Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 9)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 9)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

“آپ کیا ہر لڑکی کو یہئ کہتے ہیں۔۔۔۔۔” زرا سا آگے جھک کر رازداری سے پوچھنے پر سعد نے خاصی خفگی سے گھورا تھا ۔

” میں تمھیں ایسا لگتا ہوں” وہ نروٹھے پن سے بولا۔

” تو پھر یہ نظر کرم مجھ پر کیوں۔۔۔۔” بیا نے تپ کر پوچھا تو سعد نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔

جتنی معصوم اور بھولی لگتی تھی اتنی تھی نہیں ۔

سعد کے لبوں پر پھیلنے والی مسکراہٹ بڑی دلکش تھی

بیا نظر نہی ہٹا پائی تھی اس کے چہرے سے ۔

“نظر لگانے کا ارادہ ہے ۔۔۔” سعد نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی۔

” توبہ ہے میں تو دیکھ رہی تھی کہ آپ کی شکل پاپا سے زیادہ ملتی ہے اور فہد کی بڑے پاپا سے ۔۔۔” وہ فورا پینترا بدل کر بولی تو سعد کا قہقہ بے ساختہ تھا

ان کے ملنے کی خوشی اب چہرے پر بھی واضح تھی ۔

” اچھا سب باتیں چھوڑو۔۔۔۔۔۔مجھے گھر کا اڈریس دو۔۔۔۔۔۔۔” کاغذ ہاتھ میں لے کر پین پکڑتے ہوئے بولا تو بیا اڈریس لکھوانے لگی ۔

” میے آئی کم ان سر۔۔۔۔۔” چائے کی ٹرے تھامےپیون دروازہ ناک کر کے بولا تو سعد کے سر ہلانے پر اندر بڑھا اور ٹیبل پر چیزیں سیٹ کرنے لگا ۔

اس کی موجودگی میں دونوں خاموش تھے ۔

” اب بتائیں کیسے بات کروائے گے ہم آغا جان کی بڑے پاپا سے” پیون کے باہر جاتے ہی بےصبری سے سینڈوچ اٹھا کر بائیٹ لیتے ہوئے پوچھنے لگی۔

سعد نے بمشکل ہنسی ضبط کی ورنہ اس کا چلتا منہ دیکھ کر قہقہ باہر نکلنے کو بےتاب تھا ۔

” کچھ دن ٹھہر جاو۔۔۔۔۔میں خود پاپا کو لے کر جاوں گا آغا جی کے پاس۔۔۔۔۔پہلے خود تو مل لوں۔۔۔۔” اپنے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے بولاتو بیا بھی اثبات میں سر ہلاتی دو سینڈوچ ختم کرنے کے بعد تیسرا اٹھا رہی تھی ۔سعد مسکراتے ہوئے اس کی سپیڈ دیکھ رہا تھا۔

” ماما فادی چاہتا ہے کہ پہلے وہ خود شہرینہ کو پرپوز کریں۔اس کے ہاں کرنے کے بعد آپ آنٹی سے بات کیجیئے گا۔۔۔۔۔” عروبہ فادی کی نمائیندہ بنی ان کے کمرے میں موجود تھی۔

” اس لڑکے کو کیا آفت آئی ہوئی ہے ۔پڑھائی ابھی ختم نہی ہوئی اور منگنی کا بھوت سر پر سوار ہو گیا ہے۔” مریم بیگم کو غصہ ہی آگیا تھا عروبہ کی بات سن کر انہیں ویسے تو کوئی اعتراض نہی تھا بس وہ چاہتی تھیں پہلے کچھ بن جاتا مگر آج کل کی اولاد ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتی تھی ۔

” او ہو ماما ۔۔۔۔وہ کون سا شادی کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔منگنی بھی صرف اس لیے کرنا چاہتا ہے تاکہ رشتہ مظبوط ہو جائے “۔ عروبہ نے دلاسا دینا چاہا۔

” یہ منگنی کرنے سے کون سا رشتہ مضبوط ہونا ہے”۔

مریم بیگم کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لیں۔

” میرا مطلب تھا ماما کہ فادی سے منگنی کے بعد انکل آنٹی کو شہرینہ کی فکر نہی رہے گی۔۔۔۔۔” عروبہ کے بولنے پر مریم بیگم نے سر جھٹکا۔

” اچھا بھی جو دل کرتا ہے کرو۔۔۔۔پر اسے بتا دو اس کی اور سعد کی منگنی اکھٹی ہو گی ۔۔۔مجھے کوئی نیا تماشا نہیں بنوانا۔۔۔۔۔بڑا بیٹھا ہے اور چھوٹے کی کر دوں۔۔۔۔۔”۔

مریم بیگم ہنوز خفگی میں تھیں ۔

” اف ماما بھائی کیا لڑکی ہیں جن کی عمر نکلی جا رہی ہے ۔۔۔۔آپ بس خوامخواہ ٹینشن لیتی ہیں۔۔۔۔”۔

عروبہ ان کے گلے میں بانہیں ڈالے لاڈ سے بولی تو وہ ایک نظر اس کے گلابی چہرے پر ڈال کر ہنس دیں

“شہرینہ اپنا موبائل دینا ۔۔۔۔ایک ضروری کال کرنی ہے ۔۔۔۔”۔حمزہ اس کے کمرے میں کھڑا ہاتھ آگے کر کے موبائل مانگ رہا تھا۔

شہرینہ نے حیرانگی سے دیکھا ۔

آپ کا فون کہا گیا۔۔۔۔؟۔

اسے تعجب ھوا تو پوچھ بیٹھی ۔

“سوال جواب نہی بس موبائل دو مجھے۔۔۔۔”۔حمزہ کے ماتھے پر پڑنے والی تیوریاں دیکھ کر چپ چاپ موبائل ہاتھ پر رکھ دیا۔

حمزہ ایک نظر موبائل پر ڈالتا اپنے کمرے میں آگیا۔

موبائل آن کر کے مطلوبہ نمبر نکال کر چنف لمحے سوچا اور نبمر ڈائل کر دیا۔

” ہائے ۔۔۔۔شہرینہ کی بچی۔۔۔۔۔کل کی اب فرصت ملی تمھیں ۔۔۔۔۔۔”۔۔کال اٹینڈ کرتے ہی عروبہ نان سٹاپ شروع ہو گئی۔

مقابل کے چھرے پر امڈنے والی مسکراہٹ بے ساختہ تھی۔

” محترمہ اگر جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کرنے کی گستاخی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔” ۔حمزہ کا دلکش انداز عروبہ کے رونگٹے کھڑے کر گیا۔

فورا سے بیشتر موبائل کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا اور اسے اچھی طرح سمجھ آگیا تھاکہ وہ شہرینہ کے موبائل سے کال کر رہے ہیں۔

“فرمایئں۔۔۔۔۔”۔ بڑا ہی تھیکا لہجہ تھا اس کا۔

” کل آپ نے ثابت کر دیا کہ میں آپ کے اعتبار کے قابل نہی۔۔۔۔”۔ حمزہ کی آواز میں سرد پن دوسری طرف خوب محسوس کیا گیا تھا۔

“آپ غلط کہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔اگر آپ اعتبار کے قابل نہ ہوتے تو کیا میں بلا ججھک آپ کے گھر آتی جاتی۔۔۔۔اور رہ گئی کل کی بات تو شاید آپ کو یاد نہی ۔۔۔۔۔مرد اور عورت کے درمیان اعتبار کا جتنا بھی مضبوط رشتہ ہو شیطان اس کا فائدہ آٹھانے کی پوری کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔۔اور سمجھ دار لوگ ایسا موقع آنے ہی نہی دیتے کہ شیطان اپنی بازی کھیلے۔۔۔۔۔”۔

اس کا دھیما لہجہ حمزہ کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔

” سوری مجھے خود دھیان رکھنا چاہئیے تھا۔۔۔۔”۔ حمزہ کا شرمندگی میں ڈوبا لہجہ عروبہ کو پرسکون کر گیا۔

” آپ مجھے معاف کر چکی ہیں یا ابھی بھی ناراضگی باقی ہے۔۔۔۔۔”۔ حمزہ نے پچھلی بات کا حوالہ دیا تو عروبہ کی مدھر سی ہنسی کی آواز حمزہ کے کانوں نے بخوبی سنی تھی۔

” اگر آپ ہم سب کو اچھا سا ڈنر کروایں تو سوچا جا سکتا ہے۔۔۔۔”۔عروبہ کا شوخ انداز حمزہ کے ارز گرد پھوار کی طرح برسا۔

“یہ تو زیادتی ہے میرے ساتھ ۔۔۔معافی ایک سے چاہئیے اور ڈنر سب کو۔۔۔”۔حمزہ شرارت سے بولا تو عروبہ مسکرئی ۔

“آپ کی مرضی ہے ۔۔۔۔میں کیا کہ سکتی ہوں ۔۔۔۔”۔نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبائے ہنسی کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔

” اوکے۔۔۔۔ڈنر کا ٹائم اور جگہ ڈیسائیڈ کر کے شہرینہ کو بتا دیں ۔۔۔۔ بندہ حاضر ہو جائے گا ۔۔۔۔”۔

حمزہ مودب بنا بولا اور سرشار سا موبائل آف کر کے گنگنانے لگا ۔دل اس کی آواز پر لہک رہا تھا ۔آنکھیں بند کر کے اس کا چہرہ تصور میں لاکر مسکرا دیا

“سعد بھائی۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔سعد بھائی آپ کو میری آواز آرہی ہے ۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔۔۔”۔

سعد کی آنکھ فون کی بیل سے کھلی تو مندی مندی آنکھوں سے کال اٹینڈ کر کے کان کے ساتھ فون لگایا۔

دوسری طرف سے آنے والی آواز نے فورا آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا ۔

“میں سن رہا ہو بیا۔۔۔۔رونا بند کرو ۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔”

اس کی گھبرائی روتی آواز سن کر اٹھ بیٹھا ۔

“سعد بھائی پلیز جلدی آجائیں۔۔۔۔۔۔آغا جی کو بہت تیز بخار ہے ۔۔۔۔۔بات بھی نہیں کر رہے ۔۔۔۔پلیز آپ جلدی آجائیں۔۔۔۔۔” بیا روتے ہوئے تیز تیز بولی ۔

“میں آرہا ہو ۔۔۔۔پریشان نہیں ہو ۔۔۔۔”۔

سعد بات کرتے ہوئے بستر سے اٹھ چکا تھا ۔رات کے دوبج رہے تھے ۔

تیزی سے منہ پر پانی کے چھینٹھے مار کر نائٹ ڈریس تبدیل کیا اور گاڑی کی چابی اور والٹ اٹھا کر دوڑا۔

گیٹ پر موجود چوکیدار نے اسے گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر گیٹ کھل دیا ۔

بیس منٹ کا سفر دس منٹ میں طے کر کے وہ بےتابی سے گیٹ کی بیل بجانے لگا ۔

چوکیدار کے پوچھ کر گیٹ کھولنے تک چکر کاٹتا رہا ۔

“صاحب بڑے صاحب اس کمرے میں ہیں۔”۔

سعد کو لاوئنج میں آتا دیکھ کر زرینہ نے اس کی رہنمائی کی ۔

“آغا جان ۔۔۔۔آغا جان “۔ماتھے پر بوسہ دے کر بےتابی سے سعد نے ان کو پکارا مگر وہ بےہوش تھے ۔

“آپ آگئے سعد بھائی۔۔۔” ۔

مزیبہ ہاتھ میں پانی کا پیالہ لیے اندر آئی جس میں پٹیاں موجود تھی۔

رونے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

“ابھی پٹیاں رہنے دو ۔۔۔میں انہیں ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔”

انہیں دونوں ہاتھوں پر کسی بچے کی طرح اٹھا کر تیزی سے باہر نکلتے ہوے بولا۔

بیا پیالہ زرینہ کے ہاتھ میں تھما کر پیچھے دوڑی ۔

ایمبرجنسی میں دو گھنٹے کی ٹریٹمنٹ کے بعد بخار کم ہونا شروع ہوا تو دونوں نے سکون کا سانس لیا ۔

مزیبہ کے وقفے وقفے سے بہتے آنسووں نے اسے خاصا ڈسٹرب کیا تھا ۔

دلاسہ اور تسلی کے باوجود کن من جاری تھی ۔

آج ہی تو آغا جی کا پتہ چلا تھا اسے بیا سے ۔،ان سے ایک دو دن میں ملنے کا پروگرام رکھا تھا ۔

مگر ان کی اچانک بیماری نے ان کے پروگرام کی بینڈ بجا دی۔

صبح پانچ بجے جاکر ان کی طبیعت سمبھلی توان کی جان میں جان آئی۔

“میرا خیال ہے پاپا کوبلا لینا چائیے۔۔۔۔اس وقت آغا جی کو ہم سب کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔”

سعدبیا کے قریب کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔

بیا نے نم پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔

“جیسے آپ کو ٹھیک لگے ۔۔۔۔”

اس کی مدہم سی آواز ابھری ۔سعد نے اس کا سر ہلکا سا سہلایا اور ایک نظر آغا جی کو دیکھ کر موبائل پر نمبر ڈائل کرتا باہر نکلا ۔

چوتھی بیل پر فون کال ریسیو ہوگئی تھی۔

“پاپا۔۔۔۔ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔”۔سعد نے پوچھا تو انھوں نے آگے سے مثبت جواب دیا ۔

“تم فون کیوں کر رہے ہو ۔۔۔کوئی کام تھا تو کمرے میں آجاتے۔۔۔۔ان کے کو حیرت ہوئی اتنی صبح سعد کے یوں کال کرنے پر۔

“میں گھر پہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔میرا ایک دوست ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے ۔۔۔۔۔۔میں رات کو آگیا تھا۔۔۔۔آپ کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں لگا ۔۔۔۔آپ پلیز زرا فہد کو لے کے ہاسپٹل آجایئں۔۔۔۔۔۔میں فہد کو آیڈریس بھیج دیتا ہوں ۔۔۔۔۔”

سعد نے مزید کوئی بات کیے بغیر فون بند کر دیا۔

جنید صاحب پریشان ہو گئے کیوں کہ سعد نے کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی ۔

مریم بیگم کو فہد کو اٹھانے کا کہ کر خود تیار ہونے چل دییے۔

پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ ہاسپٹل کے سامنے موجود تھے ۔

فہد نے فون کر کے کمری نمبر معلام کیا اور جنید صاحب کو لئے ہاسپٹل کے اندر آکر کمرے کے متعلق پوچھا اور انہیں لئے اس جانب بڑھ گیا ۔

کچھ دور چلنے کے بعد راہداری مڑتے ہی کاریڈور میں سعد اور مزیبہ دکھائی دے گئے تھے ۔

دونوں ہی چونک گئے تھے انہیں ساتھ دیکھ کر ۔

“اسلام علیکم ۔۔۔۔” قریب پہنچ کر انھوں نے سلام کیا۔

“مزیبہ بیٹا کون ہے ہاسپٹل میں ۔۔۔۔”جنید صاحب نے سلام کا جواب دے کر پوچھا۔