Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 4)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 4)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

“تم معاف کیوں نہی کر دیتے اسے ۔۔۔اتنی لمبی سزا کافی نہی اس کے لیے ۔۔۔کتنے سال ہو گئے ہیں اب تو وہ وقت سے پہلی بوڑھا لگنا شروع ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”

افتخار صاحب اس وقت آغا جی کے پاس موجود تھے ۔

مزیبہ کو ڈراپ لر کے وہ واپس ان کے پاس چلے آئے

گھر قریب تھا اس لیے فارغ وقت یہئ گزر جاتا ۔

“میں معاف کر چکا ہو۔۔۔۔۔”۔انھوں نے آرزدگی سے جواب دیا ۔

“یہ کیسی معافی ہے آغا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چودہ سال ہو گئے ہیں تم نے اس کی شکل نہی دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔پوتے پوتیاں تمھارے قد جتنے ہو گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بھی تم نے صاف انکار کر دیا اسے بتانے سے ۔۔۔۔۔۔۔”انھیں آغا کے انداز سے جھنجھلاہٹ ہونے لگی تھی ۔

“افتخار یار میرا دل نہی کرتا اس کی شکل دیکھنے کو۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے الفآظ کی کاٹ آج بھی میرا دل کاٹتی ہے۔۔۔۔۔۔”

ان کی آنکھیں بھر آیئ تھی اس درد بھرے زکر سے

“آغا بچوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ماں باپ کا کام درگزر کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “

“وہ کون سا سکھی ہے جب بھی ملتا ہے میری منتیں کرتا ہے تیرا پتہ مانگنے کے لیے اور ہر بار تیری دی گئی قسم کی وجہ سے اسے مایوس کردیتا ہوں۔۔۔۔۔”۔

انھوں نے آغا کو دیکھتے اپنی بات مکمل کی خو خلا میں نہ جانے کیا تلاش کر رہے تھے ۔

“میں کوشش کرو گا ۔۔۔”۔ان دھیمی آواز ابھری ۔

“صبح فہد اور عروبہ ملے تھے مجھے ۔۔۔چھٹی کے بعد وہ لوگ ڈراپ کرنے آیے گے اسے ۔۔۔۔۔۔”تھکے ہوے انداز میں اٹھتے ہوے بولے تو انھوں نے چونک کے دیکھا ۔۔

“تم نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہے ۔۔۔”ان کے انداز میں سرد مہری اتر آئی ۔۔

“اب تجھے غیر پر زیادہ بھروسہ ہے تو بتہ دیے میں فون کر کے منہ کر دیتا ہو اسے ۔۔۔۔۔”۔

افتخار صاحب آغا کی ہٹ دھرمی دیکھ کر غصے سے بولے ۔۔۔تو آغا خاموش ہو گئے ۔

نئی جگہ نیا ماحول تھا ان کی بات درست لگی ۔۔

افتخار صاحب کے جانے کے بعد بےچینی سے ٹہلتے رہے زرینہ نے ایک دو بار کھانے کا پوچھا مگر انھوں نے انکار کر دیا

پرانے زخم دوبارہ ادھڑ گئے تھے جن کی تکلیف رگوپے میں سرائیت کر گئی تھی ۔

بےچینی حد سے سوا ہوئ تو اینٹی ڈپریشن کھا کر لیٹ گئے

“پاپا آج پھر آپ کا بی پی اتنا ہائی ہے ۔۔۔۔۔”۔

۔میٹنگ کے دوران جنید صاحب کی طبیعت خراب ھونے پر انہیں فوری طور پر ہاسپٹل لے آیا تھا جہاں ایمبرجنسی میں فوری ٹریٹمنٹ دیا گیا تو جاکر ان کی طبعیت سنبھلی

“میں کیئ بار آپ سے پوچھ چکا ہو بابا۔۔۔۔۔۔ آپ ہر بار انکار کر دیتے ہیں آج بھی ڈاکٹر کہ رہا ہے آپ کو ڈیپریشن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔نہ کاروبار میں کوئی پروبلم ہے اور نہ ہی گھر میں کوئی مسلئہ پھر ایسی کیا بات ہے جو گھن کی طرح آپ کو اندر ہی اندر کھا ری ہے ۔۔۔”

آج سعد کا انداز خاصا سخت تھا ہر بار کی طرح آج ان کے انکار کو کسی خاطر میں نہی لایا تھا ۔

“جب تک مجھے نہی بتاہیں گے میں آپ کو ڈسچارج نہی کروائو گا ۔۔۔۔۔۔۔”

سعد کا انداز حتمی تھا جنید صاحب کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ۔سعد ہکا نکا رہ گیا پر نرم نہی پڑا

“تمھارے دادا کو ناراض کر دیا تھا میں نے ۔۔۔۔۔”

سر جھکا کر گویا اعتراف کیا تھا انھوں نے ۔سعد حیرانگی سے انھیں دیکھتا رہ گیا ۔

اتنے سالوں میں کبھی دادا کے متعلق کوئی بات نہی ہوئ تھی ۔دادی کے سالانہ پی ہمیشہ دیگیں بنوا کر ختم کے بعد غریب لوگوں میں بانٹ دیتے ۔۔ان کے ذہن میں تو یہ تھا کہ دادا بھی اسں دنیا میں نہی

وہ کیسے اپنے گناہ کا اعتاف کرتے جو غصے میں ان سے سرزرد ہوا ۔۔آج تو وہ شاید یہ بوجھ اٹھائے تھک گئے تھے ۔

مزیبہ آدھے گھنٹے سے گیٹ پہ کھڑی ان کا انتظار کر رہی تھی گھبراہٹ اس کے چہرے سے ہویدا تھی ۔۔

اور یہ گھبراہٹ تب کچھ اور بڑھ گئی جب اس نے بیگ میں موبائل ڈھونڈھا اور اسے یاد آیا کہ موبائل

صبح چارجنگ پہ لگا گھر ہی چھوڑ آئی ہے

وہ روہانسی ہوئی آس پاس والوں کو گزرتے دیکھ رہئ تھی ۔نیے نمبر ہونے کی وجہ سے کوئی یاد بھی نہی تھا کہ کسی سے فون لے کر ہی آغا جان کو کال کر لیتی ۔

“فہد بیٹا آپ نے ابھی تک مزیبہ کونہیں لیا ۔۔۔۔۔۔”فہد نے کال اٹینڈ کی تو آگے سے افتخار صاحب کی تشویش زدہ آواز ابھری

۔انہیں آغا فاروق کا فون آیا تھا جو۔ پریشان ہو رہے تھے ۔

“میں ابھی یونیورسٹی میں ہی ہو ۔۔۔میرے کچھ نوٹس رہ گئےتھے وہ کاپی کروا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔مزیبہ کو میں نے گیٹ پہ جاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔میں بھی بس کام ختم کر کے جانے ہی لگا تھا کہ آپ کی کال آگئ ۔۔۔۔”۔

وہ چلتے چلتے انھیں انفارم کر رہا تھا۔

عروبہ پہلے ہی شہرینہ کے ساتھ واپس جا چکی تھی ۔بات کرتے کرتے وہ گیٹ پہ پہنچا تو مزیبہ گھبرائی ہوی کھڑی تھی ۔چہرے پر سراسیمگی پھیلی تھی ۔

“سوری بہنا ۔۔۔۔لیٹ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔”۔

افتخار صاحب کومطمئن کرتا فون بند کر کہ اس سے مخاطب ہوا جو اب رو دینے کو تھی ۔

اسے دیکھ کر سمبھلتی اللہ کا شکر ادا کر کے سر ہلا کر اس کے ساتھ چل پڑی

“تم لوگ بہت چھوٹے تھے جب دادا اور چاچو ناراض ہو کر گئے تھے بلکہ وہ ناراض نہیں ہوے میں نے اپنی بےوقوفی کے ہاتھوں انھیں ناراض کر دیا ۔۔۔۔۔۔”

ہاسپٹل کے بیڈ پہ لیٹے وہ گھمبیر آواز میں سعد سے مخاطب تھے ۔

“پاپا ایسی بھی کیا خطا ہو گئی جو دادا جی اتنا شدید ناراض ہوئے کہ کبھی واپس مڑ کے نہی دیکھا ۔۔۔۔”

سعد نے حیرانگی سے پوچھا

“خطا نہیں بیٹا گناہ ہو تھا تمھارے باپ سے ۔۔۔۔۔۔۔”۔

وہ بات کرتے جیسے ماضی میں کھو گئے ۔

جنید اور دانیال دو ہی بھائی تھے ۔جنید بڑا جبکہ دانیال چھوٹا تھا ۔

دانیال زیادہ تر بیمار رہتا تھا اس لیے ماں اور باپ دونوں کی توجہ زیادہ تر دانیال کی طرف رہتی تھی اور یہ بات جنید کے دل میں ماں باپ کے خلاف گرہ باندھ گئی ۔

دونوں بے جب کاروبار سمبھالا تو ہر ماں باپ کی طرح انھوں نے بھی دونوں نے بھی ان کہ سر پر سہرہ سجانے میں دیر نہیں کی ۔

ان کی شادی کہ کچھ ہی عرصے بعد ہارٹ اٹیک سے ماں کی ڈیتھ ہو گئ۔

جو سرد جنگ جنید نے بھائی سے جاری رکھی ہوئی تھی وہ ماں کے جانے کے بعد کھلم کھلا سامنے آگئی ۔

وہ اکثر ہی دانیال سے منہ ماری کرنے لگ جاتے پر فاروق صاحب نرمی سے ٹوک کر انہیں اپنی غلطی کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ۔

جنید کے تین بچے تھے سعد پانچ سال کا جبکہ عروبہ ایک سال اور فہد چند ماہ کا تھا جبکہ دانیال کی ایک ہی بیٹی تھی جو تین سال کی تھی ۔

انہی دنوں میں انہیں خاصا بڑا کنٹریکٹ ملا تھا دانیال دن رات ایک کیے اس کو کمپلیٹ کرنے کے لیے ورکرز کے ساتھ بزی تھا اپنی نگرانی میں سارا مال تیار کروا رہا تھا ۔

اس دن سب کافی دنوں کے بعد رات کے کھانے پر موجود تھے جب فاروق صاحب نے دانیال کو مخاطب کیا تھا ۔

“تم نے تو اپنا بھی ہوش بھلا دیا ہے کام کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔جنید کو دیکھو وہ اپنے ٹاہم پہ گھر آجاتا ہے اور تم آدھی آدھی رات تک فیکٹری میں رہتے ہو ۔۔۔۔”

کافی دن اس کی روٹین مانیٹر کرنے کے بعد آج اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

“بابا جان کنٹریکٹ خاصا بڑا ہے مال اگر ٹاہم پہ ڈلیور نہئ کیا تو فیکٹری کو خاصا نقصان ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔”

پلیٹ میں سالن ڈالتے انہیں آگاہ کرتا سر جھکا کر کھانا کھانے لگ گیا ۔

دن کو بھوکا رہنے کی وجہ سے بھوک خاصی چمک رہی تھی

“اس طرح تم اپنی طبیعت خراب کرلو گے کچھ دن جنید کام دیکھ لے گا تم آفس دیکھ لینا ۔۔۔۔۔۔”

ان کا کہنا غضب ہو گیا ۔جنید خاصا غصے سے کرسی دھکیلتا کھڑا ہوا ۔

“آپ کیا کہنا چاہتے ہیں بابا جان ۔۔۔میں کیا سارا دن فارغ رہتا ہو۔۔۔اور آپ کا یہ لاڈلا فیکٹری اپنے کندھوں پہ رکھ کہ چلا رہا ہے ۔جس کی تھکاوٹ کا آپ کو ہر پل احساس رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔”

غصے میں اس کی آواز خاصی اونچی ہو گئی تھی

“جنید تم جانتے ہو کس لہجے میں بات کر رہے ہو باپ سے ۔۔۔۔۔میں سب دیکھ رہا ہو ں ۔۔۔۔۔۔۔پچھلے ایک ماہ سے دن رات کا فرق بھلائے دانیال مصروف ہے تم آرام سے تین چار بجے گھر آجاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر میں نے کاروبار تم لوگو ں کے حوالے کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر چیز سے غافل ہو گیا ہو ۔۔۔۔۔سب کچھ نظر آرہا ہے جو بھی ہو رہا ہے ۔۔۔۔”

غصے میں ان کی آواز کانپ رہی تھی ۔

دانیال بار بار انہیں چپ کروانے کی کوشش کر ریا تھا مگر ان ایسا کوئی ارادہ نہی تھا ۔

“آپ جیسا بے حس باپ نہی دیکھا میں نے ۔۔۔۔۔بچپن سے آج تک صرف دانیال کا خیال کرتے آئے ہیں ۔۔۔دانیال کو یہ پسند ہے ۔۔۔۔دانیال ایسا ہے دانیال ویسا ہے ۔۔۔۔ان سب میں میں کہا ہو۔۔۔۔بزنس کو نیشنل سے انٹرنیشنل لیول تک بڑھایا ۔۔۔۔

آج لاکھوں کے بجائے کروڑوں کا کاروبار ہے ۔۔۔۔مگر فکر صرف دانیال کی ۔۔۔کبھی کبھی شدت سے دل چاہتا ہے کاش آپ میرے باپ نہ ہوتے یا پھر یہ دانیال میرا بھائی نہ ہوتا ۔۔۔۔”

“بھائی پلیز چپ کر جائیں۔۔۔۔”

دانیال دونوں ہاتھ جوڑے ان اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔

“بند کرو اپنے یہ ڈھکوسلے ۔۔۔خوب جانتا ہو میں تمھیں ۔۔”۔اس کا لہجہ زہر اگل رہا تھا۔

“تم پیچھے ہو جاو دانیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی تو دیکھو کتنا زہر بھرا ہے اس کے اندر ۔۔۔۔۔۔۔جس بزنس کی تم بات کر رہے ہو اسے کھڑا کس نے کیا ۔۔۔تمہیں اس قابل کس نے بنایا کہ تم یہ سب سمبھال سکو۔۔۔۔”

ان کا انداز جارحانہ تھا غصے سے ان کا چہرہ تپ رہا تھا ۔

“یہ سب کچھ جو آج ھے یہ میری محنت کا نتیجہ ہے ۔۔آج آپ کے رویے کے بعد میں سمجھ چکا ہوں آپ صرف دانیال کے باپ ہیں ۔۔۔۔اس بزنس میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی میں دانیال کو دینے کا رودار نہیں۔۔۔آپ بھی گھر بیٹھ کرچپ چاپ زندگی گزاریں۔۔۔”

ان کو بازو سے پکڑ کر ہلاتے ان کے سینے پر انگشت شہادت سے دباو ڈال کر اپنی بات مکمل کرکے جھٹکے سے بازو چھوڑ کر منہ سے کف اڑاتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

پیچھے لاونج میں اتنا سناٹا تھا کہ ایک دوسرے کی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔سب ہی اپنی جگہ شاک میں تھے