547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 17

Safaid Ishq by Sania Saeed

سلمان ابیہا کو لئے اپنے کمرے میں آگیا…

کمرہ انتہائی بڑا سا تھا…

جس کے در و دیوار دو رنگوں سے رنگے ہوے تھے…

.جس میں بہت ہی نفیس سا جہازی سائز بیڈ تھا..بیڈ کے اوپر دیوار پر..سلمان شاہ کی مغرورانہ سا پوٹریٹ لگا تھا..

جس میں اس نے سفید..کلف لگے سوٹ پر کندھوں پر اجرک لے رکھی تھی..وہ بلا شبہ ایک پرکشش مرد تھا…

جس پر لڑکیاں پہلی بار میں دل ہار سکتی تھیں……

…ڈارک براؤن کلر کے پردے لگے تھے… سائٹ پر دیوان پڑا تھا….

اسکے کے ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل …..جس پر دنیا و جہاں کے پر فیوم کے انبار لگے پڑے تھے…

.

بیڈ کے سامنے والی دیوار پر بڑی سی ایل …ای…ڈی چپسپاں تھی….پورا کمر بمع فرنیچر

مالک کے ذوق کا پتہ دے رہا تھا

ابیہا کچھ پریشان سی لگ رہی تھی بہ غور وہ کمرے کو دیکھتی رہی ساتھ …وہی سوچ اسکے ذہہن کو منشتر کر رہی تھی…

(ایک بیوی اور دو عدد بچے بھی رہتے ہیں)

سنو ابیہا…!!سلمان نے ابیہا کو گم سم دیکھا تو پکارا…

جج..جی…ابیہا جو اپنے خیالوں کے گھوڑے دوڑا رہی تھی….ایک دم ہکلا کر بولی..

تم بھی تھک گئی ہوگی یقینا میں بھی بہت تھک چکا تو لہذا سو جاؤ…..سلمان نے رسانیت سے ابیہا کو کہا…

پر کہاں..؟؟..ابیہا نے بے ساختہ کہا….

اتنے بڑے کمرے میں تمہیں جگہ نہیں مل رہی کہ کہاں سونا ہے؟؟سلمان نے قدرے ناگوار لہجے میں کہا..

جی وہ میرا مطلب میں صوفے پر سو جاتی ہوں….ابیہا نے پر سکون سے لہجے میں کہا…

ویسے جہاں تک مجھے پتہ ہے….نہ تو تمہاری حویلی میں کوئی ٹی وی جیسی چیز تھی نہ ہماری حویلی میں پھر اس صوفے پر سونے والے ڈرامے کا کیسے پتہ چلا تمہیں….؟؟سلمان نے بغور دیکھتے ہو ئے کو کہا…جس پر ابیہا شرمبدہ سی ہوگئی……

محترمہ بیڈ پر سو جاؤ….ویسے بھی چار بجنے والے ہیں صبح ہونے میں تھوڑا ہی وقت بچا ہے..ابکے قدرے پر سکون ہو کر سلمان نے کہا…

سلمان ابیہا کو کہہ کر خود شاور لینے چلا گیا..

ابیہا مرتا کیا نہ کرتاکے مترادف….جلدی سے جاکر بیڈ کی ایک طرف ہوکر…سونے کی کوشش کرنے لگی پر بے سود رہی…ابیہا بے چین ہو رہی تھی…کبھی حویلی والوں کا خیال کبھی اپنی اماں کی یاد اسے ستانے لگتی…تو کبھی سلمان شاہ کی بیوی بچوں کا سوچنے لگتی….

سلمان شاہ شاور لے کر نکلا ….اپنے اوپر پرفیوم اسپرے کرکے بیڈ کی دوسری طرف آ کر لیٹ گیا

سلمان سو چکا تھا……شاید بہت تھکا ہوا تھا…

پر ابیہا بہت بے سکون تھی…ابیہا دوسری کروٹ پر سو رہی تھی….ابیہا نے کروٹ لی تو سامنے ہی سلمان پر سکون نیندلے رہا تھا…اسکے چہرے سے اسکی سکونیت عیاں سو رہی تھی…

یہ کتنے پرسکون سو گئے ہیں میری زندگی کو جہنم بنا کر….کیا مردوں کو اپنی عزت کی پرواہ نہیں ہوتی…کیا مردوں کو اپنے سے جڑے رشتوں سے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا……

عائشہ بھابھی آپکی کتنی غلط تھیں…یہ مجھ سے محبت کرتے ہیں….یہ اگر مجھ سے محبت کرتے تو کبھی بھی میری محبت میں کسی دورسرے کو شریک نہ کرتے….ابیہا خیالوں میں ہی سب سوچ رہی تھی…عائشہ سے بھی اپنے تصور میں محو گفتگو تھی…

اسی سوچ کے ساتھ ہی اسکے کانوں میں کہیں دور آذان فجر کی آواز گونجی….ابیہا آذان کی آواز سن کر فورا اٹھی….

وہ ہمیشہ سے ہی نماز کی پابند رہی تھی…

بیڈ پر دوسرے وجود کو دیکھا جو خواب و خرگوش کے مزے لے رہاتھا…

انہوں نے شاید آج تک نماز پڑھی ہی نہیں ہے…

وہ جانتی تھی حویلی کے مرد نماز نہیں پڑھتے تھے…سوائے سلمان شاہ کے والد کے باقی سب تو اپنے غرور و تکبر میں مبتلا تھے…

ابیہا اپنی سوچ کو جھٹکتی ہوئی اٹھ کر وضو کر نے چلی گئی ….وہ وضو کر کے نکلی تو اسنے اردگرد جائے نماز تلاشنا چاہی …پر ندارد تھی..

جائے نماز وہاں ہوتی تو اسے ملتی…ابیہا نے اپنی چادر کو نماز کے اسٹائل میں باندھا اور وہی ذبیز قالین پر نماز کی نیت باندھے نماز ادا کرنے لگ گئی….

نماز ادا کر کے ابیہا نے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے تو….آنکھوں سے جھرنا بہنہ شروع ہوگئی ……اسکی زندگی کے تمام واقعات نئے سرے سے اسکے سامنے آگئے….

یااللہ آپ جانتے ہیں میں بہت گناہ گار انسان ہوں.اللہ میری ہمت نہیں ہے اتنی آپکی دی گئی آزمائشوں پر اتر سکوں….اللہ پاک میری مشکلات آزمائشیں آسان کردیں…مجھے ہمت دیں….میں اس نئی زندگی کی آزمائشوں پر پوارا اتر سکوں… میرے حق میں جو بہتر وہ کرنا اللہ پاک (آمین)

وہ دعا کرکے کافی پر سکون ہوگئی تھی..

ابیہا نے اٹھ کر قرآن پاک تلاش کرنا چاہا پر…ایک بار پھر ناکام رہی…ابیہا نے ایک سوئے ہوئے سلمان پر نظر ڈال کر افسوس سے سر ہلایا….یا اللہ کیسے گزاروں گی میں زندگی اس بے دین شخص کے ساتھ….ہمت دینا یا اللہ مجھے. ……ابیہا صوفے پر بیٹھ گئی اور جو جو سورتیں اسے زبانی یاد تھی…وہ پڑھتی رہی….کب اسکی آنکھ لگی اسے کچھ پتہ نہیں چلا اور وہ نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی.

]][[][[][[][][[[]][[

سلمان شاہ کی آنکھ صبح نو بجے کھلی….وہ اٹھا تو سامنے ہی صوفے پر اسے ابیہا سوئی ہوئی دکھی…جسے دیکھ کر سلمان شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ نے گھیرا کیا…وہ فورا اٹھ کر شاور لینے گیا….شاور لینے کے بعد وہ تیار ہو کر باہر آیا…

شکورن…اسنے ملازمہ کو آواز دی…جو اپنی فیملی کے ساتھ ہی یہی کوارٹر میں رہتی تھی.گھر کا تمام کام اسی کی ذمہ داری تھا..

کیونکہ سلمان شاہ خود تو کچھ دن ہی رہتا تھا یہاں….حویلی کے چکر بھی وہ لگاتا رہتا تھا…

جی صاحب…شکورن جو لگ بھگ پینتیس سالہ عورت تھی…اسے کے تین نچے تھے…شوہر اسکا سلمان کا ہی ڈرائیور تھا…وہ فورا حاضر ہوئی…

ناشتہ تیار ہے..؟؟سلمان نے سوال کیا..

جی تیار ہے میں لگاتی ہوں…شکورن نے مودبانہ انداز میں جواب دیا…

رکو بات سنو…وہ جانے لگی تو سلمان نے اسے پکارا…

جی صاحب..وہ سلمان کی بات پر رکی..

وہ میرے ساتھ میری بیوی بھی آئی ہے..سلمان نے اسے بتایا…جس پر حیران شکل بناکر رہ گئی….

وہ سلمان سے کوئی بات نہیں کر سکتی تھی…

سلمان نے ہمیشہ اپنے ملازموں کو اسپیس نیں رکھا ہوا تھا…آخر کو تھا تو وہ بھی حویلی کا خون ہی…

وہ اپنے کمرے میں ہے…جب اٹھے تو اسے ناشتہ کروادینا…اسکا خیال رکھنا اسے کسی کی ضرورت نہ پڑے….اوکے..

جی صاحب جی…شکورن فورا چلی گئی..

سلمان ناشتہ کرنے کے فورا بعد آفس کے کئے نکل گیا…پچھلے دنوں وہ خاصا پریشان رہا تھا…

جس کی وجہ سے وہ اپنے بزنسس کو وقت نہیں دے پا رہاتھا…آج اسنے ایک میٹنگ رکھی تھی…جس میں شرکت کرنا ضروری تھی.

][[][[][[][[][][[[

ابیہا نے جیسے ہی آنکھ کھولی خود کونا مانوس جگہ پر پایا…کچھ دیر ذہہن بیدار ہونے میں لگا پھر سارے واقعات ذہہنمیں کسی فلم کے سین کی طرح چلنا شروع ہوگئے….

پھر نئی آزمائشیں تمہارا انتظار کر رہی ہیں ابیہا صاحبہ اٹھ جاؤ…ابیہا خود سے مخاطب ہوئی…سامنے لگی گھڑی میں دیکھا جو بارہ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی….کیا میں اتنی دیر سوگئی…اففف….اور یہ کہاں گئے…وہ پریشان سی ہوئ پھر سب خیالات کو پس پردہ ڈال کر وہ فریش ہونے چلی گئی….ابیہا فریش ہوکر نکلی تو آئینے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی…

ابیہا کا چہرہ بہت پر مردہ سا ہو رہا تھا….اپنے آپ کا مکمل جائزہ لیتی ….وہ اٹھ کر باہر نکل گئی….پتہ نہیں باہر سب کیسا ہے..رات تو کچھ سمجھ نہیں آیا….خود سے باتیں کرتے وہ چلنے لگی…چلتے چلتے وہ ڈرائنگ روم میں آگئ…جہاں شکورن صفائی میں مصروف تھی…

سنیں…!ابیہا نے شکورن کو پکارا جس کی پیٹھ ابیہا کی طرف تھی…

جی….شکورن نے فورا چہرہ موڑ کر دیکھا…

سامنے ایک کم عمر سی نازک اندام لڑکی کھڑی تھی…وہ اس نازک سی خوبصورت لڑکی کو دیکھنے لگی جسفید لباس میں ملنوس تھی…تو کیا یہ ہیں سلمان صاحب کی بیوی…شکورن نے سوچا…پر یہ تو اتنی چھوٹی لگ رہی ہیں…

آپ بیگم صاحبہ ہیں جی…؟شکورن نے ابیہا کے قریب آکر رازدانہ انداز میں پوچھا….

نہیں میں ابیہا ہوں…ابیہا نے نا سمجھی سے کہا…

جی جی میں جانتی ہوں سلمان صاحب کی بیوی ہیں نہ آپ….شکورن نے اب تفصیلا پوچھا..

جی….جس پر ابیہا نے قدرے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا…

بیگم صاحبہ آپ بیٹھیں میں ناشتہ لگاتی ہوں آپکے لئے…

.شکورن نے سلمان کی بات کو یاد کرتے ہوئے فورا کہا…

جی…ابیہا بس جی کہہ کر رہ گئی…وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ کیا ہو رہا ہے….شکورن کو دیکھ کر اسے اندازہ ہوگیا تھا…یہ اس گھر کی ملازمہ ہے…

بیگم صاحبہ وہ آپ وہاں بیٹھ جائین…ملازمہ نے ابیہا کو ہاتھ کے اشارے سے جگہ کا تعین کرتے ہوئے کہا…

ہوں….ابیہا وہ جاکر ٹیبل پر بیٹھ گئ…ابیہا کو بہت بھوک لگ رہی تھی…اسنے کل سے نہیں کھایا رات سلمان کے ساتھ ڈھابے پر بھی برائے نام کھایا….اور اب بھوک سے برا حا تھا…

شکورن جلدی سے ابیہا کے لئے ناشتہ تیار کر کے کے آئی تھی….

وہ صاحب جی بتا کر گئے تھے…جب آپ اٹھو تو آپ کا خیال رکھوں….شکورن نے بتانا جیسے فرض جانا….

ابیہا ناشتہ کرتے اس کی باتیں سن رہی تھی…وہ عورت کافی باتونی کگ رہی تھی….

مجھ سےتو بات کرنا گوارہ نہیں ملا زمہ کو کیسے تفصیل بتائی ہے….ابیہا سلمان کے متعلق سوچنے لگی…

وہ ناشتہ کر چکی تھی اب اسے پھر سے سلمان کی بیوی بچوں کا خیال آیا…وہ موقعہ دیکھ کر….شکورن سے پوچھنا چاہ رہی تھی…کہ آخر سلمان کے بیوی بچے کہاں ہیں…؟؟

وہ سنیں….ابیہا نے آرام سے شکورن کو پکارا..

جی بیگم صاحبہ….

شکورن برتن سمیٹ رہی تھی ابیہا کی آواز پر چونکی…

بیگم صاحبہ میرانام شکورن ہیں آپ مجھے شکورن بولیں….

وہ آپ ….آپ کے صاحب…میرا مطلب ہے….وہ آپکے صاحب کی ……ابیہا پوچھتے ہوئے کافی جھجک رہی تھی…کی آیا پوچھے یہ نہیں….

وہ آپ کے صاحب کی بچے اور بیوی کہاں ہیں.

..ابیہا نے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کی…

شکورن چونکی تھی….ابیہا کے سوال پر…

بیگم صاحبہ بیوی تو آپ ہیں…اور بچے میں نے تو نہیں دیکھے آپکے ساتھ تو مجھے کیا معلوم بیگم صاحبہ…

شکورن پریشان سی صورت لئے ابیہا کو کہنے لگی..