Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Sitara Naz Readelle502305 Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 14)
Rate this Novel
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra (Episode 14)
Rishta Muhabbat Mutbar Tehra By Yumna
“اگر پھر بھی دل نہ مانیں اور اسی کہ چاہ کرے تو”
فہد گویا ہوا۔
“پانچ وقت کی نماز پڑھواور اپنے حق میں بہتری کی دعا کرو۔۔۔۔۔۔اگر تمھارے نصیب میں تمھاری مرضی کا ہمسفر لکھا ہے تو یقین رکھو وہ تمھیں ہی ملیں گا۔”
“ایک بات اور ۔۔۔تم تینوں کا ساتھ بچپن کا ہے۔۔۔آج ایک ہفتہ ہو گیانہ تم لوگ شہرینہ کی طرف گئے اور نہ ہی وہ آئی۔۔۔اپنے اس خول سے باہر نکلواور سب کچھ بھول کر پہلے جیسے ہو جاو۔۔۔”
اس کا انداز ناصحانہ تھا۔
“یونی کے لیے تیار ہو جاو ۔۔۔”
“تم شہرینہ کی طرف جاو اور اسے بھی ساتھ لو وہ بھی چھوڑ چھاڑ کہ بیٹھی ہے ۔۔۔”
مزیبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی تو عروبہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اسلام علیکم”
عروبہ کی آواز سن کر سمیرا بیگم کچن سے باہر نکلیں۔
“وعلیکم اسلام۔۔آج کدھر رستہ بھول گئیں۔۔۔”
خوشگوار انداز میں گلے ملتے ہوئے گلہ آمیز انداز میں کہا تو وہ شرمندہ ہو گئ۔
“سوری آنٹی۔۔۔۔طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیے چکر نہیں لگا سکی۔۔۔۔شہرینہ کہاں ہے۔۔۔؟”
“کمرے میں ہے۔۔۔تم چلو اس کے پاس میں تمھارے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہوں۔۔۔”
وہ محبت سے بولیں تو عروبہ نرمی سے کھانے کے لیے انکار کرتی شہرینہ کے کمرے میں آگئی۔
“اف پوستی تم ابھی تک بستر سے نہیں اٹھیں۔۔۔”
شہرینہ کو کسملندی سے پڑا دیکھ کر عروبہ شوخ آواز میں بولی تو شہرینہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی۔
“یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی۔۔۔”
سوجی ہوئی آنکھیں۔۔۔الجھے بال اور متورم چہرہ ۔۔۔نک سک سی تیار رہنے والی شہرینہ کی ایسی حالت دیکھ کر شاک لگا تھا اسے۔
تیزی سے اس کے قریب بیٹھ کر اس نے پوچھا تو شہرینہ اس کے گلے لگ کر رو دی۔
تم نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔۔”
شہرینہ کی بھرائی آواز عروبہ کے کانوں میں پڑی تو جھٹکے سے اسے اپنے آپ سے الگ کیا۔
“بےوقوف ۔۔کیوں چھوڑوں گی تمھیں۔۔۔میں تمھیں کال کرتی رہی پر تم نے ریسیو نہیں کیا اور گلہ مجھ سے کر رہی ہو۔۔۔۔”
انگلیوں سے اس کے آنسو صاف کر کے بالوں کو ہاتھوں سے سمیٹااورغور سے اسے دیکھا۔
“شہرینہ ۔۔۔میں جانتی ہوں تم اور فادی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔”
“میری جان ضروری تو نہیں کہ ہر ایک کو اس کی خواہش کے مطابق ملے۔۔مجھے اور حمزہ کو اس فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑا اور تم اپنی اور فہد کی حالت دیکھو۔۔”
“پلیز ۔۔۔اپنی ضد چھوڑ دواور راضی ہو جاو۔۔۔۔”اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہلکا سا سہلاتے ہوئےبہت محبت سے مخاطب ہوئی۔
اپنے دل میں تو کہیں سناٹا سا چھایا تھا پر لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی ۔شہرینہ کے مقابلے میں اس کی ہمت کہیں زیادہ تھئ۔
“میں بھائی کو ایسے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔”
اس کی لرزتی آواز نکلی۔
“دیکھو حمزہ کی پسندیدگی چند دنوں کی ہے اور تمھارا اور فہد کا ساتھ کئی سالوں پر مشتمل ۔۔۔اب تم فضول سوچوں کو دماغ سے باہر نکالو۔۔۔آنٹی انکل بھی تمھاری وجہ سے پریشان ہوں گے ۔
“عروبہ بلکل ٹھیک کہ رہی ہے ۔۔۔۔میری پسند تو چند دنوں کی ہے ۔۔۔تم فکر نہیں کرو میں تمھارے لیے پیاری سی بھابھی لے کر آوں گا۔۔۔”
پھیکی سی ہنسی کے ساتھ عروبہ کو فوکس کیے بشاش لہجے میں بولا۔
عروبہ نے ایک نظر اس کے وجیہہ چہرے پر ڈالی جس کی چمک مانند تھی مگر وہ ہشاش بشآش نظر آنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
ان دونوں نے ایک بار ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا۔
یہاں آنے سے پہلے وہ حمزہ کو فون کر کے سمجھا چکی تھی اور اب شہرینہ سے بات کرنے کے بعد اسے یقین ہو چلا تھا کہ شہرینہ اب انکار نہیں کرے گی۔
“آصف آپ نے بچوں کی حالت دیکھی ہے۔دونوں جیسے ہنسنا بھول گئے ہیں۔”
وہ افسردہ تھیں۔
“پلیز آصف ۔۔۔ختم کر دیں فضول کی ضد۔۔۔۔”
آج سمیرا بیگم نے تہیہ کیا تھاانہیں راضی کر کے اٹھیں گی۔
“سمیرا میں جانتے بوجھتے اپنے بچوں کو کنویں میں دھکا نہیں دے سکتا۔۔وٹے سٹے کے نقصان جانتے ہوئے ہم کیسے بچوں کی زندگی برباد کر دیں۔۔”
ان کے لہجے میں تلخی تھی۔
” آصف آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کی پھپھو کا زبردستی وٹہ سٹہ ہوا تھا۔اتنی پرانی بات کو سنبھال رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔۔۔۔۔”
انھوں نے اس بات کا حوالہ دیا جو سارے فسادکی جڑ تھی۔
“میرا دل نہیں مانتا۔۔”
یہاں معاملہ الگ ہے آصف۔۔۔۔چاروں بچے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔اور سب سے بڑی بات ہماری آنکھوں کے سامنے پلے بڑھے ہیں ۔۔۔دونوں تمیز دار اور سلجھے ہوئے ہیں۔
ویسے بھی اوپر واکے نے جیسا بچوں کا نصیب لکھا ہو گا وہ ویسے ہی جیئے گے۔
ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ لینے والے۔۔۔میری مانیں آصف اپنے دل سے سارے خدشات نکال کر استخارہ کر لیں
پھر جو آپ کو مناسب لگے میں کچھ نہیں
کہو ں گی۔”
سمیرا بیگم نے اپنی بات مکمل کر کے ان کو دیکھا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبے تھے۔
دو ماہ بعد۔
“سعد اب تم سیٹ ہو چکے ہوں۔۔۔اس لیے ہم چاہتے ہیں تمھاری شادی کر دی جاے۔”
اگر کوئی پسند ہے تو بتا دو ورنہ ہماری نظر میں ایک لڑکی ہے”
مریم بیگم رات میں اس کے پاس آئیں۔
“ماما لڑکی تو مجھے پسند ہے مگر پہلے آپ اسے دیکھ لیں اگر آپ کو پسند آئی تو ٹھیک ورنہ میں
آپ کی پسند کی ہوئی لڑکی سے شادی کر لوں گا”
سعد کی فرمابرداری پر انھوں نے اس کا ماتھا چوم لیا۔
باہر کھڑی مزیبہ دروازے سے ہی پلٹ گئی۔
ہاتھ میں فائل پکڑ رکھی تھی جو سعد کو دینے آئی تھی دل پر بےنام سا بوجھ بڑھ گیا تھا۔
“اب بتا بھی دو کہاں رشتہ دیکھنے جانا ہے۔۔۔”
اسے خاموش دیکھ کر بےتابی سے بولیں۔
“ماما پہلے تصویر تو دیکھ لیں۔۔پسند آئی تو رشتہ لینے جانا ۔”
سعد کی آواز میں شوخی تھی وہ بات کرتے ہوئے موبایل کی گیلری کھولے تصویر نکال رہا تھا ۔
تصویر دکھاتے ہوئے اس کا سارا دھیان ماں کے چہرے کی طرف تھا جہاں تصویر دیکھنے کے بعد کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں ابھرا تھا ۔
“اوں ہوں۔۔۔میرے والی زیادہ پیاری ہے۔۔۔”
انھوں نے صاف انکار کیا تو سعد کو دھچکا لگا۔۔
وہ تو سمجھ رہا تھا کہ ماما پاپا آرام سے راضی ہو جائیں گے۔
“ماما کوئی پرابلم ہے اس سے شادی میں۔۔۔”
مزیبہ کی تصویر کو غور سے دیکھتے ہوئے وہ بےدلی سے پوچھ رہا تھا۔
“تم نے خود کہا تھاکہ اگر مجھے تمھاری پسند اچھی نہیں لگی تو تم میری والی لڑکی سے شادی کرو گے۔”
اس بار ان کے لہجے میں خفگی تھی۔
سعد ہونٹ بھینچ کر رہ گیا ۔چہرے پر سراسیمگی پھیل گئی ،
جس بات کو آسان سمجھ رہا تھا وہ تو ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل گئی تھی ۔
ماں کے آگے کھڑا ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے اپنے دل کو مار کر اس نے ان کی پسند پر سر جھکا دیا ۔
دل ایک دم سب احساسات سے خالی ہو گیا
تھا۔
“کل ہی میں اور تمھارے پاپا رشتہ لینے جائیں گے۔۔۔اور ہمیں پوری امید ہے کہ وہ لوگ انکار نہیں
کریں گے۔اس لیے تم اپنا ذہن بنا لو۔۔۔”
اسے باور کروا کر وہ اٹھیں اور کمرے سے نکل گئیں۔ان کے چہرے پر دبا دبا تبسم تھا ۔
جو سعد کی نظروں سے اوجھل تھا۔
“مجھے فخر ہےتم لوگ میری اولاد ہو۔۔۔اور میں دعا کرتا ہوں اللہ سب کو تم دونوں جیسی سعادت مند اولاد سے
نوازیں۔”
آصف صاحب کے کمرے میں حمزہ اور شہرینہ موجود تھے ۔
قریب ہی سمیرا بیگم بھی موجود تھی۔
“میں تم لوگوں کے لیے کوئی فیصلہ کر سکتا ہوں”
آصف صاحب کی آواز کمرے میں گونجی۔
“جی پاپا۔”
دونوں بیک وقت بولیے۔
“میں نے تم دونوں کے رشتے طے کر دئے ہیں ۔۔میرے بہت اچھے دوست ہیں۔”
” ان کے بچے بھی قابل اور لائق فائق ہیں ۔۔۔دونوں فیملیز خاصی سلجھی ہوئ اور ویل آف ہیں۔”
آصف صاحب نے گویا بم پھوڑا تھا جس نے ان دونوں کی ذات کے پرخچے اڑا دئیے تھے۔
وہ تو سوچیں بیٹھے تھے کہ اتنے ماہ گزر گئے حالات میں نرمی آچکی ہو گی۔
جبکہ شہرینہ تو سمیرا بیگم کو رضامندی دینے کا سوچے بیٹھی تھی فق چہرے کے ساتھ ان کو دیکھے گئی۔
انھوں نے تو موقع ہی نہیں دیا تھا کچھ کہنے سننے کا
اور اپنا فیصلہ سنا دیا،، ساتھ میں الفاظوں کی
بیڑیاں پہنا دی کہ وہ دونوں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
دونوں وہاں سے سر جھکا کر نکلے تھے پیچھے آصف صاحب کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔
“بابا جان۔۔۔۔۔آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔
سب کے جانے کے بعدجنید صاحب مریم کے ساتھ ان کے کمرے میں آگئے۔
طبیعت کی خرابی کی وجہ سےزیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزرتا تھا۔
بچے وقفے وقفے سے انہیں کمپنی دیتے ۔
سعد تو سوتا ہی ان کے پاس تھا تاکہ خدانخواستہ رات میں ان کو کوئی مسئلہ ہو تو ان کو آوازنہ دینی پڑے۔
“کون سی ضروری بات “۔
انہوں نے حیرانگی سے پوچھا۔
“بابا جان ہم چاہتے ہیں کہ آپ مزیبہ کو ہمارے سعد کی دلہن بنا دیں۔۔۔۔”
مریم بیگم نے عاجزی سے درخواست کی۔
۔” بیٹا آپ نے تو میرے دل کی بات کہ دی میں بھی کچھ دنوں سے یہئ سوچ رہا تھا۔۔۔
“ماں باپ ہو کیا پتہ کچھ اورسوچ رکھا ہو بس یہئ سوچ کر بات کرنے کہ ہمت نہیں ہوئی”۔
آغا جان کی بات سن کر جنید صاحب شرمندگی سے سر جھکا گئے۔
“بابا جان ۔۔۔۔آپ حکم تو کرتے آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔۔”
جنید صاحب کی خفت زدہ آواز آغا جی کو مسکرانے پہ مجبور کر گئی۔
“ٹھیک ہے پھر آپ دونوں طے کر لو کیا کرنا ہے ۔۔۔بیا سے میں آج ہی بات کر لوں گا۔
میں چاہتا ہو سعد کی شادی ہو جائے ۔۔۔میں اپنے پوتے پوتی کو اپنی زندگی میں بسا ہوا دیکھ لوں۔۔۔۔”
ان کے لہجے میں حسرت تھی ۔
کمرے میں گھپ اندھیرا کیے شہرینہ بےحال سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔کھڑکی سے آتی چاند کی ہلکی سی روشنی کمرے کو مزید ہیبت ناک
بنا رہی تھی ۔
وہ کتنی ہی دیر سر ہاتھوں پہ گرائے رونے میں مصروف تھی ۔
اسی لمحے موبائل کی بیل بجی تھی ۔
شہرینہ نے روتے سے سر اٹھا کر سائیڈ میں رکھا موبائل اٹھایا۔
فہد کا نام جگمگاتا دیکھ کر وہ بےساختہ کال اٹینڈ کر چکی تھی۔
“شہرینہ۔۔۔۔پلیز کال نہیں کاٹنا۔۔۔۔”
“ایک بار میری بات سن لو۔۔”
فہد جلدی سے بولا مبادہ وہ کال ڈسکنیکٹ نہ کر دے۔
“ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں ۔۔” ڈرے ہوئے انداز میں اس نے بات پوری کی دوسری طرف شہرینہ کو شدید جھٹکا لگا اس کی بات سن کر
“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی فہد ۔۔۔پاپا نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے اور آج تمھاری بات سننے
کے بعد مجھے پاپا کے فیصلے کی درستگی کا اندازہ ہو رہا ہے ۔
جب تم مجھے عزت نہیں دے سکتے تو سمجھ لو کچھ بھی نہیں دے سکتے۔۔۔آج کے بعد مجھے فون نہیں کرنا ۔۔۔سمجھ لینا شہرینہ مر گئی۔۔۔۔۔۔”
فون بند کر کے شہرینہ نے سم نکال کر دو ٹکڑے کر دیئے ۔
اپنی طرف سے اس نے سب رستے بند کر دیئے تھے۔
دوسر طرف فہد نے پوری قوت سے موبائل دیوار پہ دے مارا تھا ۔۔۔
اپنے الفاظ کےغلط ہونے کا احساس پوری قوت سے حاوی ہوا تھا ۔
