Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 19)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 19)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

ماما۔۔۔آغا جی۔۔۔آغاجی اٹھیں ۔۔۔ماما یہ اٹھ کیوں نہیں رہیں۔۔۔۔”

کچھ ہونے کا احساس اس کی جان نکال رہا تھا۔

مریم بیگم نے کانپتے ہاتھوں سے ان کی ناک کے آگے ہاتھ رکھا ۔مگر سانسیں تھم چکی تھیں ۔۔۔

موت کے ظالم پنجیے انہیں جکڑ چکے تھے ۔

مزیبہ چکرا کر وہیں گر گئی۔

مریم بیگم حواس باختہ باہر کو دوڑیں کچھ ہی دیر میں سب پہنچ آئے ۔

ڈاکڑ نے آکر ان کی موت کی تصدیق کر دی ۔

مزیبہ کا برا حال تھا وہ کسے کے قابو میں نہیں آرہی تھی۔۔

فہد نے کال کر کے حمزہ کو اطلاع کی تاکہ وہ عروبہ کو لے آئے۔

کچھ ہی دیر میں ہنستے بستے گھر میں صف ماتم بچھ

گئی۔

مزیبہ ساکت نظروں سے آغاجی کی میت کو دیکھ رہی تھی۔برا خواب سچ ثابت ہوا تھا ۔

کالی گھٹا اس کے آغا جی کو اپنے حصار میں لے چکی تھی۔

پھر کتنے ہی دن ایسے ہی گزر گئے ۔اللہ نے انسان کے اندر صبر کا مادہ رکھا ہے کچھ دن لگتے ہیں مگر انسان سمبھل جاتا ہے ۔

جانے والے کا جسم تو لحد میں اتر جاتا ہے مگر ان کا احساس دل کے نہاں خانوں میں سرائیت کر جاتا ہے ۔جہاں جب دل چاہے انسان جھانک کر اپنے پیاروں کا دیدار کر لیتا ہے

“مزیبہ ۔۔۔کل سے تم آفس جوائن کر رو گی ۔۔۔باہر نکلو گی تو دل بہل جائے گا۔۔”

سعد اس کے قریب بیٹھا اس سے مخاطب تھا۔

“میرا دل نہیں کرتا ۔۔”

وہ بےزار سی بولی۔

“بیا جانے والوں کے ساتھ جایا نہیں جا سکتا۔۔ہم سب جانتے ہیں تمھاری ان سے اٹیچمنٹ۔۔۔مگر بیا۔۔۔اس گھر میں سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔تمھاری وجہ سے سب پریشان ہیں ۔۔آج ایک مہینہ ہو گیا ہے تم اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔۔ایسا کب تک چلے گا۔۔۔”

سعد بہت محبت سے اسے سمجھا رہا تھا ۔بیا کی آنکھیں برسنے کو تیار تھیں۔

“مجھے کچھ سمجھ نہیں آریا۔۔میں کیا کرو سعد۔۔۔۔”؟

اس کے کندھے ہر سر رکھے وہ رو دی۔

تم کچھ نہیں کرو بس باہر جا کر سب کے ساتھ بیٹھو ،،باتیں کرو ۔۔خودبخود تمھاری طبعیت ٹھیک ہو جائے گی۔

“اب اٹھو اٹھ کر ۔۔۔۔کپڑے چینج کرو پھر باہر چلتے ہیں ۔۔۔آج موسم بھی بہت اچھا ہے۔۔۔۔”

اسے کھینچ کر بیڈ سے نیچے کھڑا کر کے واشروم کی طرف دھکیلااور خود اس کے لیے ڈریس سلیکٹ کرنے لگا

“جی فرمائیے۔۔۔کیسے یاد کیا ؟”

اس کا رونکھا لہجہ سن کر عروبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“آپ کب تک ناراض رھیں گے۔۔”

“مجھے کیا حق ہے آپ سے ناراض ہونے کا”۔

“سب حق حاصل کر کے آپ مکر رہے ہیں ۔” وہ رو دی۔

“رونا بند کریں ورنہ میں فون بند کر دو گا ۔” حمزہ نے سختی سے کہا۔

“ٹھیک ہے کر دیں بند “۔

حمزہ کو کہ کر خود فون بند کر کے زاروقطار رونے لگی ۔

دوسری طرف حمزہ سٹپٹایا اور جلدی سے کھڑے ہو کر جوتے پہنے رخ دروازے کی طرف تھا۔

وہ جانتا تھا کال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں وہ اب فون اٹینڈ نہیں کرے گی۔

“ماما مجھے زرا سعد سے کام ہے ۔۔میں ہو کر آتا ہوں ۔۔۔”

سمیرا بیگم کی معنی خیز مسکراہٹ دیکھ کر جھیمپتا باہر نکل گیا تیز تیز قدم اٹھاتا۔ان کی طرف پہنچا تو سامنے ہی لاوئنج میں جنید صاحب براجمان تھے وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔

اب ان سے کیسے کہتا۔

“آو بیٹا آج بڑے دن بعد چکر لگایا۔”

“بس ماما ۔۔۔ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں بزی تھا اس لیے معزرت”۔

مریم بیگم کو اس کا انداز بہت پسند آیا ۔

“اور بیٹا جی ۔۔۔کام کیسا چل رہا ہے۔۔۔؟

“ٹھیک پا پا۔۔۔آج کل بس نیا سٹاک تیار ہو رہا ہے اس لیے مصروفیت بڑھ گئی ہے ۔”

اس نے تفصیل سے آگاہ کیا۔

“حمزہ بچے ۔۔۔آپ مزیبہ کے کمرے میں چلو میں چائے وہی بجھواتی ہوں “۔

مریم بیگم نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا ۔جانتی تھی وہ اس کے لیے ہی آیا ہے ۔

ان کی اجازت ملنے پر اس نے اٹھنے میں لمحہ نہیں لگایا تھا ۔۔جنید صاحب اس کی تیزی دیکھ کر ہنس پڑے۔

انہیں ان کے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بچے اپنا اچھا برا خوب سمجھتے ہیں۔

ہلکا سا دروازہ ناک کر کے وہ اندر داخل ہوا تو آگے اس کے حسب توقع گھٹنوں میں سر دیئے رونے کا شغل فرما رہیں تھیں ۔

“کتنا رونا ہے بتا دو ۔۔۔میں فری ہونے کا ویٹ کر لیتا ہوں۔۔۔”

اس کے قریب بیٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگاتے بولا تو عروبہ نے چونک کر سر اٹھایا۔

“آپ۔۔۔۔”۔

رونا بھول کر وہ حیرت سے منہ کھولے بولی۔

“ہاں میں ۔۔۔ویسے بڑی چالاک ہو جانتی تھی کہ مجھ سے تمھارا رونا برداشت نہیں ہوتا اسی لیے ایسے کرتی ہو۔۔۔۔”

اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا اسے شرمانے پر مجبور کرگیا۔

عروبہ سو سو کرتی سر جھکائے بیٹھ گئی ۔

“میں یہاں تمھارے بال نہیں دیکھنے آیا۔۔۔”

تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر ہلکا سا چہرہ اوپر کر کے مسکراتے بولا ۔

“آپ جو چاہتے ہیں کر لیں ۔۔۔میں اب منع نہیں کروگی۔۔”۔

عروبہ نے آہستہ آواز میں کہاں ۔

اتنے دن کی ناراضگی نے اسے بری طرح تکلیف دی تھی۔

اس کے لیے سوہان روح تھی اس کی ناراضگی۔

“آئی ایم سوری۔۔”

“میں جزباتی ہو گیا تھا۔۔۔صرف اپنے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔”

“پلیز سوری نہیں کریں ۔۔۔آپ کا حق تھا جو آپ نے استعمال کیا۔۔۔مجھے اب کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔بس آپ وعدہ کریں مجھ سے میری پڑھائی میں پوری مدد کریں گے۔۔”

“تھینک یو سو مچ۔۔۔تم نے مجھے اتنی بڑی خوشخبری دی ہے ۔۔۔میری جان میرا وعدہ ہے میں زندگی کے ہر قدم پر تمھارے ساتھ کھڑا ہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔”

حمزہ خوشی سے بھرپور لہجے میں اس کے کندھے کے گرد بازو کا گھیرا بنائے سر کے ساتھ سر ٹکراتا ہوا بولا۔

عروبہ نے آنکھیں اٹھا کر اسے شرماتے ہوئے دیکھااور ہونٹ دانتوں میں دبایا۔

حمزہ کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔عروبہ کی نظر نہیں ٹھہری اس پر ۔

“سعد آفس جا چکا تھا۔بیا نے مریم بیگم کے ساتھ ملکر برتن سمیٹے اور کام والی کو سمجھا

کر خود تیار ہونے چل دی ارادہ تھا کہ آفس کا چکر لگا لے۔

آفس پہنچی تو گیارہ بج رہے تھے اس کا رخ پیکنگ برانچ کی طرف تھا۔

“تم یقین مانو میں سچ کہ رہی ہوں ۔۔۔۔سر سعد نے صرف جائیداد کے لیے مزیبہ میم سے شادی کی ہے۔آخر پچاس پرسینٹ کی مالک ہیں ۔سر جنید نے سوچا ہو گا کہ اس سے پہلے کوئی اور مزیبہ میم کا ہاتھ مانگے وہ خود اسے بہو بنا لیں۔۔۔۔۔”

وہ اور بھی نہ جانے کیا بول رہی تھی مگر بیا کے کان یہ سب سن کر ہی سائیں سائیں کر رہے تھے دروازے کے ہینڈل سے ہاتھ اٹھا کر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے سعد کے آفس کی طرف بڑھی ۔۔

چہرے کا رنگ سفید ہورہا تھا۔

“پیپرز ۔۔۔تیار ہوچکے ہیں۔۔۔بس سائن باقی ہیں۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔تمھارے یار نے کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی۔۔۔۔اس بار پکا کام کیا ہے ۔۔۔

بس یار پہلے پاپا مار کھا گئے تھے۔۔۔۔لیکن میں نے سب کچھ اپنے طریقے سے سیٹ کرلیا اور

مچھلی آرام سے جال میں پھنس گئیں۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔تم نے ٹھیک کہاں مجھ سے بڑا کمینہ

کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔بس تم مٹھائی کے لیے تیار رہو ایک اد دن میں سائن کروا لو گا۔۔

چل اب فون رکھ میٹنگ کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔”

فون کریڈل پر رکھتے اس کی نگاہ دروازے کی طرف اٹھی جہاں مزیبہ سر پکڑے نیچے گر رہی تھی۔

“بیا۔۔بیا ۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔”

اس کا چہرہ تھپتپاتا۔۔۔تیزی سے اسے بازوں میں اٹھائے واپس کمرے میں آیا اور صوفے پر لٹا کر تیزی سے قریب کے ہاسپٹل کال کر کے ڈاکڑ کو بلایا۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکڑ آفس میں تھا ۔۔

سعد کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھی۔

“ان کو ہاسپٹل شفٹ کرنا پڑے گا۔۔”

چیک اپ کے بعد ڈاکڑ نے کہا۔

“کیا ہو انہیں ۔۔”

اس نے بےتابی سے پوچھا۔

“انہیں کوئی شاک لگا ہے۔۔۔اس وقت یہ ڈپریشن میں ہیں۔۔۔بی پی بھی کافی ہائی ہے۔”

ڈاکٹر نے تفصیل بتائی تو سعد نے فورا موبائل اٹھا کر جیب میں ڈالا اور مزیبہ کو گود میں اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا۔

اسے ایڈمٹ کروا کر گھر فون کر کے بتایا ۔جنید صاحب کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیے وہ بھی گھر تھے۔

فون سنتے ہی دوڑتے ہاسپٹل پہنچے ۔

مزیبہ کو ہوش آچکا تھا مگر آنکھیں موندھے پڑی تھی۔

“بیا بچے کیا ہو گیا ہے۔۔۔اتنی طبیعت کیسے خراب ہو گئی۔۔۔۔”

مریم بیگم کی بےچینی مزیبہ کو ڈھکوسلہ لگی۔

دل میں بےاعتباری کی آندھی چلی تھی جس نے ہر رشتے کو گرد سے ڈھانپ دیا تھا۔

سعد اس کے قریب آکھڑا ہوا۔مزیبہ کا رویہ اسے پریشان کر رہا تھا۔

“اٹھو۔۔۔گرم سوپ پیو طاقت آئے تم میں ۔۔۔رنگ دیکھو کیسے پیلا ہو رہا ہے۔۔۔”

مریم بیگم نے اسے زبردستی اٹھا کر بٹھایا اور سوپ باول میں ڈال کر خود پلانے لگیں۔

شام میں اسے ڈسچارج کر دیا گیا تو سعد انھیں لے کر گھر آگیا۔

مزیبہ کو عروبہ سیدھا کمرے میں لٹانے لے گئی۔

“بیا۔۔۔کیا بات ہے اتنی ٹینس کیوں ہو۔۔۔”؟

عروبہ اسے لٹا کر خود اس کے قریب ہی بیٹھ گئی۔

“کوئی بات نہیں ۔۔ویسے ہی طبعیت اپسیٹ ہو گئی تھی۔”

تم غلط بیانی کر رہی ہوں۔۔۔کچھ چھپا رہی ہوں۔۔۔”

عروبہ کا پورا دھیان اس کے چہرے کی طرف تھا جس پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے۔

“میں کچھ نہیں چھپا رہی۔۔۔تم جاو میں آرام کرنے لگی ہوں۔۔۔”

بیا نے بنا لحاظ کیے بےگابگی سے کہا ۔عروبہ کو اس کے رویے نے تکلیف دی ۔

اس پر ایک نگاہ ڈال کر وہ نیچے آگئی۔

“جنگلی بلی کہاں گھوم رہی ہو۔۔۔”

حمزہ جو بیا کا پتہ کرنےآیا تھا تپانے کو بولا۔

“مجھے پتہ چلا تھا کہ اس گھر میں جنگلی بلا آیا ہے تو بس اس کے استقبال کے لیے نکل آئی۔”۔

عروبہ نے ادھار نہیں رکھا اور پٹ سے جواب دیا۔

“خدا کا خوف کرو لڑکی اپنے مزاجی خدا کو بلا بنا دیا”

“تو مزاجی خدا بھی خدا کا خوف کریں جنھوں نے اتنی پیاری بیوی کو بلی بنا دیا۔”

عروبہ کا جواب پھر موجود تھا۔

“آج تو بڑے موڈ میں ہوں ۔۔”

“آپ کے ساتھ کا اثر ہے۔۔”

“ہممم خاصا گہرا اثر ہے”حمزہ نے ہنکورہ بھرا۔

۔”جی کچھ زیادہ ہی۔۔۔چاہے پئیے گے یا کافی۔”۔

“تم اپنے پیارے ہاتھوں سے جو پلاو گی پی لوں گا۔۔۔۔”

حمزہ مخمور لہجے میں بولا۔

” اچھا جی آپ بیٹھیں میں چاہے لاتی ہوں ۔۔”

لاوئنج کی طرف اشارہ کر کے کہا اور خود کچن کی جانب بڑھ گئی۔چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی