Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 25
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 25
Safaid Ishq by Sania Saeed
کیا ہو گیا ہے ابیہا آج اتنی جلدی کیوں کر رہی ہو سب خیریت ہے…..سلمان ابیہا کی پھرتی آج صبح چھ بجے سے دیکھ رہا جو ابیہا آرام و سکون سے کام کرنے کی عادی تھی…وہ آج کام بہت چست انداز اپناتے ہوئے کر رہی تھی.وہ جلدی کلدی حمین اور حنین کو تیار کر چکی تھی ابھی انہیں ناشتہ بھی تیزی سے کر وا رہی تھی…..جس کو دیکھ کر سلمان نے ابیہا کو بلآخر ٹوک دیا تھا….
اصل میں آج ہمہیں ایک سوشل سیمینار میں اولڈ ایج ہوم جانا ہے جو کے اندرون سندھ میں ہیں تو اسی وجہ سے ہمیں جلدی نکلنا ہے……وہ اب تفصیلا سلمان کو آگاہ کر دہی تھی…..جس پر سلمان نے ابرو اچکا کر انیہا کو دیکھا…سوری…..ابیہا سلمان کی گھوری کو سمجھتے ہوئے شرمندہ ہوتے ہوئے اسے اپنے تہیے منانے لگی….
وہ اصل میں آپ رات لیٹ آئے تھے…میں آپکو بتانا چاہ رہی تھی…..
اوکے…سلمان نے فورا مانرے ہوئے کاندھے اچکائے
کب نکلنا ہے…بس آپ حمین اور حنین کو ڈراپ کر دیں تو میں بھی ڈرائیور کے ساتھ نکلتی ہوں….وہ ناشتہ کرتے ہوئے اٹھتی بتانے لگی….اور اپنے بچوں کو ڈھیرسارا پیار کر کے انہیں” اللہ حافظ “کہا….اور دعا کی اپیل کی…
Pray for your mama![]()
اور اپنی پیشانی سلمان کے آگے جس پر وہ ہر روز ایک محبت و مان و عزت سے بھرا بوسہ دیتا تھا…..
“فی امان اللہ”
سلمان نے آنکھوں میں محبت سمیٹے ابیہا سے کہا تھا….
وہ جا چکے تھے اور ابیہا بھی نکل گئی تھی….
اولڈ ایج ہوم پہنچتے ہوئے انہیں دو گھنٹے لگ گئے تھے…
وہ ایک بنگلہ تھا جہاں ایک رفاعی ادارہ وہ اولڈ ایج ہوم چلاتا تھا….وہ ادارہ لوگوں کی دی ہوئی صدقہ و خیرات سے چلتا تھا….انکی یونی بھی اسی لئے وہاں آئی اور وہاں رہنے والے بزرگوں کے مسائل جاننے کےلئے….یہاں بہت اچھی فیملی سے تعلقات رکھنے والے بزرگ بھی تھے….جنہیں انکی اولاد وہاں چھوڑ گئی تھی….
وہ بد بخت اولاد جسے ماں باپ اپنا خون پسینہ ایک کرکے پڑھاتے لکھاتے ہیں اور ان کی ہر خواہش پوری کرنے کےلئے پوری جدوجہد کرتے ہیں اپنی پانچ چھ چاہے دس اولادیں ہی کیوں نہ ہوں…انہیں پالتی ہے پر ..بد قسمتی سے .. وہ اولاد مل کر ماں باپ کو نہیں رکھ سکتی….ایسی بدبخت اولاد بھی اسی دنیا میں ہمارے اردگرد پائ جاتی ہے….ابیہا جیسے جیسے وہاں کے بزرگوں کی زبانی انکی آب بیتی سن رہی تھی…اسکی آنکھوں آنسوں روا تھے…وہ شش و پنج میں مبتلا تھی کیا کوئی اولاد اس حد تک بھی گر سکتی ہے……کوئی بزدرگ بتا رہا تھا…..کہ بہو کو وہ پسند نہیں تھا تو بیٹے بہو کے کہنے پر گھر سے نکال کر یہاں چھوڑ تو کوئی بتا رہے تھے میں بہت بیمار رہتا تو اسلئے بیٹا تنگ آگیا تھا…..باری باری انکا پورا گروپ سب کے پاس جاریے تھے….جب کے ابیہا کا تو رو رو کر برا حال ہو رہا تھا…..اور اسکی سہلیاں اسے چپ کروا رہی تھی….
وہ اپنی سہلیوں سے کہہ رہی تھی مجھ سے یہ نہیں ہو پائے گا……ابیہا ہمت کرو تم دیکھ کر رو رہی اور وہ جن پر گزر رہی ہے انکا کیاحال ہوگا….ابیہا کی دوست سارا اسے سمجھانے لگی جس سے ابیہا پر تھوڑا اثر ہوا تھا…..وہ اب پھر سے ایک بابا جی کے پاس جانے لگی …..جو اس لگ بھگ چار قدم کے فاصلے پر تھے….پر ان بابا جی پیٹھ ابیہا کی طرف تھی….جس پر ابیہا انہیں دیکھ نہیں پا رہی تھی…
ابیہا نے وہ چار قدم کا فاصلہ طے کیا اور انکے بلکل عقب میں جا کر انہیں پکارا……
اسلام علیکم!بابا جی کیا آپ مجھ سے نات کرنا چاہے گے….
ابیہا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا…کہ وہ بابا جی نے گردن گھما کر رخ ابیہا کی طرف کیا…..
ان بابا جی کو دیکھ کر ابیہا کی حلق سے ایک چیخ برآمد ہوئی……..ابیہا جو ایسا لگا جیسے اسکے یہ سر کی چھت اس کے اوپر آن گری ہو ……زمین پاؤں سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی…..ابیہا کی چیخ سن کرانکا پورا گروپ ایک ایک کرکے ابیہا کے پاس آنے لگا….
کیا ہوا ابیہا…..سب ابیہا سے پوچھ رہے تھے…
نانا سائیں……ابیہا کے حلق سے رندھی ہوئی ہلکی سی آواز نکلی…..جب کے وہ بابا جی ابیہا کو دیکھ کر بس اتنا کہہ رہے تھے….
اسنے مجھے نکال دیا….میرا سلو…مجھے میرے سلمان کے پاس جانا ہے…..
نانا سائیں آپ یہاں کب…..کیسے ……؟؟ابیہا ایک دم بہت گھبرا گئی تھی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی ….وہ کیا کہے اور کیا کرے….اسکے ہٹتھ پاؤں چکے تھے….
جب کے سب ابیہا کو عجیب طرح سے دیکھنے لگے…
ابیہا پیر بخش شاہ کے پاس بیٹھ گئی……اور دیوانہ وار ان کے ہاتھوں کو چومنے لگی….یہ وہی اسکے نانا سائیں تھے جن کا غرور پورے گاؤں میں مشہور تھا…اور اب وہ اس حالت میں تھے…انکی حالت دیکھ کوئی بھی ترس کھا سکتا تھا…..
بے شک انسان اپنا کیا اسی جہاں میں دیتا ہے…یہی مکافات عمل کا چکر ہے….انسان کو غرور سے کچھ حاصل نہیں ہوتا….وہ ہمیشہ غرور کرکے تباہ و برباد ہی رہتا ہے..ایک اللہ ہی کی ذات ہے جس پر ہر صفت جچتی ہے انسان خدا کے کاموں میں دخل دینے لگے تو فنا ہو جاتا ہے…پیر بخش شاہ ساری زندگی خوف خدا سے دور رہے تھے لوگوں ہر حکومت کرتے رہے تھے….تو اللہ نے دکھا دیا کیا انسان کو نہیں جچتا….کون ہیں یہ ابیہا سب ابیہا کے اردگرد کھڑے اس سے پوچھ رہے تھے….یہ نانا جی ہیں میرے….ابیہا نے سب پر جیسے دھماکہ کیا اپنی بات بتا کر سب لوگ شش و پنج میں مبتلا ہوگئے آپ سب اپنا کام کرے ابیہا کو انکے ساتھ بات کر نے دیں
…..
…ہر پروفیسر کے کہنے پر سب کا اپنا کا م کرنے لگے……
ابیہا کو نانا سائیں کو اپنی یاد دھیانی کروانے لگی….پر وہ سمجھ چکی تھی….وہ اسے نہیں پہچان پارہے…..انکے ذہن میں صرف سلمان کا نام تھا….وہ بس اسے یاد کر رہے تھے….یہ انکی اپنے پوتے س محبت تھی وہ بے خودی ہوش وآواز میں نہ ہوتے ہوئے سلمان کو یاد رکھے ہوئے تھے…وہ شروع سے ہی سب سے زیادہ اس سے محبت رکھتے تھے….
ابیہا نے اپنے آنسو کرتے جلدی سے سلمان کا نمبر ڈائل کیا….
بیل جا رہی تھی….ابیہا کی دل کی ڈھرکنوں کی رفتار تیز ہونے لگی.تھی.
