547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 5

Safaid Ishq by Sania Saeed

چاچا سائیں میں,اپنی بیٹی کو لینے آیا ہوں……ابیہا کی عدت ختم ہو چکی تھی تو زین شاہ اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ مردان خانے میں بیٹھا پیر بخش سے مخاطب,ہو ئے تھے………سلمان شاہ بھی وہی مردان خانے میں,موجود تھا ……

کیا تمہارا دماغ ٹھکانے پر ہے زین شاہ کیا تم نہیں جانتے بیوہ مرنے کے بعد ہی اپنے شوہر کے گھر سے سید ھا قبرستان جاتی ہے……..پیر بخش کو بہت غصہ آیا تھا زین شاہ کی,بات سن کے انہوں نے اپنی آنکھوں زین شاہ کو گھورا تھا زین شاہ کو………جب کے ارقم اور ارحم بھی اپنے نانا کی بات سن کر حیران ہوئے تھے…….سلمان شاہ خاموش تماشائی بنا بیٹھا تھا جیسے وہ اس مردان خانے میں,موجود ہی نہ ہو………..پر چاچا,سائیں وہ پرانے زمانے کے رواج تھے اب زمانہ بدل رہا ہے میری بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے اسکے آگے ابھی پہاڑ جتنی زندگی ہے………..میں اپنی بیٹی کو ساری زندگی اس جہنم میں نہیں رکھ سکتا……….زین شاہ نے پیر بخش سے کہا…….

بسسس زین شاہ بسسسسس…….پیر بخش سائیں نے ہاتھ کے اشارے سے زین شاہ کو خاموش ہو نے کا حکم دیا تھا……زین شاہ آج تمہاری بیٹی ہے تو ہم اسکے لئے اپنے رسم ورواج بدل دیں,جبکہ تم جانتے ہو جب ہم نے , خود اپنی ,بیٹی کے لئے رسم ورواج نہیں بدلے تھے تو تمہاری بیٹی کے لئے کیو بدلیں…………اور تمہاری بیٹی تو ویسے بھی بہت منحوس ثابت ہوئی ہے ہمارے گھرانے کے لئے……ان کی اس بات پر زین شاہ سمیت سلمان شاہ نے بھی اپنے دادا سائیں کو بہت دکھی نظروں سے دیکھا تھا………پیر بخش شاہ کے الفاظ ان,نفوس پر ہتھوڑے کی,مانند لگے تھے…..پیر بخش شاہ یہ تک بھول چکے تھے کہ ابیہا شاہ ان کی سگی نواسی ہے……….وہ تینوں باپ بیٹا اٹھ کر جا چکے تھے……..اب مردان خانے میں صرف سلمان شاہ اور دادا سائیں رہ گئے تھے………..سلمان شاہ نے اپنی بات کہنے کے لئے منہ کھولنا ہی چاہا تھا پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا………وہ مردان خانے سے نکلتا چلا گیا……..وہ اب ایک اہم نقطے پر سوچ رہا تھا………وہ جیسے ہی باہر نکلا سامنے برآمدے میں اسے زین شاہ ان کے بیٹے ابیہا شاہ کے ساتھ نظر آئے ابیہا کی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں……..مگر جو وہ ابیہا شاہ کی نظروں میں تکلیف دیکھ رہا تھا وہ اسکے لئے ناقابل برداشت تھی……………………وہ وہاں سے سید ھا اپنے کمرے میں آیا تھا……….

“””””””””””:””””””””””””””””””””””

سلمان شاہ بےچینی سے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا اس کے ذہن میں دادا سائین کی باتیں گردش کر رہی تھیں…….اب مجھے اسٹینڈ لینا پڑے گا اب مجھے کچھ کرنا ہو گا اب میں ابیہا کو نہیں کھو سکتا شاید مجھے قسمت نے اسی لئے دوسرا موقع دیا ہے وہ مسلسل اسی نقطے پر سوچ رہا تھا………قسمت کہاں کسی کو دوسرے موقعے دیا کرتی ہے بہت خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جنہیں زندگی ایسے موقعے فراہم کرتی ہے……….وہ خود کو خوش قسمت ہی تو تصور کر رہا تھا اب وہ صحیح موقعے کی تلاش میں تھا جب وہ دادا سے بات کر سکے وہ اپنی آنکھیں موند گیا تھا……پر uska چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا نمکین پانیوں سے تر چہرہ اسنے چھٹ سے اپنی آنکھیں,کھولی تھیں……….وہ اب,اور ان جھیل جیسی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا………وہ ہمیشیہ انہی آنکھوں میں ڈوبتا تھا

تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں….

تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے…….

“””””””””””””””””””””””””””””””””:””””

ابیہا ابھی اپنے کمرے میں بھاگتی ہوئی آئی تھی اپنے بابا اور نانا سائیں کی باتیں وہ سن چکی تھی اسکے کانوں میں نانا سائیں کی باتیں گونج رہی تھی…….. اپنا کمرہ بند کر کے دروازے کے ساتھ ہی روتے روتے نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی………..

اپنے نرم ونازک ہاتھوں کو چہرے پر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اب تو میری قسمت میں رونا ہی لکھا ہے ابیہا کے اندر سے آواز آئی تھی….

.یا اللہ مجھ سے ایسا کیا گناہ ہوگیا تھا……میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا اللہ پاک میں کیا کروں……..

مجھے صبر دے دیں اللہ پاک میں کیا کروں……؟؟

میرا اس سب میں کیا قصور تھا مجھے سب کیوں sb غلط کہہ رہے ہیں اللہ پاک میری مدد فرمائیں مجھ گناہ گار کو معاف فرما دیں…….میری زندگی مجھ پر آسان کر دیں.وہ اپنے اللہ سے مخاطب تھی…..جب انسان بلکل اکیلا ہو جاتا ہے جب کوئی رشتہ پاس نہیں ہو تا وہی تو رب ہے انسان ہی اللہ سے دور ہوتا ہے…………..اللہ تو ہمیشہ انسان کی شہ رگ سے بھی قریب رہتا ہے …………….وہ اپنے لئے اللہ سے آسانی مانگ رہی تھی…….عنقریب اس کی زندگی میں آسانی آنے والی تھی مگر فلحال اس کا رب ہی جانتا تھا کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور وہ بہتر جانتا ہے انسان کے بارے میں ابیہا کی زندگی بھی آسان ہو نے والی تھی …………..

کیونکہ

“ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”…….

ابیہا اپنے اللہ کے ساتھ محو گفتگو تھی……….اچانک دروازے کے عقب سے ملازمہ کی آواز آئی تھی………….ابیہا بی بی آپکو بی بی سائیں باورچی خانے میں,بلارہی ہیں……………

اچھا آتی ہوں………..ابیہا نے جوابأ کہا….

……وہ اپنی سفید چادر درست کر تی ہوئی بیڈ سے اٹھی کہ اچانک نظرآئینہ پر پڑی تو اپنا سراپہ دیکھنے لگی…..جو کچھ ہی ماہ میں مکمل بدل چکا تھا……….اجڑہ ویران,چہرہ کبھی اس چہرہ پر لالی ہوا کر تی تھی……..بکھرے بال……….آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے……اپنا پس مردہ چہرہ دیکھ کر اسکی آنکھ سے ایک موتی گرا تھا جو اسکی اسی سفید چادر میں جذب ہو چکا,تھا…….جو اسے ساری زندگی کے لئے تحفے میں دی گئی تھی…………..

ابیہا میں نے تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے

.ہر بار سفید سوٹ مت لیا کرو پھر بھی تم نہیں سنتی اس طرح اچھا نہیں ہوتا…………اماں سائیں آپ کو تو پتہ ہے نہ سفید رنگ سے تو مجھے عشق ہے میرا بس چلے تو ساری زندگی سفید سوٹ میں بسر کروں……..کہیں دور اماں کی اور اپنی کہی باتیں اسکے کان میں,گونجی تھیں…………سچ کہا جاتا یے کچھ وقت قبولیت کےہو تے ہیں… شاید اسکے لئے اسوقت فرشتے آمین کہہ چکے تھے…………..اسلئے کہا جاتا ہے پہلے تولو پھر بولو……….اب اس سفید لباس سے ابیہا کو کوفت ہو تی تھی……اب اسکا دل تتلیوں کی طرح رنگ برنگی پھولوں کا چاہتا تھا…..انسان بڑا ناشکر hota ہے……..جو چیز میسر ہو…..اس سے دور ہوتا چلا جاتا ہے…………جو میسر نہ ہو اسکے قریب ہونا چاہتا ہے………وہ اپنے خیالات کو جھٹکتی اپنے قید خانے سے باہر نکلی تھی اب اسکی منزل باورچی خانہ تھا جہاں بی بی سائین انتظار میں تھیں……….اسنے برآمد میں قدم رکھے تھے تو سلمان شاہ سے اسکا ٹکراؤ ہوا تھا…….اسکی کہی باتوں کا جواب دیئے وہ جا چکی تھی…………..جی مامی سائین آپنے بلایا مجھے…….بی بی سائیں جو بھابھی سائیں کے ساتھ(عباد شاہ کی بیوی)کے ساتھ مل کے ملازموں کو کچھ حکم دے رہی تھیں……اسکی آواز پر مڑی تھیں………آؤ ابیہا مامی سائیں نے ابیہا کو اندر بلا یا تھا……..اسکے سر پر پیار پھیرا تھا,انہوں نے اسےمخاطب کیا تھا……وہ ان کے بلکل پاس کھڑی ہو گئی تھی دل کی دھڑکن بڑھی تھی اچانک………..دماغ میں ناناسائین کے الفاظ گونج رہے تھے……اب,نا جانے مامی سائیں کیا حکم دیں گی اس کی سوچ کی سوئی بس وہی اٹکی تھی………

ابیہا بیٹا تم بہت اچھی طرح جان چکی ہو…….

جو تمہارے ساتھ ہوا سب تمہیں لاکھ قصور وار سمجھے میں جانتی ہوں………نہ اس میں تمہاری غلطی تھی نہ تمہاری مرضی……………..بس ہم سب کا نصیب تھا……وہ دکھ بھلانا ممکن نہیں ہے………قدرت کے لکھے کو کوئی نہیں ٹال سکتا….

اسکی کمی بھی کوئی پوری نہیں کرسکتا…..مامی سائین اس سے بہت اچھے انداز میں محو گفتگو تھیں……..انکی آنکھوں سے یک دم آنسو رواں ہو,گئے…..آخر کو وہ ایک ماں تھیں………

اولاد کا دکھ ماں باپ کو……جڑ سے الگ کئے ہوئےدرخت جیسا کر دیتا ہے…….

انہوں نے اپنے آنسو اپنے آنچل سے صاف کئے…..

ابیہا آج سے باورچی خانے کے تمام کام تمہارے ذمہ ہیں….مامی سائین نے ابیہا سے کہا……..مطلب تم دیکھوں گی کہ آج کیا پکانا ہے تم تمام ملازموں کو دیکھوں گی ٹھیک ہے…….انہوں نے ابیہا سے تائید چاہئے.

ابیہا نے سر کو ہلکا سا خم دیا……مامی سائین حکم سناکر جا چکی تھیں…..