Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 20)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 20)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
“بیا جان۔۔۔۔۔کیسی طبعیت ہے اب۔۔۔”۔
سعد نے اس کے قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھامے محبت سے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں”۔
اس کا روکھا لہجہ سعد کو ہرٹ کر گیا۔
“بیا کوئی ناراضگی ہے تو مجھے بتاو۔۔۔میری کوئی بات بری لگی ہے یا گھر میں کسی نے کچھ
کہا ہے”۔
سعد اس کے رویے سے کچھ بھی اخذ نہیں کر پا رہا تھا۔
“کوئی بات نہیں ۔۔۔آپ کو وہم ہوا ہے۔۔۔۔”
بےتاثر لہجے کے ساتھ جواب دے کر وہ کروٹ لے کر اپنا رخ دوسری طرف مڑ گئی۔
سعد نے اچنبھے سے اسے دیکھا ۔اس کا سرد رویہ سعد کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔
ایک نظر اس کو دیکھ کر وہ بھی بےدلی سے لیٹ گیا۔
“مزیبہ دانیال سے بات ہو سکتی ہے۔؟۔”
کافی دیر سے بجتے فون کو بیا نے کان سے لگایا تو دوسری طرف نسوانی آواز گونجی۔
“جی میں بات کر رہی ہو۔۔۔آپ کون۔؟
بیا نے قدرے حیرانگی سے پوچھا۔
“مزیبہ یار۔۔۔شکر ہے تمھاری آواز سنی ۔۔۔پہچانوں مجھےمیں
بھی تو دیکھو محترمہ کو شرلی گروپ یاد ہے؟۔
مقابل نے پرتجسس لہجے میں کہاتو مزیبہ چند لمحے آواز
اور لہجے پر غور کرتی رہی۔
“مائی گاڈ۔۔۔ایشا۔۔۔۔تم ایشا ہو۔۔۔۔۔”؟
مزیبہ کی چہکتی آواز ایشا کو پرسکون کر گئی۔
“قسم سے مزیبہ اگر تم مجھے نہ پہچانتی میں نے تمھارے گھر آکر تمھارا سر پھاڑ دینا تھا۔”
ایشا کا لہجہ اس کی خوشی کا پتہ دے رہا تھا۔
“تمھیں میرا نمبر کہاں سے ملا۔۔۔میں تو کتنا عرصہ تمھیں
ٹرائی کرتی رہی مگر نمبر بند ملتا ۔۔۔میری سم نہ جانے
کیسے بلاک ہو گئی سب کے کنٹیکٹس مس ہو گئے مجھ سے۔۔۔۔”
مزیبہ نے رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتائی۔
“اچھا ۔۔۔میرا تو فون چوری ہو گیا تھا۔۔۔پاکستان پہنچ کر
خیال آیا تو تمھاری فیس بک آئی ڈی سرچ کی اور تمھارا
اکاوئنٹ کھول کر نمبر لیا۔۔۔۔میں تو شکر کر رہی تھی کہ
تمھارے ایف بی اکاوئنٹ کی ساری ڈیٹیل میری ڈائری میں لکھی تھی۔۔۔”
ایشا نے اسے آگاہ کیا ۔
“تمھیں نہیں بتا ایشا اس وقت تمھاری آواز سن کر مجھے
کتنا سکون ملا ہے ۔۔۔ورنہ تو مجھے لگنے
لگا تھا کہ میں اس بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی ہوں۔۔۔”۔
مزیبہ بات کرتے رو دی تو ایشا پریشان ہو گئی۔کچھ دیر اسے رونے دیا اور پھر اس سے سب کچھ اگلوا کر دم لیا۔
“بیا بچے۔۔۔۔سمیرا چاہ رہی ہیں کہ ہم عروبہ کی رخصتی کی تاریخ دیے دیں۔۔۔آپ کیا کہتی ہو۔۔”؟
“جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔میں کیا کہ سکتی ہوں ۔۔۔”
اس کا سرد انداز مریم بیگم کو خفت زدہ کر گیا۔
مزیبہ اٹھ کر اوپر چلی گئی۔
مریم بیگم افسردہ ہو گئیں۔ تین دن ہو گئے تھے اسے ہاسپٹل سے آئے ۔
طبعیت بھی سمبھل چکی تھی مگر اس کا خراب موڈ سب کے لیے معمہ تھا۔
شام میں سب کے اکٹھے ہونے پر خاصی رونق لگ گئئی تھی۔
دس دن بعد کی تاریخ طے ہوئی تو مزیبہ نے سب کو مٹھائی کھلا کر منہ میٹھا کروایا۔
“کیا خیال ہے لگے ہاتھوں میں بھی رخصتی نہ مانگ لوں۔۔۔”
شہرینہ کے پیچھے کھڑا فہد جھک کر اس کے کان میں بولا۔
“سوچنا بھی مت۔۔۔”
شہرینہ ہلکی آواز میں غرائی۔
“کیوں کیا سوچنے پر ٹیکس لگتا ہے۔۔”؟
فہد نے چڑایا۔
“ہاں اور اس ٹیکس کی بدولت بات چیت پر پابندی لگ جاتی ہے غیر معینہ مدت تک۔۔۔”
شہرینہ ہلکا سا رخ موڑ خر دانت پیستی بولی۔
“کوئی بات نہیں ۔۔بات چیت کا کیا ہےایک دوسرے کی شکل دیکھ کر گزارا چل جائے گا۔۔”
فہد باز نہیں آیا اسے تنگ کرنے سے۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے”۔
سب کی موجودگی کی وجہ سے اس کی آواز ہلکی تھی۔
“سوری ایک بار تو ضرور کوشش کروں گا کیا پتا دال گل ہی جائے”
فہد اہستہ آواز میں بات کر کے سیدھا ہوا اور جا کر مریم بیگم کے کان میں سرگوشی کرنے لگا ۔
اس کی بات پر مریم بیگم نے ایک عدد گھوری سے نوازا اور جنید صاحب کی طرف دیکھا جو شاید کچھ کچھ معاملہ سمجھ گئے تھے ۔
جنید صاحب کے اثبات میں سرہلانے پر فہد نے دل پر ہاتھ رکھ کر سر جھکایا ۔
جنید صاحب نے نفی میں سر ہلایا جیسے کہ رہے ہوں تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا۔
شہرینہ تلملاتی اٹھ کر غصے سے کچن میں چلی گئی جہاں عروبہ مزیبہ کے ساتھ ملکر چائے کی چیزیں تیار کر رہی تھی۔
“تمھیں کیا ہوا۔۔”
اس کا پھولا منہ دیکھ کر عروبہ نے حیرت سے پوچھا۔
“وہ تمھارا اڑیل بھائی رخصتی کی ضد کر رہا ہے۔۔”
شہرینہ روہانسی ہوئی۔
“کیا۔۔۔۔وہ پاگل تو نہیں ہوگیا۔۔۔ابھی اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوا اور شوق دیکھو زرا۔ ۔۔۔۔”
عروبہ کو سچ میں غصہ آیا۔
مزیبہ ہاتھ باندھے کھڑی دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔
باہر فہد کی فرمائش پر سب ہی راضی تھے اس لیے بغیر کسی شش وپنج کے آرام سے سب معاملات طے ہوگئے ۔
حمزہ کے ولیمے کے دن شہرینہ کی رخصتی طے پائی۔حمزہ کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔
من پسند جیون ساتھی کا ساتھ کسی انعام سے کم نہیں ہوتا۔
“بیا۔۔۔کب تک ایسا چلے گا۔۔”
سعد مزیبہ سے مخاطب ہوا۔
“کیوں کیا ہو گیا ۔۔”
“کیا ہوا یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو ۔۔۔آج کتنے
دن ہو گئے ہیں تم نے مجھ سے ڈھنگ سے بات نہیں کی۔۔۔۔میرے آنے سے پہلے کھانا کھا لیتی ہو ۔
کمرے میں آو تو سوچکی ہوتی ہو۔۔۔۔کیا ہے یہ سب۔۔۔”
سعد کو غصہ ہی آگیا اس کی حرکتوں پر ۔
نہ کوئی شکایت کرتی اور نہ ہی گلہ۔سعد کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا سب۔
میرے سر میں درد ہے ۔۔مجھے نیند آرہی ہے ۔۔پلیز لائٹ آف کر دیں ۔۔۔”
اس کی بات کو نظر انداز کر کے وہ کمبل سیدھا کرتی نیم دراز ہو گئی ۔
سعد مارے جھنجلاہٹ کے سر کے بال نوچ کر رہ گیا۔
“یار۔۔۔صبح بات کرتا ہو۔ ۔۔۔ابھی سر درد کر رہا ہے۔۔۔”
کال اٹینڈ کرتے ہی سعد نے عثمان کو کہا جو اس کا کالج کے زمانے کا دوست تھا۔
“نہیں یار۔۔وکیل نے پیپرز میں کچھ گڑ بڑ کر دی تھی اس لیے دوبارہ بننے کے لیے دئے ہیں ۔۔۔ایک ہفتے تک ریڈی ہو جائیں گے۔۔۔”
عثمان کی بات کے جواب میں بتایا اور اگلے دن بات کرنے کا کہ کر کال کاٹ دی ۔
مزیبہ نے آنکھیں میچ کر آنسووں کو بہنے سے روکا ۔ورنہ دل تو دھاڑیں مار کر رونے کو چاہ رہا تھا۔
سعد نے ایک تلخ نظر مزیبہ کے پہلو پر ڈالی
اور لب بھینچے اپنی جگہ پر چت لیٹ کر چھت کو گھورنے لگا ۔
اس وقت شدید دل چاہ رہا تھا اس دشمن جاں کو اپنی قربت میں لینے کا مگر زبردستی کر کے اسے توڑنا نہیں چاہتا تھا۔
دل پر پتھر رکھ کر آنکھیں موندھے زبردستی سونے کی کوشش کرنے لگا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
ایک بار دل کیا بیا کو جگا لیے مگر پھر اس کی طبعیت کے پیش نظر اپنے آپ کو کنٹرول کر لیا۔
“چلو بیا جلدی سے ریڈی ہو جاو ۔۔۔شاپنگ کے لیے جانا ہے۔۔۔”
عروبہ اس کے کمرے میں آئی تو وہ سر جھکائے ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ کھوجنے میں مصروف تھی۔
چہرے پر حزن وملال تھا۔
“بیا۔۔”
اس کے ریسپونس نہ کرنے پر کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا تو وہ بری طرح چونکی۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔میں نے تمھیں بلایا تھا مگر تم نے سنا نہیں ۔۔”
عروبہ اس کے ڈرنے پر پشیمان ہوئی۔
“اٹس اوکے۔۔”
اپنے آپ کو سمبھال کر نرمی سے بولی ۔
جانتی تھی اس سب میں اس عروبہ کا کوئی قصور نہیں۔۔۔
وہ جنید صاحب اور سعد کو باتیں کرتے سن چکی تھی۔
جب وہ سٹڈی میں بیٹھیں ان پیپرز کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے۔
مزیبہ کو تو بس ان پیپرز کا انتظار تھا۔
دس دن پلک جھپکتے گزر گئے اور مہندی کا دن آن پہنچا ۔دونوں ہی خاندان چھوٹے تھے ۔
کم رشتہ دار ہونے کی وجہ سے طے یہ پاپا تھا کہ سب فنکشن کمبائن ہوں گے۔
سارا اریجنمٹ ہال میں تھا اس لیے بغیر کسی مسلئے کے تیار ہو کر سیدھا ہال میں آگئے تھے۔
ورنہ گھر میں تو مہمانوں کے سو بکھیڑے ہوتے ہیں ۔
(آئے گئے کو چائے پانی دینا پھر ہر کسی کی فرمائش پر الگ پکوان تیار کرنا۔۔
اگر کسی کو کم اہمیت ملی تو اس کے منہ کے زاویے درست کرنے کے لیے منتیں کرنا۔۔۔
بےشک یہ سب بہت اچھا لگتا ہے مگر ان کو جو شادی کھانے آئے ہوتے ہیں ۔
اصل درگت تو گھر والوں کی بنتی ہے جو
بےچارے چکراتے سر کر ساتھ گھوم رہے ہوتے ہیں کے کہیں کوئی کمی نہ رہ جاہے۔
بس ان شادی ہالز نے میزبانوں کا سر درد غائب کر دیا تھا۔
اب تو مزے سے تیار ہو اور پہنچ جاو مہمان اٹینڈ کرنے۔)
“سعد ۔۔پھولوں کے زیور کہاں ہیں۔۔۔۔”؟
مریم بیگم نے اسے روک کر پوچھا جو ابھی ہال میں داخل ہوا تھا عروبہ ،شہرینہ اور مزیبہ کو لے
کر۔
مریم بیگم نے سب کے لیے تازہ پھولوں کے گجرے بنوائے تھے
جو سعد نے پارلر سے واپسی پر اٹھانے تھے۔مگر واپسی پر اس کے ذہن سے نکل گیا ۔
“میں منگوا لیتا ہوں کال کر کے۔۔”
سعد نے کہا اور موبائل نکال کر سائیڈ میں چلا گیا ۔
دس منٹ بعد ہی ایک لڑکا شاپر اٹھائے ہال کے دروازے پر آیا اور کال کر کے سعد کو بلا کر شاپر اس کے حوالے کر کے پیسے لے کر چلا گیا ۔
سعد نے شکر ادا کیا ورنہ آج تو کلاس لگنا لازم تھا۔
گجروں کا شاپر مریم بیگم کے ہاتھ میں تھا کر وہ دو گجرے لیے مزیبہ کے پاس آیا جو گم سم سی بیٹھی تھی۔
سعد نے بنا کچھ کہیے آرام سے اس کا ہاتھ تھاما اور باری باری دونوں گجرے پہنا دہیے۔
مزیبہ خاموش بیٹھی اس کی کاروئی دیکھتی رہی ۔
“اچھے لگ رہے ہیں ۔”
ہلکا سا اس کے ہاتھوں پر دباو ڈالتے خوشدلی سے بولا۔
مزیبہ نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی جہاں نہایت اطمینان تھا ۔
مزیبہ کو دیکھنے میں مگن سعد کے چہرے پر بڑی پیاری مسکراہٹ تھی۔
مزیبہ نظرنہیں ہٹا سکی سعد کے چہرے سے۔
“دھوکہ دینے والوں کے چہرے اتنے پرسکون کیسے ہو سکتے ہیں۔۔۔”
اس سے نظر ہٹا کر جنید صاحب کو دیکھا جو آصف صاحب کی بات پر ہنس رہے تھے۔
اس کا دل کیا چیخ چیخ کر سب کو ان کی اصلیت بتا دیےمگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔
عروبہ اور شہرینہ اسے بہت عزیز تھیں۔
باقی کا فنکشن یونہی ہلے گلے میں گزر گیا گیارہ بجے رات کو گھر پہنچے تو تھکن سے برا حال تھا ۔
اماں سکینہ ان کے آنے سے پہلے چائے بنا چکی تھی جیسے ہی سب آئے گرما گرم چائے ان کی خدمت میں پیش کر دی۔
