Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 3)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 3)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

حمزہ ان سے چار سال بڑا ہونے کی وجہ سےالگ تھلگ تھا ۔

اس کا مزاج بھی خاصا سنجیدہ تھا اس لیے ان سب کی کبھی ہمت نہی ہوئی تھی اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی۔

اس کے برعکس سعد کو تینوں مل کر خوب تنگ کرتے تھے ۔

“تم نے وعدہ کیا تھا تم شرط پوری کرو گی ۔۔۔”شہرینہ اس کے سر پر موجود تھی ۔

“تم لوگ پاگل تو نہی ہو گئے ۔حمزہ بھائی مجھے کچا چبا جائے گے ۔۔۔۔۔۔کوئی اور ٹارگٹ دو ۔۔۔۔”

عروبہ نے صاف انکار کیا

“سوری ہم ٹارگٹ چینج نہی کریں گے ۔۔۔۔۔تمھیں شرط ماننے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔ویسے بھی جو بھی شرط ہارتا اس نے ہی ٹارگٹ اچیو کرنا تھا ۔۔”

فہد نے صاف انکار کیا ۔

“ویسے تو تم بہت بہادر بنتی ہو ۔۔۔۔۔۔اتنا سا کام کرتے ہوئے تمھارے ھاتھ پاوں پھول رہے ھیں۔۔۔”

شہرینہ نے اسے اکسایا

“تم لوگ مجھے کوی اورٹارگٹ دو ۔۔۔مجھے نہی کرنا یہ ۔۔۔”۔عروبہ انکار کرتی اٹھ گئی ۔

“سوچ لو ۔۔۔۔۔اگر تم نے یہ شرط پوری نہ کی تو پورا مہینہ ہم دونوں سے بات نہی کرنی ۔۔۔۔۔یاد ہے نہ کیا طے ہوا تھا ۔۔”۔

شہرینہ نے یاد دلایاتو وہ لب بھینچے لان میں چکرانے لگی ۔

وہ تو ایک دن ملے بغیر نہی رہتی تھی کجہ کہ ایک مہینہ ۔

فہد کا فون آگیا تو وہ چلا گیا تھا ۔

” اوکے میں تیار ہوں ۔۔۔”

۔عروبہ بےدلی سے بولی ۔

“اوکے ۔۔یاد رکھنا مانگے بغیر واپس مت آنا۔۔۔۔”

۔شہرہنہ نے کہا تو اسے گھور کے دیکھتی پاوں پٹخ کر اندر حمزہ کے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔

ہلکا سا دروازہ ناک کیا اندر سے جواب نہی آیا۔ تو آہستہ سے ہینڈل گمھا کہ دروازہ کھولا تو کمرہ خالی دیکھ کر شکر ادا کرتی تیزی سے اندر آئی ،

اآگے پیچھے دیکھنے پر اس کی نگاہ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جہاں اس کے والٹ کے پاس ہی گاڑی کی چابی موجود تھی ۔

تیزی سے آگے بڑھ کر چابی اٹھائی تو ہاتھ لگنے سے والٹ نیچے گر گیا ۔

” اف کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔۔جھک کر والٹ اٹھاتے بڑبرائی ۔۔۔”۔اسی اثنا میے واش روم کا دروازہ کھلا اور حمزہ باہر آیا

” تم ۔۔۔۔یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔۔”

۔اس کے ہاتھ سے والٹ جھپٹتا آگ بگولہ ہوگیا ۔۔

” میں ۔۔۔۔وہ ۔۔۔”۔

عروبہ کو سمجھ نہ آئی کیا بولے اس سے تو ویسے ہی بہت ڈر لگتا تھا ۔

” کن آوارہ لڑکیوں کے ساتھ رہتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔جو ایسی گھٹیا حرکتیں کرنے لگ گئی ہو۔۔۔۔۔تمھیں شرم نہی آتی اس طرح چوری کرتے ہوے ۔۔۔۔۔”۔

حمزہ دھاڑا ۔

” حمزہ بھائی میں صرف ۔۔۔۔۔”

۔عروبہ نے کہنا چاہا پر حمزہ کا کھینچ کے مارا گیا تھپڑ اس کا منہ بند کروا گیا۔

“خبردار جو جھوٹ بولا ۔۔۔۔بہت اچھی طرح جانتا ہو تم جیسی گھٹیا لڑکیوں کو۔۔۔۔”۔

۔اس کے تھپڑ نے اتنی تکلیف نہی دی تھی جتنی اس کے الفاظ نے شاک پہنچایا تھا۔

وہ منہ پہ ہاتھ رکھے ایک دم پلٹی ۔

گاڑی کی چابی پوری قوت سے دیوار پہ ماری تھی اور دروازہ کھول کر دوڑتی باہر آئی اسے روتا دیکھ کر شہرینہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تو اس کے پیچھے لپکی ۔۔

“عروبہ رکو۔۔۔۔۔۔عروبہ کیا ہوا ۔۔۔۔۔کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔”

شہرینہ اس کے پیچھے آئی مگر وہ وہ رکے بغیر روتی ہوئی گیٹ سے نکل گئی ۔

“اف کیا فضول بول گیا اس کو ۔۔۔۔۔۔۔صبح کا سارا غصہ اس پہ نکل گیا ۔۔۔۔۔۔”

حمزہ سر پہ ہاتھ پھیرتا بےچینی سے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔صبح ایک کام سے جاتے ہوے ایک لڑکی اور دو لڑکوں کے ہاتھوں سٹریٹ کرائم کآ شکار ہوا تھا۔

“آپ نے کچھ کہا عروبہ کو ۔۔۔۔۔۔وہ اتنی بری طرح سے رو رہی تھی ۔۔۔۔”

۔شہرینہ نے اسے یوں جاتا دیکھا تو پلٹ کر تیزی سے حمزہ کے کمرے میں آئی تھی جس کا دروازہ ہنوز کھلا تھا ۔۔۔

“بتایں مجھے ۔۔۔۔”۔

“شٹ اپ ۔۔۔۔کس طرح بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔”۔اس کے انداز پر حمزہ کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا ۔

“اچھا سوری ۔۔۔”۔وہ فورا بولی ۔۔

“وہ میرا والٹ چوری کر رہی تھی میں نے دیکھ لیا ۔۔۔۔گاڑی کی چابی بھی تھی اس کے ہاتھ میں ۔۔۔۔۔”

۔حمزہ کا انداز خاصا سرد تھا ۔

آنکھوں میں ناگواری ہنوز موجود تھی ۔

“چوری ۔۔۔۔او مائی گاڈ ۔۔۔بھائی ایسا کچھ نہی تھا۔۔۔ہماری شرط لگی تھی جو بھی ہارتا آپ کے کمرے سے اسے گاڑی کی چابی لانی تھی ۔۔۔اور عروبہ شرط ہہار گئی اسی کیے وہ گاڑی کی چابی لینے آئی تھی ۔اور آپ حمزہ بھائی ۔۔۔آپ سے یہ امید نہی تھی ۔بلفرض آپ نے اس کے ہاتھ میں والٹ دیکھ بھی لیا تھا تو آپ اس سے پوچھتے تو سہی ۔۔۔یوں ڈانٹنے کی کیا تک تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔۔

شہرینہ بغیر رکے تیز تیز بولی اور دوسری طرف حمزہ سن کھڑا رہ گیا ۔۔اپنے الفاظ شدت سے کانوں میں گونج رہے تھے ۔

پھر کتنے ہی دن حمزہ نے شہرینہ کے ذریعے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی ۔گھر کا بھی چکر لگایا مگر بےسود ۔

انہی دنوں میں ہائیر اسٹڈیز کے لیے حمزہ کا ایڈمیشن لندن کی یونیورسٹی میں ہو گیا اور وہ تین سالوں کے لیے لندن چلا گیا

۔بیچ میں ایک بار ایک ویک کے لیے اس کا چکر لگا تھا مگر عروبہ سے ملاقات نہ ہو سکی ۔

بھیگی آنکھوں والی لڑکی نے اس کا سکھ چین چھین لیا تھا ۔آج صرف اسے ایک نظر دیکھنے کی خاطر گھر پہنچتے ساتھ سب سے مل کر گاڑی اڑاتا یونیورسٹی پہنچا تھا ۔

مزیبہ سارا سامان کھولے جھنجھلائی ہوئی تھئ۔کارگو کیا سامان آج ہی پہنچا تھا اور ملازم مطلوبہ کمروں میں کارٹن رکھ کے جاچکے تھے

“بی بی۔۔۔۔آپ مجھے بتائیں کون سی چیز کس جگہ رکھنی ھے ۔میں رکھتی جاتی ہو ۔۔۔”۔

زرینہ اس کی اتری صورت دیکھ کے بولی تو بیا نے ایک نظر سامان کا جائزہ لیا

“۔پہلے ایک کپ چائے کا لاو اور ساتھ میں سینڈوچ بھی ۔خالی پیٹ سے مجھ سے کام نہی ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

بیا بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے بولی تو زرینہ اثبات میں سر ہلاتی کچن کی جانب چل دی ۔

اغا جی اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے۔

شام تک آدھے کارٹن کھول کر وہ زرینہ کی مدد سے سامان سیٹ کر چکی تھی۔

صرف آغا جان کی اسٹڈی اور ان کے روم کا سامان رہ گیا تھا ۔جو زیادہ ضروری نہی تھا اس لیے وہ کل پے چھوڑ چکی تھی ۔

“بیا بچے میرا لکڑی کا باکس نہی نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔

آغا جی اسے ڈھونڈھتےکچن میں آئے تو وہ ان کی آواز سن کر پلٹی۔

“ابھی نہیں نکلا آغا جی۔۔۔۔اگر زیادہ ضروری ھے تو رات کے کھانے کے بعد آپ کا سامان کھول لو گی۔۔۔۔۔۔۔۔فلحال آپ یہاں بیٹھے اور میرا بنایا گیا سوپ انجوئے کریں ۔۔۔چیک کر کے بتائیں کیسا بنا ہے۔”۔

بیا دونوں ہاتھوں سے انہیں تھامے ڈائنیگ ٹیبل کی کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولی اور سوپ باول میں نکال کر ان کے سامنے رکھا ۔ا

انھوں نے مسکرا کر ایک نظر بیا کے چمکتے چہرے پر ڈالی اور سوپ پینے لگے ۔

“واہ بیٹا جی مزہ آگیا ۔۔بہت مزیدار سوپ بنایا ہے آپ نے ۔۔”۔سوپ پیتے ہی آغا جی نے فوری تعریف کی تھی ۔

“کل سے یونیورسٹی جانا ہے ۔۔۔رات میں تیاری کر لینا ۔افتخار خود آئے گا آپ کو لینے ۔۔۔۔۔”۔

سوپ ختم کر کے انھوں نے قریب بیٹھی بیا کو کہا ۔

“اوکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔وہ سر ہلاتی ان کے سامنے سے برتن اٹھاتی سنک کی طرف بڑھ گئی ۔

زرینہ بی آپ بھی سوپ پی لیں ورنہ ٹھنڈا ہو گیا تو مزا نہی آئے گا ۔۔۔۔بیا نے ان کو مخاطب کیا اور آغا جی کو بازو دے پکڑے لان میں لے آئی کچھ دیر واک کرنے کے بعد لان میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔

ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جو اعصاب پر اچھا اثر ڈال رہی تھی ۔

اگلے دن صبح تیار ہو کر زرینہ کو کام سمجھا رہی تھی جب۔ گیٹ پر ہارن سنائی دیا ۔جلدی سے آغا جی کو خدا حافظ کہتی بیگ آٹھا کر باہر آگئی

“اسلام و علیکم ۔۔۔۔ “۔گاڑی میں بیٹھتے ہی سلام جھاڑا ۔

“وعلیکم اسلام گڑیا رانی ۔۔۔۔۔”۔شفقت بھرے انداز میں انھوں نے جواب دیا ۔ان کے گڑیا رانی کہنے پر وہ مسکرائی

سارا رستہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے یونیورسٹی پہنچ گئے ۔گاڑی پارک کر کے آفتخار صاحب کی سربراہی میں سرجھکائے گیٹ کی طرف چل پڑی۔

“گریٹ دادا جی ۔۔۔”۔پرجوش سی آواز نے افتخار صاحب کا تعاقب کیا تھا ۔

وہ وہی سے پیچھے پلٹے بیا سے کچھ فاصلے پر فہد عروبہ کر ساتھ کھڑا تھا ۔ ان کو رکتا دیکھ کر بیا بھی رک چکی تھی اور اب قریب آتے دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔

“گریٹ دادا جی ۔۔۔۔۔صبح صبح آپ کے درشن ہو گئے ۔۔۔۔آج کا دن خوشگوار گزرنے کے چانسز بڑھ گئے ہیں ۔۔۔۔”۔ان سے گلے لگے فادی نان سٹاپ شروع ہو چکا تھا ۔

“اچھا اگر ایسی بات ہے تو میں روزانہ آجایا کرو گا درشن کروانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔اسے اس کر انداز میں جواب دیتے ہنس دیئے۔

“ان سے ملو یہ میری نواسی پلس پوتی مزیبہ ھیں پیر سے بیا کہتے ہیں ۔اور مزیبہ بیٹا آپ کی طرح یہ بھی میرے پوتا پوتی ہیں ۔۔۔یہ فہد ہے اور اس کی بہن عروبہ ۔۔۔۔۔۔۔”۔تینوں کا تعارف کروایا تو بیا آگے بڑھ کر عروبہ کے گلے لگ گئی ۔

یہ ناانصافی ہے اس سے تو گلے ملی ہیں اور مجھے خالی سلام ۔۔۔۔۔۔۔”۔فادی چھوٹے بچے کی طرح منہ بسور کر شرارت سے بولا ۔

“تم سے میں گلا ملا ہو یہ ہی کافی ہے ۔۔۔۔”۔انھوں نے اسے چھیڑا ۔۔

“فادی تم۔ مجھے مل کر میرا کام آسان کر چکے ہو ۔۔۔۔بیاکا لاسٹ سیمیسٹر ہے ایم بی اے کا ۔۔۔اسے کلاس دکھا دو اور چھٹی کے وقت مجھے فون کر دینا میں ڈرائیور بجھوا دوں گا ۔۔۔۔۔”۔اس کے کندھے کو تھپکتے ہوے بولے ۔

“او ہو آپ ایڈریس میسج کر دیں ہم چھوڑ دیں گے اسی بہانے ان کا گھر بھی دیکھ لیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔”۔

عروبہ نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے فادی کو ایڈریس سمجھانے لگے

کچھ دیر بعد فہد اسے لیے کر ڈیپارٹمنٹ کی طرف آیا عروبہ اپنی کلاس کی طرف جا چکی تھی جہاں شہرینہ اس کے انتظار میں بیٹھی تھی

“تم معاف کیوں نہی کر دیتے اسے ۔۔۔۔اتنی سزا کافی نہی اس کے لیے ۔۔۔۔کتنے سال ہو گئے ھیں ۔۔۔۔۔اب تو وہ وقت سے پہلے بوڑھا لگنے لگا ھے ۔۔۔۔۔”۔افتخار صاحب اس وقت آغا جی کے پاس موجود تھے ۔

مزیبہ کو ڈراپ کر کے وہ واپس یہئ آئے تھے ۔۔

گھر چونکہ قریب ہی تھا اس لیے فارغ وقت یہئ گزرتا ۔

زیادہ تر پرانے قصے دہراتے ماضی کے اچھے دنوں کو یاد کرتے وقت گزار لیتے۔