Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 24) Last Episode
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 24) Last Episode
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
ایشا سے اجازت لیتے مزیبہ کو لے کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔
“سعد بچے۔۔۔گاڑی آہستہ چلانا۔۔۔۔”
اسے گاڑی سٹارٹ کرتے دیکھ کر کہا ۔کیوں کے جانتی تھیں غصے میں تیز ڈرائیونگ کرتا تھا۔
“کیوں ماما ۔۔آپ کی بیٹی کیا شیشے کی بنی ہے جو جھٹکا لگنے سے ٹوٹ جائے گی۔۔۔”
وہ جھنجھلایا۔
ان کو اندازہ ہو گیا کہ مزیبہ نے سعد کو ابھی کچھ نہیں بتایا۔
“میرا بیٹا گیا وقت ہاتھ نہیں آتا ۔۔۔اور بیا بچے آپ نے غلط کیا سعد سے چھپا کے ۔۔۔۔”
انھوں نے نرمی سے ٹوکا۔جانتی تھی کہ وہ پہلے ہی بدگمان ہے ان سے۔
“کیا نہیں بتایا مجھے۔۔۔۔”
سعد نے تیوریاں چڑھائیں۔
“گاڑی بیکری کے پاس روکنا ۔۔۔مجھے جوس اور سینڈوچ لینے ہیں۔۔۔”
مریم بیگم نے کہا ۔ایشا انھیں بتا چکی تھی کہ مزیبہ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
آگے جاکر سعد نے گاڑی گورمے بیکری کے سامبے روکی۔
“تم گاڑی میں بیٹھوں۔۔۔میں خود لے آوں گی۔بیا میں واپس
آو تو آپ سعد کو انفارم کر چکی ہوں۔۔۔۔۔۔”
مریم بیگم نے اترتے ہوئے تنبیہ کی۔
آخر کیا بات ہے کیوں پہیلیاں بجھوا رہی ہیں ۔
سعد نے غصے سے سٹیرنگ پر مکا مارا۔
“اپنی بیوی سے پوچھو ۔۔۔میں سرپرائز خراب نہیں کرنا چاہتیں۔۔۔۔”
وہ شرارت سے کہتیں اتر کر دروازہ بند کرتیں بیکری کی طرف بڑھ گئیں۔
چاہتی تو سعد کو بتا سکتیں تھیں مگر وہ چاہتی تھیں کہ
مزیبہ خود اپنے منہ سے سعد کو خوشخبری سنائیں ۔ان کے
رشتے کی مضبوطی کے لیے ضروری تھا۔
“جی فرمائیں ۔۔۔کونسی خوشخبری ہے”
گہری سانس لیتا وہ اس کی طرف رخ کر کے بولا۔
مزیبہ نے سٹپٹا کر نظریں جھکائیں ۔چہرے پر سرخی چھا گئی۔
مزیبہ کو سمجھ نہیں آئی کیسے بتائے۔
اچانک ہی ڈیش بورڈ پر پڑے سعد کے موبائل پر نظر پڑی۔
“اس کا لاک۔۔۔”
موبائل ہاتھ میں لے کر پوچھا تو سعد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔
“مزیبہ۔۔۔”
“میں کوڈ پوچھ رہی ہوں ۔”
وہ ہلکا ساجھنجھلائی۔
“میں بھی کوڈ ہی بتا رہا ہوں”
اسے بھی غصہ آیا ۔مزیبہ ایک پل کو شاکڈ ہوئی۔
اسے سمجھ نہ آئی اس کی محبت پر کیا کہے ۔
دماغ وسوسے ڈالتا اور دل ،دل کہتا یہ شخص کبھی بھی
دھوکہ باز نہیں ہوسکتا۔
لاک کھول کر اس نے ٹائپ کیا اور موبائل اس کی طرف بڑھادیا۔
سعد نے موبائل پکڑ کر سکرین آن کی ۔
“بیٹا یا بیٹی۔۔۔”
سعد نے باآواز بلند پڑھا اور ٹھٹھکا۔
موبائل سے نظر ہٹاکر مزیبہ کو دیکھا جو سر جھکائے ہاتھ مسل رہی تھی۔
سعد نے گاڑی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیں۔دل
خوشی سے بھر گیا تھا مگر ابھی کچھ باور نہیں کرانا چاہتا
تھا ۔جب تک مزیبہ کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہو جاتا۔
مزیبہ نے اس کی خاموشی پر سر اٹھا کر دیکھا۔اس کا چہرہ
کسی بھی قسم کے تاثر سے خالی تھا ۔بیا ہونٹ بھینچے باہر
آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی۔
کچھ ہی دیر میں مریم بیگم واپس آگئیں۔
“یہ لو اور فورا ختم کرو۔۔”
گاڑی میں بیٹھتے ہی مریم بیگم نے جوس اور سینڈوچ اس
کی طرف بڑھائے جنہیں اس نے بےدلی سے پکڑ کر گود میں
رکھ لیا۔
سعد نے ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر اس کی
گود سے سینڈوچ اٹھا کر کھولا ۔
“کھاو۔۔۔”سینڈوچ اس کے ہونٹوں کے قریب کر کے زرا رعب
سے کہا ۔مزیبہ نے ڈبڈبائی پلکیں اٹھائی اور نوالہ لیا ۔اس
کی بھیگی آنکھیں سعد کی
نظروں سے مخفی نہیں رہ سکیں مگر وہ نظر چرا گیا۔
مریم بیگم کی موجودگی میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔
سعد اس وقت تک کھانے پر مجبور کرتا رہا جب تک اس کا
پیٹ نہیں بھر گیا۔
دو گھنٹے بعد گھر پہنچے تو رات کے آٹھ بج رپے تھے ۔
جنید صاحب بےچینی سے لاونج میں ٹہل رہے تھے۔
“میرا بچہ۔۔۔کوئی اس طرح کرتا ہے باپ کے ساتھ۔۔۔۔۔”
جنید صاحب اسے ساتھ لگائے رو دئے ۔دانیال کے یوں چلے
جانے کی تکلیف ابھی تک دل میں زندہ تھی اوپر سے مزیبہ
کا یو بدگمان ہو کر چلے جانا۔۔۔۔۔انھیں مزید تکلیف سے دوچار کر گیا۔
“سوری پاپا۔۔۔”
مزیبہ اوپری دل سے بولی ۔یہ سب اسے ڈھکوسلہ لگ رہا تھا۔
“سعد سٹڈی سے فائلز لے آو۔۔۔جو کام اپنے وقت پہ ہو جائے
بہتر ہوتے ہے ۔پہلے ہی دیر کر دی میں نے”
جنید صاحب اس سے مخاطب تھے۔
کچھ دیر میں سعد ہاتھ میں فائلز لیے چلا آیا۔
“یہ لو بیٹا۔۔۔۔یہ تمھاری جائیداد کے پیپرز ہیں ۔۔۔جو تمھارے
نام ٹرانسفر ہو چکی۔۔۔اور یہ بینک اکاوئنٹ کی فائل اس
میں آج تک کی تمام پیمنٹس کا ریکارڈ ہے جو منافع کی
بینک میں ڈیپازٹ ہوہتی رہیں۔”
جنید صاحب نے فائلز کھول کر اس کے سامنے رکھیں۔
اس کی نظر فائل پر پڑی ۔وہ دانیال فاروق کے نام کا بینک
اکاوئنٹ تھا۔جس میں اس وقت کروڑوں موجود تھے ۔بیا
کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگ گئی ۔
“سوری پاپا۔۔۔۔سوری۔۔۔۔”
جھٹکے سے اٹھ کر ان کے گلے لگی زاروقطار رو دی۔
“آپ کا قصور نہیں ہے بیٹا۔۔۔جو کچھ پہلے ہو چکا آپ تو
ہمیں اسی تناظر میں دیکھ رہیں تھیں۔۔۔قصور میرا ہے ،
جس نے اپنے باپ اور بھائی کے آگے اپنا اعتماد کھو دیا تھا
اور آپ کو یقین نہیں دلا سکا اپنی ندامت اور شرمندگی کا۔۔۔”
جنید صاحب آبدیدہ ہو گئے ۔
“پلیز پاپا مجھے معاف کر دیں پہلی اور آخری غلطی سمجھ کے۔۔۔”
اس کا رونا برقرار تھا۔اس نے روتے میں نظر اٹھا کر سعد کو
دیکھا تو سعد نے بےتاثر چہرے کے ساتھ نظریں پھیر لیں ۔
مزیبہ کو لگا اس کا سانس بند ہو رہا ہے۔اس نے سعد کو
پکارنا چاہا پر اس کا فضا میں بلند ہاتھ پہلو میں آگرا اور
خود جنید صحب کے بازو سے پھسلتی زمین بوس ہوگئی۔
“بیا ۔”
مریم بیگم چیخیں ۔سعد دوڑتا قریب آچکا تھا ۔اس کے
ٹھنڈے پڑتے وجود کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر باہر کی طرف دوڑا۔
مریم بیگم اس کے پیچھے تھیں ۔جنید صاحب بھی ساتھ ہی تھے۔
ہاسپٹل پہنچتے ہی اسے گاڑی سے نکال کر کسی کی پرواہ
کیے بغیر ایمرجنسی کی سمت بھاگا ۔مریم بیگم بھاگتے ہوئے
اس کے ساتھ تھی اور جنید صاحب گاڑی لاک کرنے وہیں رک گئے۔
“سسٹر پلیز ۔۔جلدی سےڈاکڑ رخشی کو بلا دیں۔۔۔پلیز”
اسے سٹریچر پر لیٹا کر نرس کو کہا۔
اس کے چیخنے پر نرس دوڑتی ہوی ڈاکٹر رخشی کے روم کی طرف گئی۔
ڈاکٹر رخشی درید کی مدر تھیں اس لیے سعد سیدھا انھیں کے پاس آیا تھا۔
“سعد بیٹا آپ۔۔۔خیریت۔۔۔”
اسے دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگئیں جوابا مریم بیگم
نے مزیبہ کی کنڈیشن کے متعلق انھیں بتایا جو ایشا نے بتایا تھا۔
وہ سر ہلاتی تیزی سے اسے چیک کرنے لگئیں ۔مریم بیگم
سعد کو کھینچ کر باہر لے گئی ورنہ اس کا کوئی ارادہ نہیں
تھا وہاں سے ہلنے کا۔
پندرہ منٹ بعد روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر رخشی ان کے پاس آئیں۔
“شی از فائن۔۔”
“میں نے ڈرپ لگا دی ہے مگر آپ احتیاط کریں ۔سٹریس بہت
زیادہ ہے جو بےبی اور ماں دونوں کے لیے خطرناک ہے۔
ان کو خوش رکھیں ،دونوں کی صحت کے لیے ضروری ہے،
سعد آپ میرے روم میں آئیں، آپ سے کچھ بات کرنی ہے”
“آپ پریشان نہیں ہو، کچھ باتیں شوہر کی حیثیت سے
انہیں سمجھانا ضروری ہے۔۔۔”
انھوں نے مریم بیگم کو پریشان ہوتا دیکھ کر دلاسا دیا۔
“بیٹھوبیٹا۔۔”
آپ کا ریلیشن کیسا ہے وائف کے ساتھ ؟
“بس آج کل گڑبڑ چل رہی ہے ۔۔”
اس نے چھپانا مناسب نہیں سمجھا۔
“بیٹا جی یہ گڑبڑ زرا جلدی ٹھیک کریں ورنہ آنے والی
خوشی سے ہاتھ بھی دھونے پڑ سکتے ہیں۔۔”
ڈاکٹر رخشی نے ہلکی پھلکے انداز میں باور کرایا۔
“اللہ نہ کرے۔”
وہ فورا دل ہی دل میں بولا۔
آپ بے فکر رہیں اگلی مرتبہ جب چیک اپ کے لیے لاو گا تو
دیکھئیے گا محترمہ ہٹی کٹی ہوں گی۔۔۔”
سعد نے مکلمل یقین دھانی کروائی ۔
کچھ دیر تک وہ اسے مزید باتیں بتاتی رئیں جو اس کے لیے جاننا ضروری تھیں۔
“اب کیسی طبیعت ہے ؟
سعد نے قریب آکر پوچھا ۔
مریم بیگم اس کے پاس ہی براجمان تھیں ۔اسے آتا دیکھ کر باہر چلی گئیں ۔
جانتی تھیں اس وقت ایک شوہر کا بیوی کے پاس ہونا بہت معانی رکھتا تھا۔
جنید صاحب اسے دیکھ کر تسلی ہونے کے بعد گھر چلے گئے تھے۔
“بیا جانی۔۔۔میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔”
اس کے لگاوٹ بھرے اندازپر مزیبہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔؟
تھوک نگلتی بمشکل بول پائی۔
“ایک بات ۔۔۔آج کے بعد اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوں
گی۔۔۔تمھاری تسلی ہو گئی ہم سب کے لیے بس یہ بات کافی ہے ۔۔۔”
سعد کی بات پر اس کے آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگتے گالوں
پر لڑھکنے لگے۔
” بیا۔۔”
وہ پریشان ہوا۔
اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کر ماتھے پر محبت کی
مہر ثبت کی اور گالوں سے بہتے آنسووں کو صاف کیا۔
“اگر اب تم روئی تو میں تمھاری پٹائی کر دوں گا”
سعد کے لہجے میں تنبیہ تھی ۔مزیبہ ہنس دی اور سعد نے
اس دھوپ چھاوں کے منظر کو بڑے جذب سے دل میں سمیٹا تھا۔
آج ان چاروں کی واپسی تھی ۔مزیبہ کو گھر آئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔
سعد نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا تھا تو مریم بیگم
بھی اسے پاوں زمین پر نہیں لگانے دیتی تھیں ۔
ان چند دنوں میں سب کی توجہ نے اس کے گالوں کی
.سرخی لوٹا دی تھی ۔
مریم بیگم نے سعد کے ساتھ ملکر نیچے والے روم میں سارا
سامان شفٹ کر دیا تھا۔
“آپ پھر واپس آگئے۔۔۔”
سعد کو روم میں آتے دیکھ کر مزیبہ چلائی ۔
“آرام سے بیا جانی۔۔۔۔ماما نے کچھ چیزیں منگوائی تھیں
وہی لایا ہوں۔یہ اور بات ہے کے اس بہانے دیدار یار سے فیض
یاب ہونے کا موقع مل گیا۔”
سعد گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے قریب ہی لیٹ گیا۔
“کیا کرتے ہیں۔۔ابھی ماما آجائیں گی۔۔۔”
مزیبہ تیزی سے بولی۔
“خدا کا خوف کرو لڑکی میری ماں کا دور دور تک کوئی
تعلق واسطہ نہیں ظالم سماج سے ۔
وہ جانتی ہیں اس وقت ان کا بیٹا بیگم کے دربار میں
حاضری لگوانے گیا ہے۔
سعد کے انداز پر مزیبہ ہنسی تو ہنستی چلی گئی ۔سعد
مبہوت سا اس کی جھرنوں جیسی جلترنگ سن رہا تھا۔
مزیبہ اس کے یوں دیکھنے پر بلش کر گئی۔
شام میں سب اکھٹے ہوئے تو رونق لگ گئی ۔عروبہ اور
شہرینہ نے جب سے مزیبہ کی خوشخبری کا سنا ان کی
خوشی دو چند ہو گئی۔
اور مزیبہ وہ اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی کے اللہ نے اسے
اتنی محبت کرنے والے رشتوں سے نوازا ۔
جنھوں نے آغا جی کے جانے کے بعد ماں اور باپ کے ساتھ
آغا جی کی کمی بھی پوری کر نے کی
کوشش کئ۔
نئ جوڑیاں واپسی پر اتنی خوش تھیں کے سب نے ان کی
خوشیوں کے دائمی رہنے کی دعائیں مانگی۔
آٹھ ماہ بعد
سعد ہاسپٹل کے کاریڈور میں بےچینی سے گھوم رہا تھا۔
مسجد میں نوافل پڑھ کر سیدھا یہی آیا۔
مریم بیگم شہرینہ کے ساتھ پہلے سے موجود تھیں۔
آدھے گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد ڈاکٹر رخشی باہر آئیں۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ کو ، ماشاللہ ٹوینس ہیں ۔بیٹا اور بیٹی۔”
“واو۔۔۔۔”
سب کی خوشی دیدنی تھی۔سعد مارے تشکر کے وہیں سجدہ ریز ہو گیا۔
مریم بیگم خوشی سے رو دیں ۔عروبہ اور شہرینہ ان کو
گھیرے آنسو صاف کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد مزیبہ کو روم میں شفٹ کر دیا گیا۔
سب نے آکر اسے مبارک دی ۔
سعد اس کے پاس آیا تو شرمیلی سی مسکان نے بیا کے
چہرے کا احاطہ کیا۔
سعد نے ہاتھ تھام کر گرم جوشی سے دبایا۔آنکھوں کی چمک دگنی تھی۔
“بھئی ، گڑیا کا نام پھپھو رکھیں گی۔۔”
ننھی پری کو ہاتھ میں نرمی سے اٹھائے عروبہ چہکی۔
“اچھا ، تو پھر کیا نام سوچا تم نے۔”
مزیبہ خوشدلی سے بولی۔
“جنت۔۔۔جنت نام سوچا ہے ۔۔آپ بتائیں کیسا ہے۔۔؟
عروبہ نے سب کو متوجہ کر کے پوچھا۔
“بہت اچھا ہے۔۔۔کیوں ماما۔۔۔؟
سعد نے مسکراتے ہوئے کہا اور بیا نے سر ہلا کر تائید کی۔
“اب بتائیں ہمارے شہزادے کا نام کون رکھے گا۔”؟
سعد نے ننھے گڈے کو گود میں لیتے ہوے پوچھا۔
“اس کا نام دادا جانی رکھیں گے۔”
کرسی پر بیٹھے جنید صاحب کو دیکھ کر مزیبہ بولی تو
سعد نے تشکر سے اسے دیکھا ۔
جنید صاحب نے بچے کو گود میں لے کر ماتھا چوما۔
“عفان۔۔۔۔ عفان نام رکھ لیں۔۔۔”
جنید صاحب نے پوچھا تو سب نے پسندیدگی سے سراہا۔
پورا کمرا محبت کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔اور جنید
صاحب ، مریم بیگم اپنے بچوں کی دائمی خوشیوں کی
دعائیں مانگ رہے تھے ۔
ختم شد
