547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 26

Safaid Ishq by Sania Saeed

دو بیل جانے کے بعد سلمان نے کال اٹھا لی تھی…

وہ وہ…. آپ یہاں آجائے…. کال پک ہوتے ہی ابیہا نے ہانپتے ہوئے سلمان سے پوچھا…

کیس ہوا ابیہا خیریت ہے تم ٹھیک تو ہو نہ….ابیہا کی آواز سنتے ہی سلمان نے پریشانی سے پوچھا…

وہ نانا سائیں…ابیہا بس اتناہی کہہ سکی..

کیا ہوا دادا سائیں….کو….ابیہا تم یہ کیا کہہ رہی ہو..تم خود تو ٹھیک ہو تم رو کیوں کی رہی ہو جلدی بتاؤ.سلمان نے خدشہ ظاہر کرتی آواز میں پوچھا..

جی جی میں ٹھیک ہوں بس ……

آپ یہاں آجا ئے جلدی میں آپ کو ایڈریس سینڈ کر تی ہوں…

ابیہا نے روانی میں بالآخر کہا..بس آپ یہاں آئے آپکو سب معلوم ہو جائے گا…

اچھا اچھا تم فکر مت کرو میں بس نکل رہا ہوں…اسنے ابیہا کو حوصلہ دلاتے کہا….وہ جانتا تھا اسکی بیوی بہت ڈرپوک قسم کی ہے…جتنی وہ بہادر بننے کی کوشش کرتی تھی وہ اتنی بہادر نہیں تھی…

ابیہا نے فورا سے پہلے سلمان کو میسج سینڈ کیا..

سلمان کو جیسے ہی میسج موصول ہوا اسنے جلدی سے آفس سے اپنی گاڑی کی چابی لی مینجر کو پہلے ہی انفارم کر چکا تھا….آج کی تمام اہم میٹنگ اسنے مینجر سے کہہ کر کینسل کروا دی تھی….اب وہ ابیہا کے بھیجے ایڈرس پر روانہ ہوچکا تھا…

###########:##:###################:#

ابیہا سلمان جو ایڈرس سینڈ کر چکی تھی اب وہ پیر بخش شاہ کی طرف متوجہ ہوئی نانا سائیں یہ آپکو کیا ہوگیا….آپ نے مجھے پہچانہ میں ابیہا ہوں…اب ابیہا دیوانہ وار اپنے نانا سائیں سے پوچھ رہی تھی….کبھی وہ انکے ہاتھ چومتی تو کبھی انکو ماتھے پر پیار کرتی کبھی انکے ہاتھ اپنی آنکھوں پر لگاتی….پر پھر بھی پیر بخش شاہ اسے پہچان نہیں پارہے تھے….وہ عجیب نظروں سے ابیہا کو دیکھ رہے تھے….

جیسے اسے پہچانے کی کوشش کر رہے ہوں….اب ابیہا کے پاس آکر سب پوچھ رہے تھے….کہ اب انہیں وہاں سے نکلنا تھا کیونکہ واپسی کا سفر بھی کافی لمبا تھا..

پر ابیہا نے اپنے پروفیسر کو سارھ جٹنے سے منع کر دیا تھا…

میم میرے ہسبنڈ آتے ہونگے میں انکےساتھ روانہ ہو جاؤں آپ سب چلے جائے…جس پر میم نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے زیادہ بحث نہیں کی اور اسے وہی رہنے دیا جبکہ وہ اس ادارے کے چیئرمین سے ابیہا کے سلسلے میں بات کر چکی تھی…

#################################

ابیہا…..سلمان شاہ دو گھنٹے کی ڈرائیو کو ایک گھنٹہ پندرہ منٹ میں طے کر کے آیا تھا اور ابیہا کو جیسے ہی دیکھا اسکو آواز لگا کے اسکی طرف بڑھنے لگا…پر اسکے ساتھ بیٹھے بزرگ کو دیکھ کر اسکے قدم ٹھٹک گئے تھے…

کچھ لمحے وہ حیرت میں مبتلا رہا….

آپ آگئے….پر جیسے ہی ابیہا نے آواز دی تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا اور جو چند قدم کا فاصلہ تھا…اسے دیوانہ وار بھاگتے ہوئے طے کیا اور دادا سائیں کے پاس ھا پہنچا…

دادا سائیں….اسکے حلق سے خوشی و غم کی ملی جلی کیفیت میں آواز نکلی….سلمان بھاگتا ہواانکے پاس جا پہنچا…وہ ابیہا کے ساتھ وہاں بنے بینچ پر بیٹھے تھے…

دادا سائیں نے اپنی جھکی نظروں کو اٹھا کر اپنے پیارے پوتے کو دیکھا…..دیکھتے ہی دیکھتے انکی آنکھوں سے اشک بہنے لگے….وہ سیکنڈ میں سلمان کو پہچان چکے تھے…

سلمان شاہ….انہوں نے اپنی زبان سے بنا رکے اسکا نام ادا کیا…..

جیسے وہ اسی کے انتظار میں تھے….جی دادا سائیں میں آپکا سلمان….اب سلمان نے دادا سائیں کو آگے بڑھ کر گلے لگایا….آپ یہاں کیسے دادا سائیں…سلمان کی آنکھیں اپنے دادا سائیں کو دیکھ کر نم ہو رہی تھی…

ابیہا تمہیں یہاں کیسے یہ سب…وہ مکمل بات نہیں کر پارہا تھا….پر ابیہا سے پوری بات جاننا چاہتا تھا…ابھی ہمیں نانا سائیں کو لے کر گھر چلنا چاہئے پھر میں آپکو کچھ بتاتی ہوں…..ابیہا سلمان کو پہلے چلنے کے لئے کہا

سلمان جلدی اس اولڈ ایج ہوم کے آفس میں جانے لگا….

جب کے ابیہا نانا سائیں کے پاس بیٹھی رہی…

پیر بخش شاہ کو لے کر وہاں ںسے نکل چکے تھِے ابیہا نانا سائیں کے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھی تھی جہاں وہ نیند کی وادی میں گم ہوچکے تھے پیر بخش شاہ نے ابیہا کو بھی پہچان لیا تھا اور ابیہا نے راستے میں ہی سلمان کوپوری روادار سنا دی تھی جس پر سلمان شاہ کی آنکھیں غصے کو ضبط کرتے سرخ ہورہی تھی جیسے وہ کچھ اور بھی جانتا تھا ابیہا کی بات مکمل ہونے پر سلمان نے ابیہا کو پکارا وہ جو باہر کے نظاروں کو دیکھتی ہوئی دماغ میں دادا سائیں کی حالت پر افسوس کرتی ہوئی سوچوں میں گم تھی….

ابیہا تمہیں معلوم ہے دادا سائیں کو یہاں لانے والا کون ہے….؟؟سلمان نے جیسے ابیہا سے جاننا چاہا…

نہیں تو…..ابیہا نے چونک کر جواب میں سوال کیا کہ کیا آپکو معلوم ہے…¤¤؟؟؟

دادا سائیں کو یہاں لانا والا اور کوئی نہیں ابیہا وہ عباد لالا ہیں….سلمان نے اپنی ابرو کو اچکا کر کہا….

ابیہا کو گو لگا زمین اور آسمان اس کے اردگرد گھوم گئے ہوں…

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ایسا کیسے کر سکتے ہیں عباد لالا

ابیہا نے حیران کو پوچھا کے کیا اس نے غلط سنا ہے

یہی سچ ہے ابیہا …….

پھر دونوں کے پیچ کچھ لمحہ خاموشی چھائی رہی..

آپ نے ڈاکٹر کو کال کی…؟؟ابیہا نے ہی خاموشی کے لمحے لو ختم کیا اب جو بھی تھا انہیں پیر بخش شاہ کو خود سنبھلانا تھا انہیں واپس زندگی کی طرف لانا تھا….

اور بچے اسکول سے آگئے ہیں کہ نہیں آپ نے پتہ کیا…؟؟

ابیہا نے ایک اور سوال داغا ….

ہاں بچوں کو ڈرائیور سے لے آیا تھا میں نے بچوں سے بات کی تھی اور انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ ہم ان کے دادا سائیں کو لے کر آرہے ہیں ساتھ وہ دونوں بہت خوش ہیں ابیہا…..سلمان نے بیک ویو مرر سے دیکھتے ہوئے ابیہا کو پوری بات بتائی….

ہاں تو وہ خوش تو ہو نگے نہ جنہیں انہوں نے محض تصویروں میں دیکھا تھا اب وہ ان کے سامنے ہونگے…

سلمان اور ابیہا نے اپنے دونوں بچوں کو انکے تمام رشتوں کے متعلق تصویروں اور باتوں کے ذریعے انہیں آشنا کیا ہوا تھا

اور انکے پھو چھنے پر کے وہ ہم سے ملنے کیوں نہیں آتے یا ہم کیوں جاتے تو وہ کہہ دیتے تھے….کہ جب آپ تھوڑے بڑے ہوجائیں پھر ہم آپ کو لے کر جائیں گے ان سے ملنے وہ مان بھی جایا کرتے تھے…

ابیہا اور سلمان اپنے بچوں کے لئے بھی بہت خوش تھے..

جب وہ گھر پہنچے تو کافی وقت بیت چکا تھا….

وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے بچے انکے ساتھ پیر بخش شاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور جوش وخروش میں انکے ساتھ لپٹ گئے….

دادا جی…..جب کے پیر بخش شاہ حیران و پریشان سے اپنے ساتھ لپٹے دو چھوٹے بچوں کو دیکھ رہے تھے…دونوں لگ بھگ انہیں ہم عمر ہی لگے….

یہ حنین اور حمین ہیں دادا سائیں میرے بیٹے…سلمان نے دادا سائیں کی پریشانی حل کرتے ہوئے انہیں بتایا جس پر وہ بھی والہانہ انداز میں بچوں سے لپٹ گئے اور انکی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے..

سلمام شاہ دادا سائیں کا بہت خیال رکھ رہا تھا جس سے وہ بہت جلدی اپنی صحت کی طرف پھر رواں دواں تھے اور ساتھ ابیہا اور بچے بھی پیش پیش تھے…

######:::::::::???????”””””””

دادا سائیں ایسا کیا ہوا تھاکے عباد شاہ اسے لالا کہنا میں لفظ بھائی کی توحین سمجھتا ہوں

وہ آپکو اس مقام تک چھوڑ آئے تھے…

ابیاہا سلمان شاہ اور دادا سایئں تینوں گاڈتن میں بیٹھے اپنے سامنے کھیلتے بچوں کو دئکھ رہےتھے جب اچانک سلمان شاہ نے دادا سائیں سے کہا …..جس پر دادا سائیں ہڑابڑا گئے تھے…

دادا سائیں زیادہ حیران مت ہوں میں جانتا ہوں….۔…آپکو اس مقام پہنچانے والا اور کوئی نہیں بلکہ عباد شاہ ہی ہے…….

اور دادا سائیں بس آپ مجھے مکمل بات سے آگای کردیں پھر دیکھئے گا میں اسکے ساتھ کیا کرتاہوں….

سلمان شاہ مجھ سے ایک وعدہ کرو…..پیر بخش شاہ نے اہنے جان عزیز پوتے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا…..

اور اس سے ایک وعدہ چاہا تھا…..