Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 11)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 11)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
“پرامس کریں جھوٹ نہیں بولیں گے۔۔۔”
اپنا سیدھا ہاگھ آگے پھلائیں اس نے حمزہ سے وعدہ لینا چاہا تو حمزہ نے بھی اطمینان سے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
آپ عروبہ کو پسند کرتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔”
چہکتی ہوئی آواز نے حمزہ کو گڑبڑانے پر مجبور کر دیا ۔
اس کے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ شہرینہیوں کچھ پوچھ لے گی۔
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔”حمزہ نے اسے ٹالنا چاہا۔
“اچھا تو اگر ایسی کوئی بات نہیں تو اس کو سیکھ کر میرے بھائی کی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں کی مسکراہٹ کیوں دگنی ہو جاتی ہے۔۔۔۔”
شہرینہ اسے چھیڑنے سے بازنہیں آئی۔حمزہ کو اندازہ ہو گیا کہ شہرینہ نے اچھی خاصی جاسوسی کی تھی۔
“گڑیا ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو تمہیں سب سے پہلے بتاتا۔۔۔۔”
حمزہ نے پوری کوشش کی اسے یقین دلانے کی اور اسکے لہجے سے شہرینہ کو بھی لگا اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔
ایک گہرا سانس لیتی وہ کھڑی ہو گئی۔حمزہ نے شکر ادا کیاکہ شہرینہ کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا۔
وہ نہیں چاہتا تھاکی عروبہ کے اقرار سے پہلے کسی کوبھی خبر ہو۔
آغا جی کے گھر آتے ہی سب کے چہروں پر خوشی اور سکون کا تاثر گہرا تھا۔
بیا آغا جی کےساتھ ہی جڑ کے بیٹھی تھی۔
“بیا مجھے بھی آغا جی کے پاس بیٹھنے کا موقع دے دو۔۔۔۔۔جب سے آغا جی آئے ہیں تم نے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے “
عروبہ کمر پہ بازو رکھےمصنوعی خفگی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
بیا نے فورا اپنے پاوں سمیٹے اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“آغا جی آپ کی یہ لاڈلی بہت بتمیز ہے ۔۔۔۔”نروٹھے پن میں وہ ان کے گھٹنوں کے قریب ہی ٹک گئی۔
“آغا جی آپ اپنی نئی پوتی کو ٹائم دیں ۔۔۔۔۔میں آپ کے لیے سوپ بنا لاو۔۔۔۔پھر آپ کی میڈیسن کا ٹائم ہو جاے گا۔۔۔۔”
بیا بیڈ سے اترتے ہوے بولی ۔جاتے ہوئے عروبہ کی پونی کھنچتی باہر نکل گئی۔
آغا جی کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ بہت گہری تھی۔
ایک سکون دہ احساس تھا اسے یوں ہنسی خوشی چلتے پھرتے دیکھ کران کے رگ و پے میں سرائیت کر گیا۔
اس کے اکیلے رہ جانے کا خیال کہیں دور جا سویا تھا۔
“بابا جان ۔۔۔۔آپ کی طبعیت کیسی ہے اب۔۔۔”۔
جنید صاحب اندر آئے تو آغا فاروق نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔
عروبہ چند لمحے پہلے ہئ اٹھ کر گئی تھی ۔باری باری سب ہی ان کے پاس بیٹھ رئے تھے تاکہ وہ اکیلے نہ رہیں۔
“کافی بہتر ہے اب تو۔۔۔بخار بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔آغا جی نے نحیف آواز میں جواب دیا۔
جنید صاحب کرسی کھینچ کر ان کے قریب بیٹھ گئےاوران کا ہاتھ تھام کر بہت محبت سے بوسہ دیا تھا۔
“آپ نے دل سے معاف کر دیا مجھے ۔۔۔۔”ان کے لہجے کا ڈر آغا کو بخوبی محسوس ہوا۔
“تمھاری آنکھوں میں بسی اذیت اور کرب اگر میں نے خود نہ دیکھا ہوتا تو کبھی بھی تمھیں معاف کرنے کی ہمت اپنے اندر پیدا نہ کر سکتا۔”
اپنے ہاتھ پر رکھے ان کے ہاتھ کو ہلکا سا دباتے ہوئے انھوں نے جواب دیا۔
جنید صاحب کی آنکھوں سے شرمندگی کے آنسو بہہ نکلے ۔
“بابا جان اس دن اگر آپ ممجھے چند گھنٹے دیتے تو اتنے سالوں کی جدائی مقدر نہ بنتی۔اگلے دن ہی مجھے گلٹ فیل ہونے لگا تھا اور رات ہونے تک مجھے لگتا تھاکہ میں نے اتنا بڑا گناہ کیا ہے کہ میرا اللہ کبھی مجھے معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔۔”وہ زاروقطار رو رہے تھے۔
“دانیال کی شدید کمی مجھے ایک ہی دن میں اس کی اہمیت باور کروا گئی۔،میں تو اس سے ناحق نفرت کا راگ الاپتا رہا۔،میرا تو پور پور اس کی محبت سے بھرا تھا۔،۔۔۔۔
میں ہر رات آپ کی تصویروں سے باتیں کر کے سوتا تھا۔۔۔۔۔اور میری بدنصیبی دیکھیں مجھے آخری بار اپنے بھائی کی شکل دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوئی۔۔۔۔۔”
ان کی آواز میں کرب تھا۔
آغا فاروق کے آنسو ان کی داڑھی بھگو رہے تھے ۔
چہرے پر کرب آمیز تاثرات تھے۔
“تم نے اس کی شکل نہیں دیکھی مگر اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔۔۔۔اس کی قبر پر اپنے ہاتھوں سے مٹی اور پھول ڈالے تھے۔۔۔۔۔”
آغا جی کی بات پر وہ روتے سے چونک کر سیدھے ہوئے۔
“کب ۔۔۔۔کب آغا جان ۔۔۔”ان کی حیرت واضح تھی۔
آنسو گویا ٹھٹھر گئے تھے۔
“جب افتخار نے تمھیں بلایا تھا اپنے بھتیجے کی ڈیتھ پر۔۔۔۔”
ان کی لرزتی آواز جنید صاحب کی سماعتوں پر بم پھوڑ گئی۔وہ منہ کھولے ورطہ حیرت میں تھے ۔
“آپ کیوں نہیں آئے تھے وہاں۔۔۔”
ان کی غم میں ڈوبی آواز ابھری۔
“اس لیے کہ میں نے وہاں لندن میں ہی جنازہ پڑھوا کر میتوں کو دفنانے کے لیےپاکستان بجھوا دیا تھا ۔۔۔۔مزیبہ بہت بیمار تھی۔۔۔ایکسیڈینٹ میں اس کو بھی بہت چوٹے آئی تھیں۔۔۔دو ہفتے میں ہاسپٹل میں بیا کے ساتھ رہا۔۔۔۔۔”آغا صاحب نے بھیگا چہرہ صاف کیا اور پانی کی طرف اشارہ کیا ۔جنید صاحب نے فورا گلاس بھر کر ان کے منہ سے لگایا۔
دانیال اور پلوشہ کی جوان موت آج تک نہیں بھولے تھے ۔یہ تو مزیبہ کا سہارا تھا جس نے اتنے سال انہیں ٹوٹنے نہیں دی
“ماما۔۔۔کب جایئں گے رشتہ لینے”عروبہ کچن میں ان کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی
تجسس کے مارے برا حال تھا کیوبکی صبح ہی ماں باپ کو بات کرتے سن چکی تھی۔
“ایک تو تمھیں سکون نہیں ۔۔۔جس کا مسلئہ ہے وہ تو ایک بار بھی عرضی لے کر نہیں آیا۔۔۔”
مریم بیگم جھنجھلائی ہوئی پلٹیں۔
“وہ بےچارہ تو شرم کے مارے آپ کے سامنے نہیں آتا۔”
کیلا اٹھا کر چھیل کر کھاتے مزے سے بولی۔
“اس نے آکر کیا کرنا ہے تم جو ہو اس کی چمچی۔۔۔۔”
“بلکل ہوں اس کی چمچی آخر وہ میرا بیسٹ بڈی ہے اور دوسری طرف بھی میری بیسٹ بڈی ہے بلکہ بہن ہے میری۔۔۔۔”
عروبہ نے اچھی خاصی لمبی وضاحت دی۔
آج شام میں کال کروں گی سمیرا کو ۔۔۔۔وہ پہلے گھر میں بات کر لیے،پھر ہم جائیں گے پراپر رشتہ لے کر۔”
اس کی تسلی کے لیے انھوں نے بتایا تاکہ شام تک ان کا دماغ نہ کھاتی رہئے۔
“کال کرنے کے لیے شام کا انتظار کیوں کر رہی ہیں۔۔۔۔میں ابھی فون لاتی ہوں۔،آپ ابھی کال کریں”
عروبہ بھی اپنے نام کی ایک تھی انھیں بات کا موقع دئیے بغیر اپنے کمرے کی طرف دوڑی،دونٹ بعد واپس کچن میں حاضر تھی۔
مریم بیگم نے گھور کر اسے دیکھا جو آج خاص کلاس نہ ہونے کی وجہ سے چھٹی کر کے گھر میں تھی ۔سعد اور جنید صحب آفس تھےاور مزیبہ آغا جی کے پاس ،جبکہ فہد یونیورسٹی گیا ہوا تھا۔
“یہ لیں بیل جارہی ہے۔”
کال ملا کر فون عروبہ نے ان کے ہاتھ میں دیا۔ تو وہ سچ میں اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں۔
“اسلام علیکم۔۔۔سمیرا کیا حال ہے۔۔۔۔”ایک گھوری سی عروبہ کو نواز کر خوش دلی سی بولیں۔
“میں ٹھیک ہوں مریم تم سناو۔”
“اللہ کاشکر ہے ،سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔سمیرا مجھے ایک خاص بات کرنی تھی ۔۔۔”
سلام دعا کے بعد وہ مدعے پر آئیں۔
“مریم یہ تم اتنی فارمل کب سے ہو گئی ہو۔۔۔۔تمھاری آواز سن کر لگ رہا ہے کہ خاص بات ہے۔”
دوسری طرف سمیرا ان کے انداز سے متجسس ہوئیں۔
“دراصل مجھے شہرینہ بیٹی کے سلسلے میں بات کرنی تھی،ہم فہد کے لیے شہرینہ کا ہاتھ چاہتے ہیں۔
۔۔۔اسلیے سوچا پہلے فون پہ بات کرلیں پھر جب آپ لوگ مناسب سمجھیں ،ہم لوگ باضابطہ طور پر رشتہ لے کر حاضر ہو جائیں گے۔۔۔۔۔”مریم بیگم نے طریقے سے بات بڑھائی تو دوسری طرف سمیرا مسکرا دی۔
“اب آپ نے فون کر دیا ہے تو مجھے بھی آپ سے ایک بات کرنی ہے”
سمیرانے قدرےججھکتے ہوے کہا۔
“کیا بات۔۔۔۔کہیں شہرینہ کا رشتہ تو نہیں کر دیا۔۔۔۔”
ان کے لہجے میں سراسیمگی چھا گئ۔عروبہ بھی چونک کر ماں کے قریب ہوئی تاکہ دوسری طرف ہونے والی بات سن سکیں۔
“نہیں ۔۔۔۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔دراصل ہم لوگ عروبہ کے لیے آنے کا سوچ رہے تھے مگر اب آپ نے یہ بات کہ دی۔۔۔۔آپ جانتی ہیں ہمارے ہاں وٹہ سٹہ نہیں کیا جاتا۔۔۔اس لیے آپ بھائی جان سے بات کرلیں،اور پھر جو مناسب لگے۔ہمیں بتا دیں۔۔۔۔”
عرقبہ کو شاک لگا وہ تیزی سے کچن سے نکلی اور کمرے میں بند ہوگئی ۔
ابھی تو محبت کے پودے پر کلی بنی تھی مگر اسے جڑ سے اکھاڑنے کی تیاری شروع ہو گئ تھی
اپنے آنسووں کو بےدردی سے صاف کرتی وہ کمرے میں بےچینئ سے ٹہلنے لگی ۔
“میں فادی اور شہرینہ کا دل نہیں اجڑنے دوں گی۔”
ایک پختہ فیصلہ کر کے وہ واش روم میں چلی گئی تاکہ فریش ہو سکے۔
دل کی بےچینی کو تھپک تھپک کر سلا چکی تھی
“حمزہ شام میں جلدی آجا۔۔۔۔۔مریم اور بھائی صاحب شہرینہ اور فہد کے لیے آرہے ہیں۔”ماں کی بات پر اس نے اچنبھے سے انہیں دیکھا۔
“کیا مطلب ماما۔، آپ تو عروبی کے لیے جانے والی تھیں۔۔۔۔پھر یہ سب۔۔۔۔”
اس کی حیرانگی بجا تھی
“میں نے انہیں بتا کر فیصلے کا اختیار دیا تھا۔۔۔وہ بیٹی دینا چاہیں گی یا بیٹی لینا ۔۔۔۔۔”
سمیرا بیگم کی بات پر اس کا رنگ فق ہوا۔
“ماما ایسے کیسے کر سکتی ہیں آپ۔۔۔۔”
اس کی آواز کہیں گہری کھائی سے ابھری تھی ۔اس کا چہرہ تکلیف دہ احساسات سے بھرا تھا۔
“تم اچھی طرح جانتے ہو۔،ہمارے خاندان میں وٹہ سٹہ نہیں ہوتا۔۔۔۔”
ان کے لہجے میں سختی واضح تھی۔
حمزہ سر پکڑے بیڈ پر بیٹھ گیا۔دل چاہ رہا تھا ساراکمرہ تہس نہس کر دے۔
سمیرا بیگم نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر تسلی بھری تھپکی دی ۔ان کو دکھ ہوا تھاکہ ان کا بیٹا بھی اس راہ کا مسافر بن گیا۔
شام میں آغا جی کے ساتھ فہد کے علاوہ سب آئے تھے۔
مٹھائیاں اور فروٹ کی ٹوکریاں ٹیبل پر رکھ کر بیا اور عروبہ شہرینہ کے کمرے کی طرف چل دیں۔
حمزہ نے گہری نظروں سے عروبہ کا جائزہ لیا تھا وہ اس سے نظریں چرا رہی تھی مگر چہرے سے پر مطمئن اور پرسکون لگ رہئ تھی۔
کچھ دیر بعد حمزہ پانی پینے کے بہانے اٹھ کر کچن
میں آیا اور وہی سے شہرینہ کے کمرے کی
طرف آیا۔
ہلکے سے دروذہ ناک کر کے کھلنے کا انتظار
کرنے لگا۔
“بھائی آپ ۔۔۔۔کچھ چائیے۔۔۔۔”
شہرینہ نے اسے یوں جما دیکھ کر پوچھا۔
“ہاں عروبہ سے چھوٹا سا کام تھا۔۔۔۔”
“عروبہ اگر آپ برا نہ منائیں تو پلیز ایک منٹ میری بات سن لیں ۔۔۔۔”
