Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 6)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 6)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
اس کی غصیلی آواز سن کر شہرینہ کمرے کی طرف دوڑی ۔
حمزہ اس کی کاروائی ملاحظہ کرتا سنجیدگئ کا لبادہ اوڑھے ایک نظر اس کے جھکے سر کو دیکھتا کھڑا ہوا اور ہونٹ بھینچ کر جانے کے لیے قدم بڑھایے ۔
“میری کٹ کیٹ دے کر جائیں ۔۔۔۔”
عروبہ کی آواز ابھری تو وہ کرنٹ کھا کر پلٹا ۔عروبہ کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی ۔حمزہ کھل کر مسکرایا اور بند مٹھی اس کے سامنے کھول دی ۔
“میں نے نہیں آٹھانی بلکہ آپ نے دینی ہے ۔۔۔”
۔اس کے انداز پر عروبہ تیکھی آواز میں بولی تو حمزہ کا قہقہ بےساختہ تھا ۔۔
” آپ نے تو ایک ہی چیز مانگی ہے ۔۔دوسری کا کیا کرو۔۔۔”
اس نے ابرو کے اشارے سے توجہ انگوٹھی کی طرف دلائی
“کیا ہوا۔۔۔۔۔بھوت دیکھ لیا کیا ۔۔”۔
شہرینہ ہانپتی ہوئی پہنچی تھی۔
“یہ دیکھو۔۔۔ حمزہ بھائی میرے لیے کٹ کیٹ اور تمھارے لیے رنگ لائے ہیں ۔۔۔”
اس کی شرارت بھری آواز سن کر حمزہ بوکھلایا۔۔
“کیا۔۔جلدی سے دکھائیں۔۔۔۔”
شہرینہ خوشی سے بےقابو ہوتی اس کی بازو سے چمٹ گئی ۔
“یہ لو ۔۔۔۔۔”
ایک خشمگین نظر عروبہ پر ڈال کر انگوٹھی اس کے ہاتھ پر رکھ کر اسے گھوری سے نوازتا باھر نکل گیا ۔پیچھے ان دونوں کا قہقہ بےساختہ تھا ۔
“میں جانتی ہو یہ بھائی تمھارے لیے لائے تھے ۔۔۔۔۔کیونکہ مجھے انگوٹھیاں پسند نہیں اور بھائی یہ بات اچھی طرح جانتے ییں ۔۔۔۔”
شہرینہ نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے انگوٹھی اس کی طرف بڑھائی ۔۔عروبہ نے خفا سی نظر اس پہ ڈالی
“سوری میں یہ نہیں لے سکتی بے شک گفٹ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔اسے تم اپنے بھائی کو واپس کر دینا ۔۔۔مجھے یہ سب پسند نہیں ۔۔۔۔۔”
اس کا لہجہ کسی بھی قسم کی جھجھک سے عاری تھا ۔
“عروبہ پلیز۔ ۔۔۔”
شہرینہ نے ایک کوششں اور کی
“سوری ۔۔اب تم مجھے بتاو تم جان بوجھ کہ مجھے یہاں لائ تھی۔۔۔۔”
عروبہ کا کھوج بھرا انداز شہرینہ کو سچ میں پسینہ آگیا ۔۔
“پہلے پرامس کرو ناراض نہیں ہو گی ۔۔”
اس کا ہاتھ تھام کر وعدہ لینا چاہا ۔اور اس کی ہاں سن کر اطمینان سے بیڈ پر بیٹھ گئ اور اسے بھی گھسیٹ لیا ۔
“بھائی تم سے سوری کرنا چاہتے تھے ۔۔انھوں نے مجھ سے کہا تو میں تمھیں یہاں لے آئی ۔۔۔۔”
۔بات مکمل کر کے اس نے عروبہ کا چہرہ دیکھا جہاں کسی قسم کا کوئی تاثر نہی تھا ۔
“آج تو ایسا ہو گیا لیکن آیندہ کے لیے پرامس کرو ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گئ ۔۔۔۔۔”
اب کی بار عروبہ نے اس کا ہاتھ تھاما تو اس نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“تمھاری چائے ہیں یا پائے ۔۔جو ابھی تم گلے نہیں ۔۔۔۔۔”یاد آتے ہی عروبہ اس پر چڑھ دوڑی ۔
“اف تم سے باتوں میں لگ کے یاد ہی نہیں رہا ۔۔۔اب چلو میرے ساتھ اتنی مشکل سے کباب اور نگٹس فرائی کیے تھے ۔۔۔سب کچھ ٹھنڈا ہو گیا ہو گا ۔۔۔۔”
اپنے سر پر ہاتھ مارتی جلدی سے نیچے اتری اور اسے لیے کچن میں آگئی ۔۔دونوں نے سب کچھ دوبارہ گرم کیا اور واپس کمرے میں اگئ۔
سب کچھ ٹیبل پہ رکھ کر ایک نظر میں جائزہ لیا اور پھر کیچپ نہ دیکھ کر سر پر ہاتھ مارتی دوڑی ۔
بھائی کو بلا لو بے چارے اکیلے چائے پیئے گے ۔۔۔ڈرتے ڈرتے بولی ۔۔
“بھائی کے ساتھ فادی کو بھی بلا لو وہ بھی اکیلا ہے۔۔”
عروبہ نے دانت پیس کر کہا تو شہرینہ نے جھٹ نفی میں سر ہلا یا کیونکہ فادی کی بولتی آنکھوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔
عروبہ اس کے چہرے پر اترتے رنگوں سے بےخبر نہیں تھی ۔ایک نظر اس کو دیکھ کر کچھ سوچتی مسکرانے لگئ ۔
۔شام تک یوں ہی باتیں کرتے انہیں پتہ نہیں چلا ۔شہرینہ کے روکنے کے باوجود کھانے سے منع کرتی واپس گھر آگئی ۔
آج آخری پیپر تھا مزیبہ کا پیپر دے کر باہر نکلی تو عروبہ شہرینہ اور فادی کے ساتھ اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔
مزیبہ نے صبح آتے ہئ سب کو راضی کیا تھا ساتھ گھر جانے کے لیے زرینہ کو فون کر کہ کھانا بنانے کا کہ چکی تھی ۔
“چلیں ۔۔۔۔۔”
ان کے قریب آکر بولی تو وہ چونکے اور مسکراتے ہوے اس کے ساتھ چل پڑے ۔
ہلکی پھلکی باتوں کے دوران گھر پہنچ آئے ۔
“آغا جان ۔۔۔آغاجان۔۔۔۔دیکھیں کون آیا ہے۔۔۔”
بیا اندر آتے ہی چلائی اس کے انداز پر تینوں ہی آگے بڑھے اور صوفوں پر بیٹھ گئے
کچھ ہی دیر میں آغا جان لاٹھی ٹیکتے دھیرے دھیرے کمرے سے نکلے فادی تیزی سے آٹھ کر ان کے قریب گیا اور ملنے کے بعد انھیں پکڑ کر احتیاط سے لاوئنج میں لے آیا ۔عروبہ اور شہرینہ بھی ان کو آتا دیکھ کر کھڑی ہوئئ اور آگے بڑھ کر سر ان کے سامنے جھکا دئے ۔
“آغا جان یہ فہد ہے۔۔۔اور یہ ان کی بہن عروبہ اور یہ ان کی دوست شہرینہ ۔۔یہ سب میرے دوست ہیں ۔۔۔۔”
ان کا تعارف کرواتی شرارت سے بولی ۔
آغا جان نے ایک گہری نظر فہد اور عروبہ پی ڈالی دل میں ایک ٹھنڈک سی اتری تھی دونوں کو دیکھ کر
شام تک سب نے مل کر خوب رونق لگائہ تھئپھر گھر سے فو۔ آنے پر دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے واپس آگئے
“ماما ۔۔۔ماما۔۔۔۔۔پاپا کو سوپ دے دیا آپ نے ۔۔۔”سعد گھر آتے ہی سیدھا ان کے پاس کچن میں آیا
“فادی انہیں سوپ پلا کر میڈیسن دے چکا ہے اب وہ سو رریے ہیں ۔۔۔”
“طبیعت بھی پہلے سے کافی بہتر ہے “۔مریم بیگم نے تفصیل سے بتایا تاکہ اس کی تسلی ہو جائے ۔
“یہ عروبہ اور فادی کدھر ہیں ۔۔۔”
گھر میں خاموشی محسوس کر کے اس نے پوچھا کیونکہ عروبہ اور فادی کی موجودگی میں
خاموشی کا کوئی چانس نہیں ہوتا تھا دونوں کی نوک جھوک چلتی رہتی تھی ۔
تینوں اپنی کسی دوست کے گھر گئی ہوئے تھے ۔کچھ دیر پہلے آئے ہیں ۔
آتے ہی فادی تو تمھارے پاپا کے ساتھ لگ گیا اور عروبہ کو ٹمپریچر فیل ہر رہا تھا اس لیے وہ جا کر سو گئی ہے ۔
۔کھانا ٹیبل پر لگاتے بتا ریئ تھیں۔
سعد سنک پر ہاتھ دھو کر ٹیبل پر آگیا ۔
دن کو میٹنگ کے چکر میں کھانا گول کر چکا تھا اس لیے سر شام ہئ کھا نے کے لیے بیٹھ گیا تھا ۔
“افی دادا میری انٹرن۔ شپ کا کیا بنا ۔۔۔۔۔”
۔ان کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہوئے مزیبہ نے پوچھا ۔
“گڑیا رانی بات ہو گئی ہے الفاروق گارمنٹس والوں سے ۔۔۔
۔کل سے جوائن کرنا ہے آپ نے ۔۔۔۔”۔چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے بولے۔
“واو یعنی کہ اب میں کل سے جاب کرو گی ۔۔۔۔۔”
اس کو خوش دیکھ کر آغا جی اور افی دادا دونوں۔ خوش ہو رئے تھے ۔
دل ہی دل میں اس کے آچھے نصیب کی دعائیں مانگ رئے تھے
افی دادا نے ایک نظر آغا جی کو دیکھا جن کے چہرے پر اطمینان تھا
اگلے دن پورے ٹائم پر وہ گیٹ پر موجود تھی۔ا
افتخار صاحب ابھی پہنچے نہی تھے اس لیے وہ گیٹ پر چکراتی پھر رہی تھی ۔
پانچ منٹ بعد ہی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو وہ گیٹ کھول کر باہر آگئ ۔
پییچھے سے چوکیدار نے گیٹ بند کر دیا ۔
آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ الفاروق گارمنٹس کے سامنے تھے ۔
چلتے ہوے بیا سارے آفس کا جائزہ لیتی آئی تھی
یہاں تک کہ دیواروں پر موجودپینٹنگس کا بھی بغور مشاہدہ کیا تھا۔
“سر کو انفارم کریں ۔افتخار صاحب ملنے آئے ہیں ۔۔۔۔”
کاوئنٹر پہ بیٹھی لڑکی کو مخاطب کر کہ انھوں نے کہا۔تو وہ اثبات میں سر ہلاتی کال کر کے اندر بات کرنے لگئ ۔
“پلیز سر ائیے۔۔”۔
چند ہی سیکڈ بعد سیکٹری اٹھ کہ آیئ اور آنھیں آنے کا اشارہ کرتی آگے بڑھ گئی ۔
“پلیز سر ۔۔۔””
۔دروازہ کھول کر انھیں اندر جانے کا اشارہ کیا اور خود واپس آگئی ۔
“کیسے ہیں بابا جان ۔۔۔”
جنید صاحب اپنی سیٹ سے آٹھ کر ان کے قریب آکر گلے لگ گئے
ان کے وجود سے باپ کی خوشبو آتی تھی انہیں ۔
“میں بلکل ٹھیک ہو برخوردار تم سناو ۔۔۔۔۔سنا تھا تنھاری طبیعت خراب تھی ۔سعد سے بات ہوئ تھئ میری “۔۔۔۔۔”
کرسی پر بیٹھتے ہوئے ا نھوں نے بات مکمل کی
۔بیا ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ چکی تھی ۔
اس کا سارا دھیان جنید صاحب کی کرسی کے پیچھے لگئ اس بڑی تصویر پر تھا
جس میں جنید صاحب کے ساتھ دو اور ہستیاں تھی مزیبہ کو لگ رہا تھا وہ انھیں جانتئ ہے ۔
افتخار صاحب۔ نے ایک نظر اسے دیکھا اور اسکی نگاہ کا جاہئزہ لیتے ان کی نظر اس تصویر پر پڑی تو سر جھٹک گئے ۔انہیں خدشہ تھا کہ یہئ بیٹھے کچھ پوچھ نہ لے
جنید یہ میری پوتی مزیبہ ہے ۔اسی کے لیے می نے تم سے بات کی تھی ۔
افتخار صاحب کی بات پر بیا نے ایک نظر ان پر ڈالی ۔
“پاپا۔۔۔۔یہ فائل سائن کر دیں ۔۔۔مجھے ابھی واپس بھیجنی ہے ۔۔۔۔۔۔”دروازہ کھول کر تیزی سے اندر آتے سعدنے فائل ان کے آگے رکھی تب ہئ اس کی نگاہ ان پر پڑی ۔
افتخار صاحب کودیکھ کر چہرے پر خوشگوار سی مسکراہٹ امڈ آیئ ۔
جبکہ ساتھ میں بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر چونکا ایسے لگا جیسے پہلے کیی مل چکا ہو۔
“افی دادا آپ نے تو آنا ہی چھوڑ دیا ۔۔۔۔”
اس کا گلہ سن کر افتخار صاحب ہنس دیے ۔
“یار اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔یہ سیر سپاٹے نہیں ہوتے مجھ سے ۔۔۔۔خود تم ایک مہینہ پہلے آئے تھے ۔”
افتخار صاحب نے الٹا اس کی کھنچائی کر دئ جس پر وہ برا منائے بغیر جھک کر ان کے گلے لگ گیا ۔
“ویسے بوڑھے ہوں آپ کے دشمن ۔۔۔۔پاپا سے زیادہ آپ ینگ لگتے ہیں ۔۔۔۔۔”
سعد نے ایک نظر جنید صاحب کو دیکھا جو بیماری کی وجہ سے خاصے کمزورلگ رہے تھے ۔
” چلو تمھاری مان لیتا ہو ۔۔۔”
ان کا نداز شاہانہ تھا ۔سب ہی ہنس دئے ۔
“اچھا باقی باتیں چھوڑوں ان سے ملا یہ میری پوتی پلس نواسی مزیبہ ہے۔۔۔کل سے تمھارے آفس میں انٹرن شپ کرے گئ ۔”
سعد کی طرف دیکھتے انھوں نے مزیبہ کا تعارف کروایا
“میں آپ کے سب رشتہ داروں کو جانتا ہوں یہ کونسی والی پوتی ہیں ۔۔۔”
سعد نے قدرے حیرانگی سے دیکھا ۔
“برخورداریہ لندن سے آئی ہیں چند ماہ پہلے میری سگی والی نواسی ہے اور دور کی پوتی ۔۔۔اب مستقل پاکستان شفٹ ہو گئے ہیں “
انھوں نے بتایا تو سعد نے بغور جائیزہ لیا
مزیبہ بس خاموش بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی ۔
“افی دادا انہیں کہیے نا مججے ڈا نٹے گے نہیں اور کسی با ت سے ٹوکنا بھی نہیں ۔۔۔۔۔”
ہلکا سا ان کی طرف جھک کر ان کے کان میں منمنائی ۔
سعد کے تیز کانوں نے سب بخوبی سنا تھا ۔جو قریب ھی فون کا ریسیور اٹھائے چائے کا آرڈر دے رہا تھا ۔
