Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 2)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 2)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

سعد سینے پر ہاتھ باندھے بغور دیکھ رہا تھا ۔اسے لگ رہا تھا یہ چہرہ دیکھا بھالا ہے ۔کہاں دیکھا یہ اس کے ذہن میں نہیں تھا

۔اور۔ آغا جی انھیں تو کوئی شک ہی نہیں رہا تھاسعد کو بغور دیکھے کے بعد ۔انھوں نے اپنے شک کی تصدیق یا تردید کے لیے سعد سے کوئی سوال نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کرنا چاہتے تھے

۔اس کو گلے لگانے کی شدید خواہش کو دل میں دبائے وہ خاموش بیٹھے تھے۔

“آپ کا بہت شکریہ آپ نے مدد کی زحمت فرمائی ۔اب آپ جا سکتے ہیں۔”

اسے یوں ہی کھڑا دیکھ کر بیا کی زبان ہلی اور مقابل کو آگ ہی لگ گئی اس کے انداز پہ۔

“آپ کوئی بہت ہی بتمیز لڑکی ہیں۔”

سعد نے خفگی سے اسے گھورا ۔بیا کا انداز اس کے لیے ناقابل برداشت تھا اس لیے ماتھے پر بل ڈالے وہ فورا پلٹا اور اپنی نشست پہ جا کر بیٹھ گیا ۔

نظر گاہے بگاہے ان بزرگ کی طرف اٹھ رہی تھی ۔

جانے کیسی کشش تھی جو ان کی طرف کھینچنے پر مجبور کر رہی تھی

کچھ ہی دیر میں فلائیٹ کی اناوئسمنٹ ہوئ تو بیا نے ہینڈ کیری تھاما اور آغا جی کا ہاتھ تھام کر اٹھانا چاہا ۔

آغا جی کو لگ رہا تھا ان کی ٹانگیں اٹھنے سے انکاری ہیں ۔سعد نے چند لمحے انتظار کیا اور گہرا سانس لیتا اپنی ٹرالی گھسیٹتا ان کے قریب آیا ۔

آغا جی کے پاس کھڑے ہو کر انھیں کھڑا ہونے میں مدد کی اور ان کا ہاتھ مظبوطی سے تھامے بیا کو نظر انداز کرتا بیگ لے کر چل پڑا ۔

بیا اس کے دھونس بھرے انداز پےر پیچ وتاب کھا کر رہ گئی۔غصے میں دل کر رہا تھا مقابل کا سر پھاڑ دیں انہیں جاتا دیکھ کر چاروناچار ٹرالی گھسیٹتی پیچھے چل پڑی ۔

سعد جہاز میں انھیں سیٹ پر بٹھانے تک ساتھ ہی رہا تھا ۔

سفر بخیرو عافیت کٹا جہاز نے لینڈ کیا تو آغا جی کو سہارا دیے ائیرپورٹ کے اندر لے آیا ۔۔

بیا کا موڈ خاصا خراب تھا ۔

اسی دوران سعد کی کال آگئ تو وہ سائیڈ پر سننے لگا ۔بیا کا سامان کلیر ہو چکا تھا ۔ایک منٹ سے بھی کم وقت میں آغا جی کو لیے ہجوم میں گم ہو گئ

۔سعد پلٹا تو وہاں کسی کو نہ پا کہ ہکا بکا رہ گیا اور پھر سمجھ آنے پر تلملا کر مکا ٹرالی پر دے مارا ۔چھٹانک بھر کی لڑکی اسے چکمہ دے گئی تھی۔

“بیٹا کھانا تیار ہو گیا ہے ۔وہ لوگ پہنچنے والے ہوں گے۔۔”۔افتخار صاحب بہو سے مخاطب ہوئے جو کچن سے باہر ائی تھی۔

“جی پاپا سب ریڈی ہے ۔جب تک انکل آتے ہیں آپ نماز پاڑھ لیں۔۔۔”

حمیرا نے مسکراتے ہوے کہا تو وہ سر ہلاتے اٹھ کر اندر کی جانب چل پڑے۔

پندرہ منٹ بعد گیٹ پر ہارن کی آواز آئی تو افتخار صاحب جلدی سےلاوئنج کا دروازہ کھول کر باہر نکلے

۔آج کتنے سالوں کے بعد اپنے جگری دوست کو ملنے والے تھے اس سوچ نے ان کے قدموں میں بجلی بھر دی تھی۔

“فاروق یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے اپنی ۔اتنا کمزور ہو گیا ہے ۔۔۔”

ان کے گلے لگے شدت سے دونوں بازووں کا گھیرا تنگ کر گئے

“میری جان لے گا کیا ۔۔۔اب بوڑھی ہڈیاں کڑکنے والی ہو گئی ہیں ۔۔”۔

فاروق آغا ہنستے ہوے ان سے الگ ہوئے۔ایک بار پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے بفلگیر ہو گئے۔

“افی دادا میں بھی یہاں ہو۔۔۔مجھ سے بھی مل لیں ۔۔۔”

بیا منہ بسورے ان کے قریب آئی ۔

“او میرا ببر شیر ۔۔۔۔”

اس کے سر پر بوسہ دیتے وہ شرارت سے بولے تو سب ہنس دہیے

سب سے ملنے کے بعد حمیرا انہی گیسٹ روم میں لے آیئ تاکہ وہ فریش ہو لیں ۔۔

افتخار صاحب کا ایک ہی بیٹا تھا جو ایک حادثے میں اللہ کو پیارا ہو چکا تھا ۔بہو اور تینوں پوتوں کے ساتھ وہ اسلام آباد میں رہائش پزیر تھے ۔

“کیسا رہا ٹرپ اور میٹنگ ۔۔۔۔”

سعد کے بیٹھتے ہی جنید صاحب نے پوچھا ۔۔۔

“ٹرپ بھی اچھا تھا اور میٹنگ بھی اچھی رہی ۔۔۔انہیں سیمپل بہت پسند آہے تھے ۔”

جنید صاحب کی گارمنٹس فیکٹریاں تھی۔۔

“پاپا ایئر پورٹ پر ایک بزرگ دیکھے ۔پتہ نہیں کیوں ایسا لگا جیسے میں انھیں جانتا ہوں ۔۔۔کہیں دیکھا ہو انہیں۔۔۔”

سعد غائب دماغی سے بولتا ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔

“او مائی گاڈ۔۔۔پاپا۔۔۔ان کی شکل آپ سے ملتی تھی ۔۔۔”

سعد ایک دم پرجوش ہوا ۔۔جنید صاحب کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہونے لگی۔

“مجھے ان سے نام پوچھنے کا دھیان نہیں رہا مگر ان کے ساتھ جو لڑکی تھی وہ انہیں آغا جی کہ کر بلا رہی تھی”۔سعد نے بتایا تو ان کے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرایہ۔۔اور آنکھیں بےساختہ ہی نم ہوئی ۔

“پتہ نہیں کب میری سزا ختم ہو گی ۔۔۔”

“کب معافی ملے گی مجھے۔۔۔۔”

جنید صاحب نڈھال سی آواز میں بڑبڑائے۔۔ایسا لگا جیسے صدیوں کی تھکن اتر آئی تھی ان کے لہجے میں ۔

اپنی کی گئی غلطی بری طرح چبتی تھی انھیں۔۔کوئی رات ایسی نہیں گزری تھی جس میں انھوں نے تہجد میں رو رو کر خدا سے معافی نہ مانگی ہو۔

اتنے سالوں کا انتظار ختم ہونے کا نام نہی لے رہا تھا ۔

گھر میں بیوی کے علاوہ کوئی نہیں ان کا کرب جانتا تھا ۔

“تم ان سے پوچھ ہی لیتے وہ کہا جا رہے ہیں ۔۔۔”

ان کے لہجے میں ایک آس تھی ۔جس سے سعد انجان تھا

“پاپا دھیان نہیں رہا ۔ان کی طبیعت بھی کچھ خراب تھی ۔۔ویسے وہ لڑکی کوئٹہ کا نام لے رہی تھی۔۔ہو سکتا ہے اسلام آباد سے کوئٹہ کی فلائیٹ ہو ۔۔ “

ے۔۔سعد نے کہا ۔اب انہیں کیا بتاتا اس کا پورا ارادہ تھا ان سے نام پتہ پوچھنے کا اگر وہ بدتیز لڑکی انہیں لے کر غائب نہ ہو جاتی

“عروبہ تم اتنی لیٹ کیوں آئی ہو ۔۔”

سر کا پیریڈ شروع ہونے والا ہے ۔۔بھاگو اب۔۔۔

شہرینہ اسے آتا دیکھ کر تیزی سے آئی اور اس کا ہاتھ تھام کر دوڑ لگا دی ۔۔

“او مائی گاڈ۔۔۔”

کلاس روم میں سر کو دیکھ کر دونوں بیک وقت بولیں۔اسی اثنا میں سر کی نظر ان دونوں پر پڑ چکی تھی۔۔

“اندر آیئں ااور اپنی سیٹوں پر کھڑی ہو جائیں دونوں ۔۔۔”

سر کی آواز میں خفگی نمایاں تھی ۔

تمھاری وجہ سے مجھے بھی سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔۔”۔شہرینہ دبی آواز میں بولی تو سرنے گلہ کھنکھار کر تنبہیہ کی ۔

سارا پیریڈ کھڑے ہو کر لیکچر سنا اور سر کے جاتے ہی دھم سے کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی ۔اور ساتھ میں گھور کر عروبہ کو دیکھا جس کی وجہ سے سزا جھیلی تھی

۔ان سر کی عادت تھی ۔جو بھی لیٹ ہوتا کلاس سے باہر نکالنے کی بجائے اسے سارا پیریڈ کھڑا رکھتے۔

“ویسے تم لیٹ کیوں ہوئی ۔۔”

شہرینہ نے گھور کر اس سے پوچھا تو وہ آنکھیں پٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی ۔

شہرینہ نے اس کے انداز پر کتاب اٹھا کر کندھے پر دے ماری ۔

“ظالم لڑکی ۔۔۔کندھا توڑ دیا میرا ۔۔بتانے تو لگی تھی ۔۔۔

فہد کمینے نے آج چھٹی کر لی اور مجھے ڈرایئورکو بلانا پڑا بس اسی چکر میں لیٹ ہو گئ”۔

عروبہ نے کہا اور کلاس میں ٹیچر کو داخل ہوتا دیکھ کر سیدھی ہو گئی ۔

سارا دن سر اٹھانےکی فرصت نہی ملی تھی ۔چھٹی ہوتے ہی دونوں گیٹ سے باہر آگئی ۔اکیلے ہونے کی وجہ سے آج شہرینہ کے ساتھ جانا تھا ۔

دونوں کا گھر ایک ہی لائن میں تھا بیچ میں تین گھروں کا فاصلہ تھا۔

“بیوٹی فل لیڈیز آپ کو لفٹ چاہیے گھر جانے کے لیے ۔۔”

ان کے قریب رکتی کار کا شیشہ نیچے ہوا اور شوخ سی آواز میں مقابل نے پوچھا ۔

آنکھوں پہ سن گلاسز لگائے اس کا چہرہ داڑھی سے سجا تھا ۔

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہمیں آفر کرنے کی ۔۔”

غصے سے کھولتی عروبہ نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور کسی کے کچھ سمجھنے سے پہلے پانی مقابل کے منہ پر اچھال دیا۔۔

شہرینہ تو آنکھیں پھاڑےاس کی حرکت دیکھتی رہ گئی۔چند سیکنڈ میں وہ اپنا کام کر چکی تھی۔

“مائی گاڈ جنگلی بلی۔۔ابھی تک ویسی ہو۔۔۔۔”

دروازہ کھول کر باہر آتے حمزہ نے خاصی درشتگی سے کہا تھا ۔

پھینکا گیا پانی اسے اچھا خاصا گیلا کر چکا تھا ۔

“حمزہ بھائی ۔۔”۔

گلاسز اتارتا دیکھ کر شہرینہ خوشی سے چیخ پڑی آس پاس والوں بے مسکرا کر اسے دیکھا جو اب حمزہ کے گھیرے میں کھڑی تھی ۔

عروبہ نے ایک نظر حمزہ پہ ڈالی اور سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتی واپس پلٹنے لگی ۔

“تم کہا جا رہی ہو گھر نہیں جانا کیا ۔”۔

شہرینہ نے بازو سے پکڑ کر اسے روکا۔حمزہ کو امید نہیں تھی کہ وہ آج تک اس سے ناراض ہے ۔

“میں ٹیکسی سے چلی جاو گی ۔۔۔”

اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹاتی وہ روڈ کی طرف بڑھنے لگی مگر شہرینہ اس کا ہاتھ تھام کر روک چکی تھی ۔۔

“چپ کر کے گاڑی میں بیٹھوں نہیں تو میں ابھی سعد بھائی کو کال کرنے لگی ہوں۔۔”

اسے کھینچ کر گاڑی میں بٹھا کے دم لیا تھا اس نے ۔

اس کے بیٹھنے پر خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔اس دوران حمزہ دھیان سے اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا

“بھائی آپ نے اپنے آنے کا بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔”

شہرینہ کے لہجے سے اس کی خوشی عیاں تھی ۔پورے سال بعد بھائی کی شکل دیکھی تھی۔

“اگر بتا دیتا تو سرپرائز کیسے دیتا ۔۔۔”

حمزہ بیک مرر میں عروبہ کو دیکھتے ہوے بولا جو لاپرواہی سے باہر کے نظارے دیکھنے میں مصروف تھی ۔

گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی بنا کوئی بات کیے وہ اتر کر اندر چلی گئی ۔

شہرینہ کو دکھ ہوا تھااسے ایسے جاتا دیکھ کر

پچھلے سال تو اس کی عروبہ سےملاقات ہو ہی نہی سکی تھی کیوں کہ جن دنوں وہ اآیا عروبہ فہد کے ساتھ شادی اٹینڈ کرنےکراچی گئی ہوئی تھی ۔

گھر آتے ہی سیدھا کمرے میں ائ اور بیگ بیڈ پہ پھینکتی خود بھی ڈھیر ہو گئی ۔آنکھوں میں آنسو باہر نکلنے کو بےتاب تھے

۔آج بھی حمزہ کے تکیلف دہ الفاظ حرف بہ حرف یاد تھے۔ایک چھوٹے سے مذاق پر حمزہ کے الفاظ روح پر تازیانے کی طرح لگے تھے

عروبہ کی آنکھوں کے سامنے فلم سی چلنے لگی ۔

یہ اس وقت کی بات تھی جب دونوں سیکنڈ ائیر کے پیپر دے کر فری تھی ۔۔دونوں کا زیادہ تر وقت ایک دوسرے کے گھر گزرتا تھا ۔

بچپن کا ساتھ تھا دونوں گھرانوں کا آپس میں پیار بھی خوب تھا ۔وقت بے وقت آنا جانا لگا رہتا تھا ۔

عروبہ اور فہد کی شہرینہ کے ساتھ خوب لگتی تھی ۔جبکہ حمزہ ان سے چار سال بڑا ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ تھا ۔

اس کا زیادہ وقت سعد کے ساتھ گزرتا ۔۔اس کا مزاج بھی خاصا سنجیدہ تھا اس لیے ان سب کی کبھی ہمت نہی ہوئی تھی اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ۔

اس کے مقابلے میں سعد کو تینوں خوب تنگ کرتے تھے

شہرینہ اور عروبہ اکلوتی اکلوتی بہنیں تھی اس لیے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اس کمی کو پورا کر لیتی جو بھی دہکھتا یہئ سمجھتا کہ دونوں بہنیں ہیں۔

شہرینہ کا زیادہ وقت عروبہ کی طرف ہی گزتا ۔۔اس لیے عروبہ کو کم ہی موقع ملتا شہرینہ کی طرف آنے کا ۔

سکولنگ بھی تینوں کی اکھٹی تھی ۔۔کالج میں فہد ان سے الگ ہوا مگر یونی میں تینوں پھر ساتھ تھے ۔