547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 15

Safaid Ishq by Sania Saeed

شاہزین شاہ جیسے ہی برآمدے میں آئے تو دادا سائیں نے نکاح خواہ کو آگے کی کاروائی کا کہا….

دیکھتے ہی دیکھتے سلمان شاہ کا نکاح بھی ہو گیا….حویلی کے کسی فرد نے سوائے شاہ زین شاہ کے سلمان کو مبارک باد نہ دی….شاہ زین شاہ فور چلے گئے.

سلمان شاہ بہت سرشارتھا….آخر اسنے اپنی محبت کو حاصل کر ہی لیا تھا…وہ محبت اس نے ایسے ہی حاصل نہیں کی تھی….اس محبت کے لئے اسنے قربانی دی….تھی…اپنے بہت خاص رشتوں کی……مرد تو اپنی محبت کے لئے جان بھی دے سکتا ہے… قربانی تو بہت بے معنی چیز ہوتی ہے مرد کے لئے…..بس شرط یہ ہے کہ

” مرد کو واقعی محبت ہو”……

سلمان شاہ تم اب اس حویلی سے ابھی اور اسی وقت اپنی بیوی کو کے کر نکل جاؤ…..اور آئندہ اس طرف بھٹکنے کی بھی ضرورت نہیں ہے…..دادا سائیں کی بارعب آواز نے برآمدے میں چھائی خاموشی کو توڑا تھا…..

وہ وہاں بیٹھے ہر نفوس نے بہت غور سےدادا پوتے کو دیکھا تھا….

دادا سائیں پلیز ایسا مت کریں…..مجھے یہاں رکھ کے بھی آپ سزا دے سکتے ہیں….سلمان شاہ نے اپنی سی کوشش کی تھی…

کیوں سلمان شاہ عشششق کا بھوت اتر گیا….انہوں نے” عشق ‘”لفظ کو کافی کھینچا تھا ..

بس یہی تھی مردانگی……دادا سائیں نے استزائیہ انداز میں کہا..

اوکے دادا سائیں….سلمان شاہ اپنی مردانگی پر چوٹ کیسے برداشت کرتا….اسنے بھی اب آگے کی بحث کو بے کار جانا….

دادا سائیں جا چکے تھے….اپنا فیصلہ سناکر ….

انکے پیچھے ہی تایا سائیں….عباد لالا….

سلمان شاہ کا اپنا بابا بھی جاچکا تھا…انہوں نے بھی آخری مرتبہ سلمان شاہ کو ملنا مناسب نہ سمجھا تھا….

حتکہ کے سلمان شاہ کے بابا سائیں نے بھی…

وہ جانتا تھا اسکا باپ کبھی بھی پیر بخش شاہ کے خلاف نہیں جا سکتے.

سلمان شاہ وہ برآمدے میں پڑے صوفے پر ڈھ سا گیا…تھا….

عشق حاصل کرکے بھی خود کو خالی ہاتھ تصور کر رہا تھا…

وہ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنوں کی محبت کی طلب محسوس کر رہا تھا..وہ وہی بیٹھا سوچ میں پڑ چکا تھا..

نوری…. نوری….برآمدے میں بیٹھے ہی اسنے نوری کو آواز لگائ.

جی چھوٹے سائیں…؟؟جس پر نوری بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو ئی.

جاؤ ابیہا بی بی کو لے کر آؤ….سلمان شاہ نے نوری کو حکم دیا..

جی سائیں ابھی لائی…نوری چلی گئی تھی سلمان شاہ بس سوچوں کے بھنور میں بیٹھا رہ گیا تھا…

][[[[[[|||||||||]]][[

بی بی سائیں ….چھو ٹےسائیں ابیہا بی بی سائیں کو بلا رہے ہیں….ابیہا کے کمرے میں داخل ہوتی نوری نے سامنے ابیہا کے ساتھ بیٹھی عائشہ کو کہا…

کیو…کیوں…بھابھی …وہ مجھے کیوں بلا رہے ہیں…ابیہا کے یہ الفاظ سنتے ہی پسینے چھوٹ گئے تھے…اس نے عائشہ بھابھی کی طرف دیکھتے ہی ہوئے کہا..

نوری تم جاؤ میں لے کر آتی ہوں ابیہا کو..تم بی بی سائیں کو بھی برآمدے میں بلاؤ…عائشہ نے پاس کھڑی نوری کو کہا…جس پر وہ جی کہہ کر جاچکی تھی…

ابیہا تم کیا فضول بات کر رہی ہو..ظاہر ہے انہوں نے تم سے شادی کی ہے…تو تم انکے ساتھ ہی جاؤ گی…عائشہ نے اسکی عقل ہر ماتم کرتے ہوئے کہا.

پر بھابھی وہ مجھے کیوں لے کر جارہے ہیں ساتھ….کیا آپکو نہیں معلوم حویلی کی عورتوں کو گھر سے قدم باہر نکالنے کا حکم نہیں…اپنے تہیہ اس نے بڑے پتے کی بات بتائی تھی…

ابیہا سلمان بھا کو حویلی سے ….ان کی جائیداد سے عاق کر دیا گیا ہے….صرف تم سے شادی کرنے کے لئے..اب وہ یہاں کبھی بھی نہیں آسکتے….عائشہ نے تفصیلا ابیہا کو بتایا.

وہ تو بس یہ سمجھ رہی تھی ان دونوں کوصرف حویلی سے نکالا جائے گا….مگر عاق کر دیا گیا تھا…یہ انکشاف ابھی ہوا تھا اسکے سامنے….وہ تو دنگ رہ گئی تھی.

چلو ابیہا تمہار ا سامان پیک کر دیا ہے…عائشہ نے ابیہا کا بیگ پیک کر دیا تھا…جس میں کچھ ضروریات زندگی کی اشیاء رکھی تھی..

ابیہا نے سفید چادر اچھی طرح اہنےاردگرد لپیٹی اور عائیشہ کے پیچھے چل دی…جب جانا ہی تھا ہر حال میں تو اب اس نے سوچ لیا تھا…وہ اب آنسو نہیں بہائے گی…

وہ دونوں جیسے ہی برآمدے میں داخل ہوئی…..سلمان شاہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا…ہاتھ میں ایک بیگ تھامے عائشہ بھابھی کے بلکل پیچھے کھڑی تھی…

اسنے سفید لباس میں سفید چادرسے سر ڈھکا ہوا تھا….

چہرہ سرخ ٹماٹر جیسا ہورہا تھا…..آنکھیں مسلسل رونے کی چغلی کھارہی تھیں….

سلمان شاہ ہوز اسے دیکھے ہی جارہا تھا……وہ اس سوگوار حالت میں بھی سلمان شاہ کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی….جہاں اسکی پہلے ہی سے حکومت تھی…

سلمان بھا..آگئ آپکی امانت….عائشہ نے ماحول میں چھائی خاموشی کو توڑا تھا….

جس پر وہ ہڑ بڑایا تھا..

بی بی سائیں بھی اسی وقت داخل ہوئی تھی…جن کو دیکھتے ہی سلمان شاہ انکے قریب ہوا تھا….

بی بی سائیں کی آنکھوں میں آنسو کئے .سلمان کو کاندھے سے تھامے اپنے ساتھ لگایا تھا…اسے بہت پیار سے بہت شفقت سے ملیں تھیں…

بی بی سائیں….آپ مجھ سے ناراض ہونگی نہ…؟؟سلمان شاہ نے کہا…

نہیں میرا بچہ….مائیں بھی کبھی ناراض رہ سکتی ہیں اپنی اولاد سے….انہوں نےپیار سے سلمان شاہ کے ہاتھو ں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا..

آپکا بہت بہت شکریہ….بی بی جان…اب میں یہاں سے سکون سے جا سکوں گا….کیونکہ میری ماں جو خوش ہیں..سلمان شاہ نے بی بی سائیں کے پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہا…

ابیہا اور عائشہ ہنوز کھڑی ماں….بیٹے کی محبت تک رہیں تھیں…بی بج سائیں نے ثابت کر دیا تھا….محبت سگے سوتیلے کی محتاج نہیں ہوتی…محبت تو احساس ہوتی ہے…..جو کسی سے بھی ہو سکتی ہیں…..چاہے اس سے آپکا سگہ رشتا نہ بھی پھر بھی……میرا بچہ ہمیشہ خوش رہو….میری دعا ہے…

.اب ہمیں چلنا چاہئے….بی بی سائیں…سلمان شاہ نے کہا تھا..

ابیہا چلو…اب سلمان نے ابیہا کو پہلی دفع پکارا تھا…جس پر ابیہا کی روح تک ہلکان ہوئی تھی…

ابیہا میری بیٹی مجھے معاف کردینا…میں نے تم پر الزام لگایا تھا….انہوں نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے ابیہا کے سامنے…

جسے ابیہا نے فورا اپنے ہاتھوں میں لیا تھا….

ایسا مت کہیں مامی سائیں اپ بڑی ہیں مجھ سے میری مما جیسی ہیں آپ….ابیہا ان کے گلے لگ کر رونے لگ گئی تھی…..

سدا سہاگن رہو….میری بچی….سدا سہاگن رہو…

شاید یہ دعا میں پہلے تمہیں شاید دینا بھول گئی تھی…

بی بی سائیں نےاسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا تھا

چلو خیر سے جاؤ…انہوں دونوں کو کہا…

ابیہا ہاتھوں میں بیگ,لئے آگے بڑھنے لگی…

ابیہا یہ بیگ یہیں رکھ دو…سلمان شاہ نے ابیہا کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر کہا…

پر…سلمان بھا…اس میں ابیہا کا ضروری سامان ہے…عائشہ نے ابیہا کی جگہ تفصیل سے جواب دیا….

میں جانتا ہوں بھابھی….پر میں اس حویلی سے عاق کر دیا گیا……ہوں…..تو میں نہیں چاہتا…..میری بیوی بھی اس حویلی کی کوئی چیز اپنے ساتھ کے کر جائے…

سلمان شاہ جواب سن کر عائشہ اور بی بی….سائیں حیراں ہوئے تھے…وہی ابیہا لفظ “بیوی “پر شاکٹ ہوئ تھی….

میری غیرتگوارہ نہیں کرے گی….میری بیوی اس حویلی کی کوئی چیز حویلی کے مالکوں کی اجازت کے بغیر استعمال کرے….

سلمان شاہ….اس آواز پر ہر نفوس پلٹا تھا….

بابا سائیں آپ…..؟؟سلمان شاہ اپنے بابا سائیں کو دیکھ کر حیرا رہ گیا تھا…

سلمان ……..انہوں نے اسکے قریب ہوتے ہی اسے والہانہ انداز میں گلے لگایا تھا…..میرا بیٹا…..میرا شیر بیٹا انہوں نے اسکی پیٹھ تھپتھائ……تھی.. وہ اپنے باپ کے الفاظ سن کے….حیران ہوا.تھا…