Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 8)

507.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 8)

Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna

“شہرینہ۔۔۔۔شہرینہ۔۔۔۔”عروبہ اندر آئی تو خالی لاوئنج دیکھ کر اسے آوازیں دینے لگی۔

” زہے نصیب آج کیسے قسم توڑ دی ہمارے گھر آنے کی ۔۔۔۔۔”

شوخ سی آواز اس کے عقب سے ابھری تھی ۔

عروبہ کے چہرے پر ہلکا سا تبسم پھیلا جسے فوری طور پر کنٹرول کرتی چہرے پر سنجیدگی طاری کرتی رخ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔

جو پرشوق نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

“شہرینہ کہاں ہے۔۔۔۔۔”

اپنی نظروں کا زاویہ موڑ کر دوسری طرف نگاہ ذالتی عروبہ نے بےچینی سے پوچھا تو حمزہ دو قدم چل کر اس کے قریب آکھڑا ہوا

“جہاں کھڑے تھے وہاں کیا پروبلم تھی آپ کو۔۔۔۔۔کیا وہاں کانٹے اگ آئے تھے ۔۔۔۔”

تپے ہوے لہجے میں اس کے استفار پر حمزہ کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔

“دل کر رہا تھا آپ کو قریب سے دیکھنے کا۔۔۔۔۔”

اس کاگھمبیر لہجہ سن کر سچ میں عروبہ کو ہاتھوں میں کپکپاہٹ فیل ہوئی۔

“میرے سر پر سینگ نہیں جو آپ دیکھنے کے شوق میں میرے سر پر آکھڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔”

عروبہ اپنے اوپر قابو پا کر تلملائی ۔حمزہ کی ہنسئ رک نہیں رہئ تھی اس کی باتیں سن کر ۔۔

“آج کیا کھانے میں مرچیں چبائی ہیں جو مسلسل آگ اگل رہی ہیں ۔۔۔۔”

حمزہ کا انداز خاصا دلکش تھا ۔

عروبہ نے خفگی بھری گھوری اس کے چہرے پر ڈالی اور سر جھٹکتی مڑی رخ شہرینہ کے کمرے کی طرف تھا ۔

“شہرینہ گھر پر نہیں ماما کے ساتھ بازار گئی ہے ۔۔۔۔”

اب کہ حمزہ کی سنجیدہ آواز ابھری ۔عروبہ کا تو رنگ ہی آڑ گیا۔

“ایک منٹ عروبہ ۔۔۔۔”

۔اسے تیزی سے باہر جاتا دیکھ کر فورا سامنے آیا۔عروبہ کا رنگ ایک لمحے کو پھیکا پڑا جو حمزہ کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہا ۔

“میں جانتا ہوں مجھے آپ کو ایسے نہیں روکنا چائیے ۔۔۔۔اگر مجھ پر اعتبار کرتی ہیں تو ایک منٹ یہاں رکیں میں ابھی آیا ۔۔۔۔۔”

اسے وہی کھڑا رہنے کا کہ کے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف گیا اوراسی لمحے عروبہ مڑی اور باہر نکل گئی اسے پرواہ نہیں تھی کہ وہ کیا سوچھ گا بس اتنا جانتی تھی کہ دو نامحرم کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔

اسی ایک بات کو پلو سے ہمیشہ باندھ کر رکھی تھی یہں وجہ تھی کہ آج تک یونیورسٹی میں بھی کسی کی ہمت نہی تھی اس کے اور شہرینہ کی طرف دیکھنے کی ۔

حمزہ جتنی تیزی سے اندر گیا تھا اسی تیزی سے واپس باہر آیا مگر چند قدم چل کر ٹھٹھک کر رکا

عروبہ وہاں کیاآگے پیچھے بھی نہی تھی ۔۔۔۔۔حمزہ کا دل شدت سے دکھا اور چہرے پر حزن وملال چھا گیا

“وہ میرا اعتبار نہی کرتی ۔۔۔”

۔سرعت سے اس سوچ نے دل و دماغ کا احاطہ کیا تھا ۔اپنے ہاتھ میں موجود کٹ کیٹ کے باکس کو ایک نظر دیکھ کر قریب پڑی راکنگ چئیر پر پھینکا اور دل میں غصہ دبائے روم میں چلا گیا ۔

“آغا جان۔ ۔۔۔۔۔میں آفس جا رہی ہو۔۔۔۔زرینہ آپا کو میں نے سب سمجھا دیا ہے ۔۔۔۔آپ نے میڈیسن یاد سے لینی ہے ۔۔۔۔”۔بیا کا آج پہلا دن تھا

اسلیے جاتے جاتے ہدایت کرنا نہی بھولی ۔آغا جی نے بھی ہنستے ہوئے اس کی ہدایات سنی۔۔۔۔۔

باہر آئی تو ڈرائیور انتظار میں تھا ۔ڈرئیونگ آنے کے باوجود آغ جی اسے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

“اسلام علیکم سر۔۔۔۔۔”

سعد آفس میں داخل ہو تو رائیٹ سائیڈ صوفے پر بیٹھی مزیبہ جلدی سے کھڑی ہوئی ۔۔

سعد نے موبائل اور لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بغور اس کا جائیزہ لیا ۔

“بیٹھیں۔۔۔۔۔”

اپنے سامنے موجود کرسی کی طرف آسارہ کر کے کہا تو مزیبہ قدرے جھجھکتی آکر بیٹھ گئی ۔

“آپ کی فیملی میں کون کون ہیں ۔۔۔۔۔”

سعد ہنوز از کا جائیزہ لینے میں مصروف تھا ۔۔گلابی کلر کے لباس میں وہ خود بھی گلابی لگ رہی تھی ۔۔۔کالی آنکھوں میں اس وقت بےچینی واضح تھی ۔

اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کے لیے انگلیاں مروڑ رہی تھی ۔آور شاید یہ آج سعد کے اکیلے ہونے کی وجہ سے تھا ۔

“ماما پاپا کی ڈیتھ ہو چکی ہے بس میں اور آغا جی ہیں ۔۔۔”

۔دوبارہ سوال دہرانے پر اس نے جواب دیا۔

“آغا جی آپ کے کیا لگتے ہیں ۔۔۔آئی مین نانا یا دادا۔۔”

سعد فائل پر نظر ڈالتا عام سے لہجےمیں سوال جواب کر رہاتھا ۔جیسے اسی لیے اسے آفس بلایا ہو۔۔

“ان سوالوں کا میری جاب سے کیا تعلق ہے ۔۔۔”

اس کے لہجے میں ہلکی سی ناگواری کی جھلک سعد کو بخوبی محسوس ہوئی ۔۔

مزیبہ کا دل نہ جانے کیوں گھبرا رہا تھا حالانکہ اب تو اس کے اور اپنے رشتے کی حقیقت سے بھی آگاہ تھی ۔

“جاب کے ساتھ تعلق ہے اب آپ دیکھیں اگر آپ کبھی

چھٹی کر لیں اور میں آپ کے گھر کال کروں۔۔۔۔۔۔

آگے سے آغا جان رسیو کری ںاور میں ان سے آپ کے نانا سمجھ کر بات کرو بعدمیں مجھے پتہ چلے کہ وہ آپ

کے دادا ہیں تو یہ میرے لیے شرمندگی کی بات ہو گی ۔۔۔۔۔باس کو پتہ ہی نہی کہ آغا جان ان کی امپلائئ کے دادا ہیں یا نانا۔۔۔۔۔۔۔”

سعد بولا تو بولتا ہی چلے گیا اور مزیبہ اس کی بےتکی بات سنتے حیران ہو رہی تھی

“آپ جب بھی بات کریں انھیں آغا جی سمجھ کر بات کریں کچھ اور سمجھنے کی ضرورت نیں آپ کو۔۔”۔

اس کا لہجہ نروٹھا ہو گیا تو سعد کا قہقہ بےساختہ تھا ۔۔۔ کی سنجیدہ شکل ہضم نہی ہو رہی تھی اسی لیے اسے تپانے کو الٹا سیدھا بول رہا تھا

“مجھے آپ کے آفس کا وہ والا روم لینا ہے جو لاک ہے ۔۔۔”

اب کی بار مزیبہ کے انداز میں ہٹ دھرمی تھی سعد اس کی فرمائش پر حیرت زدہ رہ گیا ۔

“آپ کو کس نے کہا میں آپ کے مانگنے پر وہ روم آپ کو الاٹ کر دو گا ۔۔۔۔”

قدرے آگے کو جھک کر دونوں بازوں کہنیوں تک ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے بات مکمل کی

“افی دادا نے کہا تھا میں جو چاہو وو والا روم آفس میں لے سکتی ہوں ۔۔۔۔۔کسی کی جراءت نہیں مجھے منع کرنے کی ۔۔۔۔۔”

مزیبہ کا دھونس بھرا انداز دیکھ کر سعد سر پر ہاتھ پھیر کا رہ گیا ۔

“وہ روم میں آپ کو نہیں دے سکتا ۔۔۔۔آپ کوئی اور روم دیکھ لیں بلکہ میرے روم میں ہی آپ کی ٹیبل لگوا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔”

“خاصا بڑا روم ہے میرا ۔۔۔ویسے بھی اس طرح میرے ساتھ رہیں گی تو کام سیکھنے میں آسانی ہو گی ۔۔۔”

سعد کے انکار اور پوری بات واضع کرنے پر بھی

مزیبہ کی آنکھوں سے آنسو لڑھک کر گالوں پر پھسل آئے سعد بوکھلا کر کھڑا ہوا اور تیزی سے آکر اس کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔

“”مس بیا یہ کیا بچپنا ہے ۔۔آپ رونے کیوں لگ گیی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”

نرم لہجہ اور اپنائیت بھرا انداز وہ جانتی تھی کہ اس وقت سامنے بیٹھے انسان سے اس کا خون کا رشتہ ہے ۔۔

۔اس لیے آنسو کو نکلنے سے نہیں روکا تھا جو خومخواہ ہی امڈ آئے تھے

شاید اپنے پاپا کے روم میں جانے کا سوچ کر ۔

چھوٹے بچوں کی طرح گالوں سے آنسو صاف کرتی سعد کے دل میں اترتی چلی گئی ۔

”میں پاپا سے بات کر لو ۔۔۔۔اگر وہ اجازت دیتی ہیں تو آپ کو وہ روم مل جائے گا ۔۔۔۔۔ ”

سعد اسے چپ ہوتا دیکھ کر ریلیکس ہو کر بیٹھ گیا ۔

شاید افی دادا کی وجہ سے یہ مجھے اتنی اہمیت دے رہے ہیں۔۔۔۔۔بیا نے اسے دیکھتے ہوے سوچا ۔

“رہنے دیں میں خود بات کر لو گی بڑے پاپا سے۔۔۔”۔

اس کی زبان پھسلی تھی اور بڑے برے طریقے سے پھسلی تھئ۔

۔سعد کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا تھا

“مزیبہ آپ نے ابھی بڑے پاپا کہا۔۔۔۔۔”۔

اس کو حیرت زدہ دیکھ کر بیا سٹپٹا گئی ۔

“میرے منہ سے ایسے ہی نکل گیا ۔۔۔۔افی دادا نے کہا میں کچھ بھی بول سکتی ہوں انھیں ۔۔۔۔اس لیے بس بول دیا ۔۔۔۔۔۔”

مزیبہ جلدی سے بولی مگر مقابل خاصی گہری نظروں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا ۔

“میں آپ سے لندن ایئرپورٹ پہ ملا تھا ۔۔۔۔”

اچانک ہی اس کے ذہن میں کچھ کلک ہوا تھا ۔۔۔۔مزیبہ کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیے

“آپ کے ساتھ بزرگ تھے ،آغا جی۔۔۔آغا جی۔۔۔ہے نا ۔۔۔۔”

سعد نے تصدیق چاہی۔

“جج جی۔۔”۔

بیا کے حلق سے پھسی پھسی آواز نکلی ۔

“آپ کا پورا نام کیا ہے ۔۔۔۔”

اس بار اس کے سوال نے مزیبہ کا رنگ سچ میں اڑایا تھا۔۔۔افی دادا نے سختی سے منع کیا تھا کچھ بھی ظاہر کرنے سے پر یہاں تو سعد صاحب کو جیسے آغا جی کی شکل یاد کر کے سب کچھ یاد آگیا تھا ۔

بری طرح پھنس گئ تھئ وہ

”مزیبہ ۔۔بس مزیبہ ہی پورا نام ہے۔۔۔۔.”

ہکلاا کر جواب دیا تو سعد نے خاصی مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ آج اس کے پاپا کی تلاش آج ختم ہو جاہے گی۔

اوپر سے مزیبہ کا انداز اس کے یقین کو پختہ کر رہا تھا ۔

” آپ مزیبہ دانیال فاروق ہیں” ؟

سعد کی سنجیدہ آواز ابھری تومزیبہ نے سر اٹھا کر دیکھا ۔ مقابل کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا

بیا کو سمجھ نہیں آئی اسے کیسےٹالے ۔جلد بازی میں وہ گڑ بڑ کر چکی تھی ۔

”نہیں۔۔۔”

مزیبہ نے تھوک نگلتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔

سعد نے ایک لمحے کو اسے گھورا اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ٹیبل پر موجود اس کا ہینڈ بیگ اٹھا لیا اور تیزی سے کھول کر اس میں سے آئی ڈی کارڈ ڈھونڈھنے لگا

مزیبہ اس کی اس حرکت پر آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے حیرت زدہ دیکھے جا رہی تھئ۔

اسے سعد سے اتنی جرائت کی امید نہیں تھی ۔

”مزیبہ ولد دانیال فاروق۔۔۔۔”

آئی ڈی کارڈ ہاتھ میں پکڑے وہ بلند آواز میں پڑھ رہا تھا ۔

بیا کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کو مدھم پڑا ۔

سعد کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔

جس دادا اور چچا کو ڈھونڈنے کے لیے وہ رستہ تلاش کر رہا تھا ایک دم سے سب کچ واضح ہو گیا تو اسے سمجھ نہیں آئی کہ روئے یا ہنسے ۔

دادا کے ملنے کی خوشی چچا اور چچی کی موت کی خبر کے ساتھ ملی تھی۔

” اس دن آپ آفس میں اسی لیے اس تصویر کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔”

سعد کی گھمبیر آواز سن کر اس نے سر آٹھایا ۔

سعد کی نگاہیں اس تصویر پر ٹکی تھیں۔جس میں دادا کے ساتھ پاپا اور چاچو تھے ۔

یہ ان کی جوانی کی تصویر تھی۔

” جی ۔مجھے بھی اسی دن آپ سے پتہ چلا کہ اس دنیا میں آغا جی کے علاوہ بھی میرا کوئی قریبی رشتہ ہے ۔”

بیا نے سر آٹھا کر اسے دیکھ کر بات مکمل کی۔

بیا کے انداز میں رنجیدگی سما گئ ۔لندن میں بارہا اسے اکیلا پن محسوس ہوا اور یہ اس وقت شدت اختیار کر جاتا جب کبھی آغا جی کی طبیعت خراب ہو جاتی۔

سعد نے تصویر سے نظر ہٹا کر اس کا کو دیکھا ۔

آنسو بہنے کو بےتاب تھے ۔

چہرہ ضبط کے مارے لال ہو گیا تھا ۔جب اس سے کنٹرول کرنا مشکل ہوا تو دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو دی ۔

سعد تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور دونوں ہاتھ تھام کر منہ سے ہٹائے ۔

اس کا سارا چہرہ آنسووں سے بھیگ گیا تھا ۔

سعد نے نرمی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا اور انگوٹھے کی مدد سے آنسو صاف کیے ۔

بیا کی سسکیاں وقفے وقفے سے ابھر رہی تھی ۔

“بیا ۔۔۔پلیز رونا بند کریں۔۔”

سعد کی آواز میں اس کے لیے فکرمندی تھی ۔

” آپ پہلے وعدہ کریں بڑے پاپا کو کچھ نہیں بتائے گے جب تک آغا جی خود راضی نہیں ہوتے ان سے ملنے کے لیے ۔۔” مزیبہ نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات پوری کی ۔

سعد کے چہرے پر دبا دبا تبسم تھا ۔

بیا اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ اس کے دل پہ قبضہ جما چکی تھی ۔

” اوکے ۔۔۔۔اب آپ رونا بند کریں ۔۔۔۔”

سعد نے ٹوکا تو بیا نے فورا ٹیبل پر موجو ٹشو باکس سے ٹشو نکالے اور اپنا چہرہ رگڑ ڈالا۔

سعد نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مطمئن ہو کر ریسیور آٹھا کر چائے اور سینڈوچز کا آرڈر دیا ۔

” تھینک یو سعد بھائی۔۔ آفس آنے کے چکر میں ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔” ۔مزیبہ مزے سے بولی ۔کچھ دیر پہلے والی روتی بسورتی مزیبہ غائب تھی۔

” خبردار جو بھائی بولا۔۔۔۔” ۔

سعد نے یک دم ٹوکا تو مزیبہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا ۔ جو گہری نگاھوں سے اسے دیکھ رہا تھا مگر مقابل کو زرا بھی جو اثر ہوا ہو۔

” آپ کیا ہر لڑکی کو یہی کہتے ہیں۔۔۔۔” زرا سا آگے جھک کر رازداری سے پوچھنے پر سعد نے خاصی خفگی سے اسے گھورا ۔