547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 3

Safaid Ishq by Sania Saeed

میں یہ گاؤں چھوڑ کرہمیشہ کے لئےامریکہ جا رہا ہوں وہی اپنا بزنس سیٹل کروں گا..

دلاور شاہ نے سلمان کی طرف یکدم دیکھا تھا ااس دیکھنے میں کیا کچھ نہیں تھا بے بسی,تکلیف,درد.. کیا مطلب ہے آخر تمہاری اس بکواس کا کیا تومجھے سمجھا سکتا ہے؟؟

سلمان شاہ نے اپنی گردن کو ہلکا ساخم دیا تھا….

ہاں دلاور وہ اپنی نظروں کو دلاور پر زیادہ دیر مرکوز نہیں رکھ پارہا تھا کہ کہیں کمزور ہی نہ پڑ جائے….اس نے دلاور کے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا بس یار سوچ رہا ہوں اتنا پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ جب سنبھالنا اپنا ہی کھیت اور زمینیں ہیں…..دلاور نے اسکی بات سن کے اسے دھیان سے دیکھا تھا یہ تو کہہ رہا ہے جس کا خواب تھا اپنی زمینوں کاخیال رکھنے کا ہمیشہ …………..

سلمان نے اسکی بات کے جواب میں کھڑکی کے اڑھتے پردے پر نظریں مرکوز رکھ کر اسکی بات کا جواب دیا تھا..وہ پہلے کی بات ہے دلاور وقت کے ساتھ انسان کی زندگی بدل جاتی ہے سوچ بدل جا تی ہے تمام ترجیحات بدل جاتی ہیں اور ایسا تو نہیں ہے کہ میں تم سب سے دور جا رہا ہوں تم سب لوگ ہمیشہ میرے دل میں رہوگےاور میں آتا رہو ں گا اس تمام باتوں کے درمیان دلاور کی طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی …..اور یہاں تو سب ہیں نہ عباد لالا بابا سائیں تایا سائیں…..تائی سائیں……ایک اور بات تھوڑا گوری میموں کے ساتھ عشق معشوقی کا کھیل کھیلوں گا کوئ ٹائم پاس آخری بات کو اسنے مذاق کا رنگ دیا تھا جو بات سن کے دلاور شاہ کا قہقہ بلند ہو ا تھا …….یہ نہ ہو سلمان شاہ واقعی ہی کسی میم کی محبت میں گرفتار نہ ہو جائے دلاور شاہ نے ٹہوکہ دیا تھا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سلمان شاہ کے منہ سے نکلا تھا “نا ممکن”

اچھا تو اصل بات یہ ہے سلمان شاہ کا اب پاکستانی لڑکیوں سے دل بھرچکا ہے اور وہ امریکہ کی لڑکیوں کو فدا کر نے جارہا ہے…..اپنی بہت سی جھوٹی سچی باتوں سے اس نے دلاور شاہ کو تو کنوینس کر لیا تھا مگر ایک شخصیت کو کنوینس کرنا بہت مشکل تھا وہ تھے اسکے دادا سائین مگر وہ سب کچھ کر سکتا تھا سوائے ابیہا کو,حاصل کرنے کہ وہ اسی لئے سب کچھ چھوڑ کر جا رہا تھاوہ اپنی محبت کو اپنے سامنے کسی اور کے لئے سجتا سنورتا نہیں دیکھ سکتا تھا……دلاور شاہ نے ایک وعدہ کیا تھا اپنے یار سےکہ وہ اسکی منگنی اور عباد لالا کی شادی تک رکے گا اس بات پر وہ,چاہ کر بھی انکار نہیں کر پایا تھا……………………

وہ سیدھا مردان خانے کی طرف بڑھا تھا جہاں سلمان شاہ کے بابا سائیں دادا سائین اور تایا سائیں کچھ مردوں کے ساتھ بیٹھے تھے وہ اپنا فیصلہ سنانے,جارہا تھا,اجازت لینے,کا وہ کبھی,بھی,پابند نہیں,رہا تھا یہ بھی اسے دادا سائین کی,طرف سے چھوٹ ملی تھی اسکے بابا سائین کا بھی یہی کہناتھاسلمان شاہ,تمہیں تمہارے دادا سائیں کے لاڈ پیار نے ہٹ دھرم اور بے تمیز بنا دیا ہے….وہ اپنے لیے دادا سائین کے برابر میں جگہ دیکھتےہو ئے وہیں براجمان ہوگیا جہاں سامنے تخت پر کچھ مرد اور برابر والے تخت پر اسکے باباسائیں اور تایا سائیں براجمان تھے….وہ لوگ عباد شاہ کی شادی اور دلاور شاہ کی منگنی کےمتعلق ہی بات چیت کر رہے تھے..ابیہا کی منگنی کی بات اسکے لئے سننا بجلی کی ننگی تاروں پر ہاتھ رکھنےکےمتعرادف تھی اپنےآپکو صبر کے پہنچانے تک وہ کامیاب ہوا تھا پھر سب اٹھنے لگے وہ اور دادا سائیں باباسائیں تایا سائیں مردان خانے میں رہ گئے پھر سلمان شاہ,,دادا سائیں سے مخاطب ہوا………داداسائین میں امریکہ جانا چاہتا ہوں وہ بغیر کوئی ڈھکی چھپی بات کئے سیدھا مدعے پر أیا تھا اسکی بات سن کر دادا سائیں کو کچھ,زیادہ فرق نہیں پڑا تھا سلمان شاہ کے باباسائین اپنے بیٹے کو بڑی غور طلب,نظروں سے دیکھا تھا جیسے اپنے بیٹے کے درد کا اندازہ لگاna چاہ رہے ہوں آخر کو وہ ایک باپ تھے اپنے بیٹے کی بات کے پیچھے کا مفہوم سمجھنا چاہ رہے ہوں…….دادا سائین نے سلمان شاہ کو مخاطب کیا تھا….جی بیٹا سائیں کتنے دن کے جانا چاہتے ہو اور کب تک تمہیں ابھی معلوم ہے أجکل شادی کا ماحول ہے…..دادا سائین سمجھ رہے تھے وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی گھومنے کی غرض سےجانا تھا پر انکا اندازہ غلط ثابت ہونے والا تھا….

ہمیشہ کے لئے…..یہ الفاظ سلمان شاہ کے منہ سے نکلے تھے…پر سننے والوں کے لئے تیزاب کے جلے جیسے تھے دادا سائین سمیت بابا تایا سائین بھی اسکی بات سن کر فق رہ گے ان کے چہروں پر کئی رنگ آجا رہے تھے …………وہ سب جانتے تھے سلمان شاہ جتنا اپنے دادا سائین لاڈلا ہے وہ کبھی بھی اسے خود سے دور نہیں کر سکتے کبھی بھی….کیا بکواس کر رہے ہو سلمان شاہ تم نے یہ بات ہمارے سامنے کی بھی کیسے دادا سائین نے سلمان شاہ کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کی تھی……دادا سائین بس میں جانا چاہتا ہوں میں اپنا بزنس کر نا چاہتا ہوں……اپنا خود کا نام بنا نا چاہتا ہوں…….سلمان شاہ تو کیا اب تمہارا کوئی نام نہیں ہے تم پیر بخش شاہ کے,پوتے ہو کو ئی عام انسان کے نہیں انہوں دوٹوک منا کر دیا تھا…..ان تمام باتوں کے درمیان اسکے بابا یا تایا میں se کسی نے کچھ نہیں کہا تھا کیونکہ,وہ جانتے تھے جب یہ دادا پوتا بات کرتے ہیں تو کسی تیسرے کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی …….وہ اپنی بات سنا کر جا چکا تھا دادا سائین نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا…….تو کیا سلمان شاہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والوں میں seنہیں تھا………

میں نے دل کے دروازے پر لکھا ” اندر آنا منع ہے

عشق مسکراتا ہوا بولا ” معاف کرنا میں اندھا ہوں….

….حویلی میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھی شادی میں محض ایک ہفتہ رہ گیا تھا اس دوراں سلمان شاہ گھر میں نہیں ملتا تھا اس نے حویلی میں کھانا پینا ترک کر رکھا تھا وہ دلاور سے بھی دور ہوتا جارہا تھابس اپنے دوستوں کے پاس پایا جاتا تھا یا پھر ریڈ لائٹ ایریا میں جہاں اسکی راتوں کا قیام بھی ہوتا تھا وہ اپنی دل کی لگی آگ کو بجھانے,وہاں جاتا تھا پر اسکے دل کو قرار پھر بھی نہیں آتا تھا یہ سب کچھ حویلی کے کسی بھی فرد سے چھپا نہیں تھا پیر بخش شاہ اب سہی معنوں میں اسکے لئے پریشان ہو گئے تھے بلکہ ہر فرد اسکے لئے پریشان تھا تائی سائیں بھی آخر انہوں نے اسے اپنی اولاد کی طرح پالا تھا انہوں نے بھی ہر جتن ہر کوشش کی تھی سلمان شاہ اپنے جانے کا فیصلہ ترک کر دے وہ اسے ہر طرح سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی دیکھو میرے بچے ہم ایسا کرتے ہیں تمہاری بھی شادی عباد کے ساتھ کردیتےہیں میں اپنے شہزادے کے لیے وہ لڑکی لاؤں گی جس پر وہ ہاتھ رکھے گا….مگر وہ نہیں جانتی تھیں اسکی محبت تو وہ ویسے بھی اپنے بیٹے کی جھولی میں ڈال چکی تھیں…سلمان شاہ ان کی بات بڑے غور سے سن رہا تھا آج وہ پانچ دن بعد گھر آیا تھا….نہیں تائی سائیں مجھے شادی نہیں کرنی مجھے بس جانا ہے یہاں میں آتا جاتا رہوں گا…….تائی سائیں اسکی بات کے جواب میں بس اتنا کہہ پائیں تھیں سلمان شاہ میں تمہاری اپنی ماں نہیں ہو ں نا اسلئے تمہیں میری محبت نہیں دکھتی ان کی اس بات پر سلمان کے دل میں کانٹا پیوست ہوا تھا وہ فورا تائین سائیں کے گلے لگا تھا با خدا تائ سائین میں نےآپکو ہمیشہ اپنی اماں جانا ہے پر میں اس بار رکا تو سب ختم ہو جائے گا اسکی بات کو وہ سمجھ نہیں پائی تھیں اٹھ کر وہاں ںسے چلی گئی تھیں وہ تنہا رہ گیا تھا اب تو یہ تنہا ئی ہی اسکی ساتھی تھی …………………….

.کچھ تو اپنے ھی مقدر میں اندھیرہ تھا

کچھ تیری یاد میں دیا بجھا کے رونا اچھا لگ

آج ہر طرف حویلی میں گہمہ گہمی تھی آج عباد لالا کی رسم حنا تھی آج سلمان شاہ بھی دلاور شاہ کے کہنے کے مطابق گھر میں تھاسلمان شاہ,سے یہ سب برداشت نہیں ہو پارہا تھا وہ اپنے کمرے میں ہی آج بیٹھا,وہ گندہ مشروب پی رہا تھا آج سے پہلے اسنے وہ مشروب گھر میں کبھی نہیں پیا تھا..مگر شاید آج دل کا درد ناقابل برداشت ہو رہا,تھا اسکے لیے یہ تکلیف بہت تھی کہ اسکی محبت کسی کےاور کے نام ہونے جارہی ہے وہ اسکی نظروں کے سامنے رہ کر کر کسی اورکے نام ہو جا ئے گی اس سے یہ نا قابل برداشت ہو رہا تھا…. وہ ابھی ایک گلاس بھر کر اپنے اندر ایک ہی سانس میں انڈیل چکا تھادوسرا نکالنے جارہا تھا کہ اسکے روم کے,دروازے پر نوک ہوا تھا…..وہ جلدی سے اس غلیظ مشروب کو اپنی الماری میں چھپا چکا تھا اور روم کا لوک کھولا تھا سامنے دیکھ کر وہ حیران تھا داداسائیں آپ وہ حیران ہوا تھا….وہ دادا سائیں کو اندر لایا اور روم پھر سے لوک کر لیا دادا سائیں کے ناک کے نتھوں سے کسی گندے مشروب کی بدبو ٹکرائی تھی وہ ایک سیکنڈ میں اس بد بو کو پہچان چکے تھے آخر کو ان پر جوانی گزر چکی تھی وہ یہ سب,کام کر چکے تھے جوانی کا نشہ بڑا برا ہوتا ہے تب ہوش نہیں رہنے دیتا کہ انسان کیا کر رہا ہے جب ہوش آتا ہے تو وقت ہاتھ سے جا چکا ہوتاہے. وہ فورا مدعہ پر آئے تھے……سلمان شاہ,یہ کیا حال بنا رکھا ہے,تم نے اپنا انہوں نے اسکے گریبان کے کھلے بٹنوں کی طرف اشارہ کیا,تھا وہ کالی شلوار سوٹ میں ملبوس تھا اسکا چہرہ بہت پس مردہ ہو,رہا تھا ان سے اپنے لاڈلے پوتے کایہ روپ نہیں دیکھا جارہا تھا…..سلمان شاہ نے جلدی سے اپنا حلیہ درست کیا تھا

.سلمان شاہ یہ رہی تمہاری امریکہ کی ٹکٹ عباد کی شادی کی رات کی فلائٹ ہے تمہاری ….دادا سائیں نے اسے

کہا…سلمان شاہ کے چہرے پر ایک دم خوشی کی لہر اٹھی تھی وہ بہت خوش ہوا تھا کچھ پریشان بھی,اپنے چاہنےوالوں سے دور جانے پر……مگر وہ اسکا اپنا فیصلہ تھا جب انسان اپنے فیصلے کرنے کا خود عادی ہو جائے اسکاکوئی حق نہیں بنتا وہ افسردہ ہو…..دادا سائین کو والہانہ طریقے سے گلے لگایا تھا دادا سائیں میں جانتا تھا أپ میری بات کبھی نہیں ٹالیں گے داداسائین اسکی بات پر حیران نہیں تھے کیونکہ وہ ان کی کمزوری کو جانتا تھا وہ ہمیشہ ہار مان جاتے تھے اسکے سامنے وہ واحد شخص تھا جس کے شامنے وہ اپنے گھٹنے ٹیک دیتے تھے. سلمان شاہ جب میں بلاؤں گا تم سب کام چھوڑ کر ajao گے انہوں سلمان شاہ سے وعدے لئے تھے مگر وہ اس وقت مکمل ہوش میں نہ تھا ہر بات میں ہاں کرتا رہا مگر کون جانے حویلی کے لوگ اسکا اب چہرہ دیکھ بھی پائے گے کبھی وہ شاید نہ لوٹنے کے لئے جا رہا تھا مگر قدرت کے فیصلوں کے آگے کس کی چلی ہے اب بھی ہوگا وہی جو وہ پاک رب چاہے گا…….

تیرے بعد کون روکے گا ہمیں

ہم خود کو جی بھر کے برباد کریں گے

جون ایلیاء⁦❤️⁩⁦❤️

پیر بخش شاہ کی بڑی بیٹی کا تمام خاندان آیا ہوا تھا حویلی میں ساتھ ابیہا شاہ بھی عباد لالا کی مہندی کی رسم کے لئےآئی تھی…..اسنے اپنے بابا سے ریکویسٹ کروائی تھی نانا سائیں سے تب اسے مہندی کی رسم میں آنے کی اجازت ملی تھی وہ مہندی کی نسبت کے خوبصورت فراک میں ملبوس تھی…..جس میں بے شمار رنگوں کا کام تھا ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے اور میک اپ کے نام پر لپ اسٹک لگائی,ہوئی,تھی وہ زیادہ میک اپ نہیں,کرتی تھی یوں بھی اسے زیادہ میک اپ کی ضرورت بھی نہیں تھی…وہ اس فراک میں کوئی اپسرا لگ رہی تھی سب اسکی تعریف کر چکے تھے وہ اب کچن میں مامی سائیں سے ملنے جا رہی تھی جو کہ ملازموں کو کام سمجھا,رہی تھی اسکی ہمیشہ سے,اپنی مامی سے بہت بنتی تھی بنتی تو اسکی سب سے بہت تھی سوائے سلمان شاہ کے اس نے,آج تک ابیہا سے ڈھنگ سے بات نہیں کی تھی وہ ہمیشہ سے سلمان شاہ کو مغرور مانتی تھی کہ و ہ اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے پھر بھی وہ اسکی شخصیت سے بہت متاثر تھی اور کہیں دل کے ایک کونے میں اسکے لئےپسندیدگی برا جمان تھی ……..مگر جب سے,اسکی نسبت دلاور شاہ سے طہ ہوئی تھی وہ اپنے ان کمزور احساسات کو لگام ڈال چکی تھی…….وہ ایک فرمانبردار بیٹی تھی ماں باپ کا کہا ماننے والی وہ دلاور شاہ اور سلمان شاہ سے آٹھ سال چھوٹی تھی…..اسنے کبھی نہیں سوچا تھا دلاور شاہ کے,بارے میں وہ اب بھی نہیں سوچ پا رہی تھی اسکے بارے میں وہ اپنی دھیان میں کچن میں جارہی تھی کہ کسی سے اسکا بری طرح ٹکراؤ ہوا تھا مقابل اگر اسے اپنی مضبوط ہاتھوں کا سہارا نا دیتا تو وہ یقینا زمیں بوس ہوچکی ہوتی…….

رُخ جاناں سے جو پردہ سرکا

اک کافر نے کہا اللہ اللہ …!