Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 15)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 15)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

رات کے کھانے ہر سب کے اکھٹے ہونے کے بعد مریم بیگم نے مزیبہ اورعروبہ کی مدد سے کھانا ٹیبل پر لگایا اسی اثنا میں سعد آغا جی کو تھامے ڈائینگ ٹیبل پر لے آیا۔

دن میں تو سب کے کھانا کھانے کا ٹائم الگ تھا مگر رات کو سب اہتمام کر ساتھ اکھٹا کھانا کھاتے تھے ۔

سعد کھانے کے بعد بلاناغہ آغا جی کو واک کرواتا اور گپ شپ کرتا ۔

سب کھانے کے لیے بیٹھ گئے تو مریم بیگم نے سب کو مخاطب کیا۔

“بچوں آپ لوگوں کے لیے خوش خبری ہے”

مریم بیگم کی بات سن کر سب چونکیے ۔

“کون سی خوشخبری۔”

عروبہ نے بےصبری سے پوچھا ۔سب ہی ان کی طرف متوجہ تھے سوائے سعد کہ جو سر جھکائے پلیٹ میں چمچ گھما رہا تھا۔

“ہم نے آغا جی کی رضامندی سے سعد کا رشتہ طے کر دیا ہے”

جنید صاحب نے بتایاتو عروبہ اور فہد خوشی سے نعرے مارنے لگ گئے ۔

“مبارک ہو سعد۔۔”

بیا نے اسے غور سے دیکھا جو لاپرواہ لگ رہا تھا۔

نیا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ائی اگر سعد اس وقت اسے دیکھ لیتا تو بیا کے چہرے کے کھلے گلاب اسے سب سمجھا دیتے۔

“ماما کس سے ہو رہی ہے ہیں ہمارے بھیا کی شادی۔”

عروبہ نے تجسس سے پوچھا ۔

“چل جائے گا پتہ فلحال تو کھانا کھاو ،،سب کچھ ٹھنڈا ہو رہا ہے”

مریم بیگم نے گرکھا تو وہ اچھی بچی بنی جاموش ہو کر کھانا ڈالنے لگی ۔

کھانے سے فارغ ہو کر سعد تو آغا جی کو لے کر باہر آگیا جبکہ بی عروبہ کے ساتھ مل کر برتن سمیٹنے لگ گیی۔

“کیا بات ہے آج میرا شیر چپ چپ ہے۔۔”

آغا جی اس کی خاموشی محسوس کر کہ بولے ۔ورنہ تو وہ باہر آتے ہی شروع ہو جاتا تھا۔

“کچھ نہیں آغا جی بس آج زرا سر میں درد ہے۔۔”

دھیمے لہجے میں انھیں بتایا۔دل تو کر رہا تھا کہ ان سے مدد مانگے اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے مگر پھر ماں باپ کی خوشی کا سوچ کر چپ کر گیا۔

جنھوں نے اپنی ساری زندگی لگا دی انھیں اس قابل بنانے میں۔

آج اپنی خوشی کی خاطر ان کے دل کے توڑنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔

آدھا گھنٹہ واک کروانے کے بعد انھیں اندر لایا اور گولیاں کھلا کر لٹا دیا ۔خود انہیں بتا کر سٹڈی میں آگیا۔

۔” جلدی سے ریڈی ہو جاو میں تمھیں جاتے ہوئے لے لوں گی۔”

عروبہ نے شہرینہ کو کال کر کے کہا۔

مریم بیگم کا حکم تھا کہ وہ بھی ساتھ جائے گی سعد کی شادی کی شاپنگ کے لیے۔

شاپنگ مال پر خاصا رش تھا ۔مریم بیگم کا ارادہ صرف مہندی بارات اور ولیمے کی شاپنگ کا تھا۔

بری کی شاپنگ تو سمیرا بیگم کے ساتھ مل کر مکمل کر چکی تھیں ۔

آج بچیوں کی شاپنگ کا ارادہ تھا ۔سعد کو بھی ساتھ ہی گھسیٹ لیا تھا کیونکہ برات اور ولیمہ کا ڈریس رہتا تھا ۔

“بیا بچے تم سعد کے ساتھ جا کر برائیڈل ڈریس دیکھ لو دونوں دن کا بلکہ سعد کے ڈریس بھی سلیکٹ کر لینا ۔۔پھر ہم آکر دیکھ لیں گے”

مریم بیگم نے اسے کہا تو وہ گھبرا گئی

“پلیز ماما آپ خود ساتھ چل کر دیکھ لیں آپ کی بہو کو پسند نہ آیا تو۔۔۔”

سعد کے سامنے یہئ مناسب لگا اسے۔

“کچھ نہی ہوتا ۔میری بہو بہت اچھی بچی ہے تم سکون سے شاپنگ کرو”

مریم بیگم اس کی جھجک سمجھ رہی تھیں ۔

سعد لب بھینچے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سرد تاثرات کے ساتھ کھڑا تھا۔

“چلیں۔”

سعد کو ایک جگہ جما دیکھ کر بیا نے مخاطب کیا۔

“ہمممم۔”

سعد نے بےدلی سے ہنکورا بھرا۔

“مجھے تو آئیڈیا نہیں آپ بتائیں کون سی شاپ پے جانا ہے۔۔۔”

بیا نے اس کے جامد تاثرات دیکھیں تو دل کیا اسے بتا دے پر پھر مریم بیگم کا خیال آیا جنھوں نے سختی سے منع کیا تھا سعد کو کچھ بھی بتانے سے۔

سعد نے مال میں آگے پیچھے نگاہ دوڑائی تو لیفٹ سائیڈ پہ ایک برائیڈل بوتیک کا بورڈ نظر آیا ۔بیا کو اشارہ کر کے اس طرف بڑھ گیا۔

“اف ماما ۔۔اتنا ہیوی ڈریس کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔”۔

عروبہ نے فراک دیکھ کر کہا جس پر دبکے کے ساتھ موتی ستارے کا باریک اور نفیس کام تھا۔

ڈل گولڈن کلر کی فراک کے ساتھ مرجنڈا کلر میں دوپٹہ تھا۔

“اب کیا تم بارات پہ ہلکے کپڑے پہنوں گئ۔۔” حمیرا بیگم نے ڈپٹا۔سمیرا بیگم نے بھی شہرینہ کے لیے ویسا ہی ڈریس دوسرے کمبینیشن میں لیا ۔

شہرینہ نے بھی منع کرنا چاہا مگر ان کی گھریوں کے آگے خاموش ہوگئ۔

کپڑوں کے ساتھ جوتے اور جیولری لینے کے بعد وہ دوسری چیزوں کی طرف بڑھ گئے۔

“آپ کلر کیوں نہیں بتا رہے۔ماما آگئی تو مجھے ڈانٹیں گی۔۔”

سعد کو ٹھس بیٹھا دیکھ کر بیا نے خفگی سے کہا ۔کافی دیر سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے اپنے ہاتھوں کو گھور رہا تھا۔

تم دیکھ لو جو بھی پسند آئے لے لو ۔۔۔مجھے کوئی پرابلم نہیں۔۔”

اس کا روکھا انداز بیا کو آگ لگا گیا۔

“بیوی وہ آپ کی بن رہی ہیں اور شاپنگ میں اپنی پسند سے کروں ۔۔۔”

بیا آگے پیچھے دیکھے بغیر غصے سے بولی تو سعد نے بغور اسے دیکھا ۔

وہ شکر ادا کر رہا تھا کہ اپنے دل کی حالت اس نے

مزیبہ پر آشکار نہیں کی تھی ورنہ آج اس سے نظریں ملانے کے قابل نہ ہوتا۔

“یہ ٹھیک لگ رہا ہے”

ڈارک میرون کلر کے لہنگے کی طرف اشارہ کر کے اس نے کہا تو بیا نے اسے یوں دیکھا جیسے پاگل ہو گیا ہو ۔

“ماما نے دلہن پسند کی ہے اس بات کا بدلہ لے رہے ہیں یہ فضول لہنگا پسند کر کے ۔۔۔”

مزیبہ پھاڑ کھانے کے انداز میں بولی تو سعد نے غور کیا ۔وہ لہنگا واقعی اس قابل نہیں تھا ۔

“یہ ڈیزائینر بھی پتہ نہیں کیا سوچ کر کپڑے بناتے ہیں ۔”

سعد کی خود کلامی خاصی اونچی تھی ۔

قریب کھڑے کسٹمرز نے مسکرا کر اس ہینڈسم نوجوان کو دیکھا جو اپنے آپ سے بھی خفا لگتا تھا۔

ادھر ادھر جائزہ لینے کے بعد اس کی نظر الٹے ہاتھ پہ لٹکے لہنگے کی طرف گئی ۔فریش ریڈ کلر کا وہ لہنگا دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔

بیا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ۔

“واو۔۔۔۔۔یہ پرفیکٹ رہے گا۔۔۔”

بیا کے منہ سے تعریف سن کر اس نے پھیکی سی مسکراہٹ سے دیکھا ۔

“آج اگر بیا ہمسفر ہوتی تو شاید اس شاپنگ کا ڈھنگ ہی نرالا ہوتا “۔

ایک سوچ نے سعد کے دماغ کا احاطہ کیا تھا ۔

“تم لوگوں کی شاپنگ کہا تک پہنچی۔۔”

فون پر ان سے پوچھ کر وہ سب بھی اسی بوتیک پر آگئے ۔

“ماما ۔۔۔آپ کے بیٹے نے مشکل سے یہ ایک لہنگا پسند کیا ہے ۔۔۔باقی اب آپ خود پسند کر کے لیں۔۔۔۔”

مزیبہ نے جھنجھلاہٹ سے کہا ۔وہ فضول میں کھڑی ہو ہو کر تھک چکی تھی۔۔

“تو بیا بچے آپ نے خود پسند کر لینا تھا سب ۔۔۔اس سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی “۔

مریم بیگم نے خفگی سے کہا تو سعد شرمندہ ہوگیا ۔باقی کی شاپنگ میں چپ چاپ رائے دیتا رہا ۔

“مجھے خوشی ہے تم نے آپنے آپ کو سنبھال لیا ہے “

عروبہ باقی سب سے چند قدم پیچھے شہرینہ کے ساتھ چل رہی تھی۔

“ماں باپ کی خوشی کا سوچ کر مجھے آپنا آپ سمبھالنے میں آسانی ہو گئی ورنہ تو لگتا تھا کوئی کند چھری سے ذبح کر رہا ہے۔۔”

شہرینہ کے الفاظ میں اس کا دکھ جھلک رہا تھا۔

“تم ایک بار بات تو کرتی آنٹی سے۔۔۔”

“کس لیے ۔۔۔اس انسان کے لیے جو مجھے کورٹ میرج کے سبق پڑھا رہا تھا۔۔۔۔”

شہرینہ کا غصہ عود آیا۔

“وہ حالات سے تنگ آگیا تھا بس اس لیے ایسا کہ دیا اس نے ۔۔۔”

عروبہ نے اس کی سائیڈ لینا چاہی ۔

“اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔اس لیے اس ٹاپک کو رہنے دو۔۔۔”

“میں سعد بھائی کی شادی انجوائے کرنا چاھتی ہوں اس لیے پلیز اب اس موضوع پہ کوئی بات نہیں کرنا اور آپنے بھائی کو بھی سمجھا دینا مجھ سے دور رہے۔۔”

شہرینہ کا لہجہ مضبوط تھا ۔عروبہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“ہر لڑکی کو اتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے ۔محبت میں اٹھایا ہوا قدم نفرت ،حقارت ،اور بےعزتی

کے سوا اور کچھ بھی جھولی میں نہیں ڈالتا اور شاید شہرینہ اپنا قدم مضبوط کر کے اپنی اور ماں باپ کی عزت اپنی محبت سے منہ موڑ کر

بچا چکی تھی”

عروبہ سر جھکائے سوچتی ہوئی ان کے پیچھے چل رہی تھی۔

شادی کی تیاریوں میں مہندی کا دن آپہنچا۔۔۔صبح سے گھر میں ہڑبوڑنگ مچی تھی ۔

سعد ساری دنیا سے بےزار سب کے منع کرنے کے باوجود آفس جا چکا تھا اور ساتھ میں ڈانٹ ڈپٹ کر مزیبہ کو بھی لے کر گیا۔

کوئی کچھ کہ بھی نہیں سکا ورنہ بھانڈا پھوٹنے کا شدید اندیشہ تھا۔

شام میں دونوں تھکے ہارے گھر پہنچے تو مریم بیگم غصے میں بھری لائنج میں چکر کاٹ رہی تھی۔

“اب بھی نہ آتے۔۔”

انہیں اندر آتا دیکھ کر غصے سے چلائیں۔

“غضب خدا کا ۔۔۔مہمان آنا شروع ہوچکے ہیں اور دلہا صاحب سر جھاڑ منہ پھاڑ اب تشریف لا رہے ہیں۔۔۔”

مریم بیگم کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔

وہ ان کے عتاب سے بچتا اوپر دوڑا ۔۔مزیبہ کو عروبہ پکڑ کر لے جاچکی تھی۔

“ارے ۔۔بیا تم بھی مہندی لگاو نا بھائی کو۔۔”

عروبہ اور شہرینہ مزیبہ کو پکڑ کے لے آئی جو گرین اور ییلو کمبینیشن کر غرارہ سوٹ میں بےحد دلکش لگ رہی تھی ۔۔سر حجاب سے ڈھکا تھا۔

بیا نے تھوڑی سی مہندی لے کے ہاتھ پر موجود پتے پر رکھی اور چمچ کی مدد سے مٹھائی کا چھوٹا سا پیس کاٹ کر اس کے منہ میں ڈالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔۔ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی ۔

دل ہی دل میں ان دونوں کو صلواتیں سناتی بمشکل مٹھائی کھلانے میں کامیاب ہوئی ۔

سعد کی رسم سے فارغ ہو کر اسے اوپر بھیجا اور پہرے پر اس کے دوست کو بٹھا دیا جس کی ڈیوٹی تھی سعد کو کمرے میں روکے رکھنا۔

سعد کے جاتے ہی عروبہ نے شہرینہ کی مدد سے پھولوں کا زیور پہنا کر دوپٹہ سیٹ کیا اور اسے لاکر جھولے پر سعد کی جگہ بٹھا دیا۔

سب رسموں سے فارغ ہو کر مہمانوں کو سونے کے لیے بھیجا اور خود مزیبہ کو مہندی لگانے بیٹھ گئیں۔

“اگر اب تیار ہو چکے ہیں تو نکلیں ،،پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے۔۔”

جنید صاحب نے مریم بیگم کو کہا جو نک سک سی تیاربہت خوبصورت اور گریس فل لگ رہی تھیں۔

جنید صاحب کی وارفتگی نے انہیں جھینپنے پر مجبور کردیا۔

عروبہ شہرینہ اور مزیبہ کے ساتھ پارکر جا چکی تھی ۔

مریم بیگم کا آرڈر تھا وہ دونوں بھی مزیبہ کے ساتھ پارلر سے تیار ہوں گی ۔