Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 5)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 5)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

فاروق صاحب لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھے ان کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہو رہا تھا

دانیال تیزی سے ان کے پیچھے کمرے میں آیا اس کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی

“بابا جان آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔”۔ان کو یوں بیڈ پر گرتا دیکھ کر دانیال کا رنگ فق ہوا ۔

“تمھارے پاس دو گھنٹے ہیں ۔۔۔۔جتنا سامان پیک کر سکتے ہو کر لو ۔۔۔صبح کا سورج میں اس گھر میں نہی دیکھنا چاہتا ۔۔۔پاسپورٹ بھی لے لو۔۔۔۔۔”

فاروق صاحب کے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی ۔

آنکھیں ضبط کے مارے سرخ ہو رہی تھی ۔آج کی جھڑپ کے بعد تو دانیال کو بھی بڑے بھائی سے کوئی امید نہی رہی تھی اس لیے شکستہ قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا ۔

مریم اور پلوشہ روتے ہوئے بچوں کو لیے آپنے کمروں میں جا چکی تھیں۔

جنید کمرے میں آکر غصے سے ٹہل رہا تھا جب مریم بچوں کو سلا کر کمرے میں آئی ۔

“آپ کو بابا جان سے اس انداز میں بات نہی کرنی چاہیے تھی ،وہ آپ کے والد ہیں ،آپ نے حد سے زیادہ بتمیزی کی ہے آج ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔”مریم نے جھجھکتے ہوے بات شروع کی اور نرمی سے غلطی کا احساس دلانا چاہا ۔۔

“تم اپنا منہ بند رکھو۔ ۔۔۔اچھی طرح جانتا ہو کس طرح بات کرنی چاہیےاور اگر تمھیں بھی بہت تکلیف ہو رہئ ہے تو دفع ہو جاو اس کمرے سے ۔۔۔”

جنید اس پہ دھاڑا تو وہ سہم کر پیچھے ہو گئی ۔آج سے پہلے کبھی بھی اتنے غصے میں نہی دیکھا تھا ۔

جنید تن فن کرتا بیڈ پر لیٹ کر بازو آنکھوں پر رکھ چکا تھااور شیطان قریب ہی کھڑا بلند قہقہے لگا رہا تھا

کیونکہ آج پھر وہ کامیاب رہا تھا لڑانے میں ۔

مریم تاسف سے سر جھٹکتی بیڈ کے دوسری طرف آکر لیٹ گئی ۔

بابا جان کی حالت دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔

صبح فجر کی اذان کے ساتھ جنید کی آنکھ کھلی تو اچانک رات کا سارا منظر آنکھوں میں گھوم گیا ۔۔

غصہ اتر چکا تھا مگر وہ نہی جانتا تھا کہ اس کا غصہ کتنی تباہی لے کہ آیا ھے ۔

سر ہاتھوں پر گرائے وہ کتنی ہی دیر بےبس سا بیٹھا رہا پھر گہری سانس لیتا بےچین سا اٹھا اور وضو کرنے چلا گیا ۔

ناشتے کی ٹیبل پر کسی کو نہ پا کر جنید نے سعد کو دادا جان کو لینے بھیجا تاکہ ناشتے کے لیے بلا لاہے ۔

“پاپا دادا جان کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔۔چاچو کا کمرہ بھی خالی یے ۔ چاچی اور گڑیا بھی نہی ہیں ۔۔۔۔۔۔”

سعد کی بات سن کر اس کا دل زور سے دھڑکا ۔

۔اڑے رنگ کے ساتھ مریم کی طرف دیکھا تو وہ نظروں ہی ںظروں میں تسلی دیتی خود ان کے کمرے کی طرف بڑھی ۔دروازہ کھولا تو خالی کمرہ ان کا منہ چڑا رہا تھا کمرے کی گھمبیر خاموشی وہاں کے مکین کے جانے کی وجہ سے مزید بڑھ گئی تھی ۔

مریم تیزی سے پلٹی اور دانیال کے کمرے کی جانب آئی اور زور سے دروازہ بجایا مگر دروازہ ان کا ہاتھ لگتے ہی کھل گیا تھا ۔

کچھ کھونے کا احساس پوری قوت سے مریم پر حاوی ہوا تھا۔

“جنید ۔۔۔۔جنید بابا جان کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔دانیال اور پلوشہ ان کا سامان بھی نہیں ۔۔۔”۔

وہ دوڑتی ہوئی ڈائینگ روم میں آئی تھی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔

جنید کا رنگ فق ہو گیا ۔۔۔۔مریم کی حالت بری ہو رہی تھی ۔۔

۔آج تک کبھی نہیں لگا تھا کہ وہ سسرال میں ہے بابا جان نے ہمیشہ ایک بیٹی والا مان دیا تھا اور پلوشہ بہنوں سے بڑھ کے تھی ۔

جنید کرسی دھکیلتا کھڑا ہوا اور دوڑتا ہوا بابا جان کے کمرے میں آیا ۔۔

خالی کمرہ اس کی اذیت میں دگنا اضافہ کر گیا ۔۔۔موبائل نکال کر بابا جان کا نمبر ملایا مگر پاورڈ آف تھا ۔

۔کپکپاتے ہاتھوں سے کال لاگ نکال کر دانیال کا نمبر ملایا وہ بھی پاورڈ آف ملا ۔

۔اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر گھٹنوں کے بل گرتا دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ۔۔۔دل کر رہا تھا اپنے آپ کو گولی سے اڑا لیے۔

میں ہر اس جگہ گیا جہاں ان کے جانے کا زرا برابر بھی شک تھا ۔مگر سب کچھ بےسود بابا جان نے نہ ملنا تھا اور نا ملے ۔

“اتنے سالوں سے اس آس میں زندہ ہو کہ بابا جان سے معافی مل جائے میرا اگلا سفر آسان ہو جاہے ۔۔۔۔۔۔۔”

کمرے کی گھمبیر خاموشی ان کی سسکیوں کی آواز ارتعآش پیدا کر رہی تھی ۔

سعد لب بینچھے افسردہ بیٹھا تھا ۔

“میں ڈھونڈو گا انہیں ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہو آپ سے ۔۔۔۔۔۔”

۔ان کو بازوں کے گھیرے میں لے کہ ان کا سر اپنے سینے سے لگاہے وہ پختہ ارادے سے بولاتو جنید صاحب نڈھال سے اس کے بازوں میں جھول گئے۔

سعد ان کو بیڈ پر لٹا کر ذاکٹر کو بلانے دوڑا ۔۔

“تم چل رہی ہو یا نہی ۔۔۔۔”

شہرینہ آدھے گھنٹے سے اس کے پیچھے لگی تھی مگر وہ ماننے کو تیار نہی تھی ۔

حالنکہ مریم بیگم بھی اسے جانے کا کہ چکی تھی مگر اس کی نہ ہاں میں نہی بدلی تھی ۔

شہرینہ نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا ۔ جھپٹ کر اس کا ہاتھ پکڑا اوراس کہ آہ بکا کو نظر اندازکیے کھںینچتی ہوئ گھر سے نکال کر لے آئی ۔

چوکیدار چاچا نے ہنستے ہوئے گیٹ کھولا تو شہرینہ نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا

گیٹ سے باہر آتے ہی شہرینہ نے ہاتھ کی گرفت تھوڑی ڈھیلی کی عروبہ خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔

“کیا ہے ایسے کیوں گھور رہی ہو جیسے کچا چبا جاو گی ۔۔”۔شہرینہ اس کا تلملانا خوب انجوہے کر رہی تھی۔۔

“تم بہت کمینی ہو ۔۔۔۔”۔

عروبہ دانت پیس کر بولی تو شہرینہ کا قہقہ بےساختہ تھا جس کو روکنے کے لیے

منہ پہ ہاتھ رکھے وہ سرخ ہو رہی تھی ۔

“اب اپنا منہ سیدھا کرو ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمھے زبردستی کھینچ کے لائی ہو۔۔۔۔۔”

شہرینہ کو بات پر عروبہ کا منہ کھل گیا۔

“شکر ہے عروبہ بیٹا آپ نے بھی قسم توڑی ۔۔۔۔۔”اسے دیکھ کر مسز آصف خوشدلی سے ملتے ہوئے بولیں ۔

“یہ کہاں آرہی تھی میں زبردستی لائی ہو ۔۔۔۔۔”

شہرینہ نے ان کی غلط فہمی دور کی اور اسے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آئی ۔

“چپ کر کے یہاں بیٹھ جاو اور خبردار یہاں سے ہلی ۔۔۔۔۔”۔اسے صوفے پر بٹھا کر شہرینہ دھمکاتے ہوئے بولی تو عروبہ نے خفگی سے اسے گھورا تو وہ زبان چڑانے لگی۔

“تم ایک نمبر کی ڈھیٹ لڑکی ہو۔۔۔۔۔”عروبہ مصنوعی غصے سے بولی ۔

“بہت شکریہ اس تعریف کا ۔۔۔۔اب سکون کرو میں پہلے کھانے کو کچھ لے آو پھر بیٹھ کے مووی دیکھے گے اور میں آ نٹی کو بتا آئی ہو کہ تم رات کا کھانا میرے ساتھ کھاو گی ۔۔۔۔۔”

اس کا دھونس بھرا انداز عروبہ کو ہنسنے پر مجبور کر گیا ۔

شہرینہ اسے ویی بیٹھے رہنے کا اشارہ کر کے خود دروازہ بند کرتی باہر آگئی ۔

۔باہر آتے ہئ ہاتھ میں پکڑے موبائل پر میسج ٹائپ کیا اور مطمئن ہو کر کچن کی جانب چل دی۔

عروبہ چند لمحے وہی بیٹھئ رہئ پھر بوریت محسوس کرتئ اٹھ کر بیڈ کے قریب آئی جہاں کوئی ناول الٹا پڑا تھا پکڑ کر سیدھا کیا تو پیر کامل دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک گئی اسی آثنا میں دروازہ کھلنے کی آواز ائی تھی ۔

“شہرینہ تم نے یہ ناول کب لیا ۔۔۔۔۔۔مجھے بتایا بھی نہی ۔۔۔”۔وہ پلٹے بغیر بولی ۔

جواب نہیں آیا تو عروبہ نے پلٹ کر دیکھا۔مقابل کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے ۔

ناول کو بیڈ پر واپس رکھ کر غصے سے دروازے کی طرف بڑھی ۔

“ایک منٹ عروبہ ۔۔۔۔پلیز مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔”۔اس کی کلائی تھام کر حمزہ نے نانے سے روکا ۔

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی ۔۔۔”اسکی بے اختیاری حرکت پر وہ غصے سے دبی آواز میں چیخی۔

“سوری ویری سوری۔ ۔۔آپ کو روکنے کے لیے پکڑا تھا ۔۔۔”

حمزہ نے فورا ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا اسے باہر جانے سے روکنے کے لیے خود دروازے کے آگے ایستادہ ہو گیا ۔

“آپ آگے سے ہٹ رہے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔۔”

عروبہ کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا ۔اس کی حرکتیں دیکھ کر حمزہ نے ایک نظر اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالی اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھتا اس کے مقابل کھڑا ہو گیا

“اگر انسان غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہو اور معافی مانگےتو کیا اس کا حق نہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے۔۔۔۔”۔

اپنی گھمبیر آواز میں حمزہ اس کے خفا چہرے پر نظر جمائے مخا طب تھا۔

“مجھے آپ کی معافی نہیں چاہئیے۔۔۔ ۔۔”

۔عروبہ تلملاتے ہوئے بولی بار بار اضطرابی انداز میں مٹھیاں بھینچتی حمزہ کا دل دھڑکا گئی ۔

“یہ لو کان پکڑ لیتا ہوں ۔۔۔۔کہو تو سو اٹھک بیٹھک کر لو۔۔۔۔یا پھر آپ جو بھی سزا منتخب کریں ۔۔۔۔۔میں تیار ہوں یو۔۔”۔

اپنی عادت کے برخلاف بہت نرمی سے اس سے مخاطب تھا ۔

نہ جانے کیوں یہ لڑکی دل کے قریب محسوس ہونے لگی تھی اسے لیے شہرینہ کو کہ کر اسے بلوایا تھا۔

“میں نے آپ کو معاف کیا ۔۔۔۔”

“دروازہ چھوڑے میں نے باہر جانا ہے ۔۔۔۔۔”

غصے میں جان چھڑوانے کو وہ یوں ھی بولی تو حمزہ کو اس کے انداز پر ہنسی آگئی ۔۔

“ایسے نہی مسکراتے ہوئے کہیں گی تو مانو گا ۔۔۔۔”

حمزہ کا لہجہ اور آنکھوں کی چمک عروبہ کو بےچین کر رہی تھی ۔

حمزہ مسلسل اسے نظروں کی گرفت میں رکھے ہوئے تھا ۔

عروبہ کی غصیلی نظریں ایک لمحے کو حمزہ کی طرف اٹھی اور سرعت سے جھک گئیں ۔

مقابل کی نظروں کی وارفتگی عروبہ کے لیے کسی امتحان سے کم نہی تھی ۔

دل ہی دل میں شہرینہ کو گالیاں دیتی جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی اور حزہ کو مکمل نظر انداز کرتی ناول اٹھا کر ورق پلٹنے لگی ۔

۔حمزہ کو اس کا گریز مزہ دے گیا ۔

چند منٹ انتظار کرنے کے بعد حمزہ اس کے سامنے دوزانوں بیٹھ گیا ۔

عروبہ نے سٹپٹا کر اس کی یہ حرکت ملاحظہ کی تھی۔اٹھ کر جانے کا ارادہ ملتوی کرنا پڑا کیوں کہ حمزہ راستہ روکے بیٹھا تھا ۔

حمزہ اس کےچہرے کو نظروں کے حصار میں جکڑے مخمور سے انداز میں دیکھے گیا ۔

پھر اس کی ناگواری محسوس کرتا پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالنے لگا ۔

“اب بھی معافی نہی ملے گی ۔۔۔۔”۔

حمزہ نے ہتھیلی اس کے سامنے کھولی جس پر اس کی فیورٹ کٹ کیٹ پڑی تھی ساتھ میں گولڈ کی نفیس سی رنگ تھی ۔

عروبہ نے اچنبھے سے اسے رنگ کو دیکھا ۔

“ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے جو الٹی سیدھی حرکتیں کر رہے ہیں ۔۔

۔دل ہی دل میں تلملائی اور موبائل اٹھا کر شہرینہ کا نمبر ڈائل کیا ۔

“اگر تم ایک منٹ میں کمرے میں نہیں پہنچی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔”۔

اس کی غصیلی آواز سن کر شہرینہ کمرے کی طرف دوڑی ۔