Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 17)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 17)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

حمزہ وہاں سے جنید صاحب کے پاس آیا ان سے کچھ بات کی اور نہایت اطمینان سے آگے بڑھ کر عروبہ کا ہاتھ تھاما اور اس کے کچھ سمجھنے دے پہلےااے لے کر ہال سے نکل آیا۔

شہرینہ نے مسکراتے ہوئے اسے جاتے دیکھا اور ارد گرد نگاہ دوڑائی ۔

نکاح کے بعد سے فہد اس کی طرف نظر نہیں اٹھا پا رہا تھا۔

اور شہرینہ اتنا تو جان ہی گئی تھی کہ وہ شرمندہ ہے ۔

“پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں “عروبہ حمزہ کے ساتھ تقریبا دوڑ رہی تھی ۔

حمزہ کے ہاتھ کی گرفت قدرے سخت تھی جس کی وجہ سے عروبہ کو اپنے ہاتھ میں درد محسوس ہو رہا تھا۔

حمزہ کان بند کیے اسے پارکنگ میں لایااور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

عروبہ اس کی نظروں سے خائف ہوتی فورا بیٹھ گئی ۔دل کی دھڑکن نئے راگ الاپ رہی تھی۔

حمزہ اس کا دتوازہ بند کر کے دوسری طرف سے آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اس کی نگاہ عروبہ کےہاتھ پر پڑی جو سرخ ہورہا تھا۔

“آئم سوری۔۔۔مجھے پتہ نہیں چلا اتنا زور سے پکڑا آپ کو”

وہ فورا شرمندہ ہوا ۔

عروبہ نے کن انکھیوں سے اس کا جائزہ لیا جو اب گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا۔

آف وائیٹ شلوار قمیض کے ساتھ بلیک واسکٹ پہنے وہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔

“اچھا لگ رہا ہوں ۔۔۔”؟

اچانک حمزہ نے اس کی طرف چہرہ گھما کر پوچھا تو عروبہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی چہرے ہر گلابی پن چھا گیا۔

حمزہ نے اس کی تیزی پر قہقہ لگایا۔

دل گستاخی پر آمادہ تھا مگر وہ اسے قابو کیے ہوئے تھا۔

“ملکہ عالیہ ۔۔۔محترم آپ کے مزاجی خدا کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں اس لیے جس وقت تک

مرضی چاہیں مجھیں دیکھیں کوئی پابندی نہیں ۔۔۔”

حمزہ کا شوخ لہجہ اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ آگیا۔

حمزہ مسکراہٹ ضبط کرتا بولا تو عروبہ نے جھجک کر نگاہ اٹھائی مقابل کی آنکھوں میں جذبوں کا سمندر موجزن تھا وہ بےخود سی دیکھے گئی ۔

حمزہ کی محبت بھری نگاہیں اس کے ایک ایک نقش کو دل میں اتار رہی تھیں۔

گاڑی میں معنی خیز سی خاموشی چھا گئی ۔

عروبہ کو لگا اس کا دل یک دم سے حمزہ کی محبت سے بھر گیا تھا۔

حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا عروبہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی جانتی تھی کہ اب وہ سب حق حاصل کر چکا ہے ۔

اسکے چہرے پر چھائی سرخی کچھ اور گہری ہو گئ۔

حمزہ کے ہاتھوں کی حدت سکون بخش تھی۔

گھر پہنچنے تک یونہی اس کا ہاتھ تھامے رہا۔

آتے ہوئے جنید صاحب سے گھر کی چابیاں لے کر آیا تھا۔

ہارن کی آواز پر گیٹ پر موجود چوکیدار نے گیٹ وا کر دیا ۔پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے وہ اترا

اور عروبہ کی طرف آکر اس کے لیے دروازہ

کھولا ۔

اس کی محبت پر عروبہ کا انگ انگ سرشار ہو گیا۔

دروازے کھول کر اندر آیا اور چانیاں اس کی طرف بڑھائیں۔

“جلدی سے پھوکوں کی پلیٹیں بنا کر لیں آئیں میں زرا باہر دیکھ لوں۔۔”

اس کی گھبراہٹ کم کرنے کے لیے پھولوں کا ایک شاپر اس کی طرف بڑھایاں جس میں پتیاں تھیں اور خود باہر نکل گیا۔

پھول وہ ہال جانے سے پہلے فہد کے ساتھ جاکر لایا تھا۔

چوکیدار کی مدد سے گیٹ سے دروازے تک پھوکوں کی دوطرفہ روش بنائی اور بیچ میں رستہ چھوڑ دیا ۔

اس کام سے فارغ ہو کر اندر آیا تو عروبہ پلیٹیں تیار کر چکی تھی۔

کچھ ہی دیر میں سعد خا کمرہ ڈیکوریٹ کرنے کے لیے فہد لڑکے لے آیا تو حمزہ ان کے ساتھ سعد کے روم میں آیا انھیں کام سمجھا کر نیچے آیا تو عروبہ کہیں دکھائی نہیں دی۔

کچن میں کھٹ پٹ کی آوازیں محسوس کر کہ اس کے قدم ادھر بڑھ گیے۔

بہت آہستگی سے اس نے عروبہ کے گرد اپنا حصار بنایا تھاعروبہ لرز گئی ۔

اسے حمزہ سے اس پیش قدمی کی امید نہںں تھی۔

“میری زندگی میں آنے کا بہت شکریہ۔۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ آپ یوں اچانک میرے دل پر قبضہ جما گئیں اوت میں اپنے دل پر ہوئی اس واردات پر خود بھی حیران رہ گیا

حصار کو توڑتے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی طرف گھمایا۔۔۔

لرزتی ہوئی پلکیں ۔۔۔کپکپاتے ہونٹ ،سرخ چہرہ حمزہ کو شرارت پر اکسا گیا ۔اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرتے اندر تک سرشار یو گیا ۔عروبہ کی کپکپاہٹ حمزہ کی نظروں سے مخفی نہیں تھی۔

“ریلیکس۔ ۔۔۔میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔آئیں باہر چلتے ہیں ۔۔۔اس کے مہندی لگے ہاتھوں کو تھام کر اس کی خاموشی سی گھبرا کر باہر لاوئنج میں لے آیا۔

مبادہ کہیں گستاخیاں حد سے تجاوز نہ کر جائیں۔

عروبہ بلکل خاموش سحر زدہ سی تھی ۔

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حمزہ اس سے اتنی محبت کرتا ہے۔

کچھ ہی دیر میں گاڑیاں رکنے کی آواز آئی تو حمزہ اسے لیے گیٹ پر آگیا فہد بھی پیچھے ہی چلا آیا تھا۔

پہلی گاڑی سے شہرینہ اور کچھ کزنز اتر کر اندر آئیں تو عروبہ نے استقبال کے لیے بنایی گئی پلیٹیں ان کی جانب بڑھا دیں ۔

فہد چلتا ہوا شہرینہ کے قریب کھڑا ہو گیا۔شہرینہ نے پلکیں کی جھالر اٹھا کر اس ہمسفر کو دیکھا جو قریب کھڑا لاپرواہ سا لگ رہا تھا۔

شہرینہ نے سب کی موجودگی کی وجہ سے زرا سا رخ موڑ کر گیٹ کی سمت دیکھا جہاں اب گاڑی سے مریم بیگم مزیبہ کو تھام کر نکال

رہی تھیں۔

ان کو ساتھ کھڑا کر کہ مریم بیگم نے صدقے کے پیسے نکال کر ان کے سر سے گھما کر چوکیدار کی طرف بڑھائیں ۔

قدم بڑھانے سے پہلے سعد نے ہتھیلی مزیبہ کے سامنے پھیلائی اس کی ہتھیلی پر نظر جمائے

اپنا کپکپاتا ہاتھ سعد کی پھیلی ہتھیلی

پر رکھ دیا۔جسے سعدنے نرمی سے گرفت میں لے کر پہلا قدم اٹھایا مزیبہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے ہمقدم تھی۔

سب رسموں سے فارغ ہو کر مریم بیگم کے کہنے پر عروبہ اور شہرینہ اسے روم میں آرام کرنے کے لیےچھوڑ گئیں ۔۔

“سعد تم بھی جا کر آرام کرو ۔۔۔رات کا کھانا میں روم میں بجھوا دوں گی۔۔۔”

“بلکل نہیں ماما ۔۔۔کھانا ہم سب کے ساتھ کھائیں گے۔۔۔”

سعد نے فورا انکار کیا۔

ساری زندگی ہمارے ساتھ ہی کھانا ہے فلحال ایک ہفتہ اپنی بیگم کے ساتھ کھاو۔۔۔اللہ جنت نصیب کرے تمھاری چچی کو ۔۔۔پورا مہینہ تمھاری

جنتی دادو نے انھیں تینوں وقت کمرے میں کھانا دیا وہ تو تمھارے چچا اللہ جنت میں

درجات بلند کرے ان کے زبردستی سب کے ساتھ بیٹھے ورنہ تمھاری دادو کا تو تین مہینے تک کا پرگرام تھا”

مریم بیگم انہیں یاد کر کے افسردہ ہوگئیں ۔

اتنا اچھا وقت گزرا تھا ان کے ساتھ کہ دل سے ہر وقت ان کے لیے جنت کی دعائیں نکلتی تھیں۔

“تم فہد سے بات کیوں نہیں کر رہئ۔۔۔”

کچن میں آغا جی کے لیے کھچڑی بناتی عروبہ نے شہرینہ سے پوچھا جو شیلف سے ٹیک لگائے کھڑی اسے کھانا بناتے دیکھ رہی تھی ۔

باقی سب لاوئنج میں محفل جمائے بیٹھے تھے۔جنید صاحب نے سب کو ڈنر کے لیے روک لیا تھا ۔

آغا جی کا پیٹ ڈسٹرب تھا اس لیے مریم بیگم کے کہنے پر وہ کچن میں موجود تھی ۔

“میں بات نہیں کر رہی یا تمھارے بھائی کے منہ کو تالا لگ گیا ہے نکاح کے بعد”۔

شہرینہ کا خفگی سے بھرا لہجہ عروبہ کو ہنسنے پر مجبور کر گیا ۔

شہرینہ نے منہ پھلا کر اسے گھورا۔

“میرے معصوم بھائی کو کیوں رگید رہی ہو۔۔۔ وہ بےچارہ تو تمھارے غصے کے ڈر سے تم سے بات نہیں کر رہا اسے خدشہ ہے کہ کہیں تم اس کورٹ

میرج والی بات کا بدلہ لینے کے لیے اس کا سر ہی نہ پھاڑ دو۔۔

بس اسی لیے بےچارہ تم سے چھپتا پھر رہا ہے۔۔”

عروبہ کی گوہر فشانی پر شہرینہ کا منہ کھل گیا ۔

“تمھارا بھائی مجھے ایسا سمجھتا ہے۔”شہرینہ روہانسی ہوئی۔

“ارے نہیں وہ ایسا سمجھتا نہیں بلکہ اسے تم پر پورا یقین ہے ۔۔۔”

عروبہ کی بات پر شہرینہ نے اس بار گھورکر اسے دیکھا جو اب مزے سے ابلتے پانی میں چاول ڈال رہی تھی۔

اسی لمحے فہد ہاتھ میں آئس کریم پکڑے اندر آیا۔شہرینہ نے خفگی سے منہ موڑا ۔

فہد نے تعجب سے اسے دیکھا۔ آگے بڑھ کر ایک کارنیٹو عروبہ کی طرف بڑھائی اور دوسری کا ریپر اتار کر شہرینہ کے ہونٹوں کے قریب لے گیا۔

شہرینہ نے خفا نظر اس پر ڈالی اور منہ پھلائے سائیڈ سے نکلنا چاہا ۔

“ایک منٹ میں زرا آغا جی کو دیکھ آو۔۔۔”

انہیں موقع دینے کے لیے عروبہ سرعت سے قریب سے گزری۔

فہد شہرینہ کا ہاتھ تھام کر روک چکا تھا۔

“جانم۔۔۔جان جگر ۔۔۔جان تمنا۔۔۔۔۔۔ اتنے سارے جان سن کر بھی غصہ کم نہیں ہوا۔۔۔”

اسے کا پھولا منہ دیکھ کر فہد شرارت سے مخاطب ہوا ۔

شہرینہ نے نظر اٹھا کر اس ستمگر کو دیکھا جو اللہ نے دعاوں کی قبولیت کی صورت میں اس کی زندگی کا ہمسفر بنا دیا تھا۔

“میں مانتا ہوں میری غلطی ہے ۔۔۔مجھے ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا۔۔مگر یقین مانو میں خود بھی بہت شرمندگی محسوس کر رہا تھا تم سے بات کرنے کے بعد۔۔۔پھر جب معافی مانگنے کے لیے تمھیں کال کی تو تمھارا نمبر آف تھا۔۔۔۔”

فہد کے لہجے میں اب بھی شرمندگی تھی ۔

“مجھے بہت دکھ ہوا تھا فہد ۔۔۔یہ سوچ کر کہ میں ایک ایسے شخص سے محبت کر بیٹھی جس کے نزدیک میری عزت کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔ایک ایسا شخص جو ماں باپ کی برسوں کی بنائی عزت کو برباد کرنے کے لیے تیار تھا۔۔وہ میرا محافظ کیا بنتا۔۔۔”

وہ سانس لینے کو رکی فہد گنگ تھا ۔

“آپ کے فون کے پندرہ منٹ بعد ہی عروبہ میرے پاس آئی اور آپ کی طرف سے معافی مانگی ۔۔۔آپ کی شرمندگی کا بتایا تو جا کر میرا دل سمبھلا۔۔یقین کریں اگر عروبہ اس دن میرے پاس نہ آئی ہوتی تو آج میں سب کے سامنے نکاح سے انکار کر دیتی۔۔۔مجھے کمزور انسان کا ساتھ قبول نہیں تھا۔۔۔۔۔”

شہرینہ نے لگی لپٹی بغیر صاف انداز میں باور کروایا۔

فہد کو اپنی پسند پر فخر ہوا۔

ایک بار پھر کارنیٹو اس کے منہ کے قریب لے کر گیا اور شہرینہ نے ایک سائیڈ سے چھوٹا سا بائیٹ لیا ۔

فہد نے مسکرا کر اس کا شرمیلا روپ دل میں اتارا اور ہاتھ تھام کر محبت کی مہر ثبت کرتا اسے گڑبڑانے پر مجبور کر گیا۔

ولیمے بھی دھوم دھام سے انجام پایا اور نئی جوڑی کو ہنی مون کے لیے شمالی علاقہ جات کہ طرف دھکیل دیا گی۔

کچھ دن شادی کی تھکن اتارنے کے بعد عروبہ اور شہرینہ فہد کے ساتھ دوبارہ یونیورسٹی جوائن کر چکی تھیں ۔یہ آخری سیمسٹر تھا۔