547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 14

Safaid Ishq by Sania Saeed

بابا سائیں…نکاح خواہ آچکا ہے..

“دادا سائیں جو اپنے کمرے میں بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھے….

جب حق نواز شاہ نے انہیں مخاطب کیا…جس پر وہ صرف حق نواز شاہ کو دیکھ کر رہ گئے..

باباسائیں….ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں…

حق نواز شاہ نے اپنے باپ کی طرف دیکھ کر کہا…

ہاں کہو:!.پیر شاہ نے اجازت دی.

وہ آپ شاہ زین شاہ کو بھی بلاوا بیجھ دیں آخر کو ابیہا کے والد ہیں….حق نواز شاہ نے جلدی سے اپنی بات مکمل کی.

“کیا بکواس کرتے ہو…ہم انہیں کیوں بلائیں وہ کون ہوتے ہیں ہمارے فیصلوں سے انحراف کرنے والے…ابیہا ان کی بیٹی تھی…اب وہ بہو ہے ہماری ہم جو چاہے اسکے ساتھ کریں….پیر بخش شاہ نے ایکدم اٹھ کر قہر آلود آواز میں کہا تھا ..

“باباسائیں اجازت کے لئے نہیں کہا’حق نواز شاہ نے انہیں قائل کرنا چاہا….

“تم خاموش رہو اس معاملے میں حق نواز شاہ”..پیر بخش شاہ نے حق نواز شاہ کو خاموش رہنے کا عندیہ دے دیا…

بابا سائیں….. آپ بات کو سمجھیں….

“لڑکی کا نکاح اسکے ولی بغیر نہیں ہوتا یہ بات شریعت کہتی ہے. “

…جبکہ اس کا ولی حیات ہو…..حق نواز شاہ نے اس بار مضبوط دلیل پیش کی تھی….

جس پر پیر بخش شاہ سوچ میں پڑ گئے تھے….ٹھیک ہے تم بلاوا بیجھو وہاں….دادا سائیں نے ہار مانتے ہوئے کہا…

حق نواز شاہ کے چہرے پر خوشی کی رمق واضع تھی…..

مگر……انہوں نے انگلی اٹھا کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا…..

جی بابا سائیں…….حق نواز شاہ نے جلدی سے کہا….

شاہزین شاہ کو پہلے ہی باور کر وادینا وہ ہمار ے کسی فیصلے پر چوں تک نہ کریں….

بلکل ایسا ہی ہوگا بابا سائیں…حق نواز شاہ نے بات کو ختم کرنا چاہا…..

پھر دیکھتے ہی دیکھتے…شاہ زین شاہ کو بھی بلا لیا گیا…..حق نواز شاہ نے شاہ زین کو اپنے الفاظ میں پر سکون طریقے سے سمجھا دیا…شاہ زین شاہ اس فیصلے پر زیادہ افسردہ نہ ہو پائے بلکہ وہ کہیں نہ کہیں خوش تھے ….کہ انکی بیٹی تو چلو اس فرسودہ رسم و رواج سے بچ گئی..

…”””””””””'”####:::::”””””””###:#:::||||||||||||||

برآمدے میں سب جمع ہو چکے تھے….سلمان شاہ اب بھی بہت ٹھاٹ سے بیٹھا تھا….

جبکہ عباد شاہ بہت غضب ناک تیوروں سے سلمان شاہ جو دیکھ رہا تھا…..

کسی باہر کے افراد کو نہیں مدعو کیا گیا تھا…

سب حویلی کے مرد تھے ….اور شاہزین شاہ…..

نکاح خواہ نےنکاح کی کاروائئ شروع کی….

پہلے کہا گیا ….لڑکی کی رضا مندی لی جائے اور مخوص جگہوں ہر دستخط کر وائے جائیں…

شاہ زین شاہ اٹھ کر بیٹی سے دستخط کروانے چلے گئے…

سلمانشاہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا….آخر کو اسکی پہلی محبت اسکے نام ہونے جارہی تھی…….جس کے بارے میں اسنے بچپن سے سوچا تھا…..وہ اب اسکی ہو جائے گی ہمیشہ کے لئے…یہ سوچ ہی بہت خوشگوار تھی..

جس شخص سے محبت ہو….اسکا ساتھ اپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ دیکھنا….بھی جکتے کوئلوں پر چلنے کے مترادف ہے….محبت جب.عشق کا روپ دھارتا ہے تو وہ …..ہر قسم کے دناوی حساس سے عاری ہو جاتا ہے…..صرف اسے “اپنا محبوب دکھائی دیتا”

….

“ہر جگہ.”….ہر سمت بس محبوب ہوتاہے…..سلمان شاہ کیوں نہ خوش ہوتا…….آخر وہ بھی تو ابیہا سے عشق کرتا تھا…عشق…..صرف اسنے کہا نہیں تھا…اسنے پورا بھی کر دیکھایا تھا….ورنہ کون کسی کی خاطر اپنا رتبہ …..اپنا مرتبہ ….اپنی جائیداد…

اپنے ….اپنے….چھوڑتا…ہے

کون دیتا ہے کسی کی خاطر اتنی بڑی قربانی..؟؟؟

سلمان شاہ نے صرف و صرف ابیہا کی خاطر یہ قربانی دی تھی.

ہم تیری خاطر ی یہ محل و مرتبہ کیا

جاناں

یہ دنیا چھوڑنے کو بھی تیارہیں

||||||||||||||||||||||||||

عائشہ ابیہا کو لے کر بیڈ پر ہی آگئ بیڈ پر ہی لا کر…….اسے لال رنگ کا چنری کا دوپٹہ اوڑھا دیا…….

بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم تو اس لال رنگ میں ابیہا…..عائشہ نے چہک کر ابیہا کے سفید لباس کے ساتھ افسردہ چہرے کو دیکھ کر کہا……….

جس پر ابیہا نے عائشہ کی طرف دیکھا تھا…..

وہ ہر طرف سے بے نیاز بیٹھی تھی اسے کچھ خبر نہ تھی …اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے………

ٹھک …..ٹھک….ٹھک….آجائیں….دروازہ بجنے کی آواز پر عائشہ نے کہا…

وہ چھوٹی…بی .بی…….

بی بی سائیں نے بیجھا ہے کہا ہے کہ ابیہا بی بی…تیار ہیں….بس ابھی دستخط کے لئے آتے ہونگے…..نوری نے تفصیلأ عائشہ کو بتایا تھا…..

ابیہا کے یہ الفاظ سنتے ہی…….اوسان خطا ہونے لگے تھے…..وہ ڈر سے کانپنے لگی تھی……

ڈرو مت ابیہا…..اب تو تمہیں خوشیاں. ملنے والی ہیں

اسکے ڈر کودیکھتے ہوئےعائشہ نے اسکے ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی…….

دو منٹ گزرےہونگے جب ابیہا کے بابا سائیں آتے دکھائی دیئے تھے….انکے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے…..

بابا سائیں……ابیہا انہیں دیکھتے ہی اٹھ کر انکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی….دیکھنے نہ بابا سائیں….

آپکی بیٹی پر کتنا ظلم ہو رہا ہے…..یہ کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ…آپ تو جانتے ہیں نہ میں نے کبھی بھی کچھ ایسا نہیں کیا …جس کی مجھے سزا دی جارہی ہے…..

شاہ زین شاہ کا اپنی بیٹی کے غم میں آنکھوں سے اشک روا ہوگئے تھے….وہ ابیہا کی پیٹھ کر سہلانے لگے تھے…

بیٹا سائیں….اب سب صحیح ہو جائے گا….

آپکی زندگی سنور جائے گی……..

شاہ زین شاہ کہیں نہ کہیں اس فیصلے سے مطمئن و خو ش نظر آرہے تھے….کیونکہ وہ جانتے تھے….انکی بیٹی کو سلمان شاہ خوش رکھے گا…..اور یہ فرسودہ رسم تو ٹوٹی…..کسی نے تو ہمت کی….اس رسم کے خلاف آواز اٹھانے کی…..وہ سلمان شاہ کی ہمت پر اس سے خوش ہو چکے تھے….ابیہا کی فکر بھی کم ہو چکی تھی……

بابا سائیں آپ تو ایسا نہ کہیں….یہاں سب ہمیں…..غلط سمجھ رہے ہیں…..ابیہا نے اپنے باپ کی طرف آنکھ اٹھا کر کہا……..

بیٹا سائیں وقت گزرنے کے ساتھ آپکو بھی اس فیصلے کی مصلیحت کا اندازہ ہو جائے گا…شاہ زین شاہ نے بیٹی کو ایک مرتبہ پھر ڈھکے چھپے الفاظ میں ب سمجھانا چاہاتھا….ابیہا کو ساتھ لگائے ہی وہ بیڈ پر آئے اور ابیہا سے دستخط کرنے کو کہا……..ابیہا ان کاغذات کو ایک نظر دیکھا جس میں اسکی آگے کی زندگی کا لکھا گیا تھا…..

یہاں دستخط کرو……..شاہ زین شاہ نے اس جگہ انگلی رکھ کر ابیہا کو دستخط کرنے کو کہا…..ساتھ ہی اس سے اسکی رضامندی کے لی..گئ.

ابیہا نے کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر دستخط کر دیئے تھے……..

‏چُپ ، بول مت

سانس نہ لے………

فیصلہ ہے بُزرگوں کا

سَر جھکا

اعتراض مُسترد

استفسار رائیگاں….

سنگھار کر ،

اور دفن ہو جا….

پھر وہ اسی وقت اس شخص کے نام ہوگئی تھی…..جو اسکی کچی عمر کی محبت تھی….

جس کی کبھی ابیہا شاہ نے خواہش کی تھی….پر آج صرف اس شخص کے لئے نفرت کا جذبہ ہی ٹھاٹھیں مار رہا تھا……شاہزین شاہ نے اپنی کے سر پر شفقت کا ہاتھ پیر کر اسے دعائیں دی تھی….

قلم ابیہا کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا تھا…..

.نکاح کے کاغذات لئے شاہزیں جا چکیں تھے… وہ پاس کھڑی عائشہ کے گلے لگے ایک بار پھر ڈھارے مار مار کر رونے لگ گئی تھی…………..

بس کرو ابیہا…..رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا…

عائشہ نے اسے سمجھانا چاہا.

وقت گزر رہا تھا…..ابیہا کے حویلی سے ہمیشہ کے لئے جانے کا وقت قریب تر ہو تا جا رہا تھا….

وہ آج کے بعد شاید کبھی بھی حویلی والوں سے مل نہیں پائے گی….

ابیہا کی کوئی خوشگوار یاد منسلک نہیں تھی حویلی سے پھر بھی وہ غم ذدہ تھی….

ابیہا ہمیشہ خوش رہو میری دعا ہے تمہیں.اور مجھے یقین ہے سلمان بھا تمہیں بہت خوش رکھیں گے.

عائشہ بھی اسے ڈھیر دعائیں دے کر جا چکی تھی.