Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 8
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 8
Safaid Ishq by Sania Saeed
سلمان شاہ بیڈ پر بیٹھا مسکرا رہا تھا اسکے چہرے پر ہلکی مسکان تھی وہ بہت پر سکون ہو چکا تھا حلانکہ اسکے دادا,سائین نے زندگی میں پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھاہا تھا مگر اسے تھپڑ ہر کوئ افسوس نہیں سلمان شاہ اسکے بر عکس وہ خوش تھا اسے پتہ تھا داداسائیں اسکی محبت کے آگے ہمیشہ کی طرح ہار جائیں گے………جیسے وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا وہ بیڈ سے اٹھ کے اپنے کمرے کی کھڑی کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا جہاں سے آسمان پر چودہویں کا چاند اپنی بھر پور آب وتاب کے ساتھ روشن تھا اردگرد ستاروں کا جھرمٹ تھا وہ خوش تھا بلکہ بہت زیادہ خوش تھا…….
اب وہ دن دور نہیں ہے ابیہا جب تم میری دسترس میں ہوگی میرے نام ہوگی…..خیالوں میں وہ ابیہا سے مخاطب تھا….
مگر وہ ابیہا کی حالت سے بلکل انجان تھا اس معصوم کے ساتھ کیا ہو رہا تھا وہ کتنی تکلیف میں تھی کتنی بے مول ہوچکی تھی…… وہ نہیں جانتا تھا اس کے اٹھائے اقدام سے ابیہا کی پارسائی پر تہمت لگ سکتی ہے شاید وہ مرد تھا وہ ایک لڑکی کی تکلیف کا کیسے اندازہ,لگا سکتا تھا…….. وہ اس سب سے کتنی بے مول ہو جائے گی وہ سوچ بھی نہین سکتاتھا……
سلمان شاہ اپنی خوشی کو انجوائے کر نا چاہتا تھا………….سلمان شاہ نے کمرے میں اردگرد نظر دوڑائی اسکی مطلوبہ چیز مل چکی تھی اپنی گاڑی کی چابی لی اورحویلی سے نکل چکا وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کا رخ شہر کی جانب جاتی سڑک پر مرکوز رکھا وہ شہر جا رہا تھا اب نہ جانے کتنے دن وہاں رہے …………مگر آگے کیا طوفان آنے والا ہے وہ اس سب سے انجان تھا…………..اللہ نے کیا لکھا ہے اسکی قسمت میں وہ پاک پروردگار بہتر جانتا ہے…….انسان اپنی خواہشوں میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے اسے یہ تک پرواہ نہیں ہوتی کہ اسکی خواہشوں سے کس کا بھلا ہو رہا ہے کس کا نقصان اسے طرف اپنی چاہت کی فکر ہوتی ہے انسان بے شک بڑا خودغرض واقع ہواہے.
صبح سے رات ہو چکی تھی آسمان پر سیاہی چھا چکی تھی مگر وہ بے جان سی مورت بنی بے حس وحرکت ویسے ہی فرش پر بیٹھی تھی مامی سائیں کے بعد کوئی بھی اس کمرے میں نہیں بھٹکا تھا…………اس نے ہمت کی تھی اٹھنے کی بدن میں درد کی ٹھیسے اٹھ رہی تھی….آہ ………اسکے حلق سے ایک دم گھٹی سی چیخ نکلی تھی وہ دوبارہ وہی ڈھ سی گئی تھی……..ٹھک ٹھک ٹھک…..کسی نے دروازہ بجایا تھا باہر سے اور خود کھول کر اندر نمودار ہوا تھا اس پورے دن میں کوئی پہلا ہرذی روح اس کمرے میں آیا تھا……..کھانا کھا لیں بی بی جی…..نوری کھانا لے کر حاضر ہوئی تھی اسکے ہاتھ میں کھانے کا ٹرے تھا جسے اس نے ایک سائٹ پر رکھا تھا اور ابیہا کی طرف جھکی تھی………اس کی حالت دیکھ کر وہ حیران تھی ………..نوری تمہیں معلوم ہے سلمان بھائی نے میرے متعلق….کیا کہا ہے سب سے..؟؟اس نے نوری کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اسکے لہجہ میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی شاید انسان کے دل میں چور نہ ہو تو وہ ایسا ہی بے خوف ہوتا ہے…………..نوری نے ابیہا کی اجڑی ویران حالت غور سے دیکھی تھی سفید سوٹ شکن آلود ہوچکا تھا………آنکھوں کے پپوٹے رو رو کر سوج چکے تھے……ناک سرخ ہو چکی تھی اسے اچانک بہت تکلیف ہوئی ابیہا کی حالت دیکھ کر………..مگر اسکی اس حالت کی ذمہ دار وہ بھی تھی. …..ایک پارسا لڑکی پر بدکرداری کی تہمت لگانا اسے چابک سے مارنے سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ………..یہ تکلیف سب تکلیفوں پر بھاری ہوتی ہے.. بے اعتباری کی تکلیف کیا ہوتی یے یہ وہی جانتا ہے جسے بے اعتبار کر دیا,جائے…….بولو نہ نوری ابیہا نے نوری کو ایک بار پھر مخاطب کیا تھا……..
وہ ابیہا بی بی ……چھوٹے سائیں نے کہا ہے وہ آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں………نوری نے جھٹ سے جواب دیا تھا……
جبکہ ابیہا نے اپنے دل ہر ہاتھ رکھا تھا آگے سننے کی اسکی ہمت نہیں تھی اسکا سر چکرارہا تھا سلمان شاہ کی بات سن کر اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا سلمان شاہ اسکے متعلق ایسا کبھی کچھ کہے گا…………
دل میں نفرت کا جذبہ ابھرا تھا……اس شخص کے لئے جس نے ابیہا کے پاک دامن کو داغ دار کر دیا تھا بے یقینی کی بھٹی میں رکھ چھوڑا تھا اسے اپنوں میں ذلیل کر وا دیا تھا……..
وہ مامی سائیں کے الفاظ اب سمجھ چکی تھی…..ابیہا خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی…..نوری جا چکی تھی………ابیہا اٹھ کر واشروم گئی تھی واش بیسن پر کھڑے ہو کر سامنے لگے آئینے میں اپنے آپکو دیکھا تھا ہونٹ کا کنارہ بھی پھٹ چکا تھا……. ابیہا نے وضو کیا اپنا حلیہ درست کرکے نکل….ابیہا سوچ میں پڑچکی تھی کہ آخر سلما ن شاہ نے اس سے کس چیز کا انتقام لیا تھا اسے رسوا کر کے………پھر سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے وہ بے دردی سے رونا,شروع کر چکی تھی……اسکی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھی مگر یہاں کوئی نہیں تھا جو اسکی پرواہ کرتا سوائے اللہ کے……اور بے شک وہی سب سے زیادہ انسان کی پرواہ کرتا ہے…..اور وہی انسان کا مددگار ہے…….ابیہا نے جائے نماز نکالی ……زمین پر بچھاکر نماز کی نیت باند ھ چکی تھی کیونکہ عشاء کا وقت ہو چکا تھا…. سلام پھیر کر جب ..دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو کتنے آنسو آنکھوں سے چھلک پڑے……….اللہ جی کون سا ایسا گناہ سرزد ہوگیا مجھ سے جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے مجھے میں نے تو کبھی سلمان بھائی کو کچھ نہیں کہا پھر وہ کیوں میری رسوائی کا سبب بنے یا اللہ یہ کونسی میری آزمائش ہے میں اتنی آزمائشیں نہیں جھیل سکیتی آپ مجھے میری پارسائی لوٹادیں یہ صرف آپ کر سکتے ہیں کون ہے میرا آپ کے سوا…..؟؟کون ہے ہما را اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں سب رشتے ناتے وقتی ہوتے ہیں….سب آپ کا رب آپکے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے…….اللہ پاک انسان کو اسکی اوقات سے زیادہ دکھ و تکلیف نہیں دیتا وہ یہ بھول چکی تھی…………اگر برا وقت وہ دکھا رہا ہوتا ہے تو اس سے بھی انسان کو بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے….جو لوگ اسے اپنا ہونے کا یقین دلاتے ہیں برے وقت میں معلوم ہو جا تا اسکا اپنا کون ہے……..برے وقت کے بعد اچھا وقت انسان کا منتظر ہوتاہے سب انسان کا ایمان مضبوط ہونا چاہیئے…….ابیہا اب کافی پرسکون ہوچکی تھی..
