Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 22)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 22)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
سعد پاگلوں کی طرح دوڑتا کمرے میں آیا ۔تیزی سے الماری
کھولی ۔۔۔اس کی سائیڈ خالی تھی ۔دھڑکتے دل کے ساتھ
دراز کا لاک کھولا اور پیپرز آگے پیچھے کیے اس کا
پاسپورٹ اور ضروری ڈاکومینٹس غائب تھے۔
سعد کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔
کمرے میں نگاہ دوڑائی تو ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی فائل پر کاغذ پڑا تھا۔
وہ شکستہ قدموں سے چلتا ہوا قریب آیا اور ہاتھ بڑھا کر کاغذ اٹھایا۔
میں یہاں سے جا رہی ہو ۔۔۔کہاں یہ آپ کے لیے جاننا ضروری
نہیں۔۔۔میں نے آپ کے پیپرز سائن کر دئیے ہیں ۔۔۔آپ کر
ساری جائیداد مبارک ہو۔۔کتنا پرفیکٹ ڈھونگ رچایا آپ نے
محبت کا کہ مجھے رتی برابر بھی شک نہیں گزرا اور شاید
کبھی پتہ بھی نہ چلتا اگر میں آپ کی آفس ایمپلائز کی
باتیں نہ سن لیتی ۔۔۔ان پر مہر آپ اور بڑے ابو نے لگائی ۔۔۔جائیداد کے پیپز بنوا کے۔۔۔ مجھے ساری زندگی افسوس رپے
گا کہ میں نے ایک لالچی شخص سے محبت کی۔۔۔برحال آپ کے پیپز سائن کر دئیے ہیں ۔
میری آخری خواہش بس یہئ ہے کہ آپ مجھ سے کبھی اپنا
نام نہیں چھینیے گا ۔میں آپ کی احسان مند رہوں گی۔مزیبہ۔
وہ یک ٹک اس کاغذ کو گھورے جارہاتھا۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب کیا ہے۔
وہ کون سی جائیداد اور کن پیپرز کی بات کر رہی تھی۔
وہ شکستہ قدموں سے نیچے اترا ۔
دروازہ ناک کر کے کھنے کا انتظار کرنے لگا دو منٹ بعد ہی جنید صحب اس کے سامنے تھے ۔
بغیر کوئی بات کئی اس نے کاغذ ان کی طرف بڑھا دیا جسے انھوں نے حیرانگی سے تھاما۔
“یہ کیا بکواس ہے۔۔”
وہ دھاڑے۔
“میں خود نہیں جانتا۔۔۔۔”
سعد دلبرداشتہ تھا ۔مزیبہ اس کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی تھی۔
۔یہ بات اس کا دل چیر رہی تھی۔
جنید صاحب متفکر سے اندر گئے اور کاغذ مریم بیگم کی طرف بڑھایا ۔ان کا رنگ فق ہو گیا تحریر پڑھ کر۔
“کہاں گئی ہو گی وہ بےوقوف لڑکی۔”
وہ پریشانی سے بولیں ۔
“”اس کا موبائل آف ہے ۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہی اس سارے چکر کی۔۔۔”
سعد دلگرفتہ دھیمی آواز میں بولا ۔فہد اور حمزہ اپنی بیویوں کے ساتھ گھومنے کے لیے نکل چکے تھے۔
“اس نے اتنی بڑی غلط فہمی پال لی ۔۔۔ایک بار کسی سے ذکر کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔۔۔
خود ہی سارے اندازے لگا لیے۔۔۔اور میں نے تم سے کب کوئی بات کی ہے جائیداد کے
پیپز کی۔۔۔۔۔”
جنید صاحب حیران تھے اس کے مفروضات پہ جن کے بل پر وہ اتنا بڑا قدم اٹھا چکی تھی۔
” پاپا۔۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے میرے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی۔۔۔کہاں سے ڈھونڈھوں
اس کو۔۔۔”
سعد دونوں مٹھیوں میں اپنے بال جکڑے بھیگے لہجے میں بولا ۔
مزیبہ کا یوں چلے جانا اس کی جان نکال رہا تھا۔
“تم حوصلہ کرو ۔۔۔۔گیٹ کے کیمرے کی سی سی ٹی وی
فوٹیج نکالو ۔۔۔ہو سکتا ہے گاڑی کا نمبر وغیرہ نظر آجائے۔”
جنید صاحب کے حواس قابو میں تھے ورنہ سعد کا تو برا حال تھا۔
ان کی بات سن کر تیزی سےاٹھتا باھر نکل گیا ۔
کچھ ہی دیر میں کیمرہ کنیکٹ کیے وہ لیپ ٹاپ میں ویڈیو
چیک کر رہا تھا ۔جنید صاحب اور مریم بیگم اس کے پاس ہی بیٹھیں تھے۔
“یہاں روکو۔۔۔” زوم کرو اسے۔۔۔۔”
گیٹ کی قریب آتی گاڑی کو دیکھ کر جنید صاحب نے ویڈیو رکوائی ۔
“نمبر پلیٹ کا آخری نمبر واضح نہیں۔۔۔”
جنید صاحب کی آواز میں مایوسی تھی ۔
سعد نے زور سے لیپ ٹاپ آف کیا۔
“مزیبہ نے آفس ورکرز کی بات کی ہے۔۔۔۔یہ اس دن کی بات تو نہیں۔
جب وہ آفس میں بےہوش ہوگئ تھی ۔کیونکہ اس کے بعد سے اس کا موڈ خراب تھا۔
“پاپا میں آفس جا رہا ہو ۔۔۔پہلے فساد کی جڑ ڈھونڈ لو پھر مزیبہ کو دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔”
سعد شدید غصے میں اٹھا تھا اس سے پہلے کہ جنید صاحب اسے روکتے وہ گاڑی کی چابی اٹھائے نکل گیا۔
“اللہ اس کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔۔۔نہ جانے کہاں دھکے کھا رہی ہوگی۔”
مریم بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔وہ اتنے کم عرصے میں عروبہ کی طرح انھیں عزیز ہو گئی تھی۔
۔آفس پہنچتے ہی سعد نے کال کر کہ فورا سیکیورٹی سٹاف
کو سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوانے کا کہا۔
پندرہ منٹ میں جمیل ویڈیو لیے اس کے روم میں تھا۔
سعد نے یو ایس بی لیپ ٹاپ کے ساتھ اٹیچ کی اور نظر
ویڈیو پر ٹکا دی۔
گیارہ بجے کے بعد بیا آفس میں اینٹر ہوئی تھی ۔ سیدھی
چلتی وہ مڑی اور پیکنگ برانچ کے دروازے پر کھڑی ہو
گئی۔کچھ دیر بعد فق چہرے کے ساتھ بےڈھنگی چال چلتی
وہ سعد کے دروازے کے قریب رکی۔
سعد نے ویڈیو آف کر کے جمیل لو دیکھا۔
“پیکنگ برانچ کی اس دن کی ویڈیو آڈیو کے ساتھ لاو۔۔۔”
سعد کی گہری سنجیدہ آواز سن کر جمیل تیزی سے باہر نکلا۔
سعد نے آنکھیں موند کر سر کرسی کی پشت سے ٹکایا ۔
وہ جانتا تھا مزیبہ سیدھی اور قدرے بےوقوف ہے پر اتنی
بےوقوف ہو گی اس کے وہم وگمان میں نہیں تھا۔
“بیا اٹھو ۔۔۔یہ جوس پیو۔۔۔۔کیا حالت بنا لی ہیے ایک دن میں۔۔۔۔”
ایشا اس کو دیکھ کر دکھی ہو گئی
ایک ہی دن میں نچڑ کر رہ گئی تھی۔ٹینشن نے بخار
کا روپ دھار لیا تھا۔
“مزیبہ ایسے کیسے چلے گا۔۔اپنی حالت دیکھو صبح سے ایک
نوالا نہیں لیا تم نے ۔۔۔میڈیسن کیسے کھاو گی۔۔۔”
ایشا پریشانی سے بولی ۔مزیبہ نے ہمت کی اور اٹھ کرٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
” میں ٹھیک ہو جاو گی تم فکر نہیں کرو۔۔۔اس کو دیکھ کر
ہی مجھے متلی ہو رہی ہے۔۔۔پلیز مجھے یہ نہیں پینا۔”
سوپ کو دیکھ کر مزیبہ بولی تو ایشا نے بغور اسے دیکھا۔
“کب سے متلی کی شکایت ہے۔۔۔۔”
“کچھ دن ہو گئے ہیں ۔۔۔۔بس صبح اٹھتے ہی طبعیت خراب
ہوتی ہے ۔۔۔پھر خود ہی آرام آجاتا ہے۔۔۔”
مزیبہ نڈھال ہورہی تھی۔
“تم نے ڈاکٹر کو چیک کروایا۔۔۔۔”
ایشا کو شک ہوا مگر بغیر تصدیق کے کچھ بھی کہنا بےکار تھا۔
“نہیں ۔۔۔شادی کے دنوں میں وقت ہی نہیں ملا۔۔۔”
مزیبہ صاف گوئی سے بولی۔
ایشا خود اس مرحلے سے گزر چکی تھی مگر قسمت میں
ابھی اولاد نہیں تھی اس لیے چند ماہ ہی پریگننٹ رہی۔
اس واقعہ کو ابھی دو ماہ گزرے تھے۔
“میں تمھارے لیے بریڈ لاتی ہوں ۔۔۔کھا لو پھر ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”۔
ایشا اسے کہ کر خود سوپ کا باول اٹھائے باہر آگئ
” مس فوزیہ۔۔۔اور مس گوہر کو میرے روم میں بھیجیں اورمیڈم تہمینہ کو بھی بلائیں۔”
سعد نے نہایت غصے سے سیکٹری کو کہا اور ان کے آنے کا
انتظار کرنے لگا ۔چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
“جی سر آپ نے بلایا۔۔۔”
تینوں اکھٹے ہی دروازہ ناک کر کے اندر آئی تھیں۔
“تشریف لائیے۔۔”
سعد کی آواز میں تلخی تھی۔
“میں نے آپ سے بیٹھنے کے لیے کہا۔۔۔”
میڈم تہمینہ کو کرسی پر بیٹھتے دیکھ کر سعد دھاڑا ۔
فوزیہ اور گوہر کی ٹانگیں کانپنے لگی۔
انھوں نے تھوک نگل کر گلہ تر کیا ۔میڈم تہمینہ ناسمجھی
سے سعد کو دیکھ رہی تھیں۔
سعد کا ہی آرڈر تھا کہ وہ چونکہ عمر میں کافی بڑی ہیں
اس لیے روم میں آتے ہی بیٹھ جایا کریں ۔
“سس ۔۔۔سر۔۔۔ کوئی غلطی ہو گئی ۔۔۔”؟
میڈم تہمینہ ہکلائیں۔
اسی لمحے سعد نے ہاتھ بڑھا کر لیپ ٹاپ کا بٹن دیا اور فضا
میں ان تینوں کی آوازیں وقفے وقفے سے گونجنے لگیں ۔
تینوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
“آپ تینوں کی اس بکواس سے میری زندگی میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔”
اس کی اتنی اونچی تھی کہ وہ کانپ گئیں۔
“مس فضا آپ اندر آئیں۔۔”۔
ایکسٹینشن اٹھا کر سیکٹری کو اندر بلایا۔
“جی سر۔۔۔”
“ان تینوں کے فائر لیٹر بنوائیں ود آوٹ پے۔۔۔۔آدھے گھنٹے میں یہ کام ہو جانا چاہئیے۔”
اس کے آرڈر سن کر وہ تیزی سے باہر نکلی جانتی تھی کہ
اگر سر نے آدھا گھنٹہ کہا ہے تو اس کا مطلب پچیس منٹ ہے۔تیس منٹ نہیں۔
وہ تینوں اڑے رنگ گے ساتھ سر جھکائے آفس سے نکلیں تھیں۔
“شہرینہ اگر اب تم نے بات نہیں مانی تو میں تم سے دو دن بات نہیں کروں گا۔۔۔۔”
فہد کافی دیر سے اسےباہر چلنے کا کہ رہا تھا مگر وہ سستی
سے لیٹی مسلسل انکار کر رہی تھی ۔
“سچی ۔۔اٹھائیں قسم ۔۔۔پورے دودن بات
نہیں کریں گے۔۔۔اف دو دن میں سکون سے نیند پوری کروں گی۔”
شہرینہ شرارتی لہجے میں بولتی آنکھیں میچ رہی تھی۔
“میں نے بات کرنے سے انکارکیا ہے حق لینے سے
نہیں۔۔۔”
فہد اسے کھینچ کر نیچے اتارتے ہوئے بولا اور پھر اس کے
انکار کے باوجود زبردستی اس کے گرد
چادر اوڑھا کر مزے سے ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا ہوٹل کے
کمرے سے نکل گیا۔
“دیکھو ۔۔۔کتنا مزے کا موسم ہے۔۔۔”۔
ہوٹل کے باہر آکر فہد نے شوخی سے کہا۔پہاڑی علاقہ اس
وقت کالے گہرے بادلوں میں گھرا تھااور ٹھنڈی ہوا ماحول
کو مزید پرلطف بنا رہی تھی۔
باہر آکر شہرینہ کو لگا واقعی اس کی ساری بےزاری ہوا ہو گئی۔
“تھینکس۔۔۔۔”
فہد کا ہاتھ تھام کر مسکراتے ہوئے کہا۔
“ایسے تھینکس سے کام نہیں چلے گا۔ ۔۔رات کو ہرجانہ بھرنا پڑے گا۔۔”
معنی خیز لہجے میں فہد اس کی طرف زرا جھکتے ہوا بولا
تو اس نے گھور کر دیکھا۔
“آپ یہاں آکر کچھ زیادہ ہی پھیل گئے ہیں۔۔۔”
شہرینہ چلتے ہوئے ہلکا سا رخ موڑ کر غرائی۔
“میری جان جگر پھیلنے کا پرمیننٹ پرمٹ حاصل کیا ہے”۔
فہد اس کے سر سے سر ٹکراتا ہنستے ہوا بولا تو شہرینہ اس
کے انداز پر سرخ ہوتی سر جھکا گئی ۔فہد نے دلچسپی سے
اس کے چہرے پر اترنے والی بہار کو دیکھا تھا۔
عروبہ کافی دیر سے بالکونی میں کھڑی باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی۔
حمزہ کسی ضروری کام سے باہر گیا ہوا تھا۔تو عروبہ بور
ہوتی بالکونی میں آگئی۔شہرینہ اور فہد اسی ہوٹل کے سیکنڈ فلور پہ تھے۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز پر عروبہ پلٹی تو حمزہ ہاتھ میں شاپنگ بیگ لیے اندر آرہا تھا۔
“کافی دیر لگا دی آپ نے۔۔۔”
عروبہ نے سرسری سے لہجے میں پوچھا۔
“بس یار ۔۔۔موڈ کے مطابق چیز مل نہیں رہی تھی اسی لیے دیر ہو گئیی۔”
حمزہ تھکن سے بھرپور لہجے میں گویا ہوا۔
“کیا لائے ہیں۔۔۔”
عروبہ نے شاپنگ بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو حمزہ نے سرعت سے بیگ پیچھے کیا۔
“یہ تمھارے لیے نہیں۔۔۔”
وہ اٹھا اور بیگ الماری میں رکھ کر واپس پلٹا ۔عروبہ خفت زدہ سر جھکائے واپس بالکونی میں آگئی۔
