Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 21)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 21)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
کمرے میں آتے ہی مزیبہ نے تھکاوٹ کے پیش نظر جیولری اترانے کے لیے ہاتھ بڑھایا
“پلیز ابھی نہیں۔۔۔”
اسے جیولری اتارتے دیکھ کر سعد تیزی سے قریب آیا۔
“مجھے سخت نیند آرہی ہے۔۔۔”
مزیبہ کی بےزار آواز ابھری۔
“میں تمھاری نیند بھگا دوں گا جان۔۔۔ موقع تو دو۔۔۔”
اسے تھام کا بیڈ پر پر بٹھاتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا ۔
مزیبہ نے بےزاری سے اسے دیکھا مگر کچھ کہا نہیں کیوں کہ
جو حق اللہ اسے دے چکا تھا وہ چھین نہیں سکتی تھی۔اور
نہ ہی اللہ کی گناہ گار ہوسکتی تھی۔
“تم بات کیوں نہیں کرتی اس سے”
“بات میں کیا رکھا ہے۔۔اسے میرے سائن چاہئے ۔۔میں کر دوں
گی مگر وہ دن اس گھر میں میرا آخری دن ہوگا۔”
تم بےوقوفی کر رہی ہو۔۔۔اتنی بڑی حصہ چپ چاپ ان کے
حوالے کر دو گی”۔۔ایشا نے تنبیہ کی۔
ہاں کیوں کہ میں چاہتی ہو دوبارہ زندگی میں کبھی میرا
اس شخص سے سامنا نہ ہو۔۔۔۔۔جس نے محبت کو ہتھیار بنا کر مجھے لوٹا۔۔”
مزیبہ دکھ سے لبریز آواز میں بولی۔
“زندگی بہت لمبی ہے ۔۔کیسے گزاروں گی تنہا۔۔۔”
ایشا کی آواز میں نرمی تھی۔
“ابھی مجھے کچھ پتہ نہیں۔۔۔میں بس یہاں سے جانا چاہتی ہوں ۔۔۔تم نے اڈریس نہیں بھیجا مجھے” ۔
بیا لاپرواہی سے بولی
“سوری ۔۔میرے ذہن سے نکل گیا ۔۔۔تم ویٹ کرو میں بھیجتی ہوں۔۔۔۔”
ایشا نے فون کان سے ہٹا کر واٹس ایپ اوپن کی اور اسے اڈریس لکھ کر سینڈ کر دیا۔
کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد بیانے فون بند کیا ۔
آج بارات تھی سعد ہال کی اریجنمٹ چیک کرنے گیا ہوا تھا ۔
بیا اکیلی تھی اس لیے اطمینان سے ایشا کے ساتھ باپ چیت کی تھی ۔
پانچ بجے مزیبہ عروبہ اور شہرینہ کے ہمراہ ڈرائیور کے ساتھ پارلر چلی گئی۔
بارات کا ٹائم چونکہ رات کو آٹھ بجے تھا اس لیے سارا دن تقریبا آرام کرتے گزرا۔
تیار ہونے کے بعد سعد کو کال کر کے آنے کا کہا ۔
سعد عروبہ اور مزیبہ کو ہال ڈراپ کر کے خود شہرینہ کو
گھر چھوڑنے چلا گیا کیونکہ اس نے حمزہ کی بارات کے ساتھ گھر سے آنا تھا۔
ہال میں رش بڑھ چکا تھا ۔سعد واپس آکر مزیبہ کو ڈھونڈھنے لگا۔
“ماما ۔۔۔بیا نظر نہیں آرہی۔۔۔۔”
وہ ان کے قریب آکر آہستگی سے بولا۔
“خیر تو ہے ۔۔۔ابھی تو اس کے ساتھ آئے ہو اور یاد بھی ستانے لگی۔۔۔”
مریم بیگم نے اسے چھیڑا تو وہ جھینپ گیا۔
“ماما ۔۔۔۔آپ بھی۔۔۔”
سعد کو ہنسی آگئی۔
“ایسے کہو یو ٹو بروٹس۔۔۔۔”
مریم بیگم کی بات پر اس کا قہقہ بےساختہ تھا ریم بیگم نے دل ہی دل میں اس کی بلائیں لیں۔
“برائیڈل روم میں ہو گی عروبہ کے ساتھ۔۔۔”
سعد سنتے ہی ان کے ماتھے پر پیار کرتا مسکراتا ہوا چلا گیا۔
دروازہ ناک ہونے کی آواز پر مزیبہ نے جاکر کھولا تو آگے
سعد کو ایستادہ دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز ہوئی جو بھی
ہو چکا تھا اس کے باوجود دل سے اس کی محبت کھرچ نہیں سکی تھی ۔
سعد اسے یوں گم سم دیکھ کر اس کی طرف
جھکا۔
“میری جان آپ کا ہی ہوں ۔۔۔دل بھر کے دیکھ
لو۔۔۔”
سعد کی گھمبیر سرگوشی پر وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوئی ۔
چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھا ۔
لب بھینچےاپنے آپ کو کنٹرول کرتی صوفے پر جا بیٹھی۔
“اندر ہی رہنے کا ارادہ ہے ۔۔”
اسے یوں جم کے بیٹھا دیکھ سعد نے پوچھا تو مزیبہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو عام دنوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“بھابھی کو میں روکا ہے ۔۔۔میں اکیلی نہیں بیٹھ سکتی یہاں۔۔”
اس سے پہلے مزیبہ کوئی جواب دیتی عروبہ نے
کہا۔
“ایک تو تم نے شہرینہ کے علاوہ کوئی دوست نہیں بنائی اور اللہ کا کرم دیکھو ننھیال میں کوئی
لڑکی نہیں۔
۔لے دے کہ میری بیگم بچی ہیں جو تمھیں یہاں کمپنی دے رہی ہے اور میں بےچارہ۔۔”
سعد منہ کے زاویے بگاڑتا انہیں ہنسانے کو بولا۔مگر مزیبہ کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
عروبہ اور سعد نے ایک دوسرے کو دیکھامزیبہ کا رویہ سمجھ سے باہر تھا ۔
کسی سے کچھ کہتی بھی نہیں تھی ۔
گیارہ بجے رخصتی عمل میں آئی ۔اگلے دن حمزہ کا ولیمہ اور شہرینہ کی رخصتی تھی ۔
دو دن یوں ہی افراتفری میں گزر گئے ۔اور فہد کے ولیمے کا دن آن پہنچا۔
“تم نے آج پارلر نہیں جانا۔۔۔۔”
اسے گھر میں دیکھ کر سعد نے قدرے حیرت سے پوچھا
کیونکہ وہ تمام فنکشنز میں عروبہ کے ساتھ پارلر گئی تھی ۔
“موڈ نہیں تھا۔۔”
مزیبہ سیٹ کا ڈبہ کھولتے بےدلی سے بولی۔
“کیوں ۔۔۔طبعیت ٹھیک ہے تھاری۔۔۔۔”
سعد فکرمندی سے قریب آکر بولا۔
آپ ہر وقت میرے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں ۔۔۔۔کوئی اور کام نہیں آپ کو۔۔”
مزیبہ کا تلخ لہجہ اور اونچی آواز سعد کو ٹھٹھکا گئی۔
اتنے مہینوں میں پہلی بار اس کا یہ روپ دیکھ رہا تھا اور سمجھنے سے قاصر تھا۔
چند لمہے ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا جو اب غصے میں جیولری کا ڈبہ اٹھا کر پوری قوت سے دیوار پر مار چکی تھی شاید اپنا غصہ کم کرنے کے لیے۔
سعد اس کے قریب آیا اور بازو سے تھام کر اسے اپنے سامنے کیا۔
“کیا پرابلم ہے تمھارے ساتھ۔۔۔۔کچھ بتاو گی تو مسئلہ حل ہو گا یا مجھے الہام ہو گا”
سعد کا لہجہ تلخ تھا۔
مزیبہ نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اس سے بازو چھڑوایا ۔
“کوئی مسئلہ نہیں میرے ساتھ ۔۔۔آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔”
اس کی سائیڈ سے نکلتی وہ صوفے پر جابیٹھی۔
اسے لمحے دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
سعد نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔
“بھائی۔۔۔وکیل نے کچھ پیپرز بجھوائے ہیں کہ رہے تھے کہ سائن کروا کے کال بجھوا دیجیئے گا۔”
فہد نے فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بتایا اور واپس چلا گیا۔
سعد نے وہیں کھڑے فائل کھول کے پیپرز کا جائزہ لیا۔سب پیپرز مکمل تھے ۔مطمئن ہو کر وہ
فائل لیے مزیبہ کے پاس آیا جو فہد کی بات سن چکی تھی۔
“موڈ ٹھیک ہوجائے تو ان پیپرز پہ سائن کر دینا۔۔۔کل واپس بجھوانے ہیں ۔۔۔”
فائل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر آف موڈ کے ساتھ باہر نکل گیا۔
“تو جانے کا وقت آ ہی گیا۔۔۔”
آنسو اس کی آنکھوں سے ساون بھادوں کی برسات کی طرح برسنے لگے۔
وہ واشروم میں بند ہوگئی ۔جی بھر کر رونے کے بعد ہاتھ منہ دھو کر باہر آئی تو سعد اپنے کپڑے نکال رہا تھا۔
اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر تیزی سے قریب آیا۔
“روئی کیوں ہو۔۔”
وہ تڑپا تھا۔
“آنکھوں میں لینز کی وجہ سے انفکشن ہوگیا ہے۔”
وہ بخوبی اسے ٹال گئی ۔
“ڈاکٹر کے پاس لے چلوں۔”
لہجے سے بےتابی جھلک رہی تھی۔
“ضرورت نہیں ۔۔۔آئی ڈراپس ڈالوں گی تو آرام آجائے گا۔۔”
تیکھے لہجے میں جواب دے کر وہ تیار ہونے
لگ گی۔
سعد گہرا سانس لیتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
سوچ رہا تھا کہ شادی کے ہنگاموں سے فارغ ہو کر آرام سے بات کریں گا۔
“دلبرجانی۔۔۔۔کل سے سزا دے رہی ہو۔۔۔۔اب بس کرو۔۔۔۔”۔
اف خبردار آپ نے مجھے ایسے فضول القابات دئے تو۔۔۔مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔”
شہرینہ نے منہ بنایا۔
ولیمے کے اختتام پر وہ سب واپس آچکے تھے ۔
“اچھا تو میری چھمک چھلو۔۔۔۔خود بتا دو کیا کہو پیار سے۔۔۔”
فہد گھمبیر لہجے میں کہتا قریب ہوا تو وہ تیزی سے بیڈ پر چڑھ کر کونے پر چلی گئی ۔فہد نے منہ کھول کر اس حرکت ملاحظہ کی۔
“دور رہ کہ بات کرو ۔۔۔۔”
“کیوں جی۔۔۔۔۔اس لیے تو رخصتی نہیں کرائی میں نے۔۔۔کل بھی تم سو گئی تھی۔۔”
فہد ناراض ہوا۔
“اچھا تو آدھی رات کو جگایا کس نے تھا۔۔”
لو اگر جگاتا نہیں تو لہنگے کا ستیاناس ہو جاتا۔۔۔۔۔۔۔”
“تو اس کے بعد۔۔۔”
۔”اس کے بعد کیا ۔۔۔۔۔بس تمھیں دیکھا تھا اور کیا۔۔۔۔۔”
“اسے دیکھنا کہتے ہیں “
شہرینہ نے آنکھیں نکالیں ۔
“ہاں تو۔۔۔شرافت کا تو زمانہ نہیں ۔۔۔۔ایک تو کل میں نے تمھیں چھوڑ دیا ۔۔۔اسی لیے آج تم کچھ زیادہ اچھل رہی ہوں۔۔۔۔”
اس کے معنی خیز انداز پر شہرینہ کا رنگ اڑا۔
“فہد آپ نے کہا تھا پیپرز تک آپ مجھے تنگ نییں کریں گے۔۔۔۔۔۔آپ نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔”
شہرینہ کو صدمہ ہی لگ گیا ۔
اس دوران فہد چمپ لگا گر اسے پکڑ چکا تھا۔
“سویٹی میں اپنے وعدہ پر قائم ہو۔۔۔۔بس تھوڑی بہت شرارت کا حق تو دے دو۔۔۔۔”
اس کے گھمبیر لہجے پر شہرینہ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔
فہد نے اس کا ہاتھ تھام کر احتیاط سے نیچے اتارا
اور اپنے سامنے کھڑا کیا شہرینہ کی بولتی بند ہو چکی تھی۔
“کیا میں اپنی محبت کا اظہار کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں۔۔۔۔”
فہد کا انداز اتنا دلکش تھا کہ وہ سرخ ہوتی نظریں چرا گئی اور فہد قربان ہوتا اس پر اپنے جزبات لٹانے لگا۔
“عروبہ آپ پہلے پیکنگ کر لیں۔۔۔۔صبح جلدی نکلنا ہے۔”
“پلیز ابھی میں بہت تھکی ہوئی ہوں۔ ایک گھنٹہ ریسٹ کر لو پھر کرلو گی ۔۔”
عروبہ کی تھکی تھکی آواز سن کر اس کے قریب آگیا۔
“کیا ہوا ۔۔؟
۔اس کے ماتھے کو چھو کر دیکھا جو گرم ہو رہا تھا۔
“آپ کو بخار ہورہا ہے۔”
ٹمپریچر فیل ہو تو حمزہ نے تشویش سے کہا ۔صبح ان کی فلائٹ تھی ہنزہ جانے کے لیے۔
“میں نے میڈیسن لی ہیں ۔۔۔۔کچھ دیر میں آرام آجائےگا۔۔۔”
اس کی پریشان شکل دیکھ کر عروبہ نے تسلی دی۔
“دیکھ لیں یہ نہ ہو وہاں جاکر آپ کی طبعیت مزید خراب ہو جائے ۔۔”
“آپ کو اپنے پروگرام کے خراب ہونے کا ڈر ہے”
اس نے تیوریاں چھڑھائیں۔
“آپ کا دماغ خراب ہے ۔۔۔پروگرام کیا آپ کی صحت سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔”
حمزہ کو اچھا نہیں لگا اس کا یوں کہنا۔
“سوری۔۔۔”
جلدی سے دونوں کان پکڑ کر عروبہ نے آنکھیں پٹپٹائی تو دوسرے ہی لمحے اس کا رنگ سرخ
ہوا ۔
حمزہ اس کے انداز پر نثار ہوتا اس کے چہرے پر اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔
فجر کے ٹائم سعد کی آنکھ کھلی تو کمرہ خالی دیکھ کر حیران ہوا۔
عموما مزیبہ اس وقت نماز پڑھ رہی ہوتی تھی ۔سعد نے اٹھ کر واشروم دیکھا جس کا دروازہ ہلکا سا کھلا تھا اس نے آگے بڑھ کر دروازہ دھکیلا واشروم خالی تھا۔
سر جھٹک کر وضو کرنے لگ گیا ۔نماز سے فارغ ہو کر اسے دیکھنے نیچے اتر آیا۔
کچن خالی تھا ادھر ادھر دیکھ کر سیدھا لان میں آیا مگر وہ ہوتی تو نظر آتی ۔۔
“کرم دین ۔۔۔مزیبہ واک کرنے کے لیے گئی ہیں؟”
سعد چوکیدار کے پاس آیا
کیونکہ اکثر فجر پڑھ کر وہ قریب موجود پارک میں واک کے لیے جاتی تھی۔
“چھوٹے صاحب۔۔۔بی بی تو رات کو بیگ لے کر گئی ہیں ۔۔۔”
اس نے سعد پر بم گرایا۔
“بیگ لے کر۔۔۔ کونسا بیگ۔۔۔۔کہاں گئی بی بی۔۔۔”
سعد بوکھلا گیا۔
صاحب کالی ٹرالی تھی اور سفید گاڑی آئی تھی انہیں لینے۔۔۔۔ کوئی لڑکی چلا رہی تھی۔”
سعد اس کی بات سن کر پاگلوں کی طرح دوڑتا واپس کمرے میں گیا۔
