547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 12

Safaid Ishq by Sania Saeed

پہلے ہماری شرط تو سن لو سلمان شاہ………..دادا سائیں نے سلمان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا….

جی دادا سائیں آ پ کا ہر حکم سر آنکھوں پر آج تو آپ جان بھی مانگے تو دے دوں گا…….

.سلمان شاہ نے چہک کر کہا تھا….مسکراہٹ اسکے چہرے پرہنوز برقرار تھی……

سلمان شاہ تمہارا آج کے بعد مجھ سمیت حویلی کے کسی بھی فرد سے کوئی رشتہ نہیں ہوگا……….

کیا…….؟؟؟؟……سلمان کے ہاتھ سے پسٹل پسل کر زمین پر جا گری تھی…..

ابھی ہماری بات مکمل نہیں ہوئی سلمان شاہ….

پیر بخش شاہ نے جتا یا تھا…..سب لوگ پیر بخش شاہ کی بات کو سن کر حیران رہ گئے تھے…..

ہم تمہیں اپنی جائیداد سے عاق کرتےہیں……آج سے نہ تم ہمارے پوتے ہو نہ ہم تمہارے دادا……اور سب میری ایک بات کان کھول کر سن لو..پیر بخش شاہ وہاں کھڑے ہر نفوس کو دیکھ کر کہا تھا……..ہمارے جنازے میں بھی سلمان شاہ کو کوئی داخل نہ ہو نے دیں….یہ ہمارا حکم ہے…

دادا سائیں آپ ایسا مت کہیں پلیز…….آپ مجھے جائیداد سے عاق کر دیں پر………پلیز مجھے خود سے دور مت کریں…..

اس سب عرصے میں پہلی دفع سلمان شاہ بنے خود کو بے بس محسو س کیا تھا……

مجھے میرے اپنے رشتوں سے دور مت کریں……میں آپ سب سے بہت محبت کرتا ہوں…..

سلمان شاہ یہ بھی تمہارا اپنا فیصلہ ہے مت بھولو یہ بات…دادا سائیں مے جتا یا تھا…..

حق نواز شاہ …..مولوی کا بندوبست کرو…..آج رات عشاء کے بعد سلمان شاہ کا نکاح ہے…….. نکاح کے فورأ بعد…..اسے اس حویلی سے نکل جانے کے لئے کہو…..دادا سائیں نے اب اپنے بیٹے کو مخاطب کیا تھا………

سلمان شاہ کا والد اپنے اکلوتے بیٹے سے بچھڑ رہا تھا پر اس سے کوئی پوچھنے والا نہ تھا……..

اولاد سے محبت ماں..باپ دونوں …

.برابر کر تے ہیں پر والد کی محبت ان کے غصے میں دبی ہوتی ہے……اسی لئے لوگ زیادہ ماں کی مامتا کی مثالیں دیتے ہیں…..کیونکہ وہ واضع ہوتی ہوتی ہے….

باپ کی محبت پوشیدہ…..پر وہ بھی اولاد کو اتنا ہی چاہتے ہیں……

پلیز دادا سائیں ایسا مت کریں….سلمان شاہ نے ایک بار پھر التجار کر نا چاہی تھی ……

پر دادا سائیں…..بغیر سنے وہاں سے نکل چکے تھے………

ایک ایک کر کے ہر فرد سلمان کو چھوڑ کر جا چکا تھا…….

ایک شخص کی محبت انسا ن کو کتنا…..بے بس کرتی ہے اسے آج سمجھ آئی……..تھی……

اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے اتنے محبت کرنے والوں کو ٹکھرا یا تھا……صرف اسکی خاطر جسے شاید اس سے محبت بھی نہیں تھی……وہ وہی بیٹھتا چلا گیا تھا……..سب کی محبت ہا ر کر ایک محبت وصول کر بیٹھا تھا……اسے سب سے الگ ہونا ہو گا ساری زندگی کےلئے…..بے شک وہ زیادہ حویلی میں نہیں رہتا تھا….پر وہ آتا جاتا رہتا تھا…..اب تو یی حق بھی چھین کیا گیا تھا…….یہ سوچ اسے تکلیف دے رہی تھی……

میں منا لوں گا سب کو ضرور آرام سے دادا سائیں مان جائیں گے میری بات……سلمان شاہ کے اندر سے ایک آواز گونجی تھی…..