547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 10

Safaid Ishq by Sania Saeed

شام کے پانچ بجنے کو آئے تھے پیر بخش شاہ سمیت حویلی کا ہر فرد سوائے ابیہا کے برآمدے میں بیٹھے تھے دادا سائین بے چینی سے کبھی گھڑی کو دیکھتے تو کبھی راہ داری کو انکے دل میں ایک بے چینی تھی کے دیکھوں سلمان شاہ اب کیا کرتا ہے اور کب آتا ہے کیونکہ وہ صبح سے گھر سے غائب تھا دادا سائیں اسکی دھمکی کو لے کر پریشان تھے وہ اپنے پوتے کو بخوبی جانتے تھے وہ جو کہتا تھا وہ کرتاتھا………..زندگی میں پہلی طار حویلی کے افراد پیر بخش کو اتنا لاچار محسو س کر رہتے جو ان کی سکل سے واضع ہو رہا تھا…………

داداسائیں چائے لاؤں آپکے لئے عباد شاہ کی بیوی نے ڈر ڈر کے داداسائیں سے پوچھا تھا….جس پر دادا سائیں نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا……وہ صرف عباد شاہ کو دیکھ کر رہ گئی تھی…………

پانچ بج کر 25 منٹ ہو چکے تھے کہ اچانک راہ داری سے اپنی جون میں داخل ہوتے سب کی نظر سلمان شاہ پر پڑی تھی……

حویلی کا ہر فرد اپنی جگہ سے اٹھا تھا جیسے کوئی بڑا سخص آیا ہو……

بیٹھ جائیں کیا ہو گیا ہے سب کو میں پہلے بھی گھر آتا ہوں پر ایسا استقبال تو نہیں دیکھا……سلمان شاہ نے سب پر طائرانہ نگاہ د

ڈال کر کہا تھا…..

جس پر عباد شاہ بابا سائیں اور تائی سائیں خجل سے ہوئے تھے…….

سلمان شاہ صبح سے تائی سے نہیں ملا تھا اسلیے فورا انکے آگے جھکا تھا…..مگر انکے پیار میں آج وہ بات محسوس نہیں ہوئ تھی

سلمان شاہ نے نوٹ کیا تھا تائی تھوڑی بیزار سی لگ رہی تھی…………سلمان شاہ دادا سائیں کی طرف پلٹا تھا…

جی دادا سائیں کیا سوچا پھر آپنے….؟؟؟اسنے دادا سائیں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا………

سلمان شاہ تمہاری ہمت کیسے ہوئ بابا سائیں سے ایسے بات کر نے کی……پہلی بار سلمان شاہ کے بابا نے اپنے لب کھولے تھے……انہوں نے سلمان شاہ کو گریبان سے پکڑ کر ایک طرف کو دھکا دیا تھا جس پروہ لڑکھڑایا مگر فورا سنبھل گیا تھا شاید وہ ایک مکمل صحمت مند جسامت کا حاصل شخص…..تھا……

سلمان شاہ سمجھتا تھا اسے صرف دادا سائیں سے الجھنا پڑے گا مگر وہ غلط تھا…..اسے آج محسوس ہو رہا تھا اسے حویلی میں رہنے والے ہرشخص سے لڑنا پڑے گا…….مگر وہ سب سے لڑنے کے لئے تیار تھا …………….

تم چپ کر جاؤ رب نواز شاہ یہ میرا اور میرے پوتے کا معاملہ ہے…..دادا سائیں مداخلت کر کے اپنے بیٹے کو اس معاملے سے الگ رہنے کا اشارہ دیا تھا جس پر وہ بلکل خاموش ہو گئے …..جب آج تک کچھ نہیں کہہ پائے تو اب کیا کہتے…..

سلمان شاہ یہ سب ممکن نہیں برادری ہمیں قبیلے سے نکال دے گی…………….دادا سائیں نے لاچاری سے سلمان شاہ سے کہا تھا….

کوئی پرواہ نہیں دادا سائیں….دوبدو وہاں سے جواب آیا تھا……

جس پر دادا سائیں ایک دم غصے میں آگئے تھے….بکواس بند کرو سلمان شاہ تمہیں سمجھ نہیں آتا کیا کہا ہے ہم نے …….؟؟؟

دادا سائیں مجھے ابیہا چاہئیے……..چاہئیے ……..بسسسس چاہئے….سلمان شاہ نے ہڈدھرمی سے کہا تھا سب حویلی کو دیکھ کر……….

تائی سائیں اسکے الفاظ پر حیران رہ گئی تھی………

ہم تمہیں اپنی جائیداد سے عاق کر دیں گے سلمان شاہ…..ابکی بار دادا سائیں نے نیا پینتراا اپنایا تھا…..

“I don’t care “

دادا سائیں….سلمان شاہ کی طرف سے ایک سیکنڈ میں جواب آیا تھا…………..

سلمان شاہ تم ساری شرم و لحاظ بھول چکے ہو….دادا سائیں نے گرجدار آواز میں کہا جس سے ہر فرد خوف زدہ ہوا تھا سوائے سلمان شاہ کے…….

سلمان شاہ نے اتنے ہی آرام دہ لب ولہجہ میں کہا تھا…..

مجھے اب ابیہا کے سوا کچھ نہیں نظر آتا دادا سائیں.