Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz
مزیبہ جلدی سے بولی مگر مقابل خاصی گہری نظروں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا ۔ "میں آپ سے لندن ایئرپورٹ پہ ملا تھا ۔۔۔۔" اچانک ہی اس کے ذہن میں کچھ کلک ہوا تھا ۔۔۔۔مزیبہ کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیے "آپ کے ساتھ بزرگ تھے ،آغا جی۔۔۔آغا جی۔۔۔ہے نا ۔۔۔۔" سعد نے تصدیق چاہی۔ "جج جی۔۔"۔ بیا کے حلق سے پھسی پھسی آواز نکلی ۔ "آپ کا پورا نام کیا ہے ۔۔۔۔" اس بار اس کے سوال نے مزیبہ کا رنگ سچ میں اڑایا تھا۔۔۔افی دادا نے سختی سے منع کیا تھا کچھ بھی ظاہر کرنے سے پر یہاں تو سعد صاحب کو جیسے آغا جی کی شکل یاد کر کے سب کچھ یاد آگیا تھا ۔ بری طرح پھنس گئ تھئ وہ ''مزیبہ ۔۔بس مزیبہ ہی پورا نام ہے۔۔۔۔.'' ہکلاا کر جواب دیا تو سعد نے خاصی مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ آج اس کے پاپا کی تلاش آج ختم ہو جاہے گی۔ اوپر سے مزیبہ کا انداز اس کے یقین کو پختہ کر رہا تھا ۔ " آپ مزیبہ دانیال فاروق ہیں" ؟ سعد کی سنجیدہ آواز ابھری تومزیبہ نے سر اٹھا کر دیکھا ۔ مقابل کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا بیا کو سمجھ نہیں آئی اسے کیسےٹالے ۔جلد بازی میں وہ گڑ بڑ کر چکی تھی ۔ ''نہیں۔۔۔'' مزیبہ نے تھوک نگلتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ سعد نے ایک لمحے کو اسے گھورا اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ٹیبل پر موجود اس کا ہینڈ بیگ اٹھا لیا اور تیزی سے کھول کر اس میں سے آئی ڈی کارڈ ڈھونڈھنے لگا مزیبہ اس کی اس حرکت پر آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے حیرت زدہ دیکھے جا رہی تھئ۔ اسے سعد سے اتنی جرائت کی امید نہیں تھی ۔ ''مزیبہ ولد دانیال فاروق۔۔۔۔'' آئی ڈی کارڈ ہاتھ میں پکڑے وہ بلند آواز میں پڑھ رہا تھا ۔ بیا کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کو مدھم پڑا ۔ سعد کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔ جس دادا اور چچا کو ڈھونڈنے کے لیے وہ رستہ تلاش کر رہا تھا ایک دم سے سب کچ واضح ہو گیا تو اسے سمجھ نہیں آئی کہ روئے یا ہنسے ۔ دادا کے ملنے کی خوشی چچا اور چچی کی موت کی خبر کے ساتھ ملی تھی۔ " اس دن آپ آفس میں اسی لیے اس تصویر کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔" سعد کی گھمبیر آواز سن کر اس نے سر آٹھایا ۔ سعد کی نگاہیں اس تصویر پر ٹکی تھیں۔جس میں دادا کے ساتھ پاپا اور چاچو تھے ۔ یہ ان کی جوانی کی تصویر تھی۔ " جی ۔مجھے بھی اسی دن آپ سے پتہ چلا کہ اس دنیا میں آغا جی کے علاوہ بھی میرا کوئی قریبی رشتہ ہے ۔" بیا نے سر آٹھا کر اسے دیکھ کر بات مکمل کی۔ بیا کے انداز میں رنجیدگی سما گئ ۔لندن میں بارہا اسے اکیلا پن محسوس ہوا اور یہ اس وقت شدت اختیار کر جاتا جب کبھی آغا جی کی طبیعت خراب ہو جاتی۔ سعد نے تصویر سے نظر ہٹا کر اس کا کو دیکھا ۔ آنسو بہنے کو بےتاب تھے ۔ چہرہ ضبط کے مارے لال ہو گیا تھا ۔جب اس سے کنٹرول کرنا مشکل ہوا تو دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو دی ۔ سعد تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور دونوں ہاتھ تھام کر منہ سے ہٹائے ۔ اس کا سارا چہرہ آنسووں سے بھیگ گیا تھا ۔ سعد نے نرمی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا اور انگوٹھے کی مدد سے آنسو صاف کیے ۔ بیا کی سسکیاں وقفے وقفے سے ابھر رہی تھی ۔ "بیا ۔۔۔پلیز رونا بند کریں۔۔" سعد کی آواز میں اس کے لیے فکرمندی تھی ۔ " آپ پہلے وعدہ کریں بڑے پاپا کو کچھ نہیں بتائے گے جب تک آغا جی خود راضی نہیں ہوتے ان سے ملنے کے لیے ۔۔" مزیبہ نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات پوری کی ۔ سعد کے چہرے پر دبا دبا تبسم تھا ۔ بیا اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ اس کے دل پہ قبضہ جما چکی تھی ۔ " اوکے ۔۔۔۔اب آپ رونا بند کریں ۔۔۔۔" سعد نے ٹوکا تو بیا نے فورا ٹیبل پر موجو ٹشو باکس سے ٹشو نکالے اور اپنا چہرہ رگڑ ڈالا۔ سعد نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مطمئن ہو کر ریسیور آٹھا کر چائے اور سینڈوچز کا آرڈر دیا ۔ " تھینک یو سعد بھائی۔۔ آفس آنے کے چکر میں ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔" ۔مزیبہ مزے سے بولی ۔کچھ دیر پہلے والی روتی بسورتی مزیبہ غائب تھی۔ " خبردار جو بھائی بولا۔۔۔۔" ۔ سعد نے یک دم ٹوکا تو مزیبہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا ۔ جو گہری نگاھوں سے اسے دیکھ رہا تھا مگر مقابل کو زرا بھی جو اثر ہوا ہو۔ " آپ کیا ہر لڑکی کو یہی کہتے ہیں۔۔۔۔" زرا سا آگے جھک کر رازداری سے پوچھنے پر سعد نے خاصی خفگی سے اسے گھورا ۔
