Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 23
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 23
Safaid Ishq by Sania Saeed
وہ گارڈن میں چیئر پر بیٹھا ….چہرے کو آسمان کی طرف کئے آنکھیں بند کئے ہوا تھا…….
وہ دبے قدموں چلتی ہوئی اسکے پیچھے آئی تھی….
اسنے اچانک سلمان کے کاندھے پر اپنا نرم و ملائم ہاتھ رکھا تھا……..
ابیہا….
.اسنے اسکے ہاتھ کو تھامہ تھا….پر آنکھیں ہنوز بند تھی….
یہ اپنا لمس خود سے پہلی بار ابیہا نے سلمان کو بخشا تھا…..پر ایک لمحے میں پہچان گیا تھا……….
وہ حیران ہوئی تھی…..آپکو کیسے پتہ چلا….؟؟
ابیہا نے سوال کیا….ہاتھ ابھی تک سلمان کے کاندھے پر اسکی ہتھیلی کے نیچے رکھا تھا…..
ان نرم وملائم ہاتھوں کا لمس اس دنیا میں واحد سلمان شاہ کا ہے….تو میں کیسے نہیں پہچانوں گا……اب وہ ابیہا کا ہاتھ پکڑے اسے آگے کی طرف کھینچ رہا تھا…..
اپنے سامنے رکھی چیئر پر ……..اسکو کاندھوں سے تھامے کر بیٹھایا تھا…….
ابیہا نے بغور سلمان کی آنکھوں میں دیکھا تھا……
اب وہ ابیہا کے دونوں. نازک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لئے سہلا رہا تھا……
آپ کیا سوچ رہے تھے…..؟؟ابیہا نے سلمان کو دیکھ کر پوچھا…..جو ہنوز ابیہا کو دیکھ رہا تھا……
یہی سوچ رہا تھا……میری بیوی میں کوئی خاص تبدیلی رونما ہوئی ہے…..پر مجھے سمجھ نہیں آرہا وہ کیسے…..؟؟
سلمان نے رسان سے کہا….
آپکو پتہ ہے…..مجھے آج سے ڈیرھ سال پہلے
آپ سے بہت نفرت محسوس ہوئ تھی…..ابیہا نے بنا لگی لپٹی بات کئے صاف الفاظ میں کہا…یہ جرأت بھی سلمان کی عطا کر دی تھی….
ہاں جانتا ہوں…..سلمان نے فورآ جواب دیا…..
جس پر ابیہا اسے دیکھنے لگی….
کب….؟؟ابیہا نے کھوجنا چاہا….
جب میں نے دادا سائیں کو کہا تھا…..میں ابیہا سے شادی کرنا چاہتا ہوں……سلمان بنا کچھ کہےاسے اسکے سوال کا جواب دینے لگا
ہاں پر میں غلط تھی….مجھے اب اپنی اس نادانی پر بہت افسوس ہوتا ہے….میں نے آپکو غلط سمجھا تھا…..ابیہا کی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز ہوئ تھی……
وہ کیوں …..؟؟؟سلمان نے ابیہا کو جانتی نگاہوں سے دیکھ سے پوچھا…..
کیونکہ میں سراسر غلط تھی….میںجھےلگا تھا…..آپ مجھ پر غلط نگاہ رکھتے ہیں…..ابیہا سلمان کی طرف دیکھا
آپ نے مجھے حویلی والوں کی نظر میں بدنام کر دیا ہے…….
پر آپنے تو مجھے……
……ابیہا کی ہچکی بندھی تھی…..اب وہ باقاعدہ رونے میں مصروف تھی….
میں نے کیا ابیہا……؟؟سلمان اسکے آنسوں اپنی انگلیوں کی پورو پر چن رہا تھا…….ساتھ اس سے پو چھ بھی رہا تھا…..
وہ یک طرفہ محبت لٹا لٹا کر اب اپنی محبت کا صلہ چاہتا تھا…….
آپ نے تو مجھے حویلی کیا…..ساری دنیا والوں کے سامنے معتبر کیا ہے……پر میں نادن تھی …ابیہا نے ٹھہر ٹھہر کے الفاظ اپنے حلق سے نکالے…..
جس پر سلمان کے چہرے پر ہلکی مسکان نے احاطہ کیا……
میں تو بیوہ…….بن کے رہ گئ تھی…..
آپ نے مجھے بیوہ…..سے….بیوی بنادیا. …..
ابیہا نے رونے کے درمیان کا کہا….وہ اب بھی ساتھ رونے کا شغل جاری رکھے ہوئے تھی…..
مجھے دنیا والوں نے منحوس قرار سدے دیا تھا…..
آپ پر نے مجھے دنیا کی سب سے خوش قسمت عورت بنا دیا…..
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا….میرا اپنا گھر ہوگا…
میری اپنی فیملی ہوگی میرے اپنے بچے ہونگے…
آپ نے مجھے مکمل کر دیا….آپنے مجھے ان ظالم حویلی والوں کے ظالم رسم و رواج سے نجات دلادی ………..
مجھے…..یہ خوبصورت جنت دے دی…..اس نے ایک نظر اپنے پورے گھر پر دوڑائی……جہاں اسکا گھر کم محل ذیادہ روشن تھا…
ابیہا کہتے ساتھ ہی سلمان کے ہاتھوں کو اپنوں منہ پر رکھے……پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی…..
سلمان شاہ نے بہت احتیاط سے اپنے کاندھوں پر لگایا تھا….
اب وہ اسکی کمر سہلا رہا تھا…..
اسنے ابیہا کو چپ نہیں کروایا تھا
…..
سلمان شاہ چاہتا تھا…..ابیہا جتنا شچاہتی ہے آج رو کے پھر وہ کبھی اسے رونے نہیں دے گا….
ابیہا……تم میری پہلی محبت ہو…..جب ابیہا کے آنسو کچھ تمے تو سلمان شاہ نے الفاظ ادا کئے….
جس ہر ابیہا فورا اس سے دور ہوئی اور اسے ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی….
ہاں یہ سچ ہے ابیہا سلمان شاہ……اپنی طرف غور سے
دیکھتی ابیہا کو دیکھ کر سلمان نے اثبات میں سر ہلایا..
جب سے میں نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا تھا….تو تمہیں اپنے ساتھ سوچا تھا……
ابیہا اب بھی اپنا چہرہ اوپر کئے اپنی آنسو ؤں سے لبریز آنکھوں سے سلمان شاہ کو سوالیہ اندازمیں دیکھ رہی تھی…
میں نے دیکھا نہیں کوئ موسم
میں نے چاہا تمھیں لمحہ لمحہ
پھر تمہارا رشتہ طہ کر دیا گیا تھا…..میں چاہتا تو اسوقت بھی تمہیں حاصل کر سکتا….تھا…..
اب اس نے گہرا سانس لیا……ابیہا اب بھی بغور اسے دیکھ رہی تھی……
پر……مقابل میرا بہت عزیز میرا بھائی …..میرا سب سے اچھا دوست تھا……میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پایا….
پر پھر قسمت نے جو کھیل کھیلا میں اس پر بہت حیرت زدہ تھا……پر باخدا میں نے کبھی نہیں یہ سب سوچا تھا….
دلاور ے کا دکھ مجھے آج بھی اتناہی ہے جتنا پہلے دن تھا…
میں آج بھی اس کے لئے سچے دل سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں….
اسکے جانے کا دکھ آج بھی سب دکھوں پر حاوی ہے…..
جانے انجانے میں میں نے تمہیں بھی بہت دکھ دیئے ہیں ابیہا میں جانتا ہوں……..پر میں نے تمہارے لئے کبھی بھی
غلط نہیں سوچا تھا……ابیہا اب بھی اسکی باتوں میں کھوئی ہوئی تھی….
میں نے تم سے محبت کی تھی……ایسی محبت جو آہستہ آہستہ مجھے عشق کے قریب کے گئی اور مجھے تم سے عشق ہو گیا……ابیہا اس اظہار پر معتبر ہوگئی…..وہ ایک دم زمین سے آسمان کی طرف اٹھی تھی….جہاں پورا آسمان اسے اپنا محسوس ہوا تھا….
ابیہا سلمان شاہ کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی…..شادی کے بعد آج سلمان شاہ نے اس قدر طویل باتیں ابیہا سے کی تھیں……
ہمارے پاس گناہوں کی پوٹلی ہو تی ہے وہ پھر بھی ہمیں معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ تو ہمارا خالق ہے جو ہم,سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتاہے جیسے ماں اپنے بچے کو معاف کردیتی ہے اسکی لاکھ غلطیوں پر……..
سلمان نے اپنا سانس کھینچا ..
میں چاہتا ہوں تم بھی مجھے سچے دل سے معاف کر دو….
ایک دم ابیہا کی آنکھیں چھلک پڑیں…….
آپ کو یہ سب باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ابیہا نے
روبرو ہو کر کہا…….
میرے دل میں فقط آپکے لئے بد گمانی تھی….
اب بد گمانی کے بادل بھی چھٹ گئے ہیں….اس نے سچ دل سے تسلیم کیا……
اسکا مطلب ہے محبت جنم لے چکی ہے…..سلمان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا….جس پر ابیہا اپنی نظریں پر مجبور ہوگئی……
ابیہا کیا بتاتی سلمان شاہ کو یہ ابیہا کا دل تو کچی عمر سے تمہاری طرف راغب تھا….جس پر روایتوں کے پہرے تھے…..
چلو اندر چلیں…..خنکی بڑہ رہی ہے…..اور میرے شیر بھی بھوکے ہونگے اب تک…..سلمان خود اٹھا ساتھ ابیہا کو اٹھایا….اور اپنے ساتھ اندر کی طرف لے جانے لگا..
..
“بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”
ابیہا کو اس آیت کا مفہوم اب سمجھ آیا تھا….
دادا سائیں…..ان پیپرز پر دستخط کریں جلدی…..
پیر بخش شاہ جو اپنے کمرے میں بیٹھے اپنے اپنوں یاد کرنے میں مگن تھے….عباد شاہ کی اچانک آمد پر ہڑبڑاہ کر اسے دیکھنے لگے…..
جب سے پیر بخش کا بیٹا ان سے بچھڑہ تھا….
وہ اسکے دن کے بعد سے…..حویلی سے کیا…اپنے کمرے سے نکلنا تک انہوں نے چھوڑ دیا تھا…..
اور انکی طبیعت کافی ناساز رہنے لگی تھی….
جس کا علم حویلی میں سب لوگوں کو تھا….
اسلئے کوئی فورس نہیں کرتا تھا….
کیا ہے عباد شاہ…..؟؟…انہوں نے عباد شاہ کی طرف نگاہیں پھیر کر پوچھا….
یہ حویلی کے کاغذات ہیں….وباد شاہ نے رسان سے جواب دیا….
کیا مطلب ہےتمہارا عباد شاہ…..اب کی بار پیر بخش شاہ نے عجیب نظروں سے گھور کر پوچھا…..
مطلب کو چھوڑیں آپپپ دادا سائیں….اسنے آپ پر زور دے کر کہا….
کیا لکھا ہے ان میں….؟؟پیر بخش شاہ نے تیوری چڑھا کر عبٹد شاہ سے پوچھا….
ان میں لکھا ہے کہ آپ اپنی تمام جائیدا میرے یعنی عباد شاہ کے نام کر رہے ہیں…..عباد شاہ نے شیطانی مسکراہٹ سجا کر کہا….
پیر بخش شاہ ….اس کے الفاظ پر حیرت زدہ ہو کر….دیکھا…
وہ کافی وقت سے عباد شاہ کی آنکھوں میں لالچ کی پٹی دیکھ چکے تھے…..
عباد شاہ تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا ہم یہ جائیداد تمہارے نام کریں گے…..؟؟پیر بخش شاہ نے اپنے پوتے کو دیکھ کر کہا….
دادا سائیں آپکو یہ کرنا ہوگا کیونکہ آپ کی زندگی کا کیا بھروسہ آج ہیں اور کل نہ ہوں……آخر کومیں ہی تو حویلی کا تنہا وارث ہوں….جو اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے کہ آپ آج ہی یہ جائیداد میرے نام کرکے خود پرسکون ہوکر اپنی زندگی کے بچے کچے دن آرام وتحمل سے گزارے….عباد شاہ نے چہرے پر خباثت سجا کر اپنے دادا سائیں کو بتانے لگا…..
پیر بخش شاہ اپنے پوتے کی باتوں پر اسے حق ودق دیکھنے لگے……اور سوچ میں پڑہ گئے….
یہ سب تو وہی ہو رہا تھا….جو انہوں نے اپنے بابا سائیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا….آج وہی سب انکی طرف لوٹایا جارہا تھا….شاید اسی کا نام “مکافات عمل ہے.”
آج انکا اپنا پوتا انکے مرنے کے دن گن کر گزار رہا تھا….دوسری طف انہیں سلمان شاہ کی اپنی ذات سے منسوب محبت بھرے دن آنکھوں کے سامنے چلتے ہوئے نظر آنے لگے…..
.
کس سوچ میں پڑ گئے ہیں آپ دادا سائیں…..عباد شاہ نے دادا سائیں کے سامنے چٹکی بجا کر انہیں ماضی اور حال کی سوچ سے نکال کر باہر پٹخا…..
ایسا ممکن نہیں عباد شاہ………پیر بخش شاہ نے اپنے پوتے کو دوک ٹوک جواب دیا….
ایسا کیوں ممکن نہیں ہے….دادا سائیں…؟؟
