Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode

وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا اس کی نیلی آنکھیں میں ایک طوفان سا تھا ۔۔
وہ بار بار آئی سی یو کے درازے کے جناب دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے ابھی کچھ بھی نہیں بتایا تھا ۔۔۔
اور یہی بات اسے سب سے زیادہ پریشان کر رہی تھی ۔۔ اس میں اب کسی کو بھی کھونے کا حوصلہ نہیں تھا ۔۔ ایما کو تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔
اس کے پاس کی عبد العلیم صاحب اور ڈیرییک اسے حوصلہ دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
لال بتی بند ہوئی اور آئی سی یو کا دروازہ کھلا ۔ڈاکٹرز باہر نکلنے ۔۔۔ انہیں دیکھ کر وہ دوڑ کر ان کے پاس آیا اس کا دل بڑی طرح دھڑک رہا تھا ۔۔ کہ کہی کوئی بڑی خبر نہ ہو ۔۔
” دیکھیں ۔۔ سر ہم نے پوری کوشش کی ہے ۔۔ لیکن انہیں جو پوزن انجیک کیا گیا ۔۔ وہ کس قسم کا تھا ۔۔ یہ نہیں پتا لیکن وہ ان کے سیل کافی ڈسٹرو کر چکا ہے ۔۔ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے ۔۔ اب بس آپ دعا کریں ۔۔۔ ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دے رہے تھے لیکن ان کا خود کا انداز ایسا تھا جیسے وہ بلکل مایوس ہوگے ہیں ۔۔
” میں اسے دیکھ سکتا ہو ۔۔ ” اس نے ڈاکٹر سے پوچھا جو جانے لگا تھا ۔۔
” جی لیکن پانچ ۔۔۔ ” اس کے لیے یہی بہت تھا ۔۔۔
وہ دروازے کھول کر اندر آیا جہاں کو ہسپتال کے لباس میں اور بھی کمزور لگ رہی تھی ۔۔ کوئی جان سے پوچھتا کہ اسے یہ اسپتال کا لباس کیسا لگتا ہے تو وہ صاف کہتا کہ اسے وہ کفن لگتا ہے ۔۔ اور اس وقت وہ بھی تو اس کفن میں ملبوس تھی ۔۔ اس کا جسم تاروں سے جڑا ہوا تھا ۔۔
ہارٹ میشن اس کی دھڑکن کا بتا رہی تھی ۔۔ جو اس کے زندہ ہونے کی تو علامت تھی لیکن رفتا رفتا کم ہو رہی تھی ۔۔ اس کی منہ پر آکسیجن ماکس لگا ہوا تھا ۔۔
وہ بنا کچھ بولے بس دیکھتی جا رہا تھا ۔۔ بنا ہلکے جھپکاۓ ۔۔۔ سانس روکے ۔۔
وہ ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کے جسم کو زور کا جھٹکا لگا مشین شروع مچانے لگی ۔۔۔
ڈآکٹرز جلدی سے اندر آئی ۔۔۔
لیکن اس نے کمرے سے نکلنے سے پہلے دیکھا تھا کہ اس کی ناک سے خون کی بریک لیکر نکلی تھی ۔۔۔
وہ کمرے کے باہر لگے گلاس سے اندر دیکھ رہا تھا جہاں ڈاکٹر اس کے جسم کو میشن سے جھکٹے دے رہے تھے ۔۔
اس سے زیادہ اس کی ہمت نہیں تھی ۔۔ دیکھنے کی ۔۔۔
وہ سائڈ پر ہٹ گیا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔۔۔ وہ بے چینی سے کوریڈور میں ادھر سے ادھر چلتے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔کہ ایک پل کو روکا ۔۔۔
” دعا ۔۔۔ ہاں ۔۔ مجھے ۔۔۔ دعا ۔۔ کرنی ہے ۔۔۔ ” وہ جلدی سے پیئر روم کی جانب گیا ۔۔ اور زمین پر سر رکھ کر سجدے کی حالت میں وہ روتے ہوئے اپنے تمام گناہ کی معافی مانگ رہ تھا۔۔ اندر لیٹے وجود کی زندگی اس اوپر والے سے مانگ رہا تھا ۔۔
اس کی دعا میں شدت تھی ۔۔
بس اب ایک یہی در تو تھا جو اسے بچا سکتا تھا۔ ۔
آنکھوں سے اس کے سیلاب نکل رہا تھا ۔۔۔
________________________________
سفید رنگ کی روشنی تھی ۔۔ ہر طرف ۔۔ بلکل ویسے روشنی جو رات بعد سورج کی ہوتی ہے ۔۔
اس نے خود کو سفید لباس میں دیکھا ۔۔ جو اس کے پیروں کو چھو رہا تھا ۔۔ اس سر پر تاج تھا ۔۔ جس میں اس کا چہرہ چمک رہا تھا ۔۔
وہاں ہر جگہ چمک تھی ۔۔
ہر چیز سفید تھی ۔۔
وہ آگے جا رہی تھی ۔
وہ جہاں بہت زیادہ روشنی تھی ۔۔۔
وہ جہاں چل رہی تھی وہ زمین تو نہیں تھی کیونکہ وہ بہت نرم تھی بلکل روئی جیسی
یا شاید اس سے بھی نرم وہ آگے جاتی گی ۔۔ یہاں تک اس کا وجود اس روشنی میں گم ہوگیا ۔۔۔
جیسے وہ اس روشنی تھورا آگے گی ۔۔ اس کے سامنے سھڑیاں تھا جن کا رنگ بھی سفید تھا ۔۔ وہ گول چکر لگاتے ہوے اوپر جاکر بادلوں میں گم ہوگی تھی ۔۔۔
اس کے ارگرد تتلیاں اڑ رہی تھی ۔۔۔
چکر کاٹ رہی تھی ۔۔
جیسے اسے خوش آمدید کہہ رہی ہوں ۔۔۔
اس نے وہاں ایک آواز سنی ۔۔۔۔
به راه پله عشق خوش آمدید
(عشق کے زینے پر خوش آمدید )
یہ آواز کہاں سے آئی اسے نہیں پتا لیکن اسے اس بات کی سمجھ آئی تھی ۔۔۔
اس نے پہلی سھڑی پر پاؤں رکھا ۔۔۔
اور عشق کے زینوں کا سفر شروع ہو گیا ۔۔۔
_______________________________
5 سال بعد ۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا پہیہ گھوما اور ہر منزل اب بدل گیا جگہ تبدل ہوگی ۔۔۔
حور اور آہل 😍😍حویلی واپس آگے یہ ان کی واپسی داجی جو بہت بڑھے ہوگے تھے ان کو صحت مند کر گی ۔۔ انہوں نے اس سے معافی مانگنے کی کوشش کی لیکن آہل نے موقع ہی نہیں دیا ۔۔۔ فہد اور عائشہ کی شادی ہوگی ۔۔ جس میں خوش دونوں ہی نہیں تھے بہتان جیسا برا گناہ ان دنوں نے کیا تھا خوش کیسے رہ سکتے تھے ۔۔ فہد عائشہ کو لے کر دبی شفٹ ہوگیا ۔۔ رہی مہک وہ ویسی ہی تھی ۔۔ پہلے پہل اس نے حورین کو تنگ کرنے کی کوششں لیکن پھر آہل نے اس کی طعبت صاف کر دی ۔۔ اور اب وہ بھی شادی کے بعد کم ہی آتے تھی کہ اس کی شادی دوسرے شہر ہوئی تھی ۔۔۔ احمد اور مسکان کی منگی ہوگی تھی ۔۔اور دیان صاحب وہ اب گھر بھر کے لاڈلے تھے ۔۔
الیوویا اور ڈیرییک 😵😵کی بھی شادی ہوگی تھی ۔۔۔ جان نے اولیویا کو ڈیرییک کو سچ بتانے سے روکا تھا لیکن خود اس نے ڈیرییک جو سب سچ بتا دیا تھا ۔۔ جیسے وہ الٹے دماغ والا شخص بہت نخروں کے بعد سمجھا تھا ۔۔۔۔ وہ چاہتا تو سچ چھپا سکتا لیکن اسے پتا تھا ۔۔ کہ وہ سچ زیادہ دیر تک نہیں چھپے گا کیونکہ ماضی اور ماضی میں کی گئی غلطیاں اتنی جلدی جان کہاں چھوڑتی ہیں ۔۔
جعفر صاحب کی ڈیتھ نے شازیہ بیگم کو نیم پاگل کر دیا تھا رہی سہی کسر حنان کی موت کی خبر نے پوری کر دی اور اب اپنے آخری دن پاگل خانے گزار رہی ہیں ۔۔
اور جان ۔۔۔ ارے ارے پریشان کیوں ہو رہے ہیں بتا رہی ہوں نا ۔۔ اگر نا بھی بتاوں تو مجھے پتا ہے کہ آپ نے اینڈ پہلے پڑنا ہے چیک کرنے کے لیے اس لیے سیسپینس کا فایدہ ہی نہیں ۔
ایما کو ہوش آگیا تھا ۔۔ جو ڈاکٹرز کے مطابق کسی معجزے سے کم نہیں تھا ۔۔ اور اب ان دنوں کا دوبارہ نکاح ہوا تھا ۔۔ جیسے وہ دنوں بہت پرسکون زندگی گزار رہے تھے ۔۔ اور نکاح والے دن ہی جان نے ایما کو اپنے بھائی سے ملا اسے خوش اور مطمئن کر دیا تھا ۔۔
اور پیٹر جس پر ان جس شخص سے ادھار لیا تھا شراب کے لیے اس نے اسے اپنے پیسے واپس لینے کے لیے خوب مارا یہاں تک کے اس کے چہرے پر تیزاب بھی پھینکا جس سے اس کے چہرہ ایک طرف سے جھلس گیا ۔۔۔ وہ لوگ اسے مرا ہوا سمجھ کر چلے گے تھے ایک ایک شخص نے اس کی مدد کی ۔۔ اس نے پہلے اس شخص کو لوٹا بھی تھا ۔۔ لیکن جس طرح اس شخص نے اس کی خطا کو نظر انداز کر کے اس کی مدد کی ۔۔ اس سے وہ متاثر ہوا۔۔ اس شخص نے اس کا قرضہ بھی اترا اور اس کا علاج بھی کیا ۔۔ اس نے ایما کو یہ بھی بتایا کہ وہ روز رات کو اس کے پاس کھڑکی سے پھلانگ کر آتا ۔۔۔اس نے اسے جو خط لکھا تھا جس میں اس نے گھر کو گروی رکھنے اور اپنی پر بیتی ساری بات بتائی تھی ۔۔ وہ جان کے ہاتھ لگ گیا اور یوں وہ جان سے ملا کیونکہ اس خط میں اس نے اس شخص کا پتا بھی لکھا تھا جس نے اس کی مدد کی ۔۔ ایسے اس کی شادی کا بھی پیٹر کو پتا تھا وہ اسے رسیوں میں باندھ کر بلیک میل کرنا ڈرامہ تھا ۔۔۔کیونکہ جان کی گارنٹی اس شخص نے دی تھی جس نے اس کی مدد کی تھی ۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ شخص کون ہے چلیں میں بتا دیتی ہوں کہ وہ ڈاکٹر ابرہیم ہیں ۔۔ انہیں کے توسط سے ہماری پیٹر نے اسلام قبول کیا اور اب وہ پیٹر نہیں خبیب ہیں ۔۔
جان کی موم اور عبد العلیم صاحب بھی جان اور ایما کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔۔
اور اب بچا ڈی ۔۔ کون تھا یہ ڈی ۔۔
کیوں کی اس نے جان اور ایما کی مدد ۔۔
یہ اب اس کے اگلے پارٹ میں پتا چلے گا ۔۔ جی اس کا اگلا پارٹ آۓ گا۔۔۔۔
لیکن اس کے لیے انتظار کریں ۔۔ اور فلحال اس وقت کا مزہ لے ۔۔۔
کیونکہ ۔۔۔
Past is a history
Future is a mystery
Today is a gift ..that’s why it’s called present …
______________________________
” یہ گندی اولاد میری ہی ہونی ہے ۔۔۔” وہ بڑبڑاتا ہوا دھم کرتا زینے اتر رہا تھا ۔۔ اس نے بغل میں لیپ ٹاپ دبایا ہوا تھا ۔۔ چہرے پر شدید غصہ ۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ؟؟” اس کی بیوی نے اسے چہرے کے زوے بگڑے دیکھے تو اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگا کہ پھر سے بچوں نے کوئی کام خراب کیا ہے ورنہ تو کوئی ایسا آیا ہی نہ تھا ابھی تک جس نے اسے زچ کیا ہو۔۔۔۔بڑی مشکل سے اس نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا تھا ۔۔۔
“یہ اپنے گندے انڈوں کا کارنامہ دیکھو ۔۔۔ ” اس نے بغل میں دبا لپٹاپ اس کے سامنے کیا جو پورا کا پورا گیلا تھا ۔۔۔
الیوویا نے اسے دیکھا ۔۔ پانی پانی لیپ ٹاپ ہوا تھا ۔۔ لیکن بھیگا بلا وہ بنا ہوا تھا ۔۔ نہ چاہتے ہوے بھی اس کی ہنسی نکلنے ۔۔۔
اسے ہستے دیکھ کر وہ خطرناک اداروں سے اس کی جانب بڑھا ۔۔۔
” کہنی یہ تمہارا کام تو نہیں ۔۔ ” مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے ہوے اس نے لیپ ٹاپ کچن کے کاؤنٹر پر رکھا ۔۔۔ ویسے بھی جو اس کی حالت ہو گی تھی نہ اب یہ کسی کام کا بھی نہیں رہا تھا ۔۔
وہ ایک قدم پیچھے لیتے ہوے ساتھ ہی آس پاس کوئی چیز اپنے بچاؤ کے لیے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آخر اس کی کمر کچن کانٹر سے لگی ۔۔۔ وہ اس پر جھکا اسی وقت اس نےصلیب پر پرا فلور کا ڈبہ جو کھلا تھا سارا اس پر انڈیل دیا ۔۔
” موم ۔۔۔ ڈوان ۔۔۔ ” پیچھے سے اس کے بیٹوں ۔۔ بقول ڈیرییک اس کے گندے انڈوں نے اپنے واٹر گن کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ماں کو اپنے جابر باپ کے قبضے سے نکالا ۔۔۔
لو جی فلور اور پانی کا سفید مسکچر والا ڈیرییک آپ کے سامنے ہے ۔۔۔
آپ حیران ہو رہی ہیں ۔۔۔ کہ ڈیرییک اور یہ حالت ۔۔ تو جناب زیادہ حیران نہ ہوے ۔۔۔جونیئر ڈیرییک جو اپنے باپ سے دو نے پانچ ہاتھ آگے ہیں وہ آ چکے ہیں ۔۔۔ وہ بھی ٹوئین ۔۔۔ کہنے کو تو یہ چھوٹے تھے ۔۔۔ لیکن جہاں دیکھ لیتے کہ باپ ماں کے قریب گیا ہے فورا ماں کے محافظ بن کر ماں کو بچا لیتے ۔۔
ڈیرییک نے مڑ کر اپنے سپتوں کو خونخوار نظروں سے گھورا ۔۔۔ جہاں نیلی اور گرے آنکھوں والے بندر جب سے پیدا ہوے ہیں انہوں نے سکون نام کا لفظ اس کی ڈکشنری سے کیا ۔۔ بلکل ڈکشنری سے ہی نکال دیا تھا ۔۔۔
وہ ہر وہ کام کرتے جس سے ڈیرییک کا کام خراب ہوتا تھا ۔۔ مثال کے طور پر سارا دن وہ ماں کے ساتھ سوتے رہتے جیسے ان کو خبر ہوتے باپ سونے لگا ہے ۔۔ اپنے رونے کا میوزک آن کر لیتے ۔۔۔۔ اور تب تک چپ نہ ہوتے جب تک وہ نہ رونے والا ہو جاتا ۔۔۔ پھر کب چلنے لگے ۔۔ تو جی بس اب کیا ۔۔ اب تو زمین ہے قدموں تلے ۔۔۔ کبھی باپ کی جل کو جیعلی سمجھ لیتے تو کبھی اس کے کپڑوں کو پیپر جس پر روز نئے رنگ کے نقش و نگار ہوتے تھے ۔۔ مگر باپ سے دشمنی ان کی بجا تھی آخر باپ نے بھی تو چنگی نہ کہ تھی ۔۔
ان کو دیکھا کر چپس کھاتا اور انہیں کھلاتا سیب ۔۔۔
اگر رو رہے ہوں تو منہ پر لگا دیتا ٹیپ ۔۔۔
لیکن کھانے کے معاملے میں ڈیرییک کوئی لحاظ نہیں کرتا تھا ۔۔۔ باندھ دیتا تھا ۔۔ پھر جان کر ان کے سامنے بیٹھ کر کھاتا ۔۔ وہ روتے ہمیں بھی دو ۔۔ لیکن نہیں جی ۔۔ کھانے کے معاملے ہماری ڈیرییک کا حساب تو آپ کو پتا ہے ۔۔ تو کون ؟؟؟
الیوویا نے ڈیرییک کو تیورں کو دیکھا ۔۔ پھر اپنے چھوٹے محافظوں کو ۔۔۔
اور اگلے ہی پل ان کو اپنے اگل بغل میں دبائے لان کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
لان میں ان کے پیچھے آتے ڈیرییک نے مالی کو پانی دیتے دیکھا ۔۔۔ اور بس مل گیا ہتھیار ۔۔۔
اب وہ ان تینوں کو پائپ کے پانی سے بھگو رہا تھا ۔۔۔ اور وہ لوگ ہستے ہوے ادھر اُدھر ہو کر خود کو پانی سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
ان سب کے زندگی سے بھرپور قہقے وہاں گونج رہے تھے ۔۔۔
_______________________________
وہ آئینے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا ۔۔۔ جب اس نے آیئنہ میں اپنے بیوی کا عکس دیکھا جس کے لمبے بال کھلے ہوۓ تھے دائیں ہاتھ میں برش پکڑے وہ اسی کو ناراضگی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کا پھولاں ہوا میں دیکھ کر وہ مسکرایا ۔۔۔جس پر اس کا منہ اور پھول گیا ۔۔۔
اس نے پھٹکنے کے انداز سے برش ٹیبل پر رکھا ۔۔ اور ناراض ہو کر جانی لگی جب اس نے بروقت اسے اس کے لمبے بالوں سے پکڑ کر قریب کیا ۔۔۔
” سی ۔۔۔ اسی لیے ۔۔ نہیں کٹوانے دیتے بال ۔۔۔ ” بھوری آنکھوں میں ناراضگی لیے اس نے اسے گھورا ۔۔۔ جبکہ وہ بنا کچھ کہے اب اسے آئینہ کے سامنے کھڑا کر کے اس کے بال بنا رہا تھا ۔۔ اور وہ آئینہ میں بظاہر تو غصہ سے لیکن در حقیقت بڑی پیار سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ ” دھیان سارا اس کے بال بنانے کی طرف تھا پھر بھی اسے پتا تھا کہ وہ کیسے دیکھ رہی ہے ۔۔ کیسے نہیں ۔۔۔
” پیار بہت زیادہ آ رہا ہے نا ۔۔ اس لیے ایسے دیکھ رہی ہو ۔۔۔ ” آنکھیں گھومتے ہوے طنز کیا گیا تھا ۔۔۔
” اگر میرے پونی کرنے سے تم پیار کا اظہار کرتی ہو تو ڈیل بڑی نہیں ۔۔۔ ” پونی کی آخری گرہ باندھتے ہوے اس نے بظاہر سنجیدگی سے اس کے طنز کا جواب دیا تھا ۔۔۔
” پہلے خود کریں ۔۔۔ پھر مجھے کہنا ۔۔۔۔ ” ایک بار پھر سے آنکھیں گھمائی گی ۔۔۔
” کیا کروں ۔۔۔ !!” انجان بنتے ہوے اس نے اس کا رخ اپنی جانب کیا اور آگے سے اس کے بال دیکھے ۔۔۔
” اظہار محبت ۔۔۔ ” جٹ سے فرمائش کی گی ۔۔۔
” کس نے کہہ دیا کہ مجھے تم سے محبّت ہے ۔۔۔ ” بڑی سنجیدگی سے پوچھا گیا ۔۔ اور اس کا دل کیا کہ اپنا سر دیوار میں ماڑ لیے ۔۔۔ اتنے سال ہونے کے باوجود آج تک اس نے ایک بار بھی اظہار نہیں کیا تھا اپنی محبت کا ۔۔ ہاں اس کی نیلی آنکھوں کی چمک سب کہہ دیتی ہے ۔۔
” جان!!!!!” اس نے زچ آکر اس کا نام لیا ۔۔
” جی ۔۔ بولیں ۔۔ مسسز جان ۔۔۔ ” ساری توجہ بوٹ پہنے پر تھی ۔۔۔
“میں نا ۔۔ اب بات ہی نہیں کرنی ۔۔۔ “
” میں بھی تو یہی چاہتا ہوکہ میرے علاؤہ تم کسی سے بات نہ کرو ۔۔ ” ٹائی اس کی جانب کرتے ہوے اس نے اپنی نیلی آنکھیں اس پر گڑھ دی ۔۔ ایما نے ٹائی اس کے ہاتھ سے پکڑی ۔۔۔ اور اس کے گلے میں باندھ کر جانے لگی کہ اسی وقت اس نے اسے خود سے قریب کیا ۔۔
” ایمان۔ ۔۔ ” اور یہ گی ساری ناراضگی دھری کی دھری ۔۔۔ وہ جب بھی اس کا نام لیتا تھا ۔۔ اس کا دل اتنے ضرور سے دھڑکتا تھا ۔۔ ہونٹوں پر خود بہ خود مسکراہٹ آ جاتی تھی۔۔ چہرے پر رنگ سے پھیل جاتے تھے وہ بھی اس وقت ان رنگوں میں گم تھا ۔۔۔۔کہ اسی وقت باہر سے دروازہ نوک ہوا ۔۔ ساتھ ہی جان کی موم کی آواز آئی ۔۔ لگتا ہے آگیا ہے عمر ۔۔
اس نے اپنے تین سال کے بیٹے کا نام لیا ۔۔ جو ہوبہو اپنے باپ کی کاپی تھا صورت سے لے کر مزاج تک ۔۔۔
اور وہی ہوا دروازہ کھولتے ہی عمر جو نینی کی گود میں تھا اس کے پاس آنے کے لیے ہمکنے لگا ۔۔
ایما نے اسے پکڑا ۔۔ ماں کے پاس آتے ہی وہ پرسکون ہوگیا اور اب اپنی نیلی آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ حساب حال میں کے بال وہ مھٹی میں لے چکا تھا ۔۔ ایک تو دنوں باپ بیٹوں کو پتا نہیں کیا مسلہ تھا اس کے بالوں سے ۔۔۔
” اچھا میں چلتا ہوں ۔۔۔ ” جان نے پہلے ایما کے ماتھے پر بوسا دیا ۔۔ پھر عمر کے جو باپ کو غصے سے دیکھ رہا تھا کہ جی کیوں اس کی ماں کو چھوا ۔۔۔
پکا باپ پر گیا تھا ۔۔
____________________________
” کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔ ” ساحل کے کنارے اس کے ہاتھ کو تھامے وہ واک کر رہے تھے ۔۔سمندر کا ٹھنڈا پانی ان کے پاؤں کو چھو کر واپس جا رہا تھا ۔۔ ڈوبتا ہوا سورج جس کی نارنجی کرنیں ماحول کو عجیب سا جلا بخشی رہے تھے ۔۔
” ایمان کے بارے میں سوچ رہی ہو ۔۔۔” حور نے اسے دیکھتے ہوے شرارت سے کہا جہاں ایمان کا منہ سن کر تاثرات بیگڑ چکے تھے ۔۔۔
وہ لوگ لنڈن خاص کر آے تو ایما ہی سے ملنے اس کے پر زور اصرار پر ۔۔ اب بھی وہ ان دونوں کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد یہاں آئے تھے
” حسرت ہی رہ گی ۔۔ کبھی یہ حور یہ بھی کہہ دے ۔۔ آپ کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔ ” آہل کی شکل دیکھ کر حور زور سے ہنسی ۔۔۔
سمندر میں پانی کا شور ۔۔
پرندے واپس اپنے گھروں کو جارہے تھی ان کی چہچہاہٹ ۔۔
اور اس کے ساتھ حور کی کھلکھل کرتی ہنسی ۔۔
کیا اس سے بھی زیادہ کوئی خوبصورت دھن ہوگی ۔۔
آہل نے اس نے چہرے کو دیکھتے ہوے سوچا تھا ۔۔
حور بھی اس کی گہری نظریں محسوس کر کے جھنپ گی تھی ۔۔۔۔
اس کا رخ سمندر کی جانب کرتے ہوے آہل نے پیچھے سے اسے اپنے حسار میں لیا اور اپنی تھوڑی اس کے کندھے پر ٹکا دی ۔۔ اس وقت پر یہاں رش کوئی نہیں تھا ۔۔ بس ایکایا دوکا لوگ تھے ۔۔ وہ بھی بہت دور ۔۔
لیکن حور آہل کی اس حرکت پر بوکھلا ہی تو گی آج سے پہلے آہل نے کبھی کسی پبلک پلیز پر ایسی حرکت بھی تو نہیں کی تھی ۔۔ گال فورا لال ہوے۔ پلکیں لرز اٹھی ۔۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوئی تھی کہ حور کو لگا کہ نکل کر ہی نہ بھاگ جاے۔۔
آہل نے بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے پر پھلتے رنگوں کو دیکھا تھا ۔۔۔
” ویسے ۔۔۔ مسز آہل آپ کو مجھے کچھ بتانا نہیں ۔۔۔؟؟؟ ” آہل نے اپنی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر سریس انداز میں پوچھا تھا ۔۔
حور جو کنفیوز سی نظریں جھکاۓ کھڑی تھی آہل کی بات پر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” کون سی ۔۔۔!! ” بہت سوچنے کے بعد بھی حور کو یاد نہیں آرہا تھا کہ کوئی ایسی بات ہے جو اس نے آہل کو بتانے ہے ۔۔۔
” یہی ۔۔ میں بابا بنے والا ہوں ۔۔۔ ” حور کو ڈیروں شرم آرہی تھی یہی سوچ کر کہ آہل کو پتا لگ گیا ہے ۔۔۔۔ خود کو اس کی نظروں سے چھپانے کی خاطر اس نے چہرہ اپنے دنوں ہاتھوں چھپا لیا ۔۔۔ اللہ نے پانچ سال بعد انہیں اپنی نعمت سے نوازا تھا
” ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ ” اس کے ریکشن پر وہ دل کھول کر ہنسا تھا ۔۔۔۔
آہل نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔
” حور میں بتا نہیں سکتا میں آج کتنا خوش ہو ۔۔۔ تم نے مجھے مکمل کردیا ۔۔ تمہارے آنے سے سب کچھ ٹھیک ہوتا گیا ۔۔ میں اللہ کا جنتا شکر کروں کم ہے کہ اس نے مجھے اپنے اتنے انمول خزانے سے نوازا ۔۔۔۔ ” حور چپ کر اس کی باتیں سن رہی تھی ۔۔ بولنے کی ہمت نہیں تھی اس میں آہل کی گہری نظریں اس کی حالت خراب کر رہے تھے ۔۔۔
آخر قسمت کو ہی اس پر ترس آگیا کیونکہ اہل کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔ آہل کا موبائیل بج رہا تھا ۔۔جس کی وجہ سے آہل نے اس کو چھوڑ اور پہلے کال کرنے والی کا نام سکرین پر پڑے غصے سے دیکھا ۔۔ لیکن پھر جلدی سے کال پک کی کیونکہ کال داجی کی تھی ۔۔۔
” جی داجی ۔۔۔ ” اس نے ہڑبڑاٹ میں موبائیل کان سے لگایا ۔۔۔۔
” برخوردار سلام کرنا بھول گیے ہو ۔۔۔ ” داجی نے بھی فوراً اس کو وہ گھرکا تھا وہ تو سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا ۔۔۔
” سوری ۔۔ اسلام وعلیکم۔۔۔ ” اس نے حور کو گھورتے ہوئے سلام کیا ۔۔۔ وہ جو وہاں سے کھنسے کے ارادے میں تھی آہل کی گھوری پر منہ بسور کر اپنا منہ سمندر کی جانب کر دیا ۔۔۔۔
اور پانی کی لہروں کو دیکھنے لگی ۔۔۔ شام کے سائے جیسے جیسے گہرے ہو رہے تھے ۔۔ وسیے ہی ٹھنڈ میں اضافہ ہو رہا تھا ۔۔ سردی کے احساس کے تحت اس نے بازؤ سہلتے ہوے خود کو حرات دینے چاہے ۔۔۔۔ کہ اسی وقت آہل نے اپنا کورٹ اس کے کندھے پر پھیلایا ۔۔۔ساتھ ہی اپنی بازوں بھی اس کے کندھے پر رکھ کر واپسی کے لیے مڑ گیا ۔۔۔
اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی ۔۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ” جب وہ کچھ خاموش رہا تو اس نے خود ہی پوچھ لیا ۔۔۔
” داجی کا آڈر ہے کہ اب ہم واپس آجاے دیان رو رہا ہے ۔۔ ” اسے گاڑی میں بیٹھاتے اس نے گاڑی ہوٹل کی جانب موڑ دی تھی ۔۔۔
دیان کو وہ لوگ پاکستان ہی چھوڑ کر آۓ وجہ ایک تو اسے سردی بہت جلدی لگتی تھی ۔
۔ دوسرا وہ جناب سکول جاتے تھے اور پیپر بھی ہونے والے تھے ۔۔۔
حور نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو موبائیل پر کل کی فلائیٹ کی بیکنگ کروا رہا تھا ۔۔
خود پر حور کی نظریں محسوس کر کے اہل اسے دیکھا پھر کال بند کر کے بائیں ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑا منہ کے قریب کر کے اس نے اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا ۔۔۔ جبکہ دیھان اس کا سارا سامنے سڑک کی طرف تھا ۔۔۔ حور ایک بار پھر جنھپ گی ۔۔۔
اک ع تھی پھر ش تھا
اک آگ تھی پھر راکھ تھی
صحرا بھی تھا اور پیاس بھی تھی
پھر اک خلاء بے انت سا،اک بند۔گلی سا
راستہ
ویرانیاں ،تنھایاں، پھر ق تھا
پھر سارا منظر راکھ تھا
سب خاک تھا
عشق تھا
بس عشق تھا !
(ختم شد )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *