547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 16

Safaid Ishq by Sania Saeed

بابا سائیں…. سلمان شاہ ان سے الگ ہوا تو اسنے حیرت زدہ ہوکر اہنے باباسائیں کو مخاطب کیا تھا…

میں آج بہت خوش ہوں….جو کام ہمارے برادری کا کوئی انسان نہیں کر پایا وہ تم نے کر دکھایا ہے….اتنی ہمت تو مجھ میں بھی نہ تھی….کہ اس رسم کے خکاف کچھ کہا جاسکے….مگر تم نے ثابت کر دیا تم ایک با ہمت وبہادر مرد ہو…تمہارا انداز غلط ہو سکتا ہے…تمہاری منیت میں کوئی فتور نہیں ہے..

.”سلمان شاہ مجھے فخر ہے کہ ….میں تمہارا باپ ہوں.”…..بابا سائیں نے سلمان شاہ کو کہا تھا…

وہ یہ الفاظ سن کر سرشار ہوگیا تھا…کہ اسکا باپ اسکے فیصلے سے خوش تھا..

بی بج سائیں بھی باپ بیٹے کی محبت دیکھ دل سے خوش ہوئی تھیں..

بہت شکریہ بابا سائیں…

میں اب خوش ہو کر جاؤں گا یہاں سے….آپ بس دعا کرنا…سلمان نے اپنے بابا سائیں کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا..

جب کے ابیہا خوش ہونے کے بجائے افسردہ ہو رہی تھی….یہ کیوں ہوا…وہ سلمان شاہ کو خوش نہیں دیکھنا چاہ رہی تھی…بد گمانی بڑھتی جارہی تھی…

کانچ کی سرخ چوڑی

میرے ہاتھ میں

آج ایسے کھنکنے لگی

جیسے کل رات شبنم سے لکھی ہوئی

ترے ہاتھوں کی شوخیوں کو

ہواؤں نے سَر دے دیا ہو

اب نکلتے ہیں بابا سائیں…سلمان شاہ نے آگاہ کیا.

سدا خوش ہورہو…دونون…ابیہا کا بہت خیال رکھنا…یہ میری بیٹی ہے…کوئی پریشانی مت دینا اسے سمجھ گئے …..انہوں نے سلمان شاہ کے غصے کو مد نظر رکھتے ہوئے سمجھانا چاہا…کیونکہ وہ جانتے تھے…سلمان شاہ غصے میں اچھے برے کو بھول جاتا تھا…

جی بابا سائیں…سلمان نے حامی بھری…

اور وہ دونوں خالی ہاتھ اس حویلی سے شاید ہمیشہ کے لئے نکل آئے مگر کون جانتا ہے…وہ پھر یہیں لوٹیں….قسمت کے ہیر پھیر سے کون واقف ہے….

ابیہا سلمان شاہ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چکنے کی کوشش کر رہی تھی….

اور اس اسی چکر میں وہ بڑے دروزے کے زینے سے اترتی گرنے لگی تھی…بر وقت اگر سلمان نہ اسے سنبھلاتا تو زمین بوس ہو جاتی..

کہا تھا نہ جب گرنے لگو گی….میں تھامنے کے کئے تیار رہوں گا….ابیہا کے ہاتھوں کو مضبوطی سے سلمان شاہ نے اسکے کان میں اپنی بہت پہلے کہی بات دوراہی تھی…جس پر ابیہا….ششدر رہ گئ تھی…وہ جلدی سے اپنے ہاتھ چھڑاتی…آگے چلنے لگی….

وہ دونوں وہاں سے اپنے سفر پر روانہ ہو چکے تھے .. ………

||||||||||||||||||||||||||

گوٹھ سے…کراچی کا سفر…بہت تھکان بھرا تھا دونوں کے لئے…سلمان شاہ اپنے دھیان میں گاڑی چلا رہا تھا…. تقریبا پانچ سے چھ گھنٹے کا سفر تھا ……وہ دس بجے حویلی سےنکلے تھے…اب بارہ بج رہے تھے….موسم کافی خوشگوار تھا…پھر بھی ذہہن منتشر تھا…

جب کے ابیہا باہر کی طرف دیکھتی صرف رونے کاشغل فرمارہی تھی..جسے سلمان شاہ نے…دیکھ کے بھی ان دیکھا کیا…وہ یہی چاہتا تھا…جتنا وہ رونا چاہتی ہے آج ہی رو لے…

دوسری طرف ابیہا کے ذہہن میں طرف اپنی ذات کی بے اعتباری چل رہی تھی…جس کا ذمہ دار وہ صرف سلمان شاہ کو ٹھہراتی تھی..سو چتے سوچتے اسکی کب آنکھ لگی اسے پتہ ہی نہ چلا……

گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی…ابیہا نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھولی تھی…

ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا..

اٹھ جاؤ یہ ایک چھوٹا سا ڈھابہ ہے…کھانا کھا لیتے ہیں..سلمان نے ابیہا کی سوال کرتی نگاہوں کو دیکھ کر تفیصل بتائی ..

مجھے بھوک نہیں ہے..ابیہا نے اسکی بات کا جواب بے رخی سے دیا…

میں نے تم سے پوچھا نہیں …..تمہیں بتایا ہے..وہ کہاں کسی کی بات کو خاطر میں لاتا تھا…اسنے دوٹوک انداز میں کہا..اور گاڑی سے باہر نکل کر…ابیہا کی طرف والا دروزہ کھولا تھا..

ابیہا کو ناچار اٹھنا ہی پڑا….حلانکہ کے اسے سلمان کے رویے پر نا جانے کیوں دکھ ہوا تھا..

جیسے ابیہا باہر آئی اسے خنکی محسوس ہوئی….ڈھابہ کسی گاؤں کے اردگرد تھا.. رات کا ایک بج رہاتھا…ابیہا نے ڈھابے میں لگے بڑے سے گھڑیال کی طرف دیکھا…

ڈھابہ رات کے اس وقت بھی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا….ہر طرف روشنی..کہیں…لال کہیں سفید تو کہیں پیلی ……روشنیاں تھیں…

سامنے تخت رکھے تھے بڑے سے….جس کے ایک طرف….ایک مٹکہ پڑا تھا…اسکے اوپر ایک گلاس رکھا ہوا تھا….

ہر طرف شور شرابہ تھا…وہ پہلی بار زندگی میں اسطرح باہر آئی تھی ..یہ زندگی نیا منظر دکھا رہی تھی….

سلمان شاہ نے مناسب سی جگہ دیکھی جہاں رش قدرے کم تھا…وہ ابیہا کولئے وہاں آگیا…وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھ گئے…..

جی صاحب جی کیا کھانا کاؤں ہے…؟؟

ایک چودہ سے پندرہ برس کا بچہ پوچھ رہا… جس پر سلمان شاہ نے اسے آڈر دے دیا….

چلو وہاں سامنے ہینڈ پمپ ہے وہاں جاکر ہاتھ دھو لیتے ہیں….سامنے نظر آتے ہینڈ کی طرف دیکھتے سلمان نے ابیہا کو مخاطب کیا..

ابیہا اسکی بات کو فورا مانتی ہوئ اٹھی تھی

سلمان شاہ ایک قدم پیچھے چل رہا تھا

ابیہا جو اپنی جون میں چلتے ہوئے اردگرد سب کچھ ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی….ایک دم ڈر گئی…کسی کےہاتھ کا لمس اپنے سر پر محسوس ہوا…

اپنی چادر کو سنبھالو ……اب یہ تمہارے سر سے نہ سرکے …سمجھ گئی….سلمان نے جافی رعب دار آواز میں کہا….جس سے ابیہا ڈر گئی.

جی جی…وہ غلطی سے….بس وہ اتنا ہی کہہ پائی…

سلمان شاہ ایک غیرت مند مرد تھا وہ کیسے برداشت کرتا بھیڑ میں اسکی بیوی کے سر سے چادر اترے…آخر کو اس میں تھا تو ایک وڈیرے کا خون…وہ یہ سب کہاں برداشت کر سکتا تھا…..کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے سفر پر روانہ ہوگئے تھے.

||||||||||||||||||||||||

رات کے ساڑھے تین بجے کا وقت تھا….

جب وہ دونوں ڈیفنس میں موجود سلمان شاہ کے بنگلے میں پہنچے تھے…ڈرائیور نے سلمان شاہ کو دیکھتےہی گھر کا مین دروازہ کھولا …..وہ گاڑی لئے اندر آگیا.دوسری طرف ابیہا تو بنگلے کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی…وہ انتہائی وسیع و عریض بنگلہ ……تھا..ابیہا کے خیال سے سلمان شاہ کا گھر چھوٹا سا ہو گا کیونکہ وہ اکیلا جو رہتا تھا…مگر گھر کو دیکھتے کسی محل کا گمان ہو رہا تھا..اتنی رات میں بھی وہ گھر روشن تھا…..گاڑی سے اتر ے ہی اسکی نظر سامنے گاڈرن میں پڑی جہاں اسے اس روشنی میں بھی گلاب کے پھول واضع نظر آئے….اردگرد چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو رچی بسی تھی….

چلو…سلمان نے ابیہا کو گم سم دیکھ کر مخاطب کیا…

کیا آپ اس گھر میں اکیلے رہتے ہیں…؟؟بے دھیانی میں ابیہا کے منہ سے پھسلا….

نہیں…میری بیوی ….اور دو عدد بچے بھی ساتھ رہتے ہیں…

سلمان شاہ اب کی بار گھور کر ابیہا جو دیکھا…جس بات کو وہ سمجھ نہ پائ …

تو کیا .مطلب….یہ پہلے بھی شادی کر چکے ہیں..ابیہا دل میں سوچ کر رہ گئی….ابیہا کے دل میں ایک ٹھیس سی بھی اٹھی تھی…سلمان کی بات سن کر….

سلمان شاہ ابیہا جو اپنے پیچھے آنے کا کہ کر خود آگے چلنے لگا….