Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 27 (Last Episode)
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 27 (Last Episode)
Safaid Ishq by Sania Saeed
وعدہ کرو سلمان شاہ تم میری باتوں کو سننے کے بعد عباد کو کچھ نہیں کہو گے…..دادا سائیں نے سلمان شاہ کا ہاتھ تھام کر اس سے تائید چاہی…..
جس پر سلمان شاہ کچھ دیرسوچ بچار کے بعد بس ہاں میں سر ہلا کر رہ گیا….
یہ ان دنو ں کی بات ہے سلمان شاہ جب تم اہنے بابا سائیں کی وفات کےبعد واپس شہر آ ئے تھے……..
میں تمہیں بھی تمہاری جائیداد کا حصہ دینا چیتا تھا اس بات کو سن کر عبادشاہ پاگل ہو اٹھا تھا……وہ چاہتا تھا یہ ساری جائیداد میں اسکے نام کر دوں…..
دادا سائیں ایک ایک الفاظ میں سلمان شاہ کو پوری روادار سنا رہے تھےجو سلمان شاہ بہت غورسن رہا تھا ابیہا بھی پاس ہی بیٹھی انکی باتیں غوروفکر سے سن رہی تھئ…..
پھر میں نے ایسا کرنےسےمنع کردیا جس پر عباد شاہ نے مجھے مارنےتک کی دھمکی دے ڈالی پر جب اسے یہ معلوم ہواکہ مجھے مارنےسے تو اسکو ایک پھوٹی کوڑی تک نصیب نہیں ہوگی تو اس نے مجھے تمہارے نام سے ڈرانہ دھمکانہ شروع کر دیا…..کہ وہ تمہیں ماردے گا…..پر میں جانتا تھا میرا سلمان شاہ اتنا کمزور نہیں ہے کہ اسے کوئی بھی چوٹ پہنچا سکے……..اس بات پر جب وہ مجھے نہ منا پایا تو مجھے اولڈ ایج ہوم چھوڑنے کی دھمکی دے ڈالی…..اور اس کمبخت نے پھر وہ کام کر بھی ڈالا…..اسے حویلی میں سب نے بہت واسطے دیئے…..پر اس نے انہیں بھی ڈرا دھمکا کر چپ کر ڈالا…اور جب انسان کی آنکھوں پر لالچ کی پٹی بندھی ہوتی ہے تو کوئءبھی اسے نہیں سمجھا سکتا جب تک کے وہ انسان خود ٹھوکر کھا کر نہ سنبھلے….پر میں نے ہتھیار نہیں ڈالے….ساری زندگی غلط کاموں میں بسر کر کے مجھے اب ہی تو حقدار کو حق دینےکا موقع مل رہا تھا….شاید اس سے ہی میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے اور مجھے معاف فرمادے…..
یہ باتیں سنتے ہوئے ابیہا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھرنا بہہ رہی تھی…..
سلمان شاہ کی آنکھیں بھی نم یو چکی تھی….
دادا سائیں مجھے کوئی جائیداد نہیں چاہیئے ……آپ یہ سب اسکے نام کر دیتے…..میرے پاس میرے اللہ پاک کا سب کچھ ہے اور میں اس میں بہت مطمئن ہوں…
سلمان نے دادا سائیں کا ہا تھ تھام کر انہیں کہا…..
سلمان بیٹا بات حق کی تھی میں تمہارا حق کسی اور کو نہیں دے سکتا تھا….
آج بھی وہ حویلی میرے نام ہے جس ہر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا اس عباد شاہ کا.
.تم جب چاہو تو اس حویلی میں آ سکتےہو…..پیر بخش شاہ نے سلمان کو بہت مجبت بھری نظروں سے دیکھ کے کہا تھا…
نہیں دادا سائیں…..میں یہاں ٹھیک ہوں اور آپ بھی میرے ساتھ ہہیں رہے گے….سلمان نے بڑے مان کے ساتھ دادا سائیں کو مخاطب کیا تھا….
نہیں سلمان”ہمارا اصل تو وہی ہے.”دادا سائیں نے اپنا نحیف سے ہاتھ سے سلمان کا مضبوط ہاتھ تھام کر کہا…
جی دادا سائیں یہ بات تو آپکی درست یے پر میں کوئی بد مزگی نہیں. سلمان نے بھی رسان بھرا لہجہ اپناتے ہوئے…دادا سائیں کو سمجھانا چاہا..
سہی بیٹا جب تم چاہو اسوقت ہم وہاں جائینگے…سلمان کی بات سن کے حامی بھری وہ سلمان کی بات کو سمجھ گئے تھے اور اس کے لئے یہی بات کافی تھی…ابیہا بھی پاس ہی بیٹھی…دادا ہوتے کو دیکھ رہی تھی..
میں چائے لے کر آتی ہوں..آپ دونوں کے لئے اور نانا سائیں ابھی آپ نے ابھی دوائی بھی لینی ہے…
ابیہا نے انکے بیچ سے اٹھتے ہوئے انہیں مخاطب کیا…
اوکے ابیہا تم جلدی سے چائے کے کر آؤ…سلمان نے بھی اپنی بات کا اضافہ کیا جب کے پیر بخش شاہ اپنے بچوں کو دیخح کر دل سے خوش ہو رہے تھے…
اور آج انہیں سلمان شاہ کے فیصلے ہر فخر ہو رہا تھا..
بے شک اللہ کے ہر کام میں اسکی مصلیحت پوشیدہ ہے.وہ جو کرتا ہے ہمارے حق میں بہت بہتر ہوتا یے….
پیر بخش شاہ ان دونوں کو دیکھ کر اقرار کر رہے تھے…
وقت گزر رہا تھا وہ سب ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے..
مگر پھر وہ جسکا کسی نے سوچابھی نہیں تھا…
**************************
حویلی سے کال آئی تھی جس نےسب کو جنجھوڑ کے رکھ دیا تھا….اور
وہ سب حویلی بھاگے تھے کیونکہ اسوقت وہاں کے مکینوں کو سلمان شاہ کی ضرورت تھی……
چاچا سائیں یہ سب کیسے ہو گیا….سلمان شاہ نے حویلی میں داخل ہوتے ہی مردوں کے پاس بیٹھے اپنے چاچا سائیں کو مخاطب کیا…جس وہ بھی جلدی سے سلمان شاہ کے گلے لگے..پھوٹ پھوٹ کے رو رہے تھے….
عباد شاہ چلا گیا سلمان…وہ ہمیں دلاور شاہ کی طرح چھوڑ کر چلا گیا…..
یہ سب کیسے ہوا…؟؟سلمان شاہ نے چاچا سائیں کے بغلگیر ہو تے سوال کیا…
اس نے جو تمہارے ساتھ کیا تھا یہ اسکی سزا ملی ہے…
وہ بابا سائیں کے ساتھ بھی جو ظلم کر چکا یے یہ اسکی بھی سزا ہے…عباد شاہ کی کار کو حادثہ پیش آیا تھا حادثہ تیز رفتارہ کے باعث پیش آیا تھا جس میں اسکی موت واقع ہوگئی سلمان شاہ سے سب کو سنب مشکل سے سنبھال…چاچی سائیں کو سنبھالنا زیادہ ھالنامشکل ہو رہا تھا ….
دادا سائیں ,ابیہا اور بچے زنان خانے کی طرف گئے تھے جہاں سے مسلسل رونے کی آوازیں آرہی تھیں…بچے یہ منظر دیکھ کر خوفزدہ ہوریے جس پر ابیہا نے وہاں کی پرانی ملازمہ کہہ کر انہیں کمرے میں بھیجوا دیا
************************
عباد شاہ کے انتقال کو ایک ماہ گزر چکا تھا اور حویلی میں سب کچھ بدل چکا تھا…سلمان اور ابیہا کو دادا سائیں ,چاچا سائیں اور چاچی سائیں نے حویلی واپس بلا دیا تھا وہ واپس حویلی آگئے تھے…بھابھی سائیں اپنی عدت پوری کر رہی تھی…سلمان نے گھر والوں کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا..
وقت گزر رہا تھا…ابیہا کی پڑھائی مکمل ہو گئی تھی…
آپ کیا سوچ رہے ہیں…سلمان شاہ کمرے کی کھڑکی میں کھڑا کسی سو چ میں ڈوبا ہوا تھا…
جب اپنے عقب ابیہا کی آواز سن کے چونکا…
کچھ نہیں بس ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جن کو صرف دولت سے غرض ہے جس کے لئے وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں…حتی کہ اپنی جان بھی لٹانے سے نہیں گبھراتے…
آخر لوگوں کو دولت کی اتنی ہوس کیوں..ہے؟؟سلمان نے ابیہا کی طرف دیکھ کر سوال کیا..
پتہ نہیں لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں …ابیہا نے بھی یہی سوال کیا حالانکہ نہ کفن میں جیب ہے اور نہ قبر میں الماری پھر بھی لوگ دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں….
زندگی کا سکون دولت میں نہیں اپنوں کے ساتھ میں ہے…ابیہا نے سلمان کے گرد اپنی باہوں کا حصار ڈاکے اقرار کیا…
جس ہر سلمان کے چہرے ہر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا…
ماما بابا….اتنے میں حمین اور حنین بھی ان کے روم میں آگئے…..
جس پر ان دونوں نے اپنے بچوں کو اٹھا لیا اور زندگی کی طرف دیکھ کر مسکرا اٹھی..
وہ ایک مطمئن زندگی گزار ریے تھے…..
جو حق پر ہوتا اس کا ساتھ اللہ پاک بھی دیتا ہے اور سلماب شاہ حق پر رہا تھا..
