Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 19
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 19
Safaid Ishq by Sania Saeed
دادا سائیں…کھانے پر سب آپکا انتظار کر رہے ہیں..
عائشہ دادا سائیں سے کہنے انکے کمرے میں آئی تھی وہ کسی سوچ کے بھنور میں پھنسے لگ رہے تھے…..جب سے سلمان شاہ حویلی سے گیا تھا…حویلی کا ماحول بہت ناشگوار ہوگیا تھا…بظاہر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا تھا….پر حالات دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا….حویلی کا کوئی خاص بچھڑہ ہے….سلمان شاہ اور ابیہا کو گئے ایک دن ہوا تھا….پر انکی یاد ہر ایک کو ستا رہی تھی…ماسوائے عباد شاہ….یہ سوچ عائشہ کی سوچ سے بھی بالاتر تھی آخر وہ اتنا خوش کیوں ہے سلمان شاہ کے جانے سے…اداسی کے بادل پتہ نہیں کب تک چھٹنے تھے کوئی نہیں جانتا تھا….عائشہ پیر بخش شاہ کو صرف اسلیے بلانے آئی تھی…کیونکہ کل رات سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا…جس سے انکی طبیعت بگڑ سکتی تھی…یپر بخش شاہ بلڈ پریشر کے مریض تھے..
مجھے نہیں بھوک نہیں ہے تم جاؤ….انہوں نے عائشہ کو کافی بارعب انداز میں کہا…
جس پر فورا دروازے سے باہر نکل گئی آخر وہ اپنی شامت تو نہیں بلا سکتی تھی….
سلمان شاہ یہ ہمارے ہاتھوں سے کیا ہوگیا…
ہم نے تمہیں اپنے لاڈلے پوتے کو خود سے دور کردیا….پیر بخش شاہ کہیں نہ کہیں خود سے خفا تھے..
سلمان شاہ تمہیں بھی تو اپنے اس بوڑھے دادا سائیں کی بات ماننی چاہیئے تھی…تم نے محض ایک لڑکی کی خاطر اپنے دادا سائیں کو چھوڑدیا….اب انکے پچھتاوے کہیں پیچھے رہ گئے تھے اب وہ سلمان سے نالاعہ ہورہے تھے…….
ابیہا کو محض وہ ایک لڑکی سمجھ رہے تھے…وہ ہمیشہ بھول جاتے تھے….ابیہا انکی سگی نواسی ہے…پر جس شخص نے اپنی سگی بیٹیوں کو زیادہ اہمیت نہ دی تھی…وہ نواسی کو کیا دیتے…سلمان شاہ کے متعلق ہی سوچتے ان کی آنکھ سے ایک آنسو کا قطرہ ٹپکا تھا…وہ قطرہ کہیں انکی سفید قمیض میں گم ہوگیا….
یہ پہلا واقع تھا جب پیر بخش شاہ کی آنکھ سے آنسو کا قطرہ نکلا تھا….روئے تو اپنے لاڈلے پوتے دلاور کی وفات پر بھی نہ تھے…پر سلمان شاہ سے زندگی میں بچھڑنا انہیں برداشت نہ ہو پارہا تھا….یہ بات ثابت کر رہی تھی…سلمان شاہ سے پیر بخش کی محبت لازوال ہے….
شاید کوئی ایسا موڑ بھی ابھی آنا ہے جب پءر بخش شاہ سلمان شاہ کے روبرو ہو گا…..
]||[||[|[|||||[[[[[||||
سلمان نے قدرے سنسان جگہ پر لے جا کر گاڑی روکی…جہاں کوئی ہر ذی روح ابیہا کو نہیں نظر آ رہا تھا….
سلمان گاڑی سے اتر کر ابیہا کی سائٹ پر آیا ابیہا کی سائٹ کا گیٹ واہ کر کے ابیہا کو باہر آنے کو کہا…
ابیہا فورا سے پہلے باہر نکلی…
سلمان گاڑی گیٹ بند کر تے ہی اسکا ہاتھ تھا م کر چلنے لگا…..
ہوا اتنی تیز تھی کہ ابیہا کے بال أڑ کرڈوپٹے میں سے باہر اسکے چہرے کا تواف کر نے لگے…
لہروں کا شور اس قدر تھا کہ ابیہا کے دل کی ڈھڑکن تیز ہونے لگی….وہ خوف زدہ ہونے لگی…
یہ ہم کہاں جا رہے ہیں….خوف سے چور لہجے میں ابیہا نے سلمان کو کہا…
ابیہا کا ہاتھ ابھی بھی سلمان کے ہاتھ میں تھا…
اسنے ابیہا کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالا…
میں ہوں نہ فکر کی کیا بات ہے….؟؟سلمان نے رسان سے کہا….جس پر ابیہا کی ہمت بڑھی…
اب وہ اسکے پر سکون ہو کرساتھ چلنے لگی….
سامنے دیکھنے پر ابیہا کو ایک روشن سی جگہ نظر آئ…قریب جانے پر محسوس ہوا…وہ ایک ہٹ تھا…جسے….لائٹنگ بال سفید کرٹن سے مزین ہٹ بہت حسین منظر پیش کر رہا تھا…
وہ سلمان کے قدم سے قدم ملاتی ہٹ کے قریب ہو رہی تھی….
سمندری ریت میں ابیہا اور سلمان کے پاؤں دھنس رہے تھے….
اب وہ ہٹ کے باہر کھڑے تھے…
سلمان ابیہا کا ہاتھ تھامے اسے ہٹ کے اندر لے گیا جہاں پر دو کرسیاں لگی تھیں….بہت خوبصورت ٹیبل ڈیکوریٹ تھا..
چاروں اطراف گلاب کے پھول سے سجاوٹ کی گئی تھی..
سلمان ابیہا کا ہاتھ تھامے اندر لے آیا…
سلمان شاہ نے ایک کرسی آگے کر کے ابیہا کو بیٹھنے کو کہا….
ابیہا کی بیٹھنے کی دیر تھی…سلمان شاہ اسکے بلکل سامنے نییچے بیٹھ گیا…
اپنی جیب سے ایک کیس نکالا….جسے دیکھ کر ابیہا حیران ہوئی….اس میں سے ایک بہت خوبصورت رنگ نکالی جو بہت چمک رہی تھی.
ابیہا کو پہچانے میں دیر نہیں لگی کہ وہ رنگ ڈائمنڈ کی ہے……ابیہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے سلمان شاہ نے وہ رنگ اسے پہنائی….پھر اس ہاتھ پر بوسی دیا…
ابیہا کے لئی سلمان شاہ کا پہلا لمس تھا…جس پر وہ تھوڑا گھبراہٹ کا شکار ہوئی..پر تھوڑی ہی دیر میں ٹھیک ہوگئی. ..
ابیہا بس دیکھ رہی تھی…ہونق بنی…سلمان کی محبت کا رنگ نرالا تھا….وہ رنگ پہنانے کے بعد خو د بھی سامنے نوجود کرسی پر جا بیٹھا اسنے کوئ بات نہیں….نہ کوئی عہد و پیماں کیا…نہ اظہار محبت سے خود کو تھکایا…
وہ شخص ابیہا کو کچھ عجیب لگا…بلکہ بہت زیادہ عجیب…..وہ ابیہا کی خواہشات کی تکمیل بھی کر رہا تھا…پر بغیر کچھ الفاظ کہے…
ابیہا نے ایکدم خود کو بہت…خوش قسمت تصور کیا…مپر جانے کیوں اسکی کانوں میں وہ الفاظ گونجنے لگے جو انتہائ اذیت ناک تھے…کتنی منحوس لڑکی ہے خویلی میں قدم رکھتے ہی خویلی والوں کی خوشیاں ہڑپ کرگئی…. منحوس شوہر کو کھا گئی…
ابیہاکی آنکھوں میں نمکیں پانی لہر آ کر ٹھہر گئ…
اسی دوران ایک لڑکا سلمان سے اجازت طلب کر کے اندر آیا
اسکے ہاتھ میں فرائیڈ فش تھیں…جسے کی خوشبو سے ابیہا کی بھوک جاگی….
ابیہا نے تو ویسے بھی برائے نام کھانا کھا یا تھا سو اب جھانا کھانا چاہتی تھی…فش تو وہیس بھی اسکی ہمہشہ سے پسندیدہ رہی تھی…..پر سلمان شاہ کو کیسے معلوم ہوا وہ یہ نہ جان پائی…سلمان کو یک ٹک دیکھنے لگی یہ کیسا ہمسفر ہے میرا….سب کچھ کر کے بھی کچھ جتا نہیں رہا انہیں کیسے پتہ چلا مجھے یہ پسند ہے…یہ تو بس حویلی میں ابیہا بھابھی کو پتہ تھا..
اگر میرا مکمل جائزہ لے کیا ہو تو کھانا کھاؤ…
ابیہا نے فورا نظریں جھکا کر فش پر مرکوز کر دیں….سلمان شاہ نے مکمل کھانا کھایا تھا گھر میں پر وہ ابھی بھی ایسے کھانا کھانے لگا…جیسے اسنےابھی گھر سے کھانا نہ کھا یا ہو……
کتنا کھاتے ہیں یہ اففف …ابیہا سوچ کر رہ گئی..
وہ دونوں فش سے انصاف کر چکے تھے…ابیہا نے اپنے پیٹ کے مطابق کھانا کھایا تھا….پر سلمان نے بھرپور انصاف کیا تھا فش کے ساتھ….
نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے وہ دونوں اٹھے تھے…سلمان نے اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا..
اب دونوں ساحل سمندر پر کھڑے تھے…ابیہا دو قدم کے فاصلے پر تھی سلمان سے ….سلمان نے بھی دوقدم پیچھے رکھے
سلمان شاہ نے فاصلہ سمیٹنا چاہا….ابیہا ایک دم ڈری…
ابیہا تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو…..؟؟سلمان شاہ چاند کی روشنی میں لہروں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا..
نہیں نہیں ایسا تو نہیں…..ابیہا نے ڈر کر کہا..
اچھا تو یہ بات ہے….اب وہ ابیہا کی طرف گھوما…ابیہا کو دیکھتے ہوئے….اسے ٹیسٹ کرنے کے انداز میں کہا…
پر تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہئے….سلمان نے ابکے ابیہا کو ڈرانا چاہا…جس سے وہ واقعی ڈر گئی…
ککک کیوں….؟؟ابیہا نےاپنی انگلیوں کو مسلتے ہوئے کہا…
کیونکہ…شاید میں تمہیں یہی چھوڑ کر چلا جاؤں…سلمان نے جیسے اسکے سر پر دھماکہ کیا….
آپ ایسا کبھی نہیں کر سکتے….ابیہا نے بھی دوبدو کہا…اب کے نہ لہجے میں کوئی ڈر تھا نہ کوئی خوف….
اتنا یقین ہے مجھ پر کیا بات ہے….سلمان شاہ نے حیران ہوتے کہا….
جس پر ابیہا چپ رہی…وہ اتنا تو جان گئی تھی…اس تمام عرصے میں سلمان شاہ نے ابیہا کو کتنی مشکلوں سے حاصل کیا تھا وہ ایک مرد تھا….غیرت مند مرد وہ اسے کبھی بھی یوں راہ میں نہیں چھوڑ سکتا تھا. ..
ویسے “ابیہا سلمان شاہ.”….اسنے اسکا مکمل اپنے نام کے ساتھ کچھ کھینچ کر لیا تھا…..
اگر تمہیں اپنے اس شوہر پر اتنا یقین ہے تو…..ملازمہ سے کیا ضرورت پیش آئی پوچھنے کی….کہ تمہاری سوتن اور اسکے بچے کہاں ہیں….؟؟؟
اب کہ باری ابیہا کی ہوائیاں اڑی تھیں….وہ ایک دم نظریں ادھر ادھر پھیرنے لگی…
سلمان نے بغور دیکھا تھا….اسکے چہرے کے اتار چھڑاؤں کو ملا حضہ فرما رہا تھا….
چلیں” ابیہا بی بی”میں آپکو بتا تا ہوں آپکی سوتن کے بارے میں……؟؟
یہ الفاظ سنتے وقت ابیہا کے دل کی ڈھڑکن کی رفتار تیز ہوئی تھی….
