Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 16)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 16)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
سرپرائز ![]()
ہال میں پہنچنے پر سعد حیرت زدہ تھا اس کے استقبال کے لیے شہرینہ کی فیملی موجود تھی۔
اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی سب اپنے ہی جاننے والے تھے ۔
وہ شش وپنج میں پڑ گیا ۔
مریم بیگم جنید صاحب کے ساتھ سب سے ملنے میں مصروف تھیں ۔
“فہد ۔۔۔بچیاں تیار ہو چکی ہیں ۔۔جاکر لے آو انھیں پارلر سے۔۔۔”
مریم بیگم نے عروبہ کی کال آنے پر فہد کو دوڑایا۔
پرلر پہنچ کر عروبہ کو کال کر کے ان کے آنے کا ویٹ کرنے لگا ۔
پانچ منٹ بعد پیچھے سے ان کی آوازیں سن کر مڑا اور وہی ٹھٹھک گیا ۔
فیروی اور پنک کمبینیشن کی لانگ فراک پہنے شہرینہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
فہد کی نظر اپنے اوپر محسوس کر کے اس نے سر اٹھا کر ناگواری سے اسے گھورا ۔
فہد شرمندہ ہو کر سر جھکا گیا۔
اس کے پاس الفاظ نہیں تھے جن کو بول کر اس دن کی باتوں کی تلافی کر سکتا ۔
اب تو راستے بھی جدا تھے یہئ سوچ کر چپ تھا کہ وہ اپنے دل میں اس کی یہئ تصویر رکھیں تاکہ وہ نئے رشتے کو آسانی سے دل میں جگہ دے
دیں۔
ان کو ہال میں لے کر جانے تک وہ شرافت سے سامنے دیکھتا ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔
دل بار بار اسے دیکھنے کو مچل رہا تھا مگر وہ اسے ڈپٹ رہا تھا۔
مولوی صاحب کے آنے پر نکاح کی رسم شروع ہوئی تو سعد مارے تحیر کے کھڑا ہو گیا سب کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔
قریب موجود آغا جی نے اس کو ہاتھ سے پکڑ کر واپس بٹھایا۔
نکاح کے بعد مزیبہ کو لاکر اس کے پہلو میں بٹھایا گیا تو اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔
کچھ دیر پہلے چہرے پر چھائی بےزارگی کی جگہ شوخ مسکراہٹ نے لے لی تھی۔
“تم ان سب کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔۔۔گھر چلو زرا سب سے پہلے تمھیں سیدھا کروں گا”
ہلکا سا اس کی جانب جھک کر سرگوشی میں بولا ۔
“قسم سے ماما نے سختی سے منع کیا تھا آپ کو بتانے سے”۔
مزیبہ منمنائی۔
اسی وقت جنید صاحب آصف صاحب کے ہمراہ سٹیج پر آئے ۔
“مولوی صاحب کو ان کے ہمراہ دیکھ کر سعد چونکا۔
عروبہ آپ اور شہرینہ دوپٹے سر پہ لو اور چہرہ نظر نہیں آنا چاہیئے۔۔”
“بلکہ یہاں بیٹھو میں خود سیٹ کرتی ہوں”
سمیرا بیگم ان کے قریب آئیں تو ان کی بات سن کر دونوں چونکی ۔
“شہرینہ آپ کا اور حمزہ کا نکاح ہے ابھی۔۔”
انھوں نے دھماکہ کیا ۔
سمیرا بیگ۔ کی بات سن کر اس کا رنگ فق ہوا ۔اتنی جلدی کی امید نہیں تھی اسے ۔
“ماما۔۔آپ نے اور پاپا نے ایک بار بھی نہیں پوچھا ہم سے ۔۔۔۔۔کچھ وقت تو دیتے ہمیں۔۔۔۔”
حمزہ کب ان کے پیچھے آکر کھڑا ہوا انھیں خبر نہیں ہوئی۔
“جو کام کل ہونا ہے وہ آج ہو جا ئے تو بہتر نہیں”۔
عروبہ بیٹا آپ شہرینہ کو لے جا کر سٹیج پر بٹھائیں”
سمیرا بیگم کی گھوری پر شہرینہ نے آنکھوںیں آئی نمی کو ٹشو میں جزب کیا اور بےدلی سے دوپٹہ سیٹ کروا نے لگ گئی۔
حمزہ کی نظر عروبہ پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی عروبہ نے نظروں کے ارتکاز پر سر اٹھا کر دیکھا تو حمزہ کو یوں یک ٹک دیکھتا پا کر ناگواری سے رخ موڑ گئی۔
حمزہ بھی سحر ٹوٹنے پر سٹپٹاتا سٹیج کی طرف بڑھ گیا
“سعد یہ فادی نظر نہیں آریا۔”
ہال میں نظر دوڑانے کے بعد فہد کہیں نظر نہیں آیا تو جنید صاحب اس کے پاس آئے ۔
“پاپا۔۔میں کال کر کے پتہ کرتا ہوں۔۔۔۔”
سعد نے فون نکالا۔
“اس سے کہو جہاں کہیں بھی ہے فورا پہنچے ۔۔ کاح ہے اس کا۔”
جنید صاحب کی بات پر وہ چونکا۔
“پاپا آپ نے ہمیں بتایا نہیں۔”
اس کی حیرانگی بجا تھی۔
“سرپرائز تھا۔”
انھوں نے کندھے اچکائے ۔
دس منٹ بعد فہد انھیں ہال کے دروازے سے اندر آتا دکھائی دیا۔
اسے پکڑ کر پھولوں کی مالا اس کے گلے میں ڈالی اور صوفے پر بٹھا دیا۔
وہ ہکا بکا ان کی کاروائی ملاحظہ کر رہا تھا۔اس کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھا۔
فرمابرداری کتنی مہنگی پڑ رہی تھی کوئی ان کے دل سے پوچھتا ۔
چند لمحوں بعد اس کے پہلو میں سجی سنوری دلہن کو لاکر بٹھایا گیا ۔
عروبہ نے اس کے دیکھنے پر نظریں چرائی تھیں ۔
فہد نے ہال میں نظر دوڑائی تو وہ دشمن جاں کہیں نظر نہیں آئی اس کو آخری بار دیکھنے کی خواہش ادھوری رہ گئی تھی ۔
“فہد خان ولد جنید خان آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
مولوی صاحب کے الفاظ سن کر وہ بےاختیار کھڑا ہوگیا ۔
اس کی حالت پر سب کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔
گھونگھٹ میں چھپی شہرینہ کا حال اس سے مختلف نہیں تھا۔۔
فہد کر چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی تھی اس نے زوروشور سے ایجاب وقبول کے مراحل طے کیے تھے ۔
ان کے نکاح کی رسم ختم ہوئی تو جنیدصاحب آصف صاحب کے ساتھ سٹیج سےنیچے اترے ۔
“کیا خیال ہے جناب اب ہم بھی اپنا بیٹا آپ کی فرزندی میں دے دیں۔۔”
آصف صاحب ا ن سے مخاطب ہوئے تو انھوں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔
کچھ ہی منٹوں بعد سٹیج پر ایک اور جوڑی کا اضافہ ہو چکا تھا ۔
نئی جوڑی بھی ششدر تھی ۔
دونوں جوڑیاں ابھی تک شاک میں تھیں ۔انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک بندھن میں بندھ چکے ہیں ۔
سعد کی رخصتی تو ساتھ ہی تھی جبکہ ان
چاروں کی پیپرز کے بعد طے پائی تھی
“تھینک یو پاپا۔”
حمزہ اور فہد اپنے اپنے والد کے گلے لگے تشکر سے بولےتو انھوں نے محبت سے خود میں بھینچ لیا ۔
استخارہ میں مثبت اشارہ ملنے پر انھوں
نے فون پر جنید صاحب کے ساتھ ساری بات چیت مکمل کی اور بچوں کو سرپرائز دینے کے لیے
انھیں ہر بات سے بےخبر رکھا ۔سب کچھ چھپانا
بہت مشکل تھا مگر ان کی بھرپور کوششوں سےسرپرائز آخر تک سرپرائز ہی رہا۔
کھانے سے فارغ ہو کر شہرینہ اور عروبہ اپنے اصلی حلیے میں واپس آئیں اور سعد کر سر پر پہنچ گئیں۔
ان کے چہروں کی چمک اور خوبصورتی دیکھنے والوں کو بار بار دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی ۔
فلحال تو دونوں اپنے نئے بنے شوہر حضرات کو آرام سے نظر انداز کر رہی تھیں ۔
سمیرا بیگم اور مریم بیگم بچوں کو خوش دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کر رہی تھیں۔
“سعد بھائی ۔۔۔یہ سپیشل دودھ آپ کے لیے۔۔۔”
عروبہ نے سجا ہوا گلاس اس کے آگے کیا۔
عروبہ نے مزیبہ کا گھونگھٹ اوپر کر دیا تھا تاکہ وہ بھی انجوائے کرے۔
“لاو دو۔۔”
جیسے ہی سعد نے ہاتھ بڑھایا عروبہ نے سرعت سے گلاس والا ہاتھ پیچھے کھینچا۔
۔سعد نے گھور کر اسے دیکھا۔
“پہلے نیگ تو دیں۔”
شہرینہ نے ہاتھ آگے کیا۔
“کونسا نیگ۔۔۔”
سعد نے مصنوعی حیرانگی کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔
“وہی نیگ جو دودھ پینے کے لیے ادا کریں گے۔”
عروبہ ہنستے یوئے بولی۔
“کتنا نیگ چاہئیے۔”
حمزا سعد کے پیچھے آکھڑا ہوا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زرا سا جھکااور عروبہ کو نظروں کے حصار میں لے کر بولا تو عروبہ سٹپٹا کر نظر جھکا گئی۔
گالوں پر سرخی ایک دم بڑھ گئی تھی۔جس کو دیکھ کر حمزہ کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“ہم نے نیگ سعد بھائی سے مانگا ہے آپ سے نہیں ۔۔۔”
شہرینہ فورا اس کی مدد کو آگے آئی۔
“یہ تم دونوں نے اپنی اپنی فتنیاں کھلی چھوڑی ہوئی ہیں ۔۔۔اب دیکھو مجھ غریب کو لوٹنے آگئی ہیں ۔”
سعد ان دونوں سے مخاطب ہو جو پیچھے کھڑے مسکرا رہے تھے ۔
ہااااااا ہائے۔۔۔۔سعد بھائی اگر ہم فتنیاں ہیں تو آپ بھول گئی ہمارے گروپ کی تیسری فتنی آپ کے پہلو میں بیٹھی ہے۔۔۔”
شہرینہ نے دانت کچکچا کر سعد کو جواب دیا تو اس کی حاضر جوابی پر سب کی ہنسی بےساختہ تھی ۔
کتنا نیگ چاہیئے تم ندیدیوں کو۔۔۔”
سعد اب کی بار سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے لگا جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔
“کم سے کم پچاس اور زیادہ سے زیادہ جو آپ دینا چاہیں۔”
عروبہ نے مزے سےڈیمانڈبتائی۔
“اف تم دونوں بہنیں مجھے کنگال کر کے چھوڑوں گی ۔۔۔۔ظالموں ابھی میں نے تمھاری بھابھی کو ہنی مون کے لیے بھی لے کر جانا ہے ۔۔۔”
سعد کئ دہائیاں سن کر ان دونوں کے چہرے یک دم سرخ ہوئے کیونکہ حمزہ اور فہد سامنے ہی کھڑے تھے۔
سعد کی بات کو دونوں نے خوب انجوائے کیا تھا۔
“اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔۔۔آپ جانے آپ کی ہنی اور مون ۔۔۔”
عروبہ کا جواب بےساختہ تھا ۔
سب کی قلقل ہنسی پورے ہال مہں گونجنے لگی ۔
“سعد نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور والٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھا ۔۔۔۔۔سارا رکھ لو۔۔”
بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
عروبہ اور شہرینہ اسے شکی نگاہوں سے دیکھاکیونکہ دونوں ہی جانتی تھیں کہ سعد اچھا خاصا کنجوس تھا۔
اس کیے انھوں نے فورا والٹ کھولا۔اور ان کی توقع کے مطابق والٹ میں صرف پچاس کا نوٹ پڑا تھا۔
صدمے سے دونوں نے گھور کر سعد کو دیکھا۔
“ہم آپ سے ناراض ہونے لگی ہیں۔۔۔کوئی ایسے کرتا ہے بہنوں کے ساتھ۔۔”۔
شہرینہ نے منہ بسورا۔
“اچھا تو کیا بہنیں ایسے کرتی ہیں بھائی کے ساتھ ۔۔۔”
سعدنے ڈبل منہ پھلا کر جواب دیا۔
“اس کا مطلب آپ ہمیں نیگ نہیں دیں گے۔”
عروبہ نے روہانسی ہو کر پوچھا۔
“بس کر دو اب بہنوں کو تنگ کرنا۔۔۔۔”قریب سے مزیبہ کی
دانت پیستی آواز برآمد ہوئی تو سعد اچھلا۔
“خدا کا خوف کرو بیوی ابھی تو صرف گھنٹہ ہوا ہے شادی کو اور میڈم آپ نے حکم چلانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔”
سعد آنکھیں پھاڑیں اسے دیکھتا بےچارگی سے بولا۔
“سوری۔۔”
مزیبہ فورا شرمندہ ہوئی اور اسے دیکھ کر سعد کو شرمندگی نے آگھیرا۔
“سوری کیوں جی ۔۔۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔۔۔”
سعد اس کی شرمندگی مٹانے کو زرا سا جھک کر ہاتھ آنکھوں اور ماتھے پر لگاتے ہوئے بولا تو مزینہ کے چہرے پر رنگ ہی رنگ اتر آئے۔
سعد مبہوت سا دیکھتا رہ گیا۔
چند لمحے ایسے ہی گزر گئے ۔
پیچھے کھڑے حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسےاس سحر سے نکالنا چاہا۔
بس کر دے مجنوں کی اولاد۔۔سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر حمزہ کان میں بدبدایا
تو وہ چونکا اور خفت زدہ ہو کر جھیمپتا ہونٹ بھینچ گیا۔
“چلو بچوں ۔۔۔دودھ پلاو اور یہ لو اپنا اپنا نیگ۔۔۔”
مریم بیگم سٹیج پر آئیں اور دو ڈبیاں ان
کی طرف بڑھائیں جن میں گولڈ کی نازک سی انگوٹھیاں تھیں۔
جو دونوں کو بےحد پسند آئیں۔
حمزہ سعد کے کان میں کچھ کہ رہاں تھا اور اس کے جواب میں سعد کا سر اثبات میں ہل رہا تھا۔
