Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 18)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 18)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

کچھ دن سے آغا جی کی طبعیت ناساز تھی ۔سعد اور مزینہ کو گئے دس دن ہو نے کو تھے۔

مریم بیگم کے اسرار کے باوجود آغا جی نے انھیں سختی سے منع کیا مزیبہ اور سعدکو ڈسٹرب کرنے سے۔

سعد ناران ،کاغان سے ہو کر مری آچکے تھے وہاں پانچ دن ٹھہرنے کے بعد ان کی واپسی تھی۔

“بابا جان ۔۔۔آپ کی طبعیت کافی خراب لگ رہی ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر رضوان بھی اسرارکر رہے ہیں آپ کو ہاسپیٹل ایڈمٹ کرنے کے لیے۔۔۔”

“مجھے ہاسپٹل نہیں جانا ۔۔۔میں گھر پہ ٹھیک ہوں ۔۔۔دوائیاں بھی وقت پر لیتا ہوں اور کیا چاہئیے تمھیں۔۔”

آغاصاحب کی نحیف آواز ابھری ۔

“آغا بس کر دے اپنی ضد۔۔۔۔کیوں بچوں کو پریشان کر رہا ہے۔۔۔”

افتخار صاحب جو ان کی خیریت پوچھنے آئے تھے گھرکھتے ہوئے بولے۔

“میں اپنے آخری دن اپنے اس گھر میں گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اپنے بچوں کے ساتھ۔۔۔”

ان کی دھیمی آواز افتخار صاحب کو افسردہ کر گئی۔

ان کی اپنی طبعیت بھی کافی خراب رہتی تھی۔آج بھی صرف آغا کو دیکھنے کے لیے پوتے کو لیے پہنچ گئے۔

“عروبہ آج تمھیں حمزہ بھائی پک کرئیں گے۔۔۔میں نے مریم ماما کو کال کر دی تھی۔

“او تو تمھارا پروگرام فہد کر ساتھ جانے کا ہے۔۔۔اور مجھے

تم کباب میں ہڈی سمجھ کر اپنے بھائی کے ساتھ روانہ کر رہی ہو۔۔۔”

عروبہ نے کڑے تیوروں کے ساتھ اسے گھورا۔

“تمھاری اطلاح کے لیے عرض ہے یہ پرگرام تمھارے سر تاج نے بنایا ہے اور کباب میں سے ہڈی کی طرح مجھے نکالا ہے۔۔۔۔۔”

شہرینہ نے دانت پیس کر جوابا کہا۔

“یہ تمھارے بھائی کا کیا سوجھی ہے ۔۔۔ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں ۔”

عروبہ تلملائی۔

“خدا کا خوف کرو لڑکی ۔۔۔ایک تو اتنا پیار کرنے والا میاں ملا ہے اور تم ناشکری کر رہی ہوں۔۔”

شہرینہ کمر پر ہاتھ رکھے بڑی بوڑھیوں کی طرح بولی تو عروبہ نے گویا ناک سے مکھی آڑائی ۔

“تم دونوں کی کلاس نہیں جو یہاں خوش گپیاں لگا رہی ہو ۔”

حمزہ ان کی خبر لینے پہنچ گیا ۔کلاس لینے کے بعد نکلا تو نظر ان دونوں پر پڑی۔

“نہیں جی آج سر کاظمی چھٹی پر ہیں”

عروبہ نے اکاوئنٹس کے ٹیچر کا نام لیا۔شہرینہ اس کی موجودگی میں نروس سی کھڑی تھی۔

“یہ تم کیوں مراقبے میں چلی گئی ہو۔۔۔”

اسے زمین کو گھورتے دیکھ کر عروبہ نے طنز کیا ۔

“میڈم کو میری موجودگی میں شرم آتی ہے۔۔”

حمزہ اس کو ستانے کو آگے ہو کر کندھے سے کندھا ٹکراتے بولا۔

شہرینہ فورا اس سے دوقدم دور ہو کر عروبہ کے قریب ہو گئی۔

“توبہ ہے لڑکی میرےمعصوم بھائی کا تمھیں کچا چبانے کا کوئی ارادہ نہیں جو اس سے ڈر رہی ہو۔۔۔”

عروبہ نے گویا اس کا مزاق اڑایا۔

” تمھارا بھائی جیسے دیکھتا ہے وہ کچا چبانے سے زیادہ خطرناک ہے۔۔۔”

شہرینہ اس کی جانب جھک کر ہلکی آواز میں بولی ۔

“میرے بھائی پر ایسے الزام لگاتے تمھارا دل نہیں دکھا۔۔”

عروبہ نے مصنوعی خفگی سے گھورا۔

“نہیں ۔۔”

شہرینہ نے صاف انکار کیا تو عروبہ کا قہقہ بےساختہ تھا جس میں شہرینہ کی مدھم ہنسی اور حمزہ کی مسکراہٹ شامل تھی ۔

“سعد پتہ نہیں کیوں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔

آپ پلیز واپس چلیں ۔۔۔مجھے آغا جی کے پاس جانا ہے۔۔۔”

مزیبہ اس کا ہاتھ تھام کر روہانسی ہو رہئ تھی ۔

“بیا جان ۔۔۔۔یہ تمھارا وہم ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔”

سعد نے اسے دلاسا دینا چاہا۔

“میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔پلیز میری بات مان لیں۔۔۔”

وہ رو دی ۔

“بیا پلیز رونا بند کرو۔۔۔ہم صبح ہوتے ہی چلیں گے۔۔۔۔”

سعد نے تسلی دی تو اس کا رونا کم ہوا۔پہلی بار آغا جی کے بغیر رہی تھی باقی کسر اس برے خواب نے پوری کر دی۔

سعد نے اسے واپس لٹا کر کمبل ٹھیک سے اوڑھایا اور خود بھی قریب لیٹ کراس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔

“اسلام علیکم”۔

لاوئنج میں داخل ہوتے ہی مزیبہ نے اونچی آواز میں سب کو سلام کیا۔

انہیں دیکھ کر سب کی حیرانگی بجا تھیں کیونکہ ان کے

آنے میں ابھی تین دن ریتے تھے۔۔

“تم لوگوں نے اطلاع بھی نہیں کی آنے کی”

مریم بیگم بہت محبت سے بیا کو گلے لگاتی بولیں۔

“سوری ماما۔”

“بس سرپرائز دینے کے لیے بےخبر رکھا۔”

عروبہ کو گلے لگاتے انہیں جوابا کہا۔

“میں آغا جی سے مل آوں۔”

سب سے ملنے کے بعد وہ آغاجی کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔

سعد اسی لمحے اندر داخل ہوا اور سب سے ملنے لگ گیا۔

“آغا جی۔۔۔کیسے ہیں آپ۔۔”؟

بیا اندر آتے ہی دوڑ کر ان کے کندھے سے لگ گئی جو نیم دراز لیٹے تھے۔

“میرا بچہ۔۔۔۔”آغا جی خوشی سے اسے بازو کے گھیرے میں لے کر ماتھا چومتے بولے۔

“اتنی جلدی واپس آگئے۔۔”؟

آغا جی نے پوچھا تو مزیبہ سیدھی ہو کر ان کے سامنے آبیٹھی۔۔

“آغا جان اتنی مشکل سے میں نے یہ دن آپ کے بغیر گزارے ہیں۔۔۔مزا بہت آیا مگر آپ کے بغیر میرا دل اداس تھا۔

“روز تو بات ہوتی تھی ۔۔۔””فون پر بات کرنے سے دل کو تسلی نہیں ہوتی ۔۔

اب آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اب میں مطمئن ہوں ۔۔۔”

ا۔ کے کندھے سے لگی لاڈ سے بولی اسی لمحے سعد اندر آیا اور آغا جی کی کی دوسری سائیڈ سے ان کے گلے لگ گیا۔

“کیسی طبعیت ہے آپ کی۔۔”

ان کے ماتھے پر بوسہ دےکر محبت سے پوچھا۔

“تم دونوں کو دیکھ لیا ہے اب سمجھو بلکل فٹ ہے”

آغا جی خوشدلی سے بولے ۔

“اب تم لوگ جا کر آرام کرو سفر سے آئیں ہو ۔۔۔پہلے فریش ہو جاو ۔۔۔”

آغا جی نے دونوں کو وہاں سے اٹھایا۔

“اسلام علیکم”

“وعلیکم اسلام،،کیسی ہو۔۔۔۔”؟

“ٹھیک ہوں ۔۔۔آپ بتائیں ۔۔؟”

“تمھارے سامنے ہوں ۔۔۔خود دیکھ لو۔۔۔۔”

حمزہ کی گھمبیر آواز پر عروبہ نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا جائزہ لیا۔

“اچھے لگ رہے ہیں ۔۔”

عروبہ کی مدہم آواز بمشکل اس کو سمجھ آئی ۔

“میرے ساتھ آتے ہوئے تمھاری آواز کیا گھر ہی رہ جاتی ہے۔۔”

حمزہ ہلکا سا جھنجلایا ۔

“نہیں تو۔۔”

“عروبہ بےساختہ بولی۔۔”

“اچھا ۔۔۔۔تو پھر کیا میرے سامنے تمھاری بولتی بند ہو جاتی ہے۔۔”

حمزہ چھیڑنے سے باز نہیں آیا۔

“کوئی نہیں۔۔۔آپ کو ایسے ہی لگتا ہے۔۔۔”

عروبہ اب زرا تلملا کر بولی تو حمزہ کا قہقہ بےساختہ تھا۔

“اب لگ رہی ہو۔۔۔مسز حمزہ”

حمزہ کی مسکراہٹ اتنی دلکش تھی کہ عروبہ نگاہ نہیں ہٹا پائی۔

حمزہ نے گاڑی سائیڈ پر روک کر ہلکا سارخ اس کی سمت موڑا۔

چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔

“میرا دل چاہ رہا ہے میں رخصتی کروا لوں ۔۔۔میرا دل نہیں لگتا اب تمھارے بغیر۔۔۔۔۔”

حمزہ کا گھمبیر لہجہ اس سے اوسان خطا کر گیا۔

“جی نہیں ۔۔۔آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔۔۔میرا لاسٹ سیمسٹر ہے۔۔۔آپ پلیز مجھے دھیان سے پڑھنے دیں ۔۔”

عروبہ کی آواز میں خفگی تھی ۔

“میں کب تمھاری پڑھائی ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔شادی کے بعد تمھارے ایگزیمز کی تیاری میں پوری مدد کروں گا ۔۔۔”

حمزہ نے یقین دلانا چاہا۔

“پلیز حمزہ اس معاملے میں مجھے کوئی بحث نہی کرنی ۔۔۔اس لیے اس ٹاپک کو چھوڑ دیں ۔۔۔”

عروبہ کی آواز میں سختی تھی اور تیور خطرناک ۔

حمزہ نے ہونٹ بھیچ کر اسے دیکھا جس کے بغیر اب سانس لینا بھی دشوار ہونے لگا تھا۔

“میری بات کی تمھارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔”

حمزہ دلبرداشتہ ہوا۔

“میں نے ایسا کب کہاں ۔۔۔بس آپ سے کچھ وقت مانگ رہی ہوں اپنی پڑھائی مکلمل ہونے تک کا۔۔۔۔”

اسے ناراض دیکھ کر عروبہ نے سمجھانا چاہا۔

“ٹھیک ہے ۔۔پھر اب میں آپ سے آپ کی سٹڈیز کمپلیٹ ہونے کے بعد ہی ملوں گا ۔۔۔۔کیوں کہ مجھے اب لگنے لگا ہے کہ آپ کو یوں میرے ساتھ آنا بھی وقت کا ضیاع لگتا ہو گا۔۔۔”

حمزہ آف موڈ کے ساتھ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولاتو عروبہ نے اس کا چہرہ دیکھا ۔

سپاٹ چہرے کے ساتھ ڈرائیونگ کرتا غصے میں تھا۔

عروبہ کی جان پر بن آئی۔دو ماہ میں ہر تیسرے چوتھے دن

وہ اسے کبھی لنچ تو کبھی ڈنر کے لیے لے جاتا۔۔شروع میں اسے منع کرنے کی کوشش کی مگر پھر مریم بیگم کے سمجھانے پر راضی ہو گئی ۔

اب تو عادت ہو گئی تھی

۔انتظار رہتا تھا اس کے ساتھ وقت بتانے کا۔

“حمزہ۔۔۔”

اسے متوجہ کرنے کے لیے آوازدی مگر وہ ان سنی کر گیا۔

موڈ ہنوز آف تھا۔

“مجھے شدید بھوک لگ رہی ہیں۔۔”

وہ زرا اونچی آواز میں بولی ۔

“گھر ہی جا رہے ہیں اطمینان رکھو۔۔۔”

حمزہ کے جواب پر عروبہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

“آپ ایسے کیوں کر رہی ہیں”

“میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔آپ نے کہا آپ کوابھی رخصتی نہیں کروانی ۔۔۔آپ کی بات مان لی اب اور مجھ سے آپ کس بات کی امید رکھتی ہیں۔۔۔”

“یہ آپ نے بات مانی ہے ۔۔۔آپ ناراض ہو کر بیٹھ

گئے ہیں۔۔۔۔تم کی جگہ بار بار آپ کہ کر بلا رہے ہیں۔۔۔”

“میری ناراضگی کی آپ کو کوئی پروا ہے ۔۔۔”؟

“آئی ایم سوری ۔۔۔آپ کا جو دل کرتا ہے کریں۔۔۔میں منع نہیں کروں گی ۔”

بھرائی ہوئی آواز میں اس نے کہا اور بھیگی آنکھوں سے گاڑی سے باہر دیکھنے لگ گئی مبادا حمزہ اسے روتا ہو نہ دیکھ لے۔

“بیا بچے۔۔۔۔ مجھے یسین تو سناو۔۔۔۔”

بیا ان کے کمرے میں آئی تو نماز کے سٹائل میں دوپٹہ سر پر تھا ۔ظہر پڑھنے کے بعد وہ ان کے کمرے میں آئی تھی۔

آغاجی بیڈ پر دراز تھے۔اسے دیکھ کر پاس بلایا اور کہا۔

بیا اثبات میں سر ہلاتی واپس مڑی اور الماری کی طرف آئی

جہاں اوپر والے خانے میں قرآن پاک اور یسین موجود تھی

آغا جی نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔مزیبہ نے تلاوت شروع کی تو ان کے چہرے پر سکون پھلنے لگا ۔

ابھی اس نے آدھی یسین پڑھی تھی کہ آغا جی کہ لب ہلے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے اس دوران کب ان کی آنکھیں بند ہوئیں ۔

مزیبہ کو پتہ نہیں چل سکا اس کا سارا دھیان تلاوت کی طرف تھا۔

“آغا جی سو گئے۔۔ان کی میڈیسن کا ٹائم ہو گیا تھا۔۔”

مریم بیگم کمرے میں آئیں تو انھیں دیکھ کر بولیں ۔

بیا نے سر تلاوت روک کر انھیں دیکھا ۔جن کے چہرے پر الگ

ہی سکون تھا۔بیا کو عجیب سا احساس ہوا۔

“آغا جی۔۔۔”

ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پکارا۔مریم بیگم بھی قریب آگئیں۔