Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 2
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 2
Safaid Ishq by Sania Saeed
وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا مگر صرف دنیا والوں کے لئے ابیہا کے لئے تو آج بھی وقت اسی جگہ تھا جب اسے دلاور شاہ کی موت کا پتہ چلا تھا وہ موت صرف دلاور شاہ کی نہیں تھی وo موت ابیہا شاہ کی بھی تھی اسکی زندگی بس سانس چلنے تک محدود تھی حویلی والے اتنے سنگ دل تھے کہ انہیں اس معصو م کے ساتھ جڑا اپنا سگا رشتہ تک بھول گیا تھا ….آج ابیہا کی شرعی عدت ختم ہو رہی تھی مگر حویلی کی عدت تا حیات اس پر لا گو ہو گئ تھی…..ان چند ماہ میں ابیہا صرف اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئ تھی ان مہینوں میں وہ جس تکلیف اور قرب سے گرزی تھی صر ف وہ جانتی تھی یا اسکا رب آج اسے اس کمرے سے آزادی مل رہی تھی ان مہنیوں میں وہ کسی بھی گھر کے مرد کے سامنے نہیں گئی تھی سلمان شاہ کے مطلق بھی اس نے سنا تھا….ابیہا نے اپنے کمرے سے جیسے ہی قدم باہر نکا لے تھے ایک قدم چلنے پر وہ یکدم رکی تھی اسے کسی انجانی خوشبو نے جکڑ لیا تھا ابیہا کے لئےآگے قدم بڑھانا مشکل تر ین ہو رہا تھا…سانس کی رفتار میں بھی کمی ہوئی تھی جیسے کوئی اپنا بہت قریب ہو……..جےسے کوئی درد سے نجات دلا نے والا اردگرد ہو.
ﻏﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺍﮒ ﭼﮭﯿﮍﺍ ﻫﮯ
ﺍﺫﯾﺖ … ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﻫﮯ !!!.
!![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
سلمان شاہ کو آئے ہوئے چار ماہ ہو چکےتھے ان چار ماہ میں اس نے اپنا بزنس دبئی سےکرا چی شہر میں منتقل کر دیا تھا آ ئے دن وہ کر اچی کے چکر لگا تارہتا تھاساتھ حویلی کے کام بھی عباد لالا(دلاور شاہ کے بڑے بھائی)کے سا تھ دیکھتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا انہیں اسکی ضرورت ہے..وہ سفید شلوار سوٹ زیب تن کئے نفاست سے بال بنا ئے بلا شبہ وہ مکمل مردانہ وجا ہت کا مالک تھا جس کی آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی پانج فٹ آٹھ انچ قد کا,مالک وہ آستینو ں کو کہنیوں تک موڑے وہ اپنے کمرے سے نکل رہا تھا اسکے ذہن میں صرف ابیہا کی زندگی کی داسنا ن چل رہی تھی وہ بے چینی سے ابیہا کی عدت کے ختم ہو نے انتظا ر میں تھا جیسے ہی وہ بر آ مدے کے پاس آیا وہ ایک دم ٹھٹکا تھا سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر جو سفید شلوار قمیض پہنے جو کہ شا ید اب وہ لباس اسکی زندگی کا خاص حصہ تھا سر پر اچھی طرح چادر اوڑھے زدر چہرہ لئے کھڑی تھی سلمان نے اسے دیکھ کر سوچا کبھی یہ چہرہ مکمل لالی لئے ہوئے تھا آج اس نے ابیہا کو دو سال اور چند ماہ بعد دیکھا تھا دل میں کہیں کچھ چھبا تھادل میں زور کا گھونسہ پڑاتھا پھر وہ اپنے قدم آہستہ آہستہ اٹھاتا ابیہا کے بلکل سامنے پہنچا تھا وہ جو اپنےخیا لوں گم تھی نظر اٹھا نے پر حیران رہ گئی بےاخیتار نظریں دونوں کی ملی تھی پر ابیہا بر وقت اپنی نظروں کو سنبھال گئی تھی سلمان شاہ بھی اسکے ایسے کرنے پر خود کو قابو پانے لگا ابیہا کے منہ سے نکلا تھا سلمان بھا ئی آپ…….
سلمان شاہ نے اس کے منہ کی طرف دیکھ کر پوچھا…کیسی ہو ابیہا….یہ الفاظ ابیہا لو لگا اسے ہتھوڑے کی طرح لگے ہوں جسے کیل پررکھ کر ٹھونکا جاتا ہے سلمان شاہ سراپہ جواب تھا ابیہا کی جھیل جیسی آنکھو ں میں نمی اتری تھی وہ جتنا ان کچھ ماہ میں رو چکی تھی اب تو آنکھیں کے مسافربھی باہر آنے سے انکاری تھے …ایک دم ابیہا نے سلمان شاہ کو لاجواب کیا تھا ..
سلمان بھا ئی ایک بیوہ بھلا کیسی ہو سکتی ہے یہ الفاظ سلمان شاہ کے اذیت سے بھر پور تھے وہ اپنا جواب سنا کر حویلی کے برآمدے سے نکل کر باورچی خانہ کی طرف چل دی تھی جہا ں اسکی زینب شاہ ( ساس) اسکے انتظار میں تھیں.کیا زندگی اس سے زیادہ بھی کسی کے لئے تکلیف دے ہو سکتی ہے وہ بس سوچ کر رہ گیا تھا…کیا وہ نجات دلا پائے گا اس قر ب بھری زندگی سے کیا وہ چھو ٹی سی ان چھو ئی کلی زندگی کی خوشیوں کی طر ف پھر لو ٹ سکے گی یہ کام اب صرف سلمان شاہ کا تھا اور وہ اپنے ہر کام کو مکمل کر نے میں ما ہر تھا..
……ﻣﭩﯽ ﮐﻮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ
ﺳﺐ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ
ماضی
پیر بخش شاہ (داداسائیں)کا شمار اپنے گاؤں کے ظالم وڈیروں میں ہوتا تھا جن کے لئے ان کے رسم رواج سے زیادہ کچھ عزیر نہ ہو وہ اپنے رسم و رواج توڑنے والوں کے گلے کاٹ بھی سکتے تھے اور ان کے لئے گلے کٹوا بھی سکتے تھے..پورے گاؤں میں ان کی دہشت تھی اور شاید یہی وجہ تھی لوگ انکی عزت کر تے تھے محض منہ پر پیٹھ پیچھے جیسے ہر مجبور طبقہ اپنے حکمرانوں کے بارے میں کہتے ہیں وہی کہا جاتا تھا ……حویلی میں عورتوں کے قانون کچھ اور تھے…………
بی بی سائین(دادی سائین )بھی ان کے ساتھ ہر ظلم میں پیش پیش رہتی تھی جہاں گاؤں کی جس لڑکی کو چاہا نوکر انی بنا کر لیں آئیں…انکے چاربچے تھے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں بڑا بیٹا حق نواز شاہ جبکہ چھوٹا بیٹا رب نواز شاہ تھا حق نواز شاہ ا پنے با پ جیسا ظالم و جابر تھا,جبکہ رب نواز شاہ بلکل باپ اور بھا ئی سے مختلف رحمدل غمگسار تھا مگر دادا سائین کے لئے ان کے بیٹے زیادہ عزیز تھے ان کا کہنا تھا بیٹیوں کو ہم صر ف پالتے ہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہماری نسل ہمارا غرور صر ف ہمارے بیٹا ہوتے ہیں……مگر ایسے عقل کے اندھے لوگ کیا جانے کہ بیٹیاں ہی توماں باپ کا اصل غرور ہوتی ہیں….وقت گر زا تو بیٹیوں کو کوئ تعلیم نہیں دلوائی گئ کہ یہ پڑھ لکھ کر کیا کریں گی جبکہ دونوں بڑے بیٹوں کو اعلی تعلیم دلوائی گئی.پھر بچوں کی شادیاں کر دی گئی اپنی دونوں بیٹیوں رقیہ اور شبانہ کو ساتھ والے گاؤ ں میں ایک ہی گھر میں پیر بخش شاہ نے اپنی بیوی کے بھانجوں کے ساتھ بیا ہ دیا تھا.جبکہ دونوں بیٹوں کو بھی بیاہ دیا گیا اپنی چچا زاد بھائی کی بیٹیوں زینب سے حق نواز شاہ کو,اور فاطمہ کو رب نواز سے بیاہ دیا گیا اپنے بچوں کے فرض سے سبکدوش ہو کر بی بی سائین بھی اس فانی دنیا سے کو چ کر گئی…. پیر بخش شاہ کی چھو ٹی بیٹی شبانہ محض شادی کے چھ ماہ بعد بیوہ ہوگئی شبانہ کا شوہر ہدایت شاہ ایک حادثہ میں اپنی جان گنوا بیٹھا تھا اور اس طرح حویلی والو ں کے رسم و رواج کے مطا بق شبانہ شاہ خاندان کی روایت کے مطابق سفید جوڑے میں قید کر دی گئی تھی اور اپنی ساری زندگی سفید جوڑے سے عشق میں وقف کر دی اس تمام عرصے میں حویلی والے اپنی دوسری بیٹی سے ملنے جاتے تو اس سے بھی مل لیتے تھے…جبکہ رقیہ کی زندگی کافی پر سکون گرزرہی تھی اس کو اللہ نے دو بیٹوں ارحم اور ارقم اور ایک بیٹی ابیہا سے نوارہ تھا رقیہ کے شوہر شاہ زین کی سوچ دوسرے وڈیروں سے بر عکس تھی شاہ زین نے ہمیشہ اپنی بیٹی ابیہا کو دونوں بیٹوں پر فو قیت دی تھی حویلی والوں کے خلاف جاکر اپنی بیٹی کو بی اے تک تعلیم دلوائی تھی ابیہا بہت نازو پلی تھی ابیہا کے بھائی بھی اپنی بہن پر جان چھڑکتے تھے ..حق نواز شاہ کو اللہ نے دو بیٹوں سے نوازہ عباد شاہ اور دلاورشاہ جبکہ رب نواز شاہ کا صرف ایک بیٹا سلمان شاہ ہوا کیونکہ بیٹے کی پیدائش کے دوران شبا نہ اپنےخالق حقیقی سے جا ملی…..دلاور اور سلمان شاہ کے درمیان محض چھ ماہ کافرق تھا اسلئے بی بی سائین نے سلمان شاہ کو بھی رقیہ شاہ کی گود میں دے دیا مگر رقیہ شاہ نے بھی سلما ن کو بیٹے کی طرح بہت لاڈو سے پالا اپنے بیٹے دلاور سے بھی بڑہ کر اسے چاہا…. سلمان بڑا ہورہا تھا پیر بخش شاہ نے اپنے بیٹے رب نواز پر شادی کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا مگر رب نواز کے دل میں شبانہ کی محبت اس قدر رچ بس رچکی تھی کہ وہ انکار کر تے چلے گئے دوستی طر ف شبانہ شاہ خاموشی سے اس دنیا میں بھی سفید رنگ میں ہی اس دنیا سے کنارہ کر گئی ………………….وقت گزرا تو حویلی کے لاڈوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا دادا,سائین کی جان اپنے چھو ٹے دونوں پو تے میں جا ن بستی تھی دلاور نے اور سلمان دونوں نے ایم بی اے کیادوسری طرف عباد لالاصرف گریجویشن کر پائے کیونکہ انکا رجحان صرف اپنی زمینوں کی طرف تھا..اگر چہ سلمان اور دلاور نے ایم بی اے کے باوجود بھی اپنا بزنس ہی سنبھالنا تھا……………………..![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
“دو سال قبل.”
دلاور اور سلمان شاہ کی تعلیم مکمل ہوتے ہی عباد شاہ کی شادی کا شور اٹھا تھا عبادشاہ کی شادی اسکی خالہ زاد عائشہ کے ساتھ طے پائی گئی.اور,ساتھ ہی ابیہا کی دلاور شاہ سے نسبت طے کردی گئی تھی جبکی دادا سائیں نے سلماں شاہ کو,اپنی پسند کا بتانے کا کہا خویلی میں آج پہلی بار کسی سے یہ کہا گیا تھا اور وہ سلمان شاہ تھا کیونکہ دادا سائیں کی جان بستی تھی سلمان شاہ میں سلمان شاہ کے لئے حویلی کی ایک رسم بدلی گئی تھی تو کیا آگے وہ خود کوئی رسم بدلے گا…… یہ خبر تمام حویلی والوں کے لئے خوشی کی خبر تھی جبکہ ایک ایسا شخص تھا جس کے لئے یہ خبر تلوار کے زخم سے بھی زیادہ تیز لگی تھی اسے اپنے اوپر دنیاہنستی ہوئی لگی تھی..ابیہا اور دلاور شاہ کی منگنی پندرہ دن کے بعد عباد لالا کی شادی کے ساتھ طے پائی تھی اور یہ چند دن سلمان شاہ کے لئے سولی پر لٹکنے,سے تھے اپنی محبت کو کسی اور کی منگ بنتے دیکھنا اس کے لئے خو د کو آگ کی نظر کر نے کے مترادف تھادلاور شاہ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سلمان شاہ کبھی بھی اپنی محبت کو خو د سے دور نہ جانے دیتا وہ اپنی محبت کو زبردستی بھی حاصل کر سکتاتھا کیونکہ وہ ایسا شخص تھا جس کے لئے کو ئی کام نا ممکن نہیں ہوتا تھا وہ بہت ضدی اپنی ہر بات منوانے والا مرد تھا اس پر کوئی بھی لڑکی فدا ہوسکتی تھی وہ کبھی بھی کسی چیز کا پابند نہیں رہا تھا اس کی اپنی یونیورسٹی میں بھی بے شمار لڑکیوں سے دوستیاں رہ چکی تھی جو کہ دراصل دوستی سے کچھ بڑہ کر ہوتی تھی مگر اسکی محبت صرف اور صرف ابیہا شاہ تھی ابیہا شاہ سے اس نے اپنے لڑکپن سے محبت کی تھیں وہ جانتا تھا کہ ابیہا اسی کی ہے وہ جب چاہے دادا سائین سے کہ سکتا ہے وہ اسکی بات کبھی نہیں ٹالیں گے مگر ہائے رے قسمت وہ کہاں ہماری چلنے دیتی ہے اس بار مقابل وہ شخص تھا جس سے اسے بے لوث محبت تھی دلاور شاہ بانسبت سلمان کے بہت الگ شخصیت کا مالک تھا انتہائی کم گو ہر کسی کی بات ماننے والا لڑکیوں سے چار قدم کا فاصلہ رکھ کے چلنے والا شکار کا دلدادہ شکار کرنا اس کی ہوبی کے ساتھ اسکی کمزوری بھی تھی اسے شکار کرنے کا جنون تھا تھی شکار پر جانے کے لئے وہ ہر وقت تیار رہتا تھا چاہے موسم کیسا بھی ہو…چاہے وہ خود کتنا بھی بیمار ہو…جب سے ابیہا اور دلاور کی بات طے ہوئی تھی وہ خوش تھا دوسری طرف سلمان شاہ کو چپ لگ گئی تھی یہ بات دلاور محسوس کر چکا تھا وہ برآمدہ عبور کرتے سلمان شاہ کے کمرے میں پونچھا تھا البتہ اس نے دروازہ نوک کر نے کی زحمت نہیں کی تھی کیونکہ ان دونوں کے درمیاں کبھی بھی تکلف نہیں رہا تھا دلاور کے آنے پر سلمان شاہ جو اپنے بیڈ پر آنکھوں پر ہاتھ رکھے سیدھا لیٹا تھا اسے دیکھ کر ایک دم سیدھا ہوکر بیٹھا دلاوراس کے بیڈ کی پائنتی پر آکر بیٹھا اسنے سلمان کی طرف دیکھا اور پوچھنے لگا,اب بتا کیا بات ہے یار تو کافی دنوں سے اتنا,خاموش کیوں ہے اس کی یہ بات سن کے ایک دم سلمان شاہ کا دل دھڑک اٹھا یہی سوچ اسکے لئے نا کافی تھی کہی وہ اس کے دل کی بات نا سمجھ لے پر وہ بھی مضبوط اعصاب کا مالک تھا اپنے چہرے کے زاویہ کو ایک دم نارمل کر گیا نہیں یار ایسا تو کچھ نہیں ہے. تجھے غلط فہمی ہوئی ہے…..اس کے جواب پر دلاور شاہ نے اس ٹوہکا دیا اچھا کہیں وہ یونیورسٹی والی عالیہ تو ناراض نہیں ہوگئی اسکی اس بات پر سلمان اور دلاور کا,مشترکہ قہقہ کمرے میں گونجا تھا…زندگی ہمارے ساتھ بڑے نرالے کھیل کھیلتی ہے انسان جس چیز کو اپنا سمجھ کر بھول چکا ہوتا ہے وہ کسی اور کی جھولی میں جا گرتی ہے اس پر زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب مقابل أپکا اپنا ہو پھر ایسا لگتا ہے جیسے آپکو لکڑی سجھ کر آری سے کاٹا جا رہا ہو یہی کچھ ہو ا تھا سلمان شاہ کے ساتھ وہ کافی دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر ایک دم سلمان شاہ کی بات پر خاموشی چھا گئی دلاور شاہ نے انتہائی قربناک نظروں سے سلمان شاہ کودیکھا تھا..زندگی آگے کیا کر نے والی تھی کون جانے؟؟
تم نے دیکھا محض مجھے خوش باہر سے..
میرے اندر کی چیخیں تیرا دل پھاڑ سکتی ہیں
