلمان شاہ ایکدم بہت خوش ہوا تھا….
ہاں تمہارے بابا سائیں کے وعدوں کے بعد…..اس کی خوش فہمی پر اوس پڑی تھی….
بسس تم جلدی آجاؤ….ابیہا کو بھی ساتھ لیتے آنا….
انہوں نے جلدی سے بات سمیٹی…..
اللہ حافظ….
#############:##:##########################
ابیہا جلدی سے تیا ر ہو جاؤ ہمیں ابھی اسی وقت نکلنا ہے……سلمان اجلت میں آفس سے گھر آیا تھا….آتے ہی ابیہا کے سر پر کھڑے ہو کر حکم صادر کیا….
کیا مطلب ….کہا ں نکلنا ہے ہمیں خیریت تو ہے نا…آپ اسطرح کیوں کہہ رہے ہیں…..
ابیہا جوکہ سلمان کی بات سے حیران و پریشان ہوگئی…..سوال پر سوال کرنے لگی…
ہمیں….حویلی جانا ہے ابیہا تم وقت ضائع نت کرو جلدی سے. ریڈی ہو جاؤ….
کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں نانا سائیں نے ہمیں بلایا ہے….ابیہا کو ایکدم خوشی نے آن لیا….
ابیہا خوشی فہمی میں مبتلا مت ہو….ہمیں دادا سائںں نے خوشی کے لئے نہیں بلایا …..
بس تم جلدی چلو راستے میں سب بتاتا ہوں…
ابیہا کی خوشی پر اوس پڑی تھی….
چلو….جلدی…..میں باہر انتظا ر کر رہاہوں تمہارا…
جی آتی ہوں…
سلمان کے جاتے ہی ابیہا نے چادر اچھی طرح اوڑھی اور باہر کی جانب چل دی…
گاڑی اپنی منزل کو رواں تھی….اس منزل کو جہاں سے وہ لوگ راتوں رات نکالے گئے تھے…
ابیہا ان راستوں کو بہت طلب سے دیکھ رہی تھی…..جو راستہ اسے اسکے اپنوں سے ملاتا تھا….
سلمان نے ساری بات ابیہا کے گوشوار کردی تھی….جس پر وہ بابا سائیں کے لئے پریشان بھی راستے پر وہ دعا بھی کرتی رہی تھی…
منزل قریب ہوتی جارہی تھی….اب گچھ دور سے لال اینٹوں سے بنی وہ حویلی نظر آنے لگی تھی….ابیہا کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے…
تو وہی سلمان شاہ کی دل کی ڈھرکن بھی تیز ہورہی تھی….آخر کو اس حویلی میں اسکے بھی اپنے رہتے تھے……..جہاں اسنے آنکھ کھولی تھی….جس جگہ سے اسکی خوبصورت یادیں وابسطہ تھیں……
جہاں سلمان شاہ کے چاہنے والے بے پناہ لوگ تھے….
مگر وہ باتیں اب ماضی کا حصہ بن چکی تھیں….
ایکدم سلمان شاہ نے اپنی گاڑی کی بریک لگائ…
جس پر ابیہا اور سلمان دونوں ہی یادوں کی محفل سے باہر نکلے تھے….
چوکیدار دور سے سلمان شاہ کو پہچان چکا تھا
اسلئے فورا بھاگتا ہوا آیا…
سلام کیا…اور جلدء سے انہیں لئے اندر آگیا….
برآمدے میں ہی اسے دادا سائیں چاچا سائیں کھڑے نظر آئے….
سلمان شاہ کے پیچھے ابیہا بھی با قدم چل رہی تھی….
سلمان شاہ نے بڑھ کر داداسائیں کے گلے چاہنا ……جس پر دادا سائیں دور ہوگئے…
جس کا صاف مطلب ظاہر تھا وہ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے البتہ انہوں نے تھوڑا ابیہا کا لحاظ کرتے ہوئے اسکے سر پر سفقت کا ہا تھ پھیرا …….جس پر ابیہا ایکدم چہک اٹھی …..اسکی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے…..زندگی میں پہکی دفع ابیہا نے اپنے نانا سائیں کا شفقت بھرا ہاتھ پر اپنے سر رکھے دیکھا تھا….
اس اقدام سے سلمان شاہ کو کافی خوشی ہوئی تھی……
پیر بخش شاہ کو سلمان سے جڑی ہر چیز سے محبت تھی….وہ ابیہا کو بھی اسی کے حوالے سے ملا تھا…..پر ظاہر ایسے کیا جیسے وہ انکی نواسی کے حوالے سے اسے پیار دے رہیے ہیں…
پر یہ بات سلمان شاہ سمیت چاچا سائیں بھی باخوبی جانتے تھے….وہ سلمان شاہ کے حوالے سے اتنی شفقت سے پیش آئیں ہیں…..
سلمان شاہ کہیں نہ کہیں مطمئن ہو ا تھا….کہ وہ اس سے چاہ کربھی نفرت نہیں کر پارہے….
