Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 12)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 12)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

“عروبہ اگر آپ برا نہ منائیں تو پلیزایک منٹ میری بات سن لیں۔۔۔۔”

سرسری سے لہجے میں کہ کروہ رکا نہیں تھا بلکہ کمرے میں آکر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔

چند لمحوں بعد عروبہ اس کے کھلے دروازے کے آگے کھڑی تھی۔

حمزہ نے ایک نظر اس کے چہرے کا دیکھا جہاں گہری سنجیدگی تھی ۔

“فرمائیے۔”

اس نے تیکھے لہجے میں استفار کیا۔

“آپ نے انکار کیوں کیا۔۔۔۔کیوں میرا رشتہ ٹھکرایا۔۔۔۔”

اس کے لہجے کی پھنکار چند لمحوں کے لیے عروبہ کو گنگ کر گئی مگر وہ فورا سنبھلی۔

“میں حق رکھتی ہوں اپنی زندگی کے متعلق کوئی بھئ فیصلہ کرنےکا۔۔۔۔آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے۔۔۔۔”

عروبہ غصے سے دبی آواز میں بولی۔

“میں کیا حق رکھتا ہوں۔۔”

“کیا میں نے بار بار آپ پر اپنی محبت واضح نہیں کی پھر بھی آپ پوچھتی ہیں میں کیا حق رکھتا ہوں۔۔۔۔۔”

حمزہ کو شاک لگا اس کی بات سن کر وہ دل شکستہ اس سے مخاطب تھا آواز میں ٹوٹی کرچیوں سی چٹخ تھی ۔

“آپ کی چند دنوں کی محبت اتنی گہری نہیں تھی کہ میں اس کی خاطر اپنے بھائی اور دوست کا دل اجاڑ دیتی۔،جو نہ جانے کب سے ایک ڈور سے بندھے ہیں۔۔۔۔”

“آپ صرف ایک لمحے کے لیے سوچیں۔۔کیا آپ اپنی بہن کی محبت کی قبر پر اپنی محبت کا تاج محل کھڑا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔”

“آپ میں ہمت ہے اپنی بہ۔ کی آنکھوں میں آنسو دیکھنے کی ۔۔۔۔اگر آپ خود غرض نہیں تو یقینا آپ کا بھی فیصلہ وہی ہونا چاہیئے جو میرا ہے۔۔۔”

اس کی آواز کی مظبوطی اس کے لہجے سے عیاں تھی ۔حمزہ ساکت کھڑا اس کے ہلتے کب دیکھ رہا تھا ۔

“میں امی کو منا لوں گا ۔۔۔پلیز مجھے کچھ ٹائم دے دوں ۔۔۔”

حمزہ گڑگڑایا۔

“کبھی سوچیئے گا بھی نہیں ۔۔۔۔میں کبھی نہیں چاہوں گی کی آپ کے دباو میں آکر آنٹی میرا رشتہ مانگ لیں۔۔۔میں اس گھر میں اور آپ کی زندگی میں تو آجاو گی مگر آنٹی کے دل سے اتر جاو گی۔۔۔۔اور ایسا تو میں مر کر بھی نہیں چاہوں گی ۔۔۔

جن سے ساری زندگی محبت وصول کی وہ نفرت سے میری طرف دیکھیں”

عروبہ کی آواز مظبوط مگر دھیمی تھی۔بمزہ کا دل کیا دھاڑیں مار کر روئیے ۔کیسے اس لڑکی نے اپنی طرف آنے والی ہر راہ کو الفاظ کے کنٹینر رکھ کہ بند کردیا تھااور یہ کنٹینر پھلانگنے کی ہمت حمزہ اپنے اندر نہیں پا رہا تھا۔

کمرے سے باہر کھڑی شہرینہ آنسو صاف کرتی اپنے کمرے میں آگئ۔

“سمیرا۔۔۔۔۔بچیوں کو بلائیں۔چھوٹی سی رسم کر کیتے ہیں بات پکی ہونے کی۔۔۔۔”۔

مریم بیگم کے ہر انداز سے خوشی عیاں تھی۔

سمیرا سر ہلاتی اٹھ کر انھیں بلانے چل دیں۔

“آو بیٹا یہاں بیٹھو۔۔۔۔”آگے بڑھ کر شہرینہ کو تھام کر اپنے قریب بٹھایا۔

شہرینہ نے ایک نظر بھائی پر ڈالی۔۔۔ٹوٹی خوابوں کی کرچیاں ان کی آنکھوں کو سرخی عطا کر چکی تھیں۔

چہرے کا پھیکا پن شہرینہ کی نظروں سی چھپ نہیں سکا تھا۔

شہرینہ نے ایک گہرہ سانس لے کر حاضرین محفل کو دیکھا

مریم بیگم کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے مٹھائی لے کر واپس پلیٹ میں رکھی اور ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔سب نے حیرت سے اس کی حرکت کو دیکھا ۔

“یہ کیا حرکت ہے شہرینہ۔۔۔۔”

سمیرا نے گھرکا۔

“ماما۔۔۔اگر یہ مٹھائی میں نے کھا لی تو بھائی کی محبت کا کیا ہو گا۔۔۔۔۔”صوفے سے اٹھتے ہوےنم آواز میں بولی اس کا اپنا دل بیٹھ رہا تھا ۔

حیرت کا شدید جھٹکا وہاں موجود سب افراد کو لگا ۔

“تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا اول فول بول رہی ہو”

عروبہ نے تیزی سے آگے بڑھ کا اسے چپ کروانا چاہا۔

“کیوں میرا دماغ کیوں خراب ہوگا۔۔۔۔میں رشتہ طے کروا لوں اور میرا بھائی ساری زندگی اپنی محبت کے بچھڑنے کا ماتم کرتا رہہے۔۔۔۔۔۔میں فیصلہ کر چکی ہوں جب تم یہاں نہیں آسکتی تو میں بھی وہاں نہی جا سکتی۔۔۔۔۔ہم سب کے لیے یہہی بہتر ہے”

اپنی بات مکمل کر کے وہ رکی نہیں تھی۔اگر رکتی تو شاید اپنا ظبط کھو دیتی ۔عروبہ دم سادھے اسے جاتا دیکھ رہئ تھی۔

لاوئنج میں اذیت ناک خاموشی تھی۔

“میں معزرت چاہتی ہوں”

سمیرا کی شرمندگی میں ڈوبی آواز اس خاموشی میں ارتعاش کا سبب بنی۔

“معزرت کی ضرورت نہیں سمیرا۔۔۔۔ہمیں بلکل برا نہیں لگا بلکہ خوشی ہوئی کہ شہرینہ اتنی احساس کرنے والی بچی ہے ۔۔۔باقی رہ گئی رشتے کی بات تو ابھی کون سا بچے بوڑھے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔

ہمارا رشتہ موجود ہے جب بھی شہرینہ راضی ہوئی ہم رسم کر لیں گے ۔۔”

مریم بیگم نے خوشدلی سے بات مکمل کی آغا جی اور جنید صاحب نے بھی تائید کی۔

عروبہ کب کی واپس جا چکی تھی مزیبہ کو لے کر۔

“کیاہوا اتنا منہ کیوں پھلا رکھا ہے۔۔۔”

عروبہ کو یوں اندر آتا دیکھ کر فادی نے حیرانگی سے پوچھا۔

عروبہ نے بھائی کے چمکتے چہرے کو دیکھا ۔دل افسردگی سے بھر گیا

اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی فہد کو کچھ بھی بتانے کی۔

“تم پریشان کیوں لگ رہی ہوں۔۔۔۔”

فہد کو کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔شہرینہ کے گھر سے یوں واپسی پر اس کا پریشان چہرہ دل میں گھبراہٹ پیدا کر رہا تھا۔

“شہرینہ نے انکار کر دیا۔۔۔۔۔”

دل کڑا کر کے اس نے فہد پہ بم پھوڑا تھا ۔

فہد لڑکھڑا کر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیاایک لمحے کو یوں لگا تھا جیسے دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔

“کیوں ۔۔۔۔”؟؟

بمشکل الفاظ اس کے منہ سے ادا ہوے تھے۔

“مجھے نہیں پتہ تم خودپوچھ لینا کیا پروبلم ہے اسے۔۔۔”

فہد سے نظریں چراتی وہ اپنے کمرے میں آگئ۔آنسو باہر نکلنے کو بےتاب تھے۔

بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ رو دی ، اسے شہرینہ سے اس بےوقوفی کی امید نہیں تھی۔

“شہرینہ یہ کیا بتمیزی تھی۔۔۔”؟

سمیرا بیگم اس کے کمرے میں آئیں تو شہرینہ نے تیزی سے منہ پر ہاتھ پھیر کر بہتے آنسووں کو صاف کیا۔

“میں نے کوئی بتمیزی نہیں کی۔۔۔۔”

بھرائی ہوئی آواز میں اس نے جواب دیا ۔

سمیرا بیگم اس کے قریب بیٹھ گئیں۔

“وہ لوگ اتنے پیار سے تمھارا ہاتھ مانگنے آئے تھے ۔۔۔۔تم نے انکار کرتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔میں نے تم سے پوچھ کر ہی ان کو بلایا تھا۔۔۔”

اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر نرمی سے بولیں۔

“ماما۔۔۔۔میں اس رشتے کے لیے ہاں کر دیتی۔۔۔۔پوری دلی رضامندی کے ساتھ۔،۔مگر آپ بتائیں۔۔۔۔۔بھائی کا کیا قصوراگر ان کے دل نے عروبہ کے حق میں بغاوت کر دی۔۔۔۔۔”

وہ ایک لمحے کو رکی۔

۔”میری شادی وہاں ہو جاتی تو بھائی کبھی بھی میرے گھر نہ آتے۔۔۔۔آتے جاتے ایک دوسرے پر نظر پڑ جاتی اور ہر بار محبت کھونے کا دکھ ان کو نئی اذیت سے دوچار کرتا۔۔۔۔””

“آپ نے دیکھا جب سے عروبہ کے انکار کا پتہ چلا ان کی آنکھیں بےرنگ ہو گئی ہیں ان کی چمک مانند پڑ گئی ہے ۔۔۔۔”

وہ رو دی تھی۔

“ماما ۔۔۔کتنے دن ہو گئے ہیں انھوں نے ہنس کر ہم سے بات نہیں کی۔۔۔ماما میرے انکار سے دونوں گھروں کا فاصلہ ویسا ہی رہے گا۔کل کو میں اور عروبہ دنیا کے کون سے کونے میں ہوں گے ہمیں خبر نہیں مگر اب دل مطمئن ہے ۔۔”

اس نے ہچکیوں کے درمیان بات مکمل کی۔

“بیٹا ۔۔۔جب زندگی آگے بڑھتی ہے تو انسان کے دکھ پر گرد جم جاتی ہے ۔۔۔آہستہ آہستہ اس دکھ کی کسک ہلکی ہو جاتی ہے۔۔۔نئے رشتے بنتے ہیں تو انسان تکلیف دہ لمحات کو بھلانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔۔۔”

سمیرا بیگم نے سمجھانا چاہا۔

“ماما ۔۔۔۔میں اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب نہیں دیکھ سکتی۔۔۔”

“ایک بات بتاو آپ کو۔۔۔عروبہ نے انکار میرے اور فہد کی وجہ سے کیا ۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ہم دونوں کا دل ٹوٹےاور بھائی بھی اسی لیے خاموش ہو گئے ۔۔۔۔ان دونوں نے ہماری محبت بچانے کے لیے اپنی محبت قربان کر دی ماما۔۔۔۔”

ایک دم ان کے گلے سے لگ کر شہرینہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

فہد کو چھوڑنے کا دکھ جیسے جان نکال رہا تھا۔

کتنی ہی دیر سمیرا بیگم اسے گلے لگائے رہیں۔

ان کی اپنی آنکھیں بھی بچوں کے دکھ میں بھیگ گئی تھیں۔

“بات سنو۔۔۔”

مزیبہ آغا جان کو ناشتہ کروا کہ باہر آئی تو سامنے ہی سعد بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا ۔

مزیبہ کو دیکھ کر اخبار رکھ کر سیدھا ہوا اور آواز دی۔

“محترمہ آپ نے آفس کب سے سٹارٹ کرنا ہے۔؟”

سعد نے زرا خفگی سے پوچھا ۔

“کل سے۔۔۔”

اوپن کچن میں برتن رکھتے ہوئے جواب آیاتوسعد اٹھ کر پاس آیا۔

“کل سے نہیں آج سے۔۔۔ابھی جاو اور پانچ منٹ میں تیار ہو کر نیچے آو۔۔۔۔میں کوئی ایکسکیوز نہیں سنوں گا۔”

سعد نے انگلی اٹھا کر وارن کیا تو مزیبہ گہری سانس لیتی پلٹی۔

جانتی تھی اگر نہ گئی تو وہ محترم سیدھے آغا جی کے پاس پہنچ جائیں گےاور آغا جی انہیں تو اب اس پوتے سے کچھ زیادہ ہی لگاو ہو گیا تھا۔

کچھ دیر میں تیار ہو کر آئی تو سعد اس کا منتظر تھا۔

مریم بیگم اور آغا جی کو خداحافظ کہ کے آئی اور اس کے پیچھے چلتی آکر گاڑی میں بیٹھ گئی۔

سعد نے بغور اس کے سوجے منہ کا جائزہ لیا تھا۔

“تمھارا منہ کیوں سوجا ہوا ہے۔۔”

مسکراہٹ ضبط کرتے سعد نے چھیڑا۔

“میرا منہ میری مرضی ۔،۔آپ آگے دیکھ کہ گاڑی چلائیں۔۔۔”

مزیبہ برا سا منہ بناتی باہر دیکھنے لگی ۔زرا برابر دل نہیں چاہ رہا تھا آفس جانے کا۔

“بہت بری لگ رہی ہوں اس منہ کے ساتھ۔۔۔”

سعد نے بےاختیار کہاتو مزیبہ نے فورا گردن گھما کر اسے گھوری سی نوازا۔سعد کا قہقہ بےساختہ تھا۔

“کیا آج کچا چبانے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔”

اسے بولنے پر اکسانے کے لیے سعد نے پھر کوشش کی۔

“آپ کے ساتھ کیا مسلئہ ہے ۔۔۔خاموشی سے ڈرائیو کریں۔۔۔آپ کے کہنے پر آفس جاتو رہی ہوں۔۔۔”

مزیبہ جھنجھلا کر غصے سے بولی۔

پہلے دن کے بعد آج وہ آفس جارہی تھی ۔آغا جی کی وجہ سے چھوڑ چھاڑ کے بیٹھ گئی تھی۔

سعد نے ناراضگی سے اسے دیکھااور سر جھٹک کر دھیان روڈ کی طرف کیا جہاں اس وقت ٹریفک معمول سے زیادہ تھی۔

کچھ دیر بعد گاڑی آفس کی پارکنگ میں کھڑی

کر کے بغیر اسے مخاطب کیے آفس کی طرف چل دیا۔

مزیبہ ہکا بکا ادے جاتا دیکھ رہی تھی۔

اسے سعد سے اس ببےمروتی کی امید نہیں

تھی۔

گاڑی سے باہر نکل کر ڈور لاک لگا کر سارا غصہ دروازے پر اتارا اور بیگ سمبھالتی آہستہ روی سے چلتی گلاس ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی