Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 7
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 7
Safaid Ishq by Sania Saeed
سلمان شاہ کے قدم مردان خانے کی طرف بڑہ رہے تھے وہ آج ہر حال میں دادا جان کے سامنے بات کر نے کا اٹل فیصلہ کر چکا تھا جس با ت کا وہ فیصلہ کر لیتا تھا پھت اس دے ہٹتا نہیں تھا جسے ہی وہ راہداری عبور کر کے برآمدے مھں پہنچا آج حویلی کا ہر فرد برآمدے میں موجود تھا دادا سائیں جو صوفے پر بڑے انہماک سے ببیٹھے اپنے بیٹوں سے محو گفتگو تھے وہاں عباد لالا ان کی بیوی اور تائی سائییں ان کے پیچھے کھڑی تھی اس گھر کی عوتوں کو مردوں کے ساتھ بیٹھنے اجازت نہیں تھی کبھی بھی شاہے وہ مرد ان کا محرم ہی کیوں نہ ہو…….دادا سائیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے………….سلمان شاہ نے ان سب کے سامنے جا کر دادا جان سے مخاطب ہواص تھا وہ اپنی بات کہنے کا عادی تھا اجازت نہیں طلب کرتا تھا وہ طرف آگاہ کر تا تھا آج بھی اس کا لہجہ ایسا تھا……..برآمدے میں بیٹھے ہر شخص نے بہت غور سے سلمان شاہ کو دیکھا تھا آج اس کے رویے میں کچھ اور تھا جو تائی سائین کو کھٹکا تھا……..دادا سائیں نے اٹھ کر اپنے لاڈلے پوتے ساتھ بیٹھنے کا حکم ظاہر کیا تھا……….وہ ان کے قریب ہوا تھا پر وہ بیٹھا نہیں تھا ابھی دادا سائیں بیٹھنے کا ارادے کر رہے تھے جب سلمان شاہ نے ان سمیت حویلی کے ہر مکین پر بم چھوڑا تھا جس کی تباہی بہت دور تک پھیلنی تھی دادا سائین میں ابیہا سے شادی کرنا ابھی اسکا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھادادا سائین کا ہاتھ پوری طاقت سے اٹھا تھا اس کہ علاوہ بڑی حویلی کے برآمدے میں بیٹھے ہر نفوس کا منہ کھلا رہ گیا تھا سلمان شاہ کی بات سن کے سلمان شاہ نے دادا سائین کی طرف نظر اٹھا ئی اپنا جملہ مکمل کرنے کے لئے ایک بار پھر دادا سائیں کا ہاتھ اٹھا تھا مگر وہ سلمان شاہ تھا ان کا لاڈلہ پوتا ضدی ہٹ دھرم اپنی بات آخر وہ مکمل کر چکا تھا دادا نے غیض وغضب سے اپنے پوتے کو دیکھا تھا اپنی شہادت کی انگلی اسکی طرف کرکے اسے کہا تھا سلمان شاہ یہ تم تھے میرے لاڈلے پوتے ایسی بات اپنے منہ سے نکالنے والے تمہاری جگہ کوئی یہ بات کہتا تو میں اس کی کھوپڑی اپنے ہاتھوں سے اڑا دیتا نکل جاؤ میرے سامنے سے دور ہو جاؤ میری نظر سے ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تمہارا اور میرا کوئی رشتہ بھی ہے….سلمان شاہ اپنے دادا کی بات سن کر حیران نہہں ہوا تھا وہ جانتا تھا ایسا ہو گا کیو نکہ وہ جانتا تھا وہ اپنے خاندان کا واحد شخص تھا جس نے ایسی بات اپنے منہ سے نکالنے کا گناہ کیا تھا وہ بھی ایک بیوہ سے شادی کا جب کہ وہ جانتا تھا ان کے خاندان میں بیوہ کی شادی کرنا گناہ تصور کیاجاتا تھا بیشک وہ بیوہ نکاح کے بعد ہو یا رخصتی کے بعد وہ یہ غضب کر گیا تھا……….
دادا سائیں آپ کے کہنے سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ابیہا سے شادی تو میری ہر حال میں ہو گی…..سلمان شاہ ہ دادا سائیں چلائے مگر اس نے اپنی بات جاری رکھی تھی مجھے اگر خو د مرنا پڑے یا کسی کو مارنا پڑے اس کے لئے پر میری ابیہا سے شادی ہوگی اب کی بار عباد شاہ سلماں شاہ کے پاس آیا تھا اور اسکا گریبان پکڑا تھا سلمان شاہ نے اس کے ہا تھ جھٹکے تھے……نہیں عباد لالا نہیں بلکل بھی نہیں سلمان شاہ کے گریبان پر آپ نے. ہاتھ ڈالا ہے اور میں آپکو صرف اسلئے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ آپ میرے بھائی ہو اگلی بار آپ نے ایساکچھ کرنا چاہا تو مءں بھول جاؤں گا کہ آپ سے میرا کوئی رشتہ اب پھر اس نے اپنا رخ دادا سائیں کی طر ف کیا تھا……دادا سائیں میں ابھی جا رہا ہوں پر میں اب اپنے کہے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا……آپ بھی یہ اچھی طرح جانتے ہیں…..اس سارے معاملے میں اس کے بابا سائین اور تایا سائیں خاموش ,تماشائی بنے دیکھ رہے تھے کیونکہ انکی بھی ہمت نہیں ہو تی اپنے بابا سائیں کے سامنے اف بھی کر سکیں……………سلمان شاہ اپنی بات کہہ کر جا چکا تھا مگر جو طوفان آنا تھا وہ اس سے بے خبر تھا
برآمد میں موجود ہر شخص جا چکا تھابی بی سائیں اچانک ہوش میں آئیں تھی سلمان شاہ کے جانے کے بعد ان کے ذہہن میں صرف نوری کے الفاظ گونج رہے تھے ان کے لب ہلے تھے ہلکی آواز برآمد ہوئی مطلب کہ نوری کے الفاظ سچے تھے ابیہا شاہ تم نے میرے بیٹے کو دھوکا دیا
وہ بڑأمد عبور کر کے ابیہا کی تلاش میں نکلی تھی جو معصوم اس سب سے انجان تھی بی بی سائیں جانتی تھی ابیہا اسوقت کہاں ہو گی وہ سیدھا کچن میں گئی تھی جہاں ابیہا کھانا بنوانے میں مصروف تھی انہوں نے اسے پکارا تھا اس پکار میں محبت کہیں نہیں تھی
ابیہا……..
جی مامی سائیں ……وہ اچانک مڑی تھی
مامی سائیں کے تیور خطرناک لگ رہے تھے وہ جلدی سے ابیہا تک پہنچی تھیں……وہ ملازموں کو نظر انداز کرتی بے دردی سے ابیہا کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ تقریبا گھسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جارہیں تھی…..ابیہا ہونقوں کی طرح ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ رہیں تھی آج اس لمس میں محبت محسوس نہیں ہوئی تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی………انہوں نے ابیہاکے کمر ے کا دروازہ کھولا تھا اور پٹخنے کے انداز میں ابیہا کو کمرے کے اندر پھینکا تھا ابیہا بہت مشکل سے اپنا توازن برقرار رکھ پائی تھی خود کو گرنے سے بچایا تھا وہ حیران پریشان تھی اس ساری صوتحال میں وہ چاہ کر بھی نہیں پوچھ پا رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا….اس نے ایسا کیا کیا ہے؟؟انہوں اپنے منہ سے أگ برسنا شروع کیا تھا جس منہ سے اس کے لئے کبھی پھول جڑھا کرتے تھے
ذلیل تونے ہی اسے اپنے حسن کے جال میں پھانسا ہو گا ورنہ میرا بچہ ایسا نہیں تھا تجھے شرم نہیں آئی ایک بیوہ ہو کر اتنا بڑا گناہ کرنے چلی تھی مجھے تو پہلے ہی شک تھا تجھ پر منحو س لڑکی مامی سائیں کا ہاتھ ابیہا کے نرم و گداز گالوں پر پڑا تھا وہ اس تھپڑ کی تاب نہ لا سکی تھی اور چکنے فرش پر منہ کے بل گری تھی وہ اتنی محبت کرنے والی مامی کا دوسرا خطرنا ک چہرہ دیکھ رہی تھی انہوں نے ابیہا کو مار مار کر ادھ مو ہا کر دیا تھا وہ اپنی صفائی بھی نہیں دے پا رہی تھی وہ اپنوں کے بدلتے چہرے دیکھ رہی تھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا پہلا پتھر اپنوں کے ہاتھوں میں ہو گا سچ کہا جا تا ہے اپنوں کے تکلیف دہ جملعوں کی تکلیف غیروں کے کنکر سے بھی خطرناک ہوتی ہے وہ بے مول ہو چکی تھی اس کی جھیل سی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھی……ما ما ما می سائیں آپ کیا کہہ رہی ہیں ان نے بہت مشکل سے لب کھولے تھے…..مامی سائیں نیچے فرش پر اسکے اوپر جھکی تھی ابھی بھی مجھ سے پوچھ رہی ہو کیا کیا ہے جو باہر سلمان نے کہا وہ سب نہیں معلوم کیا اسکے ساتھ محبت کی پینگیں چلا رہی تھی ہمارے ناک کے بیچے تجھے شرم نہ آئی ابیہا تو میرے بیٹے کی بیوی ہے میرے دلاور شاہ کی تو اس سے وفا نہ نبھا سکی میرا سلمان ایسا نہیں ہے تونے اسے زور دیا ہو گا جو وہ ایسی بات کر گیا ہے تھو ہے تجھ ابیہا تھو……انہوں نے ابیہا کے منہ پر تھو کا تھا ………..وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی مامی سائیں کیا کہہ رہیں ہیں اپنے منہ پر تھوکے جانے پر وہ اپنی آنکھیں کر چکی تھی اذیت تکلیف کیا ہو تی ہے بے عزتی کیا ہوتی ہے ابیہا کو أج پتہ چلا تھا……..مامی سائیں نے ایک دم اسے اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے پرے کیاتھا وہ دوبارہ فرش پر گری تھی وہ بے مول ہوچکی تھی اپنے ہی رشتوں کے ہاتھوں ذلیل کر دیا گیا تھا ابیہا کو اس کے اپنوں نے ہی میں نے کچھ نہیں کیا اس نے انتہا ئی زور سے کہا تھا پر اسکی آواز پھر بھی بہت ہلکی نکلی تھی میرا خدا گواہ ہے مامی سائیں میں نے کچھ نہیں کیا نہیں نہیں نہیں کیا . کچھ مامی سائیں میں بے گناہ ہوں ……وہ روتے روتے اپنے آپ کو مارنے لگ گئی تھی …….وہ بے قصور تھی مگر اسے گناہ گار سمجھا جا,رہاتھا مامی سائیں کے دروازے کی طرف بڑھتے قدم تھمے تھے پر وہ مڑی نہیں تھیں …..آج سے تم اسی کمرے میں رہو گی ابیہا یہاں سے باہر نہیں جا پاؤ گی وہ اس کے کمرے سے نکلی اور اتنہائی زور دار طریقے سے کمرے کو باہر سے اچھی طرح بند کر دیا تھا……اب ابیہا کی قسمت میں آگے کیا ہونے والا تھا وہ اللہ پاک جانتا ہے ابھی اس نے اور کتنی آزمائشیں جھلنی ہیں وہ نہیں جانتی تھی…..مگر اللہ جب اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اسکا اجر بھی دیتا ہے کیونکہ ہر چیز صبر سے ملتی جلدبازی کا کام تو ادھورا رہ جاتا ہے وہ اب اپنے بیڈ کے پاس ہی سر جھکا کر بیٹھ چکی تھی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی سلمان شاہ کے ساتھ اسکا نام کیوں جوڑا جا رہا ہے.سلمان شاہ نے ایسا کیا کہا اس کے بارے میں اس نے تو ہمیشہ سے اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا تھا..مگر قسمت کی ستم ظر یفی کے آگے کس کی چلتی ہے.
