Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 18
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 18
Safaid Ishq by Sania Saeed
شکورن جلدی سے برتن سمیٹتی جا چکی تھی…
ابیہا ہونق بنی اسکی پیٹھ تکتی رہ گئی..یہ کیا بات ہوئ بھلا…شاید انہوں نے اپنے ملازموں کو بھی منع کر رکھا ہوگا…اپنی شادی کے متعلق بتانے سے…پر. انہوں نے تو کہا وہ یہی رہتے ہیں…؟؟شاید اوپر پورشن میں رہتے ہوں…ابیہا خود سے سوال کرتی اور خود سے ہی جواب اخذ کرتی پر یشان حال ہو رہی تھی…اوپری طرف دیکھتے ہوئے سوچنے لگی…
یہ بھی تو اآخر مرد جو ٹھہرے شادی تو کرنی ہی تھی…پر مجھ سے کیوں کی شادی…میں وہی حویلی میں ٹھیک تھی…پر مجھے یہاں ان سے ڈر کر نہیں رہنا چاہئے اب مجھے مضبوط بننا ہوگا….ابیہا اپنے آپ کو کبھی سمجھاتی تو کبھی تصلی دیتی…پھر وہ اٹھ کر روم میں آگئی….ابیہا کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا…بس کبھی وہ کمرے میں ٹہلتی تو کبھی بے سکون ہوتی دن یونہی اختتام پذیر ہوگیا…ابیہا ابھی نہیں جانتی تھی ….سلمان شاہ نے اسکے لئے کیا کیا تھا….ہمارے یہاں عورتوں کا اپنا المیہ یہی ہے کہ انہیں خود دوسری شادی گناہ لگنے لگتی ہے….بس صرف لوگوں کی باتوں کی وجہ سے…حلانکہ دوسری شادی عورت کا حق ہے…اگر وہ متلعقہ یابیوہ ہو.
######################################
سلمان شاہ گھر میں داخل ہوا تو اسکے ہاتھ میں بے شمار شوپرز تھے…وہ فورا راہ داری سے ہوتا ہوا …اپنے کمرے کی جانب گیا….وہ جانتا تھا…ابیہا کمرے میں ہی ہو گی…
ہیلو…!!سلمان نے کمرے میں داخل ہو کر ابیہا کو دیکھتے ہوئے کہا..جو میگزین ہاتھ میں لئے ورق گردانی کر رہی تھی…
اسلام علیکم…!!ابیہا نےاسکی طرف دیکھ کر اسے شرمندہ کرنا چاہا..
وعلیکم اسلام….پر سلمان نے شرمندہ ہوئے بنا جواب دیا….
یہ لو کچھ سامان ہے…تمہارے لئے…اب تم مجھے اس سفید سوٹ میں بلکل نظر نہ آؤ…
سلمان ابیہاکے آگے شوپرز رکھتے ہوئے بارعب انداز میں بولا…
ابیہا وہ شوپرز خاموشی سے دیکھنے لگی…
تمہارے دیکھنے کے لئے نہیں لایا…استعمال کرنے کے لئے لایا ہوں….شاباش جلدی سے دیکھ کے بتاؤ کیسا لگا اور ان میں سے کوئی یک سوٹ نکال کر پہن لو….سلمان نے ابیہا کو غور سے شوپرز کو دیکھتے ہوئے کہا….
جی جی….ابیہا ہربڑا کر اٹھی..
سلمان شاہ خود فریش ہونے چلا گیا.ابیہا شوپرز کو بے دلی سے کھولے دیکھنے لگی…
ان میں تقریبا بارہ برینڈڈ ڈریس تھے..ساتھ سلیپرز…..ہینڈ بیگ…ہر چیز اعلی معیار کی تھی…
ابیہا کی آنکھوں میں آنسو آگئے چیزوں کو دیکھتے.
..کافی عرصے بعد کسی کو ابیہا کی اتنی پرواہ ہوئی تھی…وہ عجیب حالات سے دوچار ہوئی…
دل میں چھائ بدگمانی سلمان کے متعلق تھوڑی دیر کے لئے کہیں غائب ہوئ…پر پھر وہی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں….
تم نے ہی سلمان کو اپنے جال میں پھنسا ہو گا….
تم ابھی تک یونہی بیٹھی ہو…سلمان شاور لے نکل چکا تھا..
ابیہا کو گم سم بیٹھا اسنے پکارا…
جی بس…..ابیہا کو اپنے خیالوں کی دنیا میں گم تھی..اسے جلدی سے کہا..
میں کھانے کے لئے باہر ویٹ کر رہا ہوں…
جلدی سے آجاؤ….سلمان نے تنبہیہ کرتے ہوئے کہا..وہ جاتے جاتے رکا….تیار ہوکر آنا ابییہا….اسنے نام پکارا…
وہ جا چکا تھا…ابیہا نے بے دلی سے ان میں سے ایک پستہ کلر کا سوٹ جس میں گولڈن موتیوں. ہلکاکا کام ہوا تھا وہ پہنا….بہت نفیس ساڈریس تھا….ساتھ ابیہا نے جیولری میں بریسلٹ ……اور….کانوں میں ایئر رنگز پہنے جو چھوٹے سے تھے..وہ ڈائمنڈ کے لگ رہے تھے….اپنے نازک پاؤں میں نازک سی ……..ہیلز کے سلیپر ز پہنے…ڈوپٹے کو اچھی طرح سر پر لئے ………
بس پونہی وہ ہلکا پھلکا تیار ہو کر…کمرے سے باہر نکلی…
بہت عرصہ بیت چکا تھا…اسے تیار ہوئے آج وہ اپنے آپکو بھی بہت اچھی لگ رہی تھی…دل میں کہیں خوشی کی ہلکی سی رمق تھی…توپھر سلمان شاہ کی دوسری بیوی کا حویلہ سامنے آجاتا…پھر وہ مضطرب ہو جاتی..
سلمان شاہ جو کھانے پر اسکا ویٹ کر رہا تھا…ابیہا کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا…..
وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی….
وہ بھی پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی تھوڑا بہت کھانہ کھانے کے بعد وہ اٹھنے لگی….
بیٹھی رہو….سلمان نے حکم جاری کیا…
جی کوئ کام تھا آپکو….ابیہا نے جھجھک کر پوچھا….
کیوں تم سے کام ہو تو تمہیں اپنے پاس بیٹھا سکتا ہوں…
نہیں…نہیں….وہ میرا مطلب….ابیہا نے بات ادھوری چھوڑی..
تمہارا مطلب جو بھی ہو “جاناں”…..سلمان شاہ نے ابیہا کا یخ بستہ ہاتھ تھام کر کہا…
ابیہا تو لفظ “جاناں” پر ششدرد رہ گئی…
ابیہا نے اپنے ہاتھ پیچھے کرناچاہے….جس پر سلمان نے اپنی گرفت اور مضبوط کر لی…..ابیہا سلمان کو دیکھنے لگی
یہ ہاتھ” جاناں” چھوڑنے کے لئے نہیں تھامے…اسنے ابیہا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا….
جس پر ابیہا نے اپنی آنکھیں جھکا دیں…
میں باہر,گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں…جلدی سے آجاؤ…
سلمان شاہ نے نیا حکم جاری کیا….
وہ بس اسکی پشت کو گھور کر رہ گئی…
یہ شخص میری آزمائشیں بڑھا رہا ہے….ابیہا سوچ کر رہ گئی…
وہ جیسے ہی باہر نکلی سلمان شاہ اہنی پراڈو کا فرنٹ ڈور کھولے اسکاانتظار کررہا تھا…….بابا جانی کے بعد وہ شخص واحد تھا جو ابیہا کے لئے فرنٹ ڈور کھوکے کھڑا تھا….
ابیہاکی آنکھیں لبالب نمکیں پانیوں سے بھر گئیں…اپنی آنکھوں کے نم کونو کو ہا تھ کی پشت سے صاف کرتی وہ گاڑی میں بیٹھ گئی…
]]]]||||||[[[[[||||||||
ابیہا کے لئے تو سارے راستے انجان تھے…وہ گاڑی سے بس باہر کے نظارے کرنے میں گم ہو چکی تھی…ہر ظرف روشنی ہی روشنی تھی…آخر کو وہ روشنیوں کے شہر میں جو تھی..ابیہا کی بچپن سے خواہش رہی تھی….کراچی شہر دیکھنے کی اور سمندر دیکھنے کا تو اسے جنون تھا….جب بھی بابا جانی جراچی جاتے تھے…وہ انہیں کہتی تھی…مجھے بھی لے جائیں وہ ہر طرف اگلی بار کا کہہ کر اسے ٹال دیتے تھے……ابیہا نے ایک دم آنکھیں بند کر لی تھیں….اب اسکے چہرے پر ٹھنڈی ہواؤں کا پہرہ تھا…ابیہا نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں…ایک نظر ساتھ بیٹھے اپنے ہمسفر کو دیکھا تھا جو اپنی ہی دھن میں گاڑی چکا,رہا تھا…..ابیہا نگ دور سے دیکھتا وہاں روشنویں کے بیچ سے سمندر کی لہریں ابھر ابھر کر آرہیں تھیں.. اسکی ..یہ خواہش آج اس طرح پوری ہو رہی تھی..ابیہا حق ودق اس خاموشی سے اسکی ہر خواہش پوری کرنے والے اپنے ہمنواہ کر دیکھنے لگی.
