Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 10)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 10)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
“مزیبہ بیٹا ۔۔۔۔۔کون ایڈمٹ ہے ۔۔۔۔۔۔”؟سلام کا جواب دے کر انھوں نے پوچھا تو مزیبہ نے ایک نظر سعد کو دیکھا ۔
“ہمارے دادا جان ایڈمٹ ہیں۔۔۔۔”۔
سعد کے منہ سے نکلے الفاظ سن کر وہ ہکا بکا کھڑے رہ گئے ۔
چہرے پر کئ رنگ آئے گئے ۔
انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ چودہ سال کے بعد اپنے باپ کے بارے میں سن رہے ہیں۔
فہد حیرت زدہ تھا ۔
“یہ مزیبہ۔۔۔۔۔۔دانیال چاچو کی بیٹی ۔۔۔۔”اس نے بتایا اور چاہ کر بھی چاچو اور چچی کی ڈیتھ کے متعلق نہیں بتا سکا۔
مزیبہ ان کے بڑھنے سے پہلے ہی آگے بڑھ کر ان کی کھلی بانہوں میں سما گئی۔
جنید صاحب اسے پیار کرتے رو دئیے۔
“پاپا سنبھالیں خود کو۔۔۔۔” سعد نے آگے بڑھ کر انہیں بازووں میں لیا ۔
حمزہ مسکراتی نظروں سے مزیبہ کو دیکھ رہا تھا۔
“دادا جان کچھ دیر تک جاگ جائیں گے ۔۔۔۔۔پھر میں آپ کو اندر لے جاوں گا۔۔۔۔۔”۔
“آپ ابھی یہاں بیٹھیں ۔۔۔۔”
انہیں پکڑ کر چئیر پر بٹھایا ۔
فہد تم کچھ کھانے کے لیے لے آو کینٹین سے ۔۔۔۔۔”سعد نے گھوم کر فہد کو کہا تو وہ سر ہلاتا ریسیپشن کی طرف بڑھ گیا تاکہ کینٹین کا پوچھ سکے ۔
“ماما کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہیں آپ ۔۔۔۔”عروبہ باہر آئی تو مریم بیگم کو یوں پریشان بیٹھا دیکھ کر استفار کیا ۔
کیوں کہ اس وقت عموما وہ کچن میں ہوتی تھیں ۔
“سعدکی کال آئی تھی ۔۔۔۔نہ جانے اس کا کونسا دوست ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔۔صبح تمھارے پاپا اور فہد کو بلایا تھا ۔۔۔تین گھنٹے ہو رہے ہیں گئے ہوے” ۔
مریم بیگم ایک ہی سانس میں بولیں ۔
“” آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔ میں کال کرتی ہوں سعد بھائی کو ۔۔۔۔”
عروبہ نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کا لاک کھولتے ہویے تسلی دی ۔
“اسلام علیکم بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے ہیں آپ کے دوست۔۔۔۔”
سلام کے ساتھ ہی عروبہ نے پوچھا ۔
دوسری طرف کی بات سن کر اس کا منہ کھل گیا ۔
مریم بیگم اس کے تاثرات دیکھ کر اٹھ کے قریب آگئیں۔
کیا ہوا عروبہ۔۔۔۔۔کون ہے ہاسپٹل میں ۔۔۔۔۔سعد ٹھیک ہے۔؟
ان کی بےتابی ان کے لہجے سے عیاں تھی۔
“ماما۔۔۔۔۔دادا جان ۔۔۔۔دادا جان ہیں ہاسپٹل میں۔۔۔۔اس کی آواز جیسے گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔
اتنے سالوں بعد اتنے قریبی رشتے کا ملنا ان کو شاک لگا تھا ۔
مریم بیگم رو دیں۔انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ فاروق صاحب زندہ اور صحیح سلامت ہیں ۔
کتنی دعاہیں مانگی تھی ان کی واپسی کی جو آج پوری ہوتی نظر آئیں ۔
“ماما۔۔۔۔گاڑیاں تو دونوں گئی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔میں شہرینہ کو کال کرتی ہوں ۔۔۔حمزہ بھائی اگر گھر ہیں تو ہمیں لے جاہیں گے “۔
انہیں بتا کر اس نے شہرینہ کا نمبر نکالا اور بات کر کے تیار ہونے چلی گئی۔
“بھائی ۔۔۔۔۔۔تیار ہوگئے آپ۔۔۔۔”عروبہ دروازہ ناک کر کے اندر آئی تو حمزہ آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا ۔
ان کا اپنا لیدر گارمنٹس کا بزنس تھا ۔
“کوئی کام تھا۔۔۔۔۔”
حمزہ نے بال سیٹ کرتے ہوئے پوچھا ۔
“جی۔۔۔۔۔۔عروبہ اور آنٹی کو سٹی ہاسپٹل ڈراپ کرنا ہے۔۔۔۔۔عروبہ کے دادا جان ایڈمٹ ہیں ۔۔۔۔۔”
شہرینہ نے بتایا تو وہ بھی حیران ہوا جان کر۔
“اوکے۔۔۔۔تم فون کر دوں جب ریڈی ہو جائے گی تو کال کر دیں ۔۔۔۔۔”حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہاں تو شہرینہ نے بغور اسے دیکھا ۔خاصے چینج لگ رئے تھے۔
” کیسی طبعیت ہے آغا جان۔۔۔۔۔۔”
مزیبہ ان کا ہاتھ چومتے ہوئے بولی ۔
انھوں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے تسلی دی ۔
۔”آغا جان ۔۔۔۔۔۔کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔”
سعد کی آواز سن کر اور اسے دیکھ کر آغا جی کا منہ تحیر سے کھلا ۔
“مجھے پہچانا اپ نے۔۔۔۔۔ائیرپورٹ پہ ملاقات ہوئی تھی ہماری۔۔۔۔”
سعد نے جان بوجھ کر حوالہ دیا ۔
“میں ٹھیک ہوں بچے۔۔۔۔۔۔آپ کیسے ہوں۔۔۔۔۔” انہوں نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔
“بابا جان ۔۔۔۔۔بابا جان ۔۔۔۔۔۔”
فاروق آغا کے دونوں پاوں تھامےزاروقطار رونے لگے ۔
سعد ایسے کھڑا تھا کہ آغا جی کو جنید صاحب اندر آتے دکھائی نہیں دیئے۔
“جنید۔۔۔۔۔”ان کے ہونٹ بے آواز ہلے تھے۔
جنید صاحب کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
سعد ان کے قریب آیا اور انہیں اٹھا کر سیدھا کیا ۔
فاروق آغا صاحب کے آنسو ان کی کنپٹیاں بھگو رئے تھے۔
سعد نے مزیبہ کو اشارہ کیا اور باہر نکل گیا مزیبہ نے بھی اس کی پیروی کی تھی ۔
“بابا جان۔۔۔۔۔معاف کر دیں۔۔۔۔۔۔آپ کو اللہ کا واسطہ بابا جان میری اذیت ختم کر دیں ۔۔۔۔”دونوں ہاتھ جوڑے جھکے سر کے ساتھ وہ بری طرح ٹوٹے ہوئے لگ رھے تھے۔
فاروق صاحب نے بمشکل ہاتھ اٹھا کر ان کے ہاتھ تھامیں ۔
“معاف کیا جنید ۔۔۔۔”۔ان کی کپکپاتی آواز ابھری تو جنید صاحب بےتابی سے ان کے سینے سے لگ کر رو دئیے۔
“چودہ سال لگا دئیے بابا جان۔۔۔۔۔کوئی اپنی اولاد سے اس طرح بھی روٹھتا ہے ۔۔۔۔۔ایک موقع تو دیا ہوتا اپنی غلطی کو سدھارنے کا ۔۔۔۔ان کے سینے سے لگے ڈبڈبائی آواز میں بولے۔
فاروق صاحب نے بہت محبت سے ان کا ماتھا چوما تھا ۔
سعد فہد اور عروبہ کے ساتھ کھڑا تھا جب کاریڈور میں عروبہ اور مریم بیگم کو حزہ کے ساتھ آتے دیکھا ۔
“کیسے ہیں بابا جان ۔۔۔۔۔”
مریم بیگم کی بےتابی واضح تھی۔
سعد نے انہیں تسلی دی اور ساتھ لیے کمرے کی طرف آیا ۔زرا سا اندر جھانک کر دیکھا مطلع صاف دیکھ کر مسکراتا ہوا پورا دروازہ کھول کر مریم بیگم کو اندر جانے کا کہا ۔
“بابا جان۔۔۔۔”مریم بیگم ان کے ہاتھ تھامے آنکھوں سے لگانے لگ گئی ۔آنسو ان کا چہرہ بگھو چکے تھے ۔
“کوئی اپنی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے ۔۔۔۔آپ کی ناراضگی ان کے ساتھ تھی ۔۔۔۔میں تو آپ کی بیٹی تھی مجھے بھی اکیلا چھوڑ کے چلے گئے آپ۔۔۔۔۔۔۔”مریم بیگم کی آنکھوں سے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے ۔
آغا جان ان کے تایا تھے ۔ماں باپ کے انتقال کے بعد انھوں نے ہی مریم کو سنبھالا تھا ۔
آغا جی ان کی محبت پر دھیما سا مسکراے ۔۔
اب رو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہیں نہیں جا رہا ۔
انہوں نے دلاسا دیا ۔
“دادا جان ہمیں یقین نہیں آرہا آپ ہمارے پاس ہیں ۔۔۔”ان کے ماتھے پہ بوسہ دیتی عروبہ کھنکتی آواز میں بولی ۔
حمزہ کی نظر اس پر ٹھہر سی گئی ۔
“یہ آپ لوگوں نے کیا رش لگایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔نکلیں سب یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔”
خرانٹ قسم کی نرس اندر کمرہ بھرا دیکھ کر غصے سے بولی۔
“او ہو ۔۔۔۔سسسٹر ۔۔۔۔۔آپ یہاں بیٹھیں ۔۔۔عروبہ سسسٹر کے لیے جوس ڈالو۔۔۔۔۔۔۔”
فہد کرسی خالی کر کہ ان کے قرہلیب رکھتے ہوے عروبہ سے بولا۔
“اگر ہم اسطرح کمرو ں میں کھانے پینے لگ جائیں ےتو کر لی ہم نے نوکری ۔۔۔۔۔۔آپ مہربانی کر کہ کمرہ خالی کریں ۔۔۔۔۔۔”۔
نرس کا لہجہ خاصا تیکھا تھا فہد خفت زدہ ہوا ۔
“جوس تو ہم مہمان نوازی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اورکرسی بیٹھ کے پینے کے لیے۔۔۔۔۔۔باقی رہ گئے ہم سب تو ہم بس جانے والے ہیں ۔۔۔۔۔”
فہد خفت مٹانے کو بولا ۔
نرس احسان کرتے ہوئے بیٹھ گئی اور جوس لے کر پینے لگی ۔سب کے چہروں پر دبی دبی ہنسی تھی ۔
“آپ سب جائیں میں آغا جی کے پاس ہی رکو گی۔۔۔۔۔”
مزیبہ اتنی دیر میں پہلی مرتبہ بولی تو اب چونک گئے ۔
“آپ رات سے یہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔اب گھر جائیں اور ریسٹ کرہں۔۔۔۔۔بھائی آپ بھی جائیں میں رکوں گا آغا جان کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔”
فہد نے کہا تو سب نے اس کی بات کی تائید کی۔
“مجھے نہیں جانا آغا جی کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔”۔وہ ایک دم رو دی ۔ عروبہ تیزی سے آگے بڑھ کر اسے چپ کروانے لگی۔
“آغا جی اب ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔ ابھی تم گھر چلو شام کو میں دوبارہ لے آو گا۔۔۔۔۔۔”
سعد نے نرمی سے کہا تو وہ بمشکل راضی ہوئی ۔آغا جی کو چھوڑ کے جانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
حمزہ پہلے ہی آفس کے لیے نکل چکا تھا ۔سعد سب کو لیے گھر چل دیا۔
گھر پہنچ کرسب لاوئنج میں بیٹھ گئے۔
مریم بیگم نے بوا کو ناشتہ بنانے کا کہا اور خود مزیبہ کے پاس بیٹھ گئیں۔جو خاموش گم سم بیٹھی تھی۔
“بیا بیٹا ماما پاپا کو اطلاع دی آغا جان کی بیماری کی۔۔۔۔۔۔”اس کا ہاتھ تھام کر پیار سے سہلاتے پوچھنے لگیں۔
بیا نے ایک لہزے کو ان کے ہاتھوں کو دیکھا اور ڈبڈبائی آنکھیں اٹھائیں۔
“ماما پاپا نہیں ہیں۔۔۔۔۔”آناو پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پہ پھسل آئے۔
اس کی سسکیاں لاوئنج میں آتے سعد نے بخوبی سنی۔
“کیا مطلب بیا۔۔۔۔۔۔”انھوں نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔
“ماما وہ اس دنیا میں نہیں ۔۔۔۔۔”
سعدنے اس کی مشکل آسان کی ۔اپنے ماں باپ کے لیے آج بھی ایسے الفاظ بولنے پر زبان بولنے سھ انکاری ہو جاتی تھی۔
مریم بیگم کو لگا ان کا دل غم کی شدت سے پھٹ جائے گا۔
بہن بھائی کا رشتہ تھاان کا پلوشہ اور دانیال کے ساتھ ۔۔۔۔اس خبر نے گہرہ صدمہ پہنچایا تھا ۔
بیا کو ساتھ لگائیے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ۔
بیا کو لگا جیسے اب ہی وہ دونوں اس دنیا سے گئے ہوں۔ اتنے سالوں میں کوئی کندھا ایسا دستیاب نہیں تھا جہاں لگ کر وہ اپنے جانے والوں کا دکھ رو لیتی۔
مریم بیگم کی آغوش نے اس کے لیے مسیحا کا کام کیا ۔بیا روئی تو سب کا رلا گئی۔
“ماما پلیز ۔۔۔۔ہمت کریں ۔۔۔۔یہ لیں پانی پیئے۔۔۔۔عروبہ تم بھی پانی پیو۔۔۔۔۔عروبہ نے دونوں کو گلاا تھمائے ۔
بیا سسکتی گلاس تھام کر بیٹھ گئی۔مریم بیگم نے دو گھونٹ لے کر گلاس عروبہ کی طرف بڑھایا۔
سعد نے آگے بڑھ کر گلاس بیا کے ہاتھ سے لیا اور اس کے منہ سے لگا دیا۔دو گھنٹ کے بعد اس نے سر پیچھے کر لیا ۔مریم بیگم کا بازو اب بھی اسکے گرد لپٹا تھا۔
“بھیا بزی تو نہیں۔۔۔”۔
حمزہ کے روم کا دروازہ کھول کر سر اندر کر کے اس نے پوچھا تو حمزہ نے نفی میں سر ہلایااور اندر آنے کا اشارہ کیاتو شہرینہ مسکراتی ہوئی از کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
“کیا بات ہے، ایسے کیوں مسکرا رہی ہو۔۔۔۔۔”حمزہ نے اسے کچھ کھوجتی نظروں سے دیکھ کر پوچھا ۔
آنکھوں میں شرارت کا رنگ نمایاں تھا۔
“پرامس کریں جھوٹ نہیں بولیں گے۔۔۔۔”
اپنا سیدھا ہاتھ آگے پھیلائے اس نے حمزہ سے وعدہ لینا چاہا ۔
حمزہ نے اطمینان سے ہستھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
