Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 7)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 7)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
“ارے بھئ جنید میری نواسی کو ڈانٹنا نہیں ۔
۔بس فون کر کہ مجھےبتا دینا میں خود ڈانٹ لو گا ۔۔”
افی دادا کے کہنے کا انداز ایسا تھا کہ سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔
“اچھا سعد بیٹا چب تک چائے آتی ہے تب تک مزیبہ بیٹی کو آفس دکھا دو ۔۔۔”۔
جنید صاحب نے اسے فائل آٹھاتے دیکھ کہ کہا تو
اس نے اثبات میں سر ہلا یا اور اسے دیکھا جو ابھی
بھی تصویر کو دیکھنے میں بزی تھی ان کی بات پر چونکی اور سعد کا اشارہ دیکھ کر کھڑی ہو گئی ۔
“ایک منٹ بات سنے۔۔۔”
آفس سے باہر آتے ہی بیا نے اسے روکا تو وہ حیرانی سے مڑا ۔
“جی فرمائیے۔۔۔”
“آپ کے آفس میں تصویر لگی ہے وہ کون ھیں۔۔”
مزیبہ تجسس کے ہاتھوں مجبور پوچھے بغیر نہیں رہی ۔
“میرے دادا جان پاپا اور چاچو ہیں ۔۔۔”
“ویسے خیریت ہے۔ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ۔۔”
سعد نے پوچھا تو بیا نے ایک نظر اسے دیکھا جس میں اپنے چاچا کی جھلک تھی ۔
“لگتا ہے آپ کو برا لگا ۔۔۔”
بیا نے جان کر منہ بنایا تاکہ وہ دوبارہ کچھ پوچھ نہ لیے ۔
“ارے نہیں میں بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔۔ویسے مجھے لگتا ہے میں نے اس سے پہلے آپ کو کہیں دیکھا ہے ۔۔۔مگر ذہن میں نہیں” ۔
سعد نے بغور اس کو دیکھا ۔
“میں آپ سے پہلے بار مل رہی ہو اور فری ہو کر بات بھی اس لیے کر رہی ہو کہ افی دادا نے کہا تھا اس آفس کو میں اپنا آفس سمجھو اور جنید انکل کو اپنے بڑے پاپا کی طرح ۔۔”
بیا نے سٹپٹا کر رخ پلٹا اور جلدی سے بولی ۔
اسی دوران چلتے ہوئے آفس کے ہال تک پہنچ آئے تھے
۔جہاں چھوٹھے چھوٹے اوپن کیبن بنے تھے ۔۔
“یہ سارا کمپیوٹر سیکشن ہے۔ وہ پیچھے جو کیبن ہیں وہاں پہ ہر ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بیٹھتے ہیں “۔
“تین ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔۔پیکنگ ،سٹاک ڈیلیوری اور مینجمنٹ۔۔۔”
“اکاوئنٹس اور باقی سب میں اور میرا اسسٹنٹ دیکھتے ہیں ۔۔۔”
سعد نے تفصیل سے بتایا ۔
“میں کہا بیٹھو گئ ۔۔”۔بیا نے پوچھا ۔
“آپ میرے آفس میں ۔۔۔افی دادا کا آرڈر ہے ۔۔ورنہ آپ کو یہاں بٹھانا تھا ۔۔۔”
۔سعد نے ایک جانب اشارہ کیا جہاں کیبن خالی پڑا تھا ۔
“اف شکر ہے ۔۔۔”بیا نے باآواز بلند شکر ادا کیا تھا جس پر سعد نے ایک گھوری سے نوازا ۔
“چلیں ۔۔۔چائے آچکی ہو گئ ۔۔۔”
سعد نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی واپس چل دی۔
“افی دادا ان محترمہ کے ڈاکمینٹس ۔۔۔۔”
چائے کہ دوران یاد آنے پر اس نے کہا ۔
“اب میری نواسی بغیر ڈاکومینٹس کے کام نہی سیکھ سکتی ۔۔”
ان کئ لہجے میں ناراضگئ در آیئ
“ناراض کیوں ہوتے ہیں ۔۔۔۔فارمیلٹی کے لیے پوچھا تھا ۔۔”
ان کے کندھے پر بازو رکھ کر لاڈ سے سعد نے کہا تو وہ مسکرا دئے ۔
“کچھ دنوں میں ڈاکومینٹس مل جائے گے ۔۔ویسے تمھاری اطلاح کے لیے عرض ہے میری پوتی ٹاپر ہے ۔۔”
افی دادا کے لہجے میں فخر تھا ۔سعد اس کی کارکردگی پر امپریس ہوا ۔
“افی دادا یہ نواسی اور پوتی کا کیا چکر ہے ۔۔۔۔”
سعد نے چھیڑا ۔
“لو اس میں چکر والی کون سی بات ہے ۔۔میرا تو جس وقت نو بولنے کو دل کرے کونسا میرے بولنے پہ ٹیکس ہے ۔۔۔”
۔ان کی بات پر سعد اور جنید صاحب کی ہنسی بے ساختہ تھی
۔بیا سر جھکاہے مسکراہٹ چھپاتی چائے پینے میں بزی تھی ۔
“اب اجازت دو بھی۔۔۔کل سے بیا آجا ئے گی ۔۔”
۔افتخار صاحب اٹھتے ہوے بولے ۔بیا بھی کھڑی ہو چکی تھی ۔
“مس مزیبہ آفس ٹائم نو بجے ہے ۔۔۔ٹائم کی پابندی کیجیے گا ۔۔۔”
سعد نے انفارم کرنا فرض سمجھا ۔
“۔افی دادا پلیز بتایے نا مجھے ۔۔۔۔کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔”
گاڑی میں بیٹھتے ہی بیا نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔اس کی بےتابی کو دیکھتے ہی افتخار صاحب نے گاڑی سٹارٹ نہیں کی۔
“پہلےوعدہ کرو اپنے آغا جی کو پتا نہیں چلنے دو گی کہ تم سب جانتی ہو ۔۔۔”
انھوں نے اسے پابند کرنا ضروری سمجھا ۔
کیونکہ جانتے تھے آغا کو ۔انھے بھنک بھی پڑ جاتی کہ مزیبہ سب جان گئی ہے تو فورا اس کا آفس چھڑوا دیتے ۔
“یہ تمھارے بڑے پاپا تھے۔۔۔۔تمھارے پاپا کے بڑے بھائی ۔۔۔۔سعد۔۔فہد اور عروبہ تینوں آپ کے کزن ھیں ۔۔۔”
انھوں نے جو دھماکہ کیا تھا اس نے مزیبہ کو ہکا بکا کر دیا
“آغا جان نے مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا ۔۔۔ہمیشہ ٹال دیتے۔۔۔
“اس کی حیرانگی بجا تھی ۔
وہ ناسمجھی سے دیکھتے بول رہی تھی ۔
“اس لیے بیٹا کہ تمھارے آغا جی تمھارے تایا سے شدید ناراض ہیں ۔۔۔اور میں نے اپنی زندگی میں پہلا باپ دیکھا جو اپنی اولاد سے ناراض ہو کے ملک ہی چھوڑ گیا ۔۔۔نہ ہی معاف کرتا ہے اور نہ معا فی مامگنے کا موقع دیتا ہے ۔۔۔۔”
۔وہ خود افسردہ تھے ۔
آغا کی گرتی صحت سے بھی پریشان تھے ۔بس وعدے کی زنجیر میں جکڑے جنید کو کچھ بھی نہیں بتا سکے
۔
“اللہ۔۔۔۔آغا جی اتنے سخت ناراض ہیں ۔۔۔۔”
ساری بات سن کر اس کا منہ کھلا ۔
“میں تو اپنی پوری کوشش کر چکا ہو پر تمھارے دادا نہیں مانتے ۔۔”
انھیوں نے اپنی کاوشوں کا زکر کیا تو مزیبہ کچھ سوچ کر مسکرئی ۔
“آپ فکر نہیں کریں بس ایک ہفتہ دیں مجھے سب سیٹ کر لو گی ۔”
مزیبہ کے لہجے کا یقین افتخار صاحب کو مسکرانے پر مجبور کر گیا ۔
“فادی اسے پرپوز کرنا ہے یا نہیں ۔۔۔”
عروبہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی ۔
جو مزے سے بیڈ پہ لیٹا کینڈی کرش کھیل رہا تھا۔
“تمھارا دل ہے کہ میں اماں سے اپنی ٹانگیں تڑوا لوں ۔۔زرا جو احساس ہو بھائی کا ۔۔۔”
فہد منہ بناتے ہو بولا آنکھیں موبائل پر ٹکی تھی ۔
“چلو۔۔۔ٹھیک ہے میں اسے کہتی ہو ہمدانی انکل کے بیٹے کا پرپوزل ایکسیپٹ کر لے ۔”
مزے سے پاوں جھلاتی اس پر بجلی گرا گئی ۔
“تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔۔۔جو ایسا واہیات مشورہ دو گی اسے ۔۔۔اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں اس کا پرپوزل آیا ہوا ہے ۔۔۔”
اسے تو پتنگے ہی لگ گئے تھے عروبہ کی بات سن کر عروبہ کو اس کی بےتابی مزا دے گئی
“اس کے ماں باپ اس کو ساری زندگی گھر تو بٹھا کر نہیں رکھیں گے۔۔۔۔۔۔آخر کو لڑکی ذات یے ۔۔۔ویسے ایک بات بتاو تمھیں۔۔۔”
وہ رازداری سے کہتی اس کے قریب ہوئی ۔۔
فہد بھی متجسس ہو سننے کے لیے
“میں نے ماما سے بات کر لی ہے اب تم اسے پرپوز کر سکتے ہو۔۔۔۔”
عروبہ کی شرارت بھری آواز پر فہد دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“فسادی عورت ۔۔۔۔ماما کیا سوچتی ہو گی میرے متعلق۔۔۔بڑا بیٹا ابھی رہتا ہے اور چھوٹے کو اپنی پڑی ہے۔۔۔۔”
۔فہد اچھل کر کھڑا ہوتے بولا
عروبہ حفظ ماتقدم کے طور پر دروازے کے قریب پہنچ چکی تھی
۔اسی لیے فہد کا پھینکا گیا کشن دروازے کو لگ کر وہی ڈھیر ہو گیا کیونکہ عروبہ پھرتی سے دروازہ بند کر کے جا چکی تھی۔
ویسے ماما کچھ الٹا نہیں سوچ رہی ۔۔۔۔پہلے تمھارا رشتہ کرنےمیں کوئی حرج نہیں جب سعد بھیا کو کوئی لڑکی پسند آئی تو ان کی بات بھی ہو جائے گی۔۔۔۔
عروبہ دروازہ کھول کر وہی کھڑی سر اندر گھسا کر بولی تو فہد چند لمحے اس کو گھورتا رہا
پھر ایک بھرپور مسکراہٹ نے اس کے چہرے پر روشنی بکھیری تھی ۔
عروبہ مطمئن سی واپس مڑ گئی۔
“افی دادا صبح آتے ہوئے آپ بتا رہے تھے کہ عروبہ کا گھر رستے میں ہیں ۔۔۔۔پلیز وہاں لیں چلیں تھوڑی دیر۔۔۔”
۔اس کی بےتابی اس کے لہجے اور انداز دونوں سے واضع تھی ۔
افتخار صاحب اس کی بےتابی کو دیکھتے ہوئے راضی ہو گئے۔
“یہاں تمھارے پاپا کا بچپن گزرا تھا ۔۔”
۔گیٹ سے اندر آتے ہوے انھوں نے دھیمے لہجے میں بتایا وہ ارد گرد کا جائیزہ لینے لگی ۔
کافی کشادہ لان تھا جہاں پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے کونے میں پرانی طرز کا لوہے کا جھولا لگا ہوا تھا
لان کے آخر میں بڑا سا پنجرہ تھا جس میں رنگ برنگی آسٹریلین طوطے موجود تھے۔
“بیا آپ اور یہاں ۔۔”
۔باہر آتی عروبہ کی نظر لان کے قریب کھڑی مزیبہ پر پڑی تو خوشی سے چلا دی اور دوڑتی ہوئی آکر اس کے گلے لگ گئی مزیبہ کی آنکھیں بھر آئی یہ سوچ کر کہ عروبہ اس کی بہن ہے ۔وہ اکیلی نہیں۔
افتخار صاحب سے ملنے کے بعد وہ انھیں لیے اندر آگئ.
لاوئنج میں بیٹھی مریم بیگم ان کو اندر آتا دیکھ کر اٹھ کر آگے بڑھیں۔
نہایت ادب سے افتخار صاحب سے ملیں اور بیا کو گلے لگا کر پیار کیا جو چند لمحے انہے دیکھتئ دوبارہ ان کے
گلے لگ گئ
جس پر مریم بیگم کو اچنبھا ہوا اور وہ حیرت میں گھر گئیں۔مزیبہ کی پرجوش گرفت محسوس کر کے۔
بیا کے چہرے پر خوشی کے انوکھے ہی رنگ تھے مریم بیگم کو گمان ہوا جیسے وہ اسے جانتی ہیں۔
عروبہ کے متوجہ کرنے پر سب صوفوں پر بیٹھ گئے ۔۔
مزیبہ کو خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا ۔اس کا دل کر رہاتھا کہ اس گھر کا چپہ چپہ چھوے جہاں اس کے باپ کی خوشبو تھی ۔
“بیا مجھے گھر دکھاو اپنا ۔۔۔۔”
اس سے برداشت نہ ہوا تو بےتابی سے بولی ۔
افی دادا نے سر جھٹکا انہیں خدشہ تھا کہ کہیںں بی بی کچھ بول ہی نہ دیں ۔
عروبہ فورا کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ تھام کر اوپر والے پورشن کی طرف بڑھ گئی ۔
“واو ۔۔۔۔یہ تو بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔”
ہال کی تزین وآرائش دیکھ کر بےساختہ بیا کے منہ سے نکلا۔۔
“ہمممم۔۔۔۔جو بھی دیکھتا ہے یہئ کہتا ہے ۔ایکچولی یہ پورشن چاچو کا تھا انھوں نے اپنی پسند سے بنوایا تھا ۔ “
عروبہ بے بتایا تو وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے ایک ایک چیز کو چھو رہی تھی ۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس کے باپ کا لمس ہر ایک چیز میں موجود ہے ۔
عروبہ کا دھیان اس کے چہرے کی طرف نہیں گیا ورنہ ضرور چونکتی ۔
“یہ کمرے لاک کیوں ہیں ۔۔۔”
۔بند کمروں کی طرف اشارہ کر کے اس نے پوچھا۔
“دادا جان اور چاچو کے روم ماما صاف کروا کے پھر بند کروا دیتی ہیں ۔۔۔”
عروبہ کے لہجے میں اداسی در آئی ۔
“کہاں ہیں تمھارے دادا اور چاچو ۔۔۔۔۔”
عروبہ کی اداسی دیکھتے ہوئے کھوجتے ہوئے پوچھا دھیان سارا بند کمروں کی طرف تھا ۔
“پتہ نہیں۔۔۔۔پاپا نے کبھی نہیں بتایا ۔۔۔۔ایک دو بار ہم نے پوچھنے کی کوشش کی پر پاپا کی طبیعت خراب ھو گئی ۔۔۔۔بس وہ دن اور آج کا دن ہم نے دوبارہ کبھی تزکرہ نہیں کیا ۔بس ایک آس ہے ان کے انتظار کی ۔۔”
عروبہ کی آنکھیں نم ہو گئں۔
نیچے سے بلانے پر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائی ۔
مزیبہ اپنے پاپا کا کمرہ دیکھنے کی خواہش دل میں دباتی نیچے اتر گئی۔جہاں مریم بیگم ٹیبل پر چسئے رکھے ان کی منتظر بیٹھی تھیں ۔
