Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 23)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 23)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

حمزہ نے سر پر ہاتھ مارا اور اس کو منانے پیچھے آیا۔

“پلیز ۔۔۔سوری۔۔۔مجھے روڈ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔۔”

حمزہ نے کان پکڑے تو وہ پھیکا سا مسکرائی۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔”

عروبہ مدہم آواز میں بولی۔

“چلو جلدی سے تیار ہو جاو۔۔۔۔ہمممم وہ بلیک اور ریڈ والا سوٹ پہنو۔۔۔”

حمزہ کا اسرار بھرا لہجہ سن کر عروبہ اثبات میں سر ہلاتی اندر بڑھ گئی ۔

“میک اپ نہیں کیا۔۔”

اسے صرف کپڑے چینج کیے ہوے دیکھ کو حمزہ بدمزہ ہوا۔

“رات کے ساڑھے گیارہ بجے میک اپ ۔۔۔”

عروبہ اچھنبے سے بولی۔

میاں کے لیے تیار ہونے میں کیا دن اور کیا رات۔ ۔۔فٹافٹ۔۔میک اپ کرو دیر ہو رہی ہے۔۔”

حمزہ نے جلدی مچائی تو عروبہ نے دس منٹ لگائے تیار ہونے میں۔

اس کا جائزہ لینے کے بعد اوکے کا سگنل دیا اور ہاتھ تھام کر کمرے سے نکل آیا۔

کاریڈور میں سناٹا تھا۔اسی لمحے سامنے سے فہد اور شہرینہ آتے دکھائی دئیے۔

“او میرا والٹ کمرے میں رہ گیا ۔۔۔تم ان کے ساتھ جاو میں آتا ہوں”

حمزہ فہد کو اشارہ کرتا خود واپس پلٹ گیا۔

آدھے گھنٹے تک وہ لوگ ہوٹل کے قریب ٹہلتے رہے۔

“یہ حمزہ کہا رہ گئے۔”

عروبہ پریشان ہو رہی تھی۔

اسی وقت فہد کے موبائل پر کال آئی ۔

“حمزہ کی کال تھی۔اس کے سر میں درد شروع ہو گیا ہے ۔۔اس لیےواپس آنے کے لیے کہا ہے۔۔”

فہد نے بتایا تو عروبہ کے چہرے پر ناقابل فہم تاثرات ابھرے۔

اوپر آکر فہد اسے دروازے کے قریب چھوڑ کر خود شہرینہ

کو لیے اپنے فلور کی طرف چلا گیا۔

عروبہ کمرہ کھول کر اندر آئی تو اندھیرے نے استقبال کیا ۔

عروبہ بےدلی سے آگے بڑھی موڈ شدید آف تھا۔

اندازے سے چلتی ہوئی لائیٹ جلانے کے لیے دیوار تک

پہنچی تو بھاری وجود سے ٹکرا گئی ۔

خوف کر مارے ہلکی سی چیخ ابھری۔

“شیش ۔۔۔میں ہوں۔۔۔”

اسے اپنے حصار میں لے کر حمزہ کان کے قریب ہو کر بولا۔

“آپ نے مجھے ڈرا دیا ۔لائٹ تو آن کریں۔۔۔”

خوف سے دھڑکتے دل کو سمبھالتی کپکپاتی آواز میں بولی۔

اسی وقت کمرہ روشن ہوا اور عروبہ آنکھیں پھاڑے کمرے کو دیکھنے لگی ۔

پورا کمرہ ریڈ بلونز سے بھرا تھا کمرے میں موجود ٹیبل پر ریڈ ویلوٹ کیک موجود تھا۔۔

“ہیپی برتھ ڈے جان۔۔۔”

حمزہ کی گھمبیر آواز اس کا دل دھڑکا گئی۔

“کیسا لگا سرپرائز۔۔۔۔”

اسے ہاتھ سے تھام کر ٹیبل کے قریب لاتے پوچھا جہاں کیک

کے پاس وہی شاپنگ بیگ موجود تھا جو حمزہ شام کے بعد لایا تھا۔

“کیک کاٹو۔۔۔”

چھری اس کے ہاتھ میں تھما کر خود ویڈیو بنانے کے لیے

موبائل آن کر لیا ۔عروبہ نے کیک کاٹ کر اس کے منہ میں ڈالا۔

“تھینک یو سو مچ۔۔”

عروبہ دل کہ گہرائی سے بولی۔

“مائی پلیثر جان۔۔۔۔۔”

ہاتھ سینے پر رکھ کر ہلکا سا جھکتے ہوئے بولا۔

“یہ رہا آپ کا گفٹ۔”

شاپنگ بیگ میں سے جیولری باکس نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔

“واو۔۔۔۔”

باکس کھلتے ہی جیسے اس کی نظر پڑی بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

باکس میں بہت ہی خوبصورت گولڈ کا لاکٹ سیٹ تھا ۔حمزہ نے لاکٹ نکال کر احتیاط سے عروبہ کو پہنایا۔

عروبہ اس کے دیکھنے کے انداز سے پزل ہوتی جھینپ گئی۔

کچھ دیر پہلے والی بےزاری کی جگہ چہرے پر خوشی کا تاثر خاصا گہرہ تھا۔

سعد بےچینی سے کمرے میں چکرا رہا تھا۔

دھیان بار بار گھڑی کی طرف جاتا جہاں ابھی شام کے چھ بجے تھے۔

بکھرے بال ، مرجھایا ہوا چہرہ ، ملجگاہ حلیہ وہ کہیں سے

نک سک تیار رہنے والا سعد نہیں لگ رہا تھا۔ان تین دنوں نے اس کی ساری ہمت جیسے ختم کر دی تھی۔

مزیبہ کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا تھا۔

موبائل کی بیل پر جلدی سے نمبر دیکھااور بےتابی سے کال اٹینڈ کی۔

“ہیلو۔۔۔۔۔کچھ پتہ چلا۔۔۔”

سعد کے لہجے کی بے تابی مقابل کو قہقے پر مجبور کر گئی۔

“کیا کمینگی ہے۔۔۔”

سعد بپھرا۔

“مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔۔تم وہی سعد ہو جو صنف مخالف اس قدر الرجک تھا کہ جہاں لڑکی نظر آئی وہاں سے سو قدم دور ہو جاتا۔۔۔”

درید کو وقعی شدید حیرانگی تھی سعد کے رویے پر

“وہ سب میرے لیے نامحرم تھیں اور یہ نا صرف میری محرم ہیے بلکہ میرا عشق ہے۔۔۔جس کے بغیر میری سانس اٹکی ہوئی ہے۔۔”۔

سعد افسردگی سے بولا تو درید بھی سنجیدہ ہوگیا۔سعد اس

کو خط دکھا کر مزیبہ کی غلط فہمی کے متعلق بتا چکا تھا

تاکہ مزیبہ کو ڈھونڈھتے کوئی غلط خیال دل میں نہ لآسکے۔

“بھابھی کے فون کال کا ڈیٹا نکل آیا ہے۔۔۔”

درید نے جیسے اس میں روح پھونکی ۔

“پھر کچھ آئیڈیا ہوا۔”

“ہمممم۔ ۔۔۔۔لاسٹ ٹائم جس نمبر پر تین بار کال کی گئی میں نے اس کی انفارمیشن نکلوا لی ہے۔”

“کیا معلوم ہوا”

اس کے لہجے میں بےچینی تھی۔

“یہ نمبر ایشا گل کے نام پر ہے ۔ان کے آئی ڈی کارڈ پر جو

ایڈریس ہے وہ گلشن کالونی فیز تھری کا ہے۔۔۔میں تجھے وہ ایڈریس سینڈ کرتا ہوں۔۔۔”

درید نے کال بند کرنے کے بعد اڈریس کی پک اسے وٹس ایپ کی ۔

“تم نے ابھی تک یہ اتنے سے رائس ختم نہیں کیے۔۔ڈاکٹر کی بات بھول گئی ہو ۔۔۔

اپنا خیال نہیں رکھو گی تو بے بی کیسے گروتھ کرے گا..۔۔۔تم میری بات مان کیوں نہیں لیتی۔

آج ایک ہفتہ ہو گیا ہے تمھیں آئے ۔۔اور اب تک تم سمبھلی نہیں۔”

ایشا کو غصہ آگیا تھا ۔مزیبہ نہ ٹھیک سے کھا پی رہی تھی

اور نہ ہی نیند پوری لے رہی تھی جس کی وجہ سے ایک ویک میں ہی کافی کمزور ہو گئی تھی۔

“بی بی جی۔۔۔باہر کوئی کوئی خاتون آئیں ہیں آپ سے ملنے۔۔۔”

ملازمہ ایشاکو بتا کر چلی گئی ۔ایشا نے ایک نظر اسے دیکھا

جو گم صم بے حال بیٹھی تھی اور تاسف سے سر نفی میں ہلاتی باھر نکل گئی۔

“جی فرمائیے۔۔۔”

گریس فل خاتون اور ساتھ میں موجود نڈھال سے لڑکے کو دیکھ کر بولی۔

“میرا نام مریم ہے اور یہ سعد۔ ۔۔۔مزیبہ کا شوہر۔”

ان کی بات پر ایشا کو جھٹکا لگا۔

“کک ۔۔۔کون مزیبہ۔۔۔”

وہ بات کرتے ہوئے ہکلائی۔

“وہی مزیبہ جس کو ایک ویک پہلے اپنی گاڑی میں فاروقی ہاوس کے سامنے سے لائیں تھیں۔”

سعد کا لہجہ بات کرتے ہوئے رونکھا ہوا ۔

“بیٹا غلط بیانی نہیں کرنا۔۔۔ہم پہلے ہی اس کی وجہ سے اتنے دن پریشان رہے۔ ۔۔۔اللہ کا کرم ہوا جو ہمیں مزیبہ کا پتہ چل گیا۔۔۔”

ان کے اتنے وثوق سے کہنے پر ایشا نے گہری سانس لی اور انھیں لیے ڈرائینگ روم میں میں آگئی۔

“آپ لوگ بیٹھیں میں چائے کا کہ آو پھر بات کرتی ہوں۔۔”

انھیں عزت سے مخاطب کر کے بیٹھنے کا کہا اور خود کچن میں آکر ملازمہ کو چائے اور لوازمات کے متعلق بتا کر واپس آگئی۔

“آنٹی میں نہیں جانتی ۔۔۔سچ کیا ہے ۔۔۔مجھے جو کچھ مزیبہ نے بتایا اس کے بعد مجھے آپ کو یہاں نہیں بٹھانا

چائیے تھا۔۔۔مگر میں آپ سے بھی جاننا حقیقت جاننا چاہتی ہوں اسی لیے آپ کو اندر آنے بلایا۔۔”

ایشا کے بات کرنے پر سعد نے شروع سے آخر تک سب کچھ اسے بتا دیا۔

“اس میں مزیبہ کا کوئی قصور نہیں ۔۔ساری زندگی رشتوں کے نام پر اس کے پاس آغا جی کے

علاوہ میں ایک واحد دوست تھی۔۔۔مجھ سے بھی اس کا

رابطہ کٹ گیا ورنہ اس سب کی نوبت نہیں آتی۔

جب میرا رابطہ ہوا تو وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔اس لیے میں اس کے کہنے پر اسے اپنے ساتھ یہاں لے آئی”۔۔

ایشا دھیمے لہجے میں انھیں بتاتی گئی۔

“میں مل سکتا ہوں۔۔پلیز۔۔۔”

اس کا ملتجی لہجہ سن کر ایشا انکار نہیں کر سکی۔

“پلیز ۔۔۔اس پر غصہ نہیں کیجئیے گا ۔۔۔اس کی کنڈیشن ایسی نہیں کہ کوئی ٹینشن لیے۔۔۔۔”

ایشا نے سمجھانا چاہا۔

“کیا مطلب ۔۔۔کیسی کنڈیشن۔۔۔”

“بھئی یہ آپ اور آپ کی وائف کا سیکرٹ ہے میں بریک کرتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔آپ کوثر آپا کے ساتھ جائیں ۔۔۔یہ آپ کر مزیبہ کا روم دیکھا دیں گی۔”

ایشا نے شرارت سے کہا ۔مریم بیگم سمجھ گئی مگر بولی کچھ نہیں۔

“کیا واقعی مزیبہ کے ہاں خوش خبری ہے۔”

سعد کے جاتے ہی وہ بےتابی سے بولیں۔

“جی آنٹی ۔۔بس اس کے لیے دعا کریں ۔۔۔۔بہت زیادہ کمزوری کی وجہ سے ڈاکٹر نے احتیاط بتائی ہے۔”

ایشا ان کے قریب بیٹھتی ہوئی بولی۔

“اللہ خیر رکھے ۔۔۔”

وہ پریشان ہوگئیں۔ملازمہ کے چائے رکھنے پر وہ ان کے لیے چائے بنانے لگ گئیں۔

ہلکا سا دروازہ ناک کر کے سعد نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا ۔

“ایشا پلیز مجھے اور کچھ نہیں کھانا۔۔۔۔”دروازہ کھلنے کی آواز پر مزیبہ بےزاری سے بولی۔

“کیوں کچھ نہیں کھانا…اب تو پہلے سے زہادہ کھانا چاہئیے ۔دھوکہ باز لوگوں کے چنگل سے آزاد ہونے کی خوشی میں۔۔۔۔”

سعد کی سرد آواز گونجی تو مزیبہ تیزی سے آنکھیں کھول کر سیدھی ہوئی۔

سعد اس کو اتنی جلدی ڈھونڈ لے گا۔اس کے وہم و گمان میں نہ تھا۔

“آپ۔۔۔”

اس کی کپکپاتی آواز ابھری۔

وہ مضبوط قدموں سے چلتا اس کے قریب آکھڑا ہوا ۔ہاتھ میں پکڑی فائل اس کی گود میں رکھ

دی۔

“دیکھ لو تمھارے ہی سائن شدہ پیپرز ہیں ۔۔۔سائن کرنے سے پہلے پڑھنے کی زحمت کی تھی۔۔”

سعد کی سرد آواز اس کی جان نکال رہی تھی۔

سعد کو دکھ ہوا اس کی حالت دیکھ کر۔

“کھولو اسے۔۔۔”

سعد دھاڑا تو مزیبہ نے کپکپاتےہاتھوں سے فائل کا کور الٹا۔

“غور سےپڑھو انھیں۔۔۔”

سعد نے پیج اس کے سامنے کیا۔مزیبہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔مزیبہ نے غور سے عبارت پڑی اور فق چہرے کے ساتھ سعد کو دیکھا۔

“تسلی ہوئی یا ابھی کثر باقی ہے۔۔۔”

سعد ہنوز تلخ تھا۔

مزیبہ کی نظر پیج پر پھسل رہی تھی ۔وہ فیکٹری کے پیپرز تھے جو جنید خان نے پہلے دانیال

فاروق کے نام کی تھی اور اب مزیبہ کے نام کر دی تھی ۔

اس کا سر شرمندگی کے مارے گھٹنوں سے لگ گیا۔

“میں نے آپ کو آفس میں بات کرتے سنا تھا ۔۔۔آپ نے کہا مچھلی جال میں پھنس چکی ہے ۔اور بس پیپرز پر سائن ہونا باقی ہیں۔۔۔”

اس کے ذہن کے پردے پر وہ دن لہرایا۔

سعد نے دماغ پر زور ڈالا اور یاد کیا کہ یہ الفاظ اس نے کس وقت کہے تھے۔

جب میں آپ کے آفس میں بےہوش ہوئی تھی۔

اسے سوچتے دیکھ کر مزیبہ درشتگی سے بولی ۔موڈ واپس خراب ہو گیا تھا۔

سعد کے ذہن میں جیسے کلک ہوا۔اس کا دل کیا اپنا سر سامنے دیوار پر دے ماریے ۔

اگر تم اسی وقت پوچھ لیتی تو اتنے دن جو اذیت برداشت کرنی پڑی اس سے ہم سب بچ جاتے۔

سعد نے دانت پیس کر کہا۔

مجھے کیا پتہ آپ سچ کہیں گے یا جھوٹ اس

کی بےاعتباری پر دل کیا دو جھانپڑ کھینچ

کے لگائے مگر اس کی طبعیت کے پیش نظر ضبط

کر گیا۔

“گھر چلو تمھیں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔۔”

سعد اس کا ہاتھ کھینچ کر اٹھاتے ہوئے بولا۔

مزیبہ نے غصہ بمشکل کنٹرول کیا۔

“آپ باہر جائیں میں آتی ہوں ۔”

بےدلی سے فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔

“سوری محترمہ ۔۔۔آپ کا کیا پتہ مجھے باہر بھیج کر چکمہ

دے جائیں اور میں بےوقوفوں کی طرح انتظار کرتا رہو۔”

سعد کی بات پر مزیبہ نے سر جھٹکا اور الماری کی طرف

بڑھی۔ٹرالی بیگ سائیڈ سے نکال کر اسے کھولا ۔

کپڑے اور اپنی دوسری چیزیں ڈال کر بند کیا ۔

“لے آئیں بیگ میں جارہی ہوں ۔۔”

سنجیدگی سے اسے مخاطب کرتی باہر نکل گئی ۔سعد کو اس کے انداز پر تپ چڑھی ۔

مریم بیگم اسے دیکھ کر آٹھتی تیزی سے قریب آئیں۔

“میری بچی۔۔۔۔یہ کیا حرکت تھی ۔۔کتنا پریشان کیا تم نے

ہمیں ۔۔۔۔بیٹا کوئی مسئلہ تھا تو بات کرتیں یوں چھپ جانا کوئی حل ہوا۔۔”

مریم بیگم کی آواز میں ہلکی سی خفگی تھی ۔

“ماما ۔۔اپنی بہو کو بتا دیں آفس میں مچھلی پھنسنے کی

بات ان محترمہ کے لیے نہیں کی

تھی “

سعد آف موڈ کے ساتھ ہلکی آواز میں بولا جو بیا نے بخوبی سنی۔

“مزیبہ بچے ۔۔بعض اوقات آنکھوں دیکھیں اور کانوں سنی

وہ نہیں ہوتی جو سننے کے بعد ہم معنی اخذ کرتے ہیں۔

سعد نے وہ بات گلزار اینڈ سنز کے لیے کہی تھی جنھوں نے

تمھارے جنید پاپا کے ساتھ غلط بیانی کر کے کافی نقصان

پہنچایا تھا۔۔۔۔۔۔سعد کافی ٹائم سے اپنا نقصان پورا کرنے کے

کیے ان کے ساتھ گیم کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس دن جب تم نے

سنا وہ درید کے ساتھ اسی سلسلے میں بات کر رہا تھا۔”

مویم بیگم رسان سے بولی تو وہ شرمندہ ہو گئی ۔وہ کیا

سمجھی تھی اور اصل بات کیا تھی۔

آخری قسط شام کو پوسٹ ہو گی۔