Safaid Ishq by Sania Saeed NovelR50447 Safaid Ishq Episode 6
Rate this Novel
Safaid Ishq Episode 6
Safaid Ishq by Sania Saeed
ابیہا کے کھٹن وقت کا آغاز ہو چکا تھا ابیہا پورا پورا دن حویلی کے کام دیکھتی رات دس گیارہ بجے کے قریب اسے آرام کا وقت میسر آتا تھا دن اپنی آب وتاب کے ساتھ گزر رہے تھے سچ کہا جاتا ہے وقت کسی کے لئےنہیں رکتا اس کے لئے بھی نہیں رکا تھا بظاہر سب کچھ اچھا تھا حویلی کے مکین بھی اچھے تھے مگر کون جانے وہی کب بدلیں دس ماہ گزرچکے تھے وہ صرف حویلی تک محدود تھی حویلی سے قدم باہر رکھنے کی اسے اجازت نہیں حتی کہ حویلی کے چھت تک جانے کی اجازت بھی نہیں تھی حویلی کے مردوں سے اسکا کبھی سامنا نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ کھانا بھی کمرے میں کھاتی تھی حویلی کی پرانی ملازمہ جس کا کام سے زیادہ دھیان اس چیز پر رہتا تھاکہ کون کیا کر رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے کافی دفع ابیہا اسے اسکی اس حرکت پر ڈانٹ چکی تھی پر شاید اب وہ اسکی فطر ت بن چکی تھی “عادت سے جان چھڑانا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا فطرت بدلنا کھٹن کام ہے کسی انسان کی “اسی کے توسط سے ابیہا حویلی کے مردوں کے بارے معلومات ہو تی رہتی تھی کہ کب کون آرہا ہے اور کون کہاں جا رہا ہے اس چیز میں ابیہا زیادہ دلچسپی نہیں لیتی تھی پھر بھی ملازمہ سب بتا نا جیسے اپنا فرض سمجھتی تھی وہ سب کچھ اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکی تھی…….ان دس ماہ میں اسکے والدین دو دفعہ اس سے ملنے آئے تھے وہ زندہ دل لڑکی تنہائی پسند ہو چکی تھی شاید اسے کر دیا گیا تھا……أج بھی وہ بس اپنی نگرانی میں چکن کا کام کروارہی تھی کہ اچانک اسے ملازمہ نے بتایا…..ابیہا بی بی جی آج چھوٹے سائیں( سلمان شاہ) آرہے ہیں تو ان کے لئے خاص کھانا بنانے کا کہا ہے بی بی سائیں نے سلمان شاہ جو کے کافی ماہ بعد حویلی آرہا تھا وہ بس سن رہی تھی اسکا کوئی ردے عمل نہیں تھا وہ سب کچھ دیکھ کر خاموشی سے چکن سے باہر نکل کر مامی سائین کے کمرے کی طرف روانہ ہو چکی تھی…
“””””””””””””””»”«””””””«»”:::::::::::””””::![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ابیہا کچن کی صفائی دیکھنے میں مصروف تھی جو کہ ابھی ابھی ملازمہ سے کروائی تھی رات کافی ہو چکی تھی ابیہا کا جسم تھکن سے چور تھا کیونکہ آج مردان خانے میں دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا سلمان شاہ کی آمد کی وجہ سے سارا کام ابیہا نے اپنی نگرانی میں کروایا تھا………….
وہ ابھی بس آرام کرنے کی طلب سےکچن سے نکلنے کے لئے مڑی ہی تھی عقب میں کسی سے ٹکرائی تھی ایک دم وہ پریشان ہو اٹھی تھی کیونکہ مڑکر دیکھنے پر اس کے منہ سے اٹک اٹک کر ایک نام نکلا تھا پورے دس ماہ بعد وہ اسکے سامنے تھا …..سل سلمان بھائ آپپ پ .____پ….وہ مطمئن سا اس ڈرپوک لڑکی کو دیکھ رہا تھا…..ہاں میں ہوں کوئی بھوت نہیں ہوں جو تم اس طرح دیکھ کر ڈر رہی ہو…..سلمان نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر کہا تھا اسکی چوڑی پیشانی کے بل نمایا ہوئے تھے اور ساتھ ہی اردگرد جائزہ لینے لگا گلاس اٹھا کر پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں پانی انڈیلہ اور منہ کے ساتھ ایک ہی سانس میں پی گیا اسے دیکھ کے لگا رہا تھا جیسے وہ صدیوں کا پیاسہ تھا یہ کاروائی ابیہا بہت حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ سلمان شاہ جیسا شخص آج خودپانی پی رہا ہے……جب وہ پانی پی چکا تو کچن سے فورا باہر نکل گیا اسکے جاتے ہی ابیہا نے اپنا تکا ہوا سانس بحال کیا پھر وہ جلدی سے کچن سے ابیہا بھی نکلی تھی مگر اسکی بری قسمت کسی کی دو آنکھوں نے یہ منظر دیکھ کر کانوں کو ہا تھ لگایا تھا….
“”””::::”:”””::::”::::««”«”””::”؛”![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
بے چینی سے وہ اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا اپنے اتنے ماہ کا صبر أج اسے بے چین کر رہا تھا صرف اس کے دیدار کی بدولت…سلمان شاہ کا فی ماہ بعد حویلی آیا تھا ان گزرے ماہ میں وہ حویلی کے ہر مکین کو تقریبا فرامو ش کر,چکا تھا صرف اپنے بزنس کو آگے بڑھانے کی کامیابی میں لگا ہوا تھا مگر ایک نازک اندام لڑکی کا خیال وہ چاہ کر بھی فراموش نہیں کر پایا تھا کرتا بھی کیسے اسکا خیال تو ہوش کی دنیا میں قدم رکھنے سے اس کے ساتھ رہا تھا بے خیالی میں بھی اسکا خیال رہتا تھا جس سخش سے أپکو محبت ہو اسکا خیال أپ چاہ کر بھی اپنے دل و دماغ سے جھٹک نہیں پاتا یہ محبت تو چیز ہی ایسی ہے مگر وہ تو محبت کی سیڑھی چژھ چکا تھا اور اب پور پور عشق کی چھت پر براجمان تھا وہ آج جس حال میں ابیہا کو دیکھ چکا تھا وہ بے ہو گیا تھا اسکی اجڑی ویران حالت سرخ وسپید رنگ پیلا پڑ چکا تھا گلابی گال پیلے پڑھ چکے تھے جتنے ماہ وہ ابیہا سے اس حویلی سے دور رہا تھا وہ اتنا بے چین نہیں رہا تھا مگر أج اسکا صبر اس کا امتحان لینےاسکے سامنے جم چکا تھا وہ اسے دیکھ کر تکلیف میں مبتلا ہو چکا تھا بس یہیں اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا وہ جو چاہتا تھا وہ کام آرام و سکون سے کیا جائے اس کی حالت دیکھ کر اسے ایک منٹ لگا تھا فیصلہ کرنے میں وہ جانتا تھا اسکے بعد اسے بہت بڑے طوفان سے ٹکرانا پڑے گا مگر اسےکسی کی پرواہ نہ تھی پرواہ تھی تو صرف و صرف ابیہا شاہ کی جسے وہ اپنا دیکھ کر چھوڑے گا اس نے اپنے کمرے سے قدم باہر نکالے تھے سلمان شاہ رات کے وقت کو بھی بھو چکا تھا کہ اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے……وہ جیسے ہی دادا جان کے کمرے باہر پہنچا دروازہ اندر سے لاک تھا وہ یہ دیکھ بڑی مشکل سے واپس اپنے کمرے میں أگیا تھا أتے ہی اس نے اپنے کمرے کی ایک ایک چیز کو تھوڑ ڈالا تھا وہ اب اپنا غصہ بے جان چیزوں پر نکال رہا تھا….بس اب بے چینی سے صبح کا انتظار کر نے لگا تھا……..ا. دیکھنا تھا کہ صبح کا سورج کیا کرنیں بکھیرتا ہے سلمان شاہ کی زندگی میں وہ اپنی الماری کی طر ف بڑھا تھا وہاں اپنا غلیظ مشروب نکال چکا تھا
»«««««””””””””””””””»«»«»««»»»””””””””””””””””»«»»»”«»»””””””””””””””””””””
نوری (ملازمہ )جو کہ کچن کے پاس سے گزرتی ہوئ اپنے کواٹر جا رہی تھی کچن سے أتی ہوئ سلمان شاہ کی آواز سن کے جلدی سے برآمدے کے پلر کی اوٹ میں ہوئ تھی اور اپنی فطرت سے مجبور ہو کر تجسس کے مارے سلمان شاہ کی باتیں سننے کی کوشش کر نے لگی پر وہاں کوئ آواز نہیں پہنچ پارہی تھی کچھ منٹ کے وقفے سے سلمان شاہ کچن سے نکلا تھا اور اسکےپیچھے ہی سیکنڈ کے لمحے میں ابیہا کچن سے نکلی تھی یہ منظر دیکھ کر اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے تھے…………..اب وہ جلد از جلد یہ خبر بی بی سائیں کو سنانا چاہتی تھی پر برآمدے میں لگی بڑی گھڑی میں وقت دیکھا تھا جو کہ گیارہ سے اوپر کا ہندسہ عبور کر چکی تھی یہ خبر صبح کے لئے رکھ کے وہ اپنے کواٹر چلی گئ تھی…..
کیا بکواس کر رہی ہے تو نوری میں تیرے منہ زبان کھینچ لونگی نوری جو اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر صبح صبح اٹھ کے بی بی سائین کے پاس أئی تھی وہ اپنے کمرے میں قرأن پاک کی تلاوت کر کے اٹھ رہیں تھی پھر نوری نے اجازت چاہی تھی مگر جو اس نے بات بتائی تھی بی بی سائین کو آگ کی لپیٹ میں لے گئی تھی وہ بات میں قسم کھا کر کہتی ہوں بی بی سائیں میں نے خود اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا تھا رات کو ابیہا بی بی جی کو اور چھوٹے سائیں کو کچھ باتیں اس نے اپنی طرف سے بنائی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے بی بی سائیں ساتھ ڈرامائ اندازمیں اپنےکانوں کو ہا تھ لگائے تھے ایسے لوگو ں کو نہ خدا کا خوف ہو تا ہے نہ مکافات عمل کا یقین مگر ایسے لوگ نہیں جانتے اللہ کی پکڑجب ہوتی ہے تو کیا کیا ہو جاتا ہے وہ تو ہر چیز پر قادر ہے……….بی بی سائیں کے لئے یہ با ت نا قابل یقین تھی انہوں نے لعن طعن کر کے نوری کو کمرے سے نکلنے کو کہا تھا ساتھ اگلی دفع ایسی بات کہنے پر سخت سزا کا بھی کہا تھا وہ جا چکی تھی…….پر بی بی سائیں کے دل میں شک کا بیج بو چکی تھی………وہ یقین نہیں کرنا چاہ رہی تھی پر شیطان حاوی ہو رہا تھا سوچ پر وہ سوچ میں پڑہ چکی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی ابیہا کم عمر اور حسین بھی بہت تھی حسن بھی ایک فتنہ ہی ہوتا ہے …….وہ اپنے خیالات کو جھٹک کر کمرے سے باہر نکل آئیں تھی..مگر ابیہا کے ساتھ آگے ہو گا یہ تو وقت نے طے کرنا تھا
سلمان شاہ نے مندی مندی آنکھوں سے اردگرد کا جائزہ لیا تھا سر بھاری ہو رہا تھا کیونکہ رات اس نے کچھ زیادہ مقدار میں وہ زہر پیا تھا نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی ذہہن پر زور ڈالا تو رات کا ردہ عمل یاد أیا وہ فورا اٹھا گھڑی میں وقت دیکھا جو بارہ بجا رہی تھی وہ ایک حیران ہوا تھا کہ وہ اتنا ٹائم سوتا رہا تھا اس نے اپنا لحاف اتار کے بیڈ سے اترا پاؤں میں سیپر پہنے اورواش روم میں گیا اب اسے جلدی سے تیارہونا تھا دادا سائیں سے بات کرنی تھی مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ أگے کون سا طوفان اسکا منتظر ہو گا یہ حقیقت پر مبنی بات مگر مرد جب کسی سے محبت کر تا ہے واقعی محبت کر تا ہے تو وہ اس چیز کی پرواہ نہیں کرتا کہ اسکے فیصلوں سے اسکے عمل سے کیا کیا طوفان آتاہے کیونکہ مرد اس معاملے میں خودغرض واقعہ ہوا ہے وہ جلدی جلدی اپنی تیاری مکمل کر رہا تھا ہاتھوں میں اپنی برانڈڈگھڑی باندھی اپنے اوپر پرفیوم اسپرے کرتا اپنا مکمل جائزہ لیتا وہ بلاشبہ ایک خوبرو مرد تھا کمرے سے نکل کر دادا سائین کی تلاش میں نکلاتھا…..آج اسے کسی اور چیز کی طلب محسوس نہیں ہوئی تھی…..
