Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 1)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 1)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

“آغا جان آپ کیا کہ رہے ہیں۔۔۔مجھے 140 والٹ کا جھٹکا لگا ہے آپ کی بات سن کر۔۔دیکھیں میرے رونگٹےسچ میں کھڑے ہو گئے ہیں آپ کی بات سن کر ۔”

۔مزیبہ عرف بیا پوری آنکھیں کھولے چہرے پر دردناک تاثرات سجائے ان کے سامنے موجود تھی۔۔

آغا جی نے بغور اس کا جائزہ لیا

“بیا جانی یہ رونگٹے میری بات سن کر نہیں کھڑے ہوئے بلکہ لندن کی جما دینے والی سردی کی بدولت ان کو یہ شرف حاصل ہوا ہے۔۔”

آغا جی بھی اپنے نام کے ایک ہی تھے

بیا نے جھنجھلا کر گرم کوٹ کے بازو نیچے کیے اوردھپ سے ان کے پاوں کے قریب بیٹھ گئی

۔ اس کا منہ پھول کر کپا ہو گیا تھا ایسا آغا جی کو لگا جو ہنوز اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔

آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی جو فلحال مزیبہ کی نظروں سے اوجھل تھی

۔وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ مزیبہ ان کے کسی دکھ سے آگہی حاصل کرے اس لیے ہمیشہ اس کے سامنے مضبوط بن کے آتے ۔

“تم کیا چاہتی ہو ۔۔”

۔آغا جی نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر کھڑکی کو دیکھا جہاں اب برف باری ہوتی بظر آ رہی تھی۔

شام آہستہ آہستہ رات میں ڈھلنے کی تیاری کر رہی تھی اور برف باری کی وجہ سے سامنے روڈ خالی تھی ایک سناٹا سا چھایا ہوا تھا ورنہ ٹریفک کا شور ایک ہلچل مچئے رکھتا

“میں ہمیشہ یہاں پڑھتی رہی ہو اب پاکستان جا کر آخری سیمیسٹر کمپلیٹ کرنا ۔۔مجھے سب بہت مشکل لگ رہا ہے۔۔”

مزیبہ اب اپنا سر آغا خی کے گھٹنوں پر رکھ چکی تھی اور آغا جی کا جھریوں بھرا ہاتھ اس کے ریشمی بالوں میں ٹہھر سا گیا تھا

۔بہت نرمی سے انھوں نے اس کے بالوں میں انگلیا ں چلائ۔

بلکل ایسے ہی وہ بھی بچپن میں میری گود میں سر گھسا لیتا تھا اور اس کی ماں ہمیشہ ناراض ہو جاتی کیونکہ وہ تو ان کے ساتھ ایسے لاڈ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔

نہ جانے کیسے اتنے برسوں کے بعد ان کے دل میں اس کا خیال آیا تھا شاید اپنی بیماری کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کا دل دماغ کی نفی کر رہا تھا اور وہ اس سوچ کو جھٹک نہیں سکے تھے۔

اپنے دماغ کو قابو کر کہ وہ بیا کی طرف متوجہ ہوئے

“کچھ مشکل نہیں لگتا بیٹا ۔۔شروع میں کچھ وقت لگتا ہے

ایڈجسٹ ہونے میں مگر وقت کے ساتھ ساتھ سب سیٹ ہو جاتا ہے ۔۔۔بس پہلا قدم ہی مشکل لگتا ہے ۔۔

اگر تم یہ پہلا قدم اٹھا لو گی تو سمجھ لینا باقی کا رستہ تمھارے لیے آسان ھو جائے گا۔۔”

آغا جی نے ہمیشہ کی طرح اس کی ہمت بندھائی ۔

وہ اس کی مشکل سمجھ رئے تھے پر اس معاملے میں بےبس تھے

“میرے یہاں دوست ہیں آغا جی جو میری فیملی ہیں۔یہاں کے رستے یہاں کے موسم میرے دکھ کے ساتھی ہیں۔۔میں کیسے ان سب کو چھوڑ کر چلی جاو۔۔”

مزیبہ جدائی کے خیال سے آنسوو ں سے رو دی ۔

شدید تکلیف ہو رہی تھی جانے کا سوچ کر اس کا بس نہی چل رہا تھا کہ کیسے بھی کر کہ آغا جی کا فیصلہ بدلوا لیں۔

“یہ موسم یہ رستے وہاں بھی تمھارے منتظر ہیں ۔۔

وہاں کی ہوائیں بھی تمھیں پورے دل سے خوش آمدید کہیں گی۔۔اور اگر تمھارے دوست یہاں رہ گئے ہیں تو وہاں بھی تمھارے ماں باپ کی قبریں کئی سالوں سے ہماری آہٹ کی منتظر ہوں گیں ۔۔”۔

آغا جی نے گھمبیر آواز میں اس سے کہا۔

” ۔اب اس موضوع پہ کوئی بات نہیں ھو گی نہ میں کوئی اور ایکسکیوز سنو گا “

۔آغا جی کا لہجہ حتمی تھا ۔۔

بیا نے ایک شکوہ بھری نگاہ اپنے جان سے پیارے دادا پر ڈالی اور سر جھکا گئی ۔کیونکہ جان چکی تھی اب کچھ بھی کہنا بیکار ہے ۔

“سعد تم نے انصاری گروپ آف انڈریسٹری کے ساتھ میٹنگ کیوں کینسل کی”۔

ڈنر کے لیے ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھے جیند صاحب نے پوچھاجو اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہا تھا

اس کا ہاتھ ایک لمحے کو رکا اور سر اٹھا کر مسکراتی نظروں سے باپ کو دیکھنے لگا ۔

“اس لیے بابا کہ اس بار وہ کم مارجن دےرہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا پرافٹ مارجن کافی کم ہو جاہے گا۔۔۔”

اپنی بات کہ کر اس نے چمچ بھر کے منہ میں ڈالی کیونکہ بھوک سے برا حال تھا ۔

“لیکن بیٹا کافی پرانے تعلقات ہیں ان سے ہمارے ۔۔”

جنید صاحب نے تفکر سے کہا ۔

“پاپا انھوں نے تو لحاظ نہیں کیا آتنا کم مارجن دیتے ہوئے۔”۔

سعد ان کی بات کو خاطر میں نہیں لایا تھا ۔وہ کاروبار میں کسی بھی قسم کی رعایت کے حق میں نہیں تھا۔

جنید صاحب نے ایک نظر اس کے جھکے سر کو دیکھا اور خود بھی کھانا کھانے لگے ۔قریب ہی مریم بیگم موجود تھیں

جنید صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔سعد اپنی تعلیم مکمل کر کے کاروبار میں ہاتھ بٹا رہا تھا ۔عروبہ فورتھ ائیر اور فہد تھرڈ ایئر میں تھا ۔

“بیا بیٹا پیکنگ ہو گئی۔۔”

بیا کو لاوئنج میں آتا دیکھ کر آغا جی نے پوچھا تو بیا نے خفا سے نظر ان پہ ڈالی ۔

“کر لی ہے پیکنگ اپنی بھی اور آپ کی بھی ۔”

ان کے قریب بیٹھ کر اس نے جواب دیا تو انھوں بے ایک نظر اس کے خفا چہرے کو دیکھا

“تم چاہوں گی کہ تمہارے آغا جی یہاں دیارے غیر میں غیروں کے ہاتھوں قبر میں اتریں ۔۔”۔

آغا جی کی آواز میں رنجیدگی تھی ۔بیا نے تڑپ کر انھیں دیکھا ۔

“اللہ نہ کرے آغا جی ۔۔آپ کیسی باتیں کرتے ہیں ۔۔”

مزیبہ کی آنکھیں بھر آئی تھی۔۔ایک ہی تو ہستی تھی جس کے سہارے وہ جی رہی تھی

۔ماں باپ تو بچپن میں ہی راہ عدم سدھار چکے تھے ۔ان کی باتوں پر ناراضگی کے اظہار کے طور پر منہ پھلاتی واک آوٹ کر گئی تھی ۔

پیچھے آغا جی نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا تھا ۔جب سے انھیں پتہ چلا تھا کہ ان کا دل دغا دینے کی تیاری کر رہا ہے ان کو مزیبہ کی فکر نے گھیر لیا تھا ۔

“افتخار صفائی کا کام ہو گیا ۔۔”

آغا جی فون پر پاکستان میں موجود اپنے جگری یار سے ہم کلام تھے جو ایک قابل جج رہ چکے تھے ۔

“سب کچھ ہو چکا ہے بس تم آنے کی تیاری کرو ۔۔موسم بھی بہتر ہے ۔”۔

افتخار صاحب نے پرسکون انداز میں جواب دیا ۔

“بیا کے ایڈ میشن کا کیا بنا ۔۔لاسٹ سیمیسٹر ہے اس کا ۔۔پروبلم تو نہیں ہو گی اس کو ۔۔۔”

آغا جی کے لہجے میں تفکر نمایاں تھا ۔

“میری بات ہو گئی ہے ۔۔ٹاپ یونیورسٹی ہے جہاں بیا کا ایڈمیشن کروایا ہے ۔۔”

“۔اس کا پچھلا ریکارڈ دیکھتے ہوئے فورا ایڈمیشن مل گیا

ہےاب صرف ایک ہفتہ ایڈمیشن سٹارٹ ہونے میں رہ گیا ہے ۔اس لیے اب تم بھی ذرا جلدی تیاری پکڑو۔۔”

افتخار صاحب کے کہ لہجے میں بےتابی تھی ۔

سالوں ہو گئے تھے اپنے لنگوٹیاں یار سے ملے ہوے۔

کچھ دیر مزید باتیں کرنے کے بعد آغا جی نے موبائل آف کیا اور سائیڈ پر رکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوے ان کا ارادہ تھا بیا کے ساتھ جا کر ٹکٹ کنفرم کروا لیں

“عروبہ تم مرکیٹ چل رہی ہو یا نہیں۔۔۔ “

فہد نے تیسری دفعہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکایا اس بار آواز میں غصے کا عنصر بھی شامل تھا ۔

کشادہ پیشانی پر بال بکھرے ہوئے تھے ۔براون آنکھیں اس وقت خفگی سے بھری تھیں ۔

“کیا تکلیف ہے کہا بھی تھا اسائمینٹ کمپلیٹ کر لو پھر چلتے ہیں ۔۔”

عروبہ دروازہ کھولتے غصے سے چیخی ۔

“جنگلی بلی میرے کان کے پردے پھاڑنے ہیں۔۔۔”

فہد نے کانوں پہ ہاتھ رکھتے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا جو غصے سے بھری کھڑی تھی

۔ان دونوں کی شکل خاصی ملتی جلتی تھی جبکہ سعد ان سے مختلف لگتا تھا .سعد نے دادا کے نقش لیے تھے جبکہ اب دونوں میں ماں باپ کی شباہت زیادہ تھی۔

فہد کو خاص گفٹ لینا تھا جس کے لیے وہ عروبہ کے پیچھے لگا ہوا تھا ۔

دو دن میں مزیبہ سب کچھ سمیٹتی سب سے ملکر ائیرپورٹ پہ موجود تھی ۔

اتنے سالوں یہاں رہنے کے بعد اس جگہ کو چھوڑنے پر اس کی آنکھیں بار بار بھیگ رہی تھی۔جنہیں وہ ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے وقفے وقفے سے صاف کر رہی تھی۔

رونے کے باعث چھوٹی سی ناک سرخ ہو رہی تھی ۔بھیگی آنکھیں الگ ہی فسوں طاری کر رہی تھیں۔

اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھے سعد نے بمشکل نظریں اس سے ہٹائی تھیں۔

جس کے چہرے کی ملاحت اسے دیکھتے رہنے پر مجبور کر رہی تھی ۔

آغا جی نے اٹھتے ہوئے ایک نظر دیکھا اور مسکرا دیئے۔

“کیا ہوا انکل۔۔۔۔”

ان کو لڑکھڑاتا دیکھ کر سعد بہت تیزی سے ان تک پہنچاتھا۔پاس بیٹھی مزیبہ سر جھکائے رونے میں مصروف تھی اس لیے اسے پتہ نہ چلا

۔سعد کی آواز پر یک دم سر اٹھا کردیکھا تو وہ آغا جی کو تھامے کھڑا تھا بیا کے چہرے کارنگ اڑا تھا انہیں اس حالت میں دیکھ کر۔

“آغا جانی ۔۔۔۔آغاجانی کیا ہوا آپ کو ۔۔۔”

ایک لمہے سے بھی کم وقت میں وہ ان کے قریب کھڑی خوف زدہ سی پوچھ رہی تھی۔۔چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا

اسے سمجھ نہیں آئی کیا کرےسعد نے ایک نظر اسے دیکھا جو رونے والی ہو رہی تھی اور آغا جی کو قریب رکھی کرسی پر بٹھا دیا ۔

“کچھ نہیں ہوا بیٹا ۔۔۔۔کافی دیر ایک جگہ بیٹھنے سے ٹانگیں سن ہو گئی تھی اس لیے کھڑے ہونے پر چکر آگیا۔۔” کرسی پر بیٹھ کر بیا کا ہاتھ پکڑ کر قریب بٹھایااوربیا کو ساتھ لگائے آواز میں بشاشت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ۔

“آغا جی آپ کوئی کافی وغیرہ لیں گے ۔۔۔۔”

سعد نے ان کو مخاطب کیا تو وہ چونکتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئےاس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ ایک لمحے کو ساکت رہ گئے مگر دوسرے ہی لمحے سر جھٹکتے دماغ میں آنے والی سوچ کی نفی کرنے لگے ۔

جو سامنے کھڑے سعد کو دیکھ کر کچھ پرانی یادیں کھنگالنے کی کوششوں میں تھا

۔سعد نے ایک نظر ان کو دیکھا۔وہ تزبزب کا شکار تھے ان کی کیفیت کو سمجھتا وہ ٹک شاپ کی طرف بڑھ گیا۔انھوں نے بغور اسے جاتے دیکھا تھا

“آغا جانی بتائے نا آپ کو کیا ہوا۔۔۔”

بیا سراسیمہ سی پوچھ رہی تھی۔دل کی دھڑکن بےقرار تھی

“میرا بچہ بتایا بھی ہے کچھ نہیں ہوا۔۔پریشان نہیں ہو۔۔”

ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضع تھی۔مزیبہ سراسیمہ سی ان کے چہرے کو دیکھ رہی تھی

“آپ کی طبیعت خراب تھی اور آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔آپ مجھے غصہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں”۔۔۔۔۔

۔بیا کمر پے ہاتھ رکھے ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی اس کے انداز پر سعد کے لبوں پر آتی مسکراہٹ بے ساختہ تھی ۔جو واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کافی کے ساتھ بسکٹ بھی تھے۔

“آپ ان کی کلاس بعد میں لیجیے گا پہلے انہیں کافی پینے دیں۔”

۔سعد نے مخاطب کیا تو وہ چونکی۔

“آپ کو کس نے کہا یہ زحمت کرنے کے لیے ۔۔۔”

بیا نے ایک نظر اس کے ہاتھ پہ ڈال کر ابرو آٹھا کر پوچھا ۔

“اس میں زحمت والی کون سی بات ہے ۔۔آغا جی کو اس وقت اس کی شدید ضرورت تھی”

۔سعد نے کافی کا مگ ان کے ہاتھ میں دیتے ہوے بیا کو کہا ۔

“او۔۔۔ہیلو یہ صرف میرے آغا جی ہیں ۔خامخواہ میں رشتہ داریاں بڑھانے کی کوشش نہ کرو۔۔”

اس کے منہ سے آغا جی سن کر تلملاتے ہوےباور کروایا۔

آغا جی نے ایک نظر سعد کو دیکھا اور کافی کے کپ پر نظر جما دی ۔

“آغا جی آپ انھیں کچھ کہ کیوں نہیں رہے۔۔۔۔”

بیا اب ان کی طرف پلٹی سعد خاموشی سے اس کو گرجتے برستے دیکھ رہا تھا ۔

“مزیبہ بچے آپ اتنی بتمیز کب سے ہو گئ۔۔”

آغا جی نرمی سے ٹوکتے ہوے بولے تو بیا نے حیرت سے منہ کھولا ۔۔

سعد نے بمشکل مسکراہٹ کا گلا گھوٹا ورنہ تو قہقہ نکلنے کو بیتاب تھا۔

“خیر تو ہے آغا جی بڑی ہمدردی ہو رہی ہے آپ کو اس ائرپورٹ سٹرینجر سے ۔۔۔”

بیا نے آنکھیں سکوڑتے غور سے انھیں دیکھا ۔انھوں نے ایک نظر دونوں پہ ڈالی

۔سعد سینے پہ ہاتھ باندھے بغور انھیں دیکھ رہا تھا ۔نہ جانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ وہ انہیں جانتا ہے ۔

“بیٹا یہ بھی آپ کی طرح میرا بچہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس میں غصہ کرنے والی تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔اگر اس نے میری مدد کی ہے تو یہ اس کے ماں باپ کی اچھی تربیت کا اثر ہے ورنہ اس بچے کے ساتھ والی سیٹ پہ وہ لڑکا بھی بیٹھا ہے وہ تو نہیں آیا میری مدد کو۔۔۔۔”۔

آغا جی نے نرمی سے اس کی غلطی کا احساس دلایا تو اس نے منہ پھلا کر چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔

آغا جی جانتے تھے کہ یہ غصہ لندن چھوڑ کے جانے کا ہے جو اس بے چارے بچے پر اتر رہا ہے۔سعد خاموش کھڑا ان کی بات سن رہا تھا ۔۔۔۔