Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 13)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 13)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
گاڑی سے باہر نکل کر ڈور لاک لگایا اور سارا غصہ گاڑی کے دروازے پر اتارا۔بیگ سمبھالتی آہستہ روی سے چلتی گلاس ڈور کھول کر ا ندر داخل ہوئی۔
“مس مزیبہ۔۔۔۔یہ آپ کے آفس آنے کا ٹائم ہے۔۔۔دس بج رہے ہیں۔۔۔پہلے ہی آپ نے جوائن کرتے ہی اتنی چھٹیاں کر لیاور اب آفس آئی ہیں تو گھنٹہ لیٹ۔۔۔۔۔”
برانچ میڈم تہمینہ کی جیسے ہی اندر آتی مزیبہ پر نظر پڑی وہ شروع ہو گئی اور اچھی خاصی درشت انداز میں کلاس لی تھی۔
مزیبہ نے ایک گہری سانس لی اور انھیں دیکھا ۔
“میں آفس دس بجے آو یا گیارہ بجے کسی کو حق نہیں کہ وہ مجھ سے سوال کرے۔۔۔۔اس لیے آپ اپنی سیٹ پر جائیں۔۔۔میں کچھ دیر تک آپ کو جوائن کرتی ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے نرمی سے کہا میڈم تہمینہ نے آنکھیں پھاڑ کر اس کا انداز ملاحظہ کیا ۔
“میں پوچھ سکتی ہو کس بیس پر آپ اتنا اکڑ رہی ہیں”
ان کا غصہ عود آیا اس لیے خاصی اونچی آواز میں بولیں۔
۔”مجھے نہیں بتانا آپ کو کچھ بھی۔۔”
مزیبہ نے سعد پر آیا سارا غصہ یہی اتار دیا ۔میڈم تہمینہ کے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوا
“تمھارہ ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی ،ایک معمولی ورکر ہو کر تم برانچ ہیڈ سے بتمیزی کر رہی ہو”
“میں ابھی تمہیں فائر کرواتی ہو۔”
غصے میں انگلی اٹھا کر اسے کہتی وہ پلٹیں۔
“میڈم تہمینہ پلیز آپ ایسے نہیں کریں ۔۔۔۔میں کیا کروں گی اگر میری نوکری ختم ہو گئی۔۔میرے چھوٹے سے دادا ہیں ان کا خرچا کیسے اٹھاوں گی۔۔۔۔”
ابھی انھوں نے ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ پیچھے سے مزیبہ کی ملتجی آواز ابھری۔
“یہ تمھیں اکڑنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا ۔”
اس کی التجا کو کسی خاطر میں نہ لاتیں وہ مڑی تو سامنے ہی سعد آتا دکھائی دیا۔
باس کو آتا دیکھ کر میڈم تہمینہ وہیں کھڑی ہو گئیں۔مزیبہ کی ساری کلفت دور ہو چکی تھی اس ڈرامے سے ۔
“اینی پرابلم۔۔۔۔”
سعد قریب آکر بولا نظریں مزیبہ پر تھیں جو مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو رہی تھی۔
“۔سر۔۔۔سر پلیز آپ میڈم سے کہیں نہ مجھے آفس سے نہیں نکالیں۔۔۔”
اس سے پہلے کہ میڈم کچھ کہتیں وہ خود آآگے بڑھ کر شروع ہو گئی۔
سعد نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور بات سمجھنے کی کوشش کی۔
“سر ایک تو یہ اتنا لیٹ آئیں اور پھر مجھ سے اتنی بتمیزی کی۔۔۔۔۔میں نے انھیں وارن بھی کیا مگر انھیں کوئی فرق نہیں پڑا ۔۔۔اس طرح تو ہمارے آفس کا ماحول خراب ہوگا۔۔۔۔۔”
بیا نے آنکھیں پھاڑ کر انھیں دیکھا جو جھوٹ بول رہیں تھیں۔
اس نے تو ساری باتیں طریقے سے کی تھیں کسی میں بھی بتمیزی کا عنصر شامل نہیں تھا۔
اسےلگا اب سعد کے ہاتھوں عزت افزائی پکی ہے۔
اور میڈم دل ہی دل میں خوش ہو رہیں تھیں کیوں کہ سعد کی سخت طبیعت سے واقف تھیں ۔
“میڈم تہمینہ پہلی بات یہ کہ مزیبہ بتمیزی نہیں کرتی۔۔۔۔۔”
اس کا لہجہ سرد تھا ۔
“دوسری بات یہ آفس دس بجے آئیں یا گیارہ بجے کسی کو اختیار نہیں انھیں ٹوکنے کا ۔۔”
سعدکی بات پر ایک لمحے کو ان کا رنگ فق ہوا۔
مزیبہ نے سعد کو سنجیدگی سے دیکھا ۔اسے یوں فیور دینا اچھا لگا۔
“دس منٹ میں سارے ہیڈ اور اسسٹنٹ سٹاف کو میٹنگ روم میں بلائیں ۔۔۔ان کا تعارف بھی وہی ہوگا۔”
“محترمہ یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے یا روم میں چلنا ہے”
تہمینہ کو آرڈر کر کے مزیبہ سے مخاطب ہوا۔
“اب کیوں بات کر رہے ہیں مجھ سے ۔۔گاڑی میں اکیلے چھوڑتے ہوئے خیال نہیں آیا۔۔۔”
بغیر میڈم کی پرواہ کیے مزے سے اسے جھاڑتی سائیڈ سے ہو کر سعد کے روم میں آگئی۔
پیچھے سے سعد کی ہنسی اور میڈم کی حیرانگی بےساختہ تھی ۔
آفس کا راونڈ لگا کر واپس آیا تو مزیبہ کینڈی کرش کھیل رہی تھی ۔سعد نے آگے بڑھ کر موبائل اس کے ہاتھ سے لیا۔
“یہ آفس ہے آپ کا روم نہیں”
“میں کون سا یہاں لیٹی ہوئی ہوں ۔۔۔۔”
اس نے بےپرواہئ سے جواب دیا۔اسی وقت فون کی بیل بجی۔
“چلو ۔۔۔”
اسے اشارہ کر کے سعد آگے بڑھا چاروناچار وہ بھی پیچھے چل پڑی ۔
“میڈم مزیبہ سے آپ سب کا ایک بار تعارف ہو چکا ایک ایمپلائی کی حیثیت سے۔۔۔لیکن یہ تعارف اس دن ادھورا تھا۔۔۔”
ان کا پورا نام مزیبہ دانیال فاروق ہے ۔۔۔یہ میرے چچا دانیال فاروق کی اکلوتی بیٹی ہیں اور الفاروق گارمینٹس کی ففٹی پرسینٹ کی شئیر ہولڈر ۔۔۔آج سے یہ آفس جوائن کر رہی ہیں ۔کچھ دن سب برانچز میں کام سیکھیں گی اور پھر اپنا آفس سنبھالیں گی ۔”
سعد نے بتایا تو میڈم تہمینہ کے چہرے پر تاریکی چھا گئی۔
“سوری میڈم ۔۔۔میں نے آپ سے مس بی ہیو کیا۔۔۔”
انھوں نے فورا معزرت کی ۔
“پلیز میڈم ۔۔۔آپ بڑی ہیں کچھ کہ بھی دیا تو کوئی پرابلم نہیں ۔۔۔وہ سب تو انجانے میں ہوا ۔۔۔”
بیا نے نرمی سے کہا تو میڈم نے تشکر سے دیکھا ورنہ تو انھیں اپنی نوکری خطرےمیں لگ رہی تھی ۔
“آپ سب جانتے ہیں آج کے دن آفس کے تمام ایمپلائیز کو کارکردگی کے مطابق ترقی دی جاتی ہے ۔۔۔۔اس سال بھی سب کی کارگردگی اچھی رہی ۔
“مگر تین ایمپلائیز ایسے تھے جن کی شکایات سارا سال مجھ تک پہنچتی رہیں۔۔۔”
میرے وارن کرنے کے باوجود ان کی کوتاہیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی ۔آپ سب جانتے ہیں جب تک میں خود معاملے کی جانچ پڑتال نہیں کر لوں ایکشن نہیں لیتا۔۔۔۔
سٹاک برانچ کے فرید صاحب۔۔۔۔پیکنگ برانچ کے صمد اور ورکرز برانچ کے وحید ۔۔۔آپ تینوں کو اس جاب سے فائر کیا جاتا ہے۔۔
سعد نے تینوں فائلز اٹھا کر ان کی جانب بڑھائیں۔
“اس میں آپ تینوں کے واجبات کی تفصیل ہے۔۔۔۔”
“آپ لوگ اب جا سکتے ہیں۔”
“سعد۔۔۔جاب سے نکال دیں گے تو ان کی فیملیز کا کیا ہو گا۔۔۔۔”
مزیبہ اس کے قریب آکر ہلکی آواز میں منمنائی۔
“اگر انھیں اپنی نوکری کی فکر ہوتی
تومیرےوارن کرنے کے بعد اپنی حرکتیں درست کر چکے ہوتے۔”
سعد نے اطمینان سے جواب دیا ۔
“اوکے۔۔”
کندھے اچکا کر وہ دوبارہ فائل پہ جھک گئی جس میں اکاونٹس کی تفصیل تھی۔
“اکاوئنٹ مینجمنٹ کے ہیڈ بخاری صاحب اگلے منتھ ریٹائرہو رہے ہیں ان کی جگہ ان کے اسسٹنٹ شاہد پرموٹ ہو کر ان کی سیٹ سمبھالیں گے۔۔”
سعد کی بات پر سب نے تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا۔
کافی دیر تک سب برانچز کی سالانہ رپوٹس ڈیسکس کرنے کے بعد اس کی توجہ مزیبہ پر گئی جو بےنیاز بیٹھی کینڈی کرش کھیل رہی تھی۔
سعد نے سر جھٹکا ۔
“اس کا کچھ نہیں ہو سکتا”دل میں سوچا۔
سب کے جانے کے بعد اسے متوجہ کرنے کے لیے ٹیبل بجایا۔
“ہوں”
سر اٹھا کر بند منہ کے ساتھ ہنکورا بھرا ۔
سعد نے خفگی سے گھوارا تو خفت زدہ ہو کر
موبائل بند کر کے اسے دیکھا جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے اس کا جائزہ لے رہا تھا ۔
“اگر میرا ایکسرے ہو گیا ہو تو لنچ کروا دیں۔۔مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے۔۔۔”
اس کی نظروں سے خائف ہو کر زرا نروٹھے پن سے بولی۔
دھیمی سی مسکان نے مقابل کے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔
دونوں چلتے ہوئے روم میں واپس آئے تو سعد نے اسے دیکھا ۔چہرہ خاصا اترا ہوا تھا۔
۔”تم نے آج پھر ناشتہ نہیں کیا۔۔”
اسے سمجھ آگئی تھی اس کے اترے چہرے کہ وجہ۔
“مجھ سے نہیں ہوتا سویرے ناشتہ”
سوری لنچ کےلیے نہیں جا سکتے۔۔آدھے گھنٹے بعد شیرازی وئیر ہاوس سے ہماری میٹنگ ہےاوو تم ساتھ چل رہی ہو ۔۔۔۔”
“یہ فائل سٹٹڈی کر لو “
اس کے پھولے منہ کو نظر انداز کر کے حکم دیتا خود باہر نکل گیا ۔
“ظالم انسان ۔۔۔اللہ کرے خود بھوک لگے اور کھانے لکو کچھ نہ ملے”
اونچی آواز میں بڑبڑاتی فائل کھول کر دیکھنے لگی ۔
دس منٹ بعد سعد واپس آیا تو بغور فائل کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی ۔
سعد کچھ مطمئن ہوا۔
“سر چائے۔۔”
اس کے آنے کے پانچ منٹ بعدپیون ٹرے اٹھائےاندر آیا۔
ٹرے میں چائے کے ساتھ سینڈوچز موجود تھے۔
مزیبہ نے فائل سے سر اٹھا کر دیکھا ۔آرام سے فائل بند کر کے سائیڈ پر رکھی اور ٹرے اپنے سامنے کھینچ لی ۔
سعد نے مسکراہٹ کو روکنے کے لیے ہونٹ بھینچیں ورنہ تو دل قہقہ لگانے کو بےتاب تھا
“فادی یونی نہیں جانا ۔۔۔”
عروبہ اسکے کمرے میں آئی تو وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھا۔
پاس ہی ایک ڈائیری پھٹی ہوئی اپنی حالت پہ ماتم کر رہی تھی ۔
کمرے میں عجیب سی افسردگی پھیلی محسوس ہو رہی تھی شاید اس لیے کہ کمرے کا شوخ مکین اس وقت غم کی چادر اوڑھے بےسدھ پڑا تھا۔
“فادی۔۔۔میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔”
“میرا موڈ نہیں تم چلی جاوں”
اس کی بھاری آواز عروبہ کو بےچین کر گئی۔
وہ اسے کیا بتاتی تکلیف میں تو خود وہ بھی تھی مگر لڑکی تھی اس لیے غم منانے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی۔
“ایسا کب تک چلے گا۔”
“اپنے آپ کوسنبھالوں انشاءاللہ کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔”
اس کے قریب بیٹھ کر گویا ہوئی۔
“میں آجاو۔۔”
کھلے دروازے کو ناک کر کے اس نے اجازت چاہی۔
فہد اس کی آواز سن کر سیدھا ہو اور سر جھکا کر بیٹھ گیا
آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھی ۔
“پچھلے ایک ہفتے سے تم دونوں یونیورسٹی نہیں جا رہے۔۔۔پیپرز میں ایک منتھ رہ گیا ہے۔۔۔۔کتنا نقصان ہو ریا ہے تم دونوں کا۔۔۔”
قریب رکھی کرسی پر بیٹھ کر اس نے استفار کیا۔
دونوں سر جھکائے خاموش تھے۔
“تم لوگ اللہ پر کتنا یقین رکھتے ہوں؟”
مزیبہ کی بات پہ دونوں نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
“اللہ پر یقین کم یا زیادہ تو نہیں ہوتا۔۔۔۔۔بس یقین ہوتا ہے ۔۔۔اتنا ہی جتنا ہمیں اپنی موت کا یقین ہے۔”
فہد نے جواب دیا۔
“جب اتنا یقین ہے تو اتنی مایوسی کیوں۔۔۔محبت میں ملنا بچھڑنایہ سب تو اوپر آسمانوں پر طے ہوتا ہےپھر ہم کون ہوتے ہیں ناراض ہو کر بیٹھنے والے۔۔۔۔۔”
“ہمیں تو ہر ایک فیصلے کو خوشی سے قبول کرنا چاہئیے۔۔۔یہ سوچ کر کے اللہ ہمیں بہتر کو جگہ بہترین سے نوازتا ہے “۔
وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔
“تمھیں شہرینہ اپنے لیے بہتر چوائس لگ رہی ہو گی مگر اللہ کے نذدیک تمھارے لیے اس سے بہترین ہمسفرکوئی اور ہوں۔۔۔”
مزیبہ کی بات پر دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
باہر کھڑا سعد ہلکا سا مسکرایا۔
لاپرواہ نظر آنے والی لڑکی سے اتنی سنجیدگی کی امید نہیں تھی۔
“اگر دل پھر بھی نہ مانیں”
