Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 1
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 1
Safaid Ishq by Sania Saeed
اسکے مہندی لگے ہاتھوں کی سرخ چوڑیاں بے دردی سے توڑی جارہی تھی وہ جس کے ہاتھوں میں یہ مہندی کل ہی رچی تھی چوڑیاں آج ہی پہنائی گئی تھی وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھی تھی کچھ عوتوں کی عوتوں کی آوازے اس کے کان میں پڑ رہی تھی ارے دیکھوں کتنی منحوس لڑکی ہے آتے ہی بڑے دلاور سائین کو کھا گئ حویلی والوں کی خوشیاں ہڑپ کر گئی ابیہا کی ہستی کو تہہ و بالا کر گئے تھے یہ الزام وہ بے قصور ہوتے ہوۓ بھی مجرم بنا دی گئی تھی وہ ایک دم دھاڑے مار مار کے رونے لگ گئی اپنی قسمت پر رونا تو اسکا بنتا تھا نئی نویلی دلہن نے ببیوگی چادر جو اوھڑ لی تھی مہز بائس سال کی عمر میں اسکی آگے کی زندگی بیوگی میں ہی گزرنی تھی مگر کون جانے حویلی والوں کے رسم و رواج سے بھی ذیادہ طاقت ور ہر شہ پر قدرت رکھنے والا وہ سوہنا رب کیا لکھتا ہے اس کے نصیب میں آگے…………کوئی تو نجات دلوائے گا اس ظالم رسم و رواج سے ابیہا کو
وہ جو کہتے تھے ساتھ رہےگے عمر بھر
یونہی راہ میں تنہا چھو ڑ گۓ………
…………………………………………………………………………………………………………………….
آج دلاور شاہ کاقل تھا حویلی میں ہر طرف ماتم کا سماء تھا.آج حویلی کے مکینوں حتہ کے ملازموں کے منہ سے بھی ایک شخص کا نام لیا جارہا تھا وہ تھا” سلمان شاہ ” جو پورے دو سال بعد اپنی پاک سر زمین پر قدم رکھ رہا تھا جن نے کبھی نہ آنے کا عہد خود سے کر رکھا تھا لوگ حیران تھے کہ آخر سلمان شاہ دلاور اپنے جگری یار کی شادی میں کیوں نہیں آیا تھا ان دونوں کی دوستی پورے خاندان حتہ کے
گاؤں کے لوگوں سے بھی چھپی نہیں تھی تو آخر کیا وجہ تھی وہ نہیں آیا تھا سننے والوں نے سنا تھا سلمان کا پاسپوٹ کھو گیا تھا مگر آچانک وہ آگیا تھا دلاور شاہ کی موت کا سن کے
وہ دونوں کہنے کو چچا زاد تھے مگر انکی محبت سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر تھی وہ دونوں ایک دوسرے پر جان چڑھکتے تھے وہ جس نے کبھی واپس اپنے ملک اپنے گھر نا آنے کا عہد کیا تھا وہ آگیا تھا سلمان شاہ کا کلیجہ پھٹنے کو تھا دلاور کی موت کاسن کےجسے وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا.خوبصورت لال اینٹوں سے بنی ان کی وسیع و عریض حویلی اسکی منتظر تھی جیسے ہی اس کی گاڑی نے گیٹ کے اندر کیا اس کا دل دھڑک اٹھا تھا اس دل کے دھڑکنے میں دلاور کے علاوہ کسی اور کا بھی ہاتھ تھا.وہ گاڑی رکنے پر ایک دم سے گاڑی سے اتر کر بغیر اردگرد نگاہ دوڑائےحویلی کے اندر بھاگنے کے سے انداز سے چلا تھا پر اسکا ایک ایک قدم قیامت بن رہا تھا اسکے لئے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے برآمدے میں چار پائی اردگرد عورتوں کے جھتمٹ میں تائی سائیں بیٹھی تھیں جیسے ہی انہوں نے سلمان شاہ کو دیکھا اردگرد عوتوں کی پرواہ کئے بغیر وہ اس تک پوچھنی تھیں دفتعااسے گلے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں مگر ان کا یہ رونا سلمان کے لئے نگے جسم پر کوئلے لگانے برابر تھا.وہ چاہ کر بھی ان کو کوئی تسلی بخش جملہ نہیں کہہ پا ررہا تھا آخر کونسا ایسا لفظ تھا تو ایک ماں کی اجڑی گو د کا مداوا کرتا وہ بھی کر سکتا تھا دلاور شاہ کی آخری با تیں اس کے کا ن میم پڑی تھی(تم نہیں آر ہے نا میری شادی پر سلو تو میری میت پر مہربانی کر کے آ جانا)سلمان کی تکلیف کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل نہیں تھا.پر ابھی اسے کسی اور کا بھی سامنا کرنا تھا اسلئے اسے ہمت سے کام لینا تھا وہ تائ یسائیں سے علیحدہ ہو کر اپنی نم آنکھو ں کو صاف کرتا مردان خانے کی طرف بژھا تھا جہاں جانا اس کے لئے تائی سے
مردان خانے کی طرف جاتے ہوئے سلمان شاہ کے قدم لڑکھرائے تھے مگر وہ اپنے آپکو سنبھالنا اچھے سے جانتا تھا جیسے ہی وہ مردان خانے کے دروازے کے عقب میں پوچھا تھا اسکے کانوں میں کسی نحیف آواز پوچھی تھی اس آواز کو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا دادا سائیں کسی کے تعزیت کے جواب میں انتہا ئ قرب کی حالت میں کہہ رہے تھے جیسی اللہ سوہنے کی مرضی کے آگے کس کی چلی یہ الفاظ سنتے ہی سلمان شاہ مردان خانے میں پوچھا تھا جہاں گاؤں کے مردوں کا تانتا بندھاہوا تھاسب لوگوں کی نظر سلمان شاہ کی طرف اٹھی تھی عین اسی وقت سلمان شاہ نے اپنے دادا سائین کو پکارا تھا اس پکار میں پہلے جیسے کھنک نہیم تھی اس پکار میں قرب تھا غم کو سہنے کی تکلیف تھی دادا سائین….اس پکار پر دادا سائین نے اپنے میں مڑ کر دیکھا تھا وہ دوڑتا ہوا اپنے دادا سائین کے گلے لگا تھا ان کو کسی بچے کی طرح سنبھالا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا دادا سائین کو سنھالنا اب اسے ہی سمیٹنا تھا بلکہ جویلی کے تمام مکینو ں وہی سمیٹ سکتا تھا دادا سائین نے انتہائیقرب میں سلمان کو پکارا تھا دیکھا سلمان شاہ چلا گیا ہے دلاور شاہ اپنے دادا سائین کو چھوڑ گیا ہے وہ اب کبھی نہیں آئے گا ہمیں ہمیشہ کیلئے واپس نا آنے کے لیے چھوڑ گیا میرا نا سہی تمہارا تو خیال کرتا تم تو اسکی جان تھے بس وہ انہیں بھی نہ دے پایا اور اپنے کمرے کی طرف نکل گیا جہاں بے شمار یادیں اسکی منتظر تھیں
مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاھئیں…………
پوچھتے ہیں آپ , آپ اچھے تو ہیں
جی میں اچھا ہوں ، دعائیں چاھئیں………
وقت کا کام ہے گزرنا چاہے جیسا بھی ہو وقت گرز رہا تھا آج دلاور شاہ کو گئے ہوئے آٹھ دن ہوگئے تھے حو یلی میں ہو کا عالم تھا اس دن سے ابیہا کی زندگی بھی تاریک ہوگئی تھی حویلی والے تو شاید وقت کے ساتھ سنبھل جائے گے مگر ابیہا کی زندگی ہمیشہ ایسی ویران رہنے واکی تھی آج اسے بھی اس کمرے میں آئے آٹھ دن ہوگئے تھے ملگجے کپڑے سلوٹ زدہ میں وہ ملبوس تھی وہ لڑکی جو کبھی ایک دن سے زیادہ کپڑے نہیں پہنتی تھی بے اخیتار میں اپنے بڑے سے کمرے جو کی اب اسکا قید خانہ تھا کے نفیس سے شیشے کے آگے آئی تھی اور اپنی اجزی لٹی ویران حالت کو دیکھنے لگی سفید جوڑا جو کہ اسے زبردستی پہنایا گیا تھا اس کا انتہائی خوبصورت سرخ لباس اتار کر وہ اپنے سفید لبا کو دیکھ کر سوچنے لگی اب تو اس پر رنگ حرام کر دیئے گئے تھے اب ساری زندگی اس نے یہی سفید لباس پہننا تھا اس کی عدت شرعی لحاظ سے تو ختم ہو جانی تھی مگر وہ جنتی تھی حویلی والوں کے لئے وہ ہمشیہ عدت میں رہے گی جب تک ابیہا شاہ کی زندگی کی وڑ باقی تھی وہ عدت میں رہنی تھی کیا کبھی ابیہا باہر کی دنیا پھر دیکھ پائے گی یہی سو چ ابیہا کو کپکپانے کے لئے کافی تھس یہ نا ممکن تھا اب وہ بس سانس لے گی زندگی نہیں جیئے گی اسی سوچ کو لی کر وہ رب سے شکوہ کناہ ہوئی تھی یا اللہ پاک أپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا آخر کیا گناہ کیا تھا میں نے ایسا جو اپ نے مجھے اتنی بڑی سزا دیاس پتہ تھا اللہ کے علاوہ وہ کسی سے شکوہ بھی نہیں کر سکتی تھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی کیا کبھی ابیہا شاہ ہنس بھی پائے گی کون جانے سوائے اس پاک کے وہ کبھی کیا انسا ن کو اکیلا چھوڑتا ہے جو ستر ماؤں سے زیادہ انسان سے محبت کرتا ہے………
… راہ ِ ہَستی کے اِس چلتے سفَر میں
تُمہاری یَاد کا سَایہ بُہت ہے …
بہت نزدیک ہو کر بھی وہ اتنا دور ہے مجھ سے
اشارہ ہو نہیں سکتا پکارا جا نہیں سکتا……![]()
سلمان شاہ جسم پر سفید ٹی شرٹ اور ٹراؤزر زیب تن کئے اپنے کمرے کی کھڑکی سے,ادھورے چاند کو دیکھ رہا تھا جسے دیکھ کے لگتا تھا وہ بھی اسی کی طرح تنہا ہے سلمان کو چاند دیکھ کر کسی اور کی بھی شدت سے یاد آئی تھی جو شاید اس چاند سے بھی زیادہ تنہا تھی جسے سمیٹنے کے لئے بھی کوئی نہیں تھا آج سلمان شاہ کو حویلی ائے پانجچ دن ہوگئے تھے مگر اس نے اسکا سامنا ابیہا سے نہیں ہوا تھا شاید اس لئے کیونکہ وہ عدت میں تھی اور وہ اچھی طرح جانتا تھا حویلی والوں کے نزدیک بیوہ ہونا کتنا بڑا گناہ تھا جیسے اس میں انہی کی مرضی شامل ہو اسے آج بھی اپنی چھوٹی پھوپھی کی حالت تھی جب وہ بیوہ ہوئی تھی تو انہیں کس طرح ساری زندگی اپنی حویلی میں گرزاری تھی نہ وہ کبھی اپنے میکے أئیں تھیں جنہیں ان سے ملنا ہوتا تھا,وہ خود ان کے گھر جاتا تھا آخر ساری زندگی بیوگی میں گزار کر پھوپھو کی جامن چلی گئ تھی ایہ خیال أتے ہی اسکے سامنے ابیہا کی معصوم شکل آئی تھی یہ خیال ہی اس کے لئی سوھان روح تھا ابیہا بھی یونہی زندگی گرازے گی ساری زندگی حویلی والو ں کی خدمت کر کے گزار دے گی
اسی خیال کے تحت وہ قدم بڑھاتا اپنے بیڈ کے پاس دیوار پر لگی تصویر کے پاس أیا تھا جہاں دلاور شاہ اور سلمان شاہ سفید کاٹن کے سوٹ پہنے کاندھوں پر اجرک رکھے بڑی ادا سے کھڑے تھے دلاور شاہ کی تصویر پر ہاتھ رکھے وہ اس سے شکوہ کناہ ہو ا تھا یار تو نے بہت ظلم کیا ہے ہم سب پر اس سے بھی زیادہ اس معصوم پر وہ کیسے برداشت کرے گی یہ سب تو جانتا ہے اپنے رسم ورواج کو مگر نہیں میں ایسا اس کے ساتھ کبھی نہیں ہونے دوں گا وہ ایسی زندگی نہیں گزارے گی یہ میرا تجھ سے اور خود سے وعدہ ہےمر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاھئیں……….
