Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29
No Download Link
318K
39
Rate this Novel
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode01 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode02 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode03 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode04 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode05 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode06 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode07 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode08 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode09 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode10 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode11 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode12 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode13 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode14 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode15 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode16 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode17 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode18 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode19 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode20 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode21 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode22 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode23 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode24 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode25 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode26 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode27 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode28 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29 (Watching)Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode30 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode31 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode32 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode33 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode34 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode35 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode36 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode37 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode38 Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Last Episode
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29
Rah Pla Ishq by Zaha Qadir Episode29
جان وہاں سے سیدھا واپس ہسپتال آیا ۔۔۔
ڈیرییک کو مکمل ہوش آ چکا تھا ۔۔۔۔ اسے ملنے لوگ اس طرح آ رہے تھے جیسے وہ کوئی بہت مشہور شخصیت ہو ۔۔۔ یا کسی ملک کا پرائم منسٹر ۔۔۔
ہسپتال کے عملے والے بھی حیران تھے اس شخص میں ایسا کیا ہے جو اتنے لوگ اس سے ملنے آ رہے ہیں ۔۔۔خیر انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ جب تھا یہاں ہے ۔۔۔ ان کی جان عزاب میں ڈالنے والا ۔۔آخر کو وہ ڈیرییک ہے ۔۔
جان بھی اس کے کمرے میں جانے لگا کہ دروازے پر ایک کاغذ پر کچھ لکھا تھا ۔۔۔
(ڈیرییک یعنی مجھ سے جو بھی ملنے آئی خالی ہاتھ ہرگز نہ آۓ ۔۔۔ اور اگر خالی ہاتھ آ ہی گئے ہیں تو واپس جاۓ اور میرے لیے ۔۔کچھ کھانے کا سامان لاۓ ۔۔ اور اگر مجھ سے اس وجہ سے نہ ملنے آئے کہ میرے لیے کچھ لانا پڑنا ہے ۔۔ تو میں نہایت پیار سے ان سے یہی کہوں گا ۔۔۔ میں سہی بھی ہونا ہے ۔۔۔ آپ کا پیارا ڈیرییک ۔۔ ) یہ تحریر دیکھ کر جان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں آ چکا ہے ۔۔۔
وہ اندر آیا ۔۔تو کمرے میں کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان پڑا ہوا تھا ۔۔
کہنی چاکلیٹ کا ڈبہ تو کہنی جوس کا۔۔۔یہ پھر چپس ۔۔کچھ نہ کچھ ۔۔
بھئ دہشت ہی اتنی تھی ہمارے مریض کی ۔۔۔
اور ہاں مریض صاحب کی ایک فکیچر زراہ ٹانگ لٹکی ہوئی تو ۔۔۔دائیں بازوں جو فیکچر کا شکار تھا اسے بےچارے کو بھی آرام نصیب ہوا تھا ۔۔ کیونکہ جس شخص کے وہ ہاتھ پاؤں تھے ۔۔۔ وہ کہاں ٹک سکتے تھے ۔۔
خیر اب بھی کہاں ٹکے ہوے تھا ۔۔ بائیں ہاتھ اس کا مسلسل چپس اور جوس کے ساتھ برابر کا انصاف کر رہا تھا ۔۔۔ اگرچہ اس کا بائیں بازوں بھی زخمی تھا لیکن اس میں فیکچر کا مسلہ نہیں تھا ۔۔
جان نے خونخوار نظروں سے اس مریض کو گھورا ۔۔۔جس کا چلتا منہ اسے دیکھ کر روک چکا تھا ۔۔اب آنکھوں میں حد درجہ مصعومت اور چہرے پر مسکین سی شکل بنانے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
لیکن جان اس کے اندر کے شیطان سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے وہ اس کی مسکین سی شکل پر کوئی ترس کھانے والا نہیں تھا ۔۔۔
ڈیرییک نے جب اس کے تیور دیکھے تو اسے اپنے اردگرد خطرے گھنٹیاں سنائی دی ۔۔
” ہاےےے بڈی ۔۔۔ دیکھ تیرا یار تیرے لیے موت کو مات دے کر آیا ہے ۔۔۔ ” ڈیرییک نے اپنے طرف آہستہ سے بڑھتے جان کو دیکھا تو تھوک نگلتے ہوے بڑی ہی پیار سے بولا۔۔
جس کا جان پر زرہ اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔
وہ ایسے ہی اس کی جانب بڑھتا رہا ۔۔۔
” اچھا چپس کھاۓ گا ۔۔۔ ؟” ڈیرئیک دل پر پتھر رکھ کر اسے چپس کی آفر کی ۔۔۔ ورنہ جان اپنی کھا جانے والی نظروں سے اسی کی نگل جانا تھا ۔۔۔
اس کے پاس پہنچ کر جان نے کرسی سے چیزیں اٹھا کر سائڈ پر رکھی ۔۔ اور چیئر اس کے سامنے کر کے بیٹھ گیا ۔۔
اس کی نیلی آنکھوں سے شعلے نکل رہی تھی ۔۔ لیکن چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔
اس نے اس سے چپس کا پیکٹ پکڑا ۔۔۔ اور اس میں سے ایک چپس نکال کر منہ میں ڈال اور زور زور سے چبا کر کھانے لگا ۔۔جیسے وہ چپس نہ ہو ڈیرییک ہو ۔۔۔
ڈیرییک تو یہ دیکھ کر اور کھسیانا ہو گیا ۔۔ اس وقت اس کی ٹانگ میں زخمی تو ۔۔ نہ وہ بھاگ سکتا تھا ۔۔
وہ پوری طرح اس جلاد کے رحم و کرم پر تھا ۔۔ جو نہ تو اس پر رحم کرنے کے موڈ میں لگ رہا تھا ۔۔ نہ کرم کرنے کے موڈ میں ۔۔۔
” ہاں تو کیا پیغام تھا ۔۔۔۔ ” جان نے اس کے زخمی بازوں کے بلکل قریب ہاتھ رکھتے ہوے پر سوچ انداز میں بولا ۔۔۔ اس کے اس طرح ہاتھ رکھنے سے جان نے ڈر کر اسکے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔۔پھر اس کی شکل کو ۔۔
” ہاں یاد آیا ۔۔۔ ” اس نے اس اسی زخمی فیکچر زدہ بازوں پر زور سے ہاتھ مارا ۔۔ ” سوری میں اتنی ۔۔ جلدی جان نہیں چھوڑنے والا۔۔۔ ” یہی تھا نا ۔۔۔ اس نے ٹھنڈے انداز میں اس سے پوچھا ۔۔
ڈیرییک کا تو درد سے تراح نکل گیا ۔۔۔ اس نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا ۔۔جواب میں جان نے بھی بے رحم نظروں سے اسے گھورا ۔۔
” وہ تو میں حوصلہ دے رہا تھا کہ میں ٹھیک ہو ۔۔۔ ” ڈیرییک نے مصعوم شکل بنائی ۔۔۔
” تو میں بھی تو حوصلہ دے رہا ہوں ۔۔۔ میرا یار اتنی تکلف سے میں ہے ۔۔۔ ” جان نے پھر دو بار اس کے بازوں پر ہاتھ زور سے رکھا ۔۔۔
ڈیرئیک کی تو چیخ نکلتے نکلتے رہ گی ۔۔۔
” جان ۔۔ میری سانس روک رہی ہے ۔۔۔۔ پانی ۔۔ پانی ۔۔ ” اس نے اکھڑتی سانسوں درمیان کہا ۔۔
جہان بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا ۔۔
اور جلدی سے پانی گلاس میں ڈال اس کے سر نیچے ہاتھ کر کر اس کا سر اپر کر پانی اس کے منہ سے لگایا ۔۔
ڈیرییک نے ابھی دو ہی آپ لیے ہوں گے کہ جان نے یکدم گلاس میں موجود سارا پانی اس کے منہ انڈیل دیا ۔۔۔
اب تو اسے سہی معنوں میں غوطہ لگا تھا ۔۔۔
جبکہ جان اب سیدھا کھڑا کر اس کی حالت پرسکون انداز میں محلاظہ کر رہا تھا۔
تھوری دیر بعد اس کی حالت سنبھالی تو اس نے جان کو گھورا ۔۔۔
” اب اگر تم نے کچھ کیا نہ ۔۔۔ تو پھر دیکھا ۔۔۔۔ ” اتنی سریس کنڈیشن میں بھی اس کی دھمکی سن کر جان مے چہرے پر تمسخر اڑانے والی مسکراہٹ آئی ۔۔
” میں اور کروں گا بھی ۔۔ اور پھر مل کر دنوں دیکھیں گیۓ ۔۔۔۔ ” ڈیرییک نے تپ کر اسے دیکھا ۔۔۔
” تم نہ بھولو ۔۔۔ میں ٹھیک بھی ہونا ہے ۔۔۔ ” ڈیرییک نے اسے انڈرئیک دھمکی دی تھی ۔۔۔
” مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔۔ بچپن سے سنتے آ رہا ہوں کہ تو نے ٹھیک ہونا ہے ۔۔۔ لیکن کیا ۔۔ ابھی بھی تمہاری دماغی حالت ویسی ہی ہے ۔۔۔ ” جان اسے سہی معنوں میں ٹونٹ ٹونٹ کر رہا تھا ۔۔
یہ شکر تھا کہ اب ڈیرییک کو منہ سے ہی باتیں سننا رہا تھا ۔۔۔ورنہ اس کے بھاری ہاتھ اس کی کچومر بنی ہڈیوں کا مزید کچومر بنانے والی تھی ۔۔
جان کا موبائیل بجا ۔۔۔ اس نے موبائیل نکال کر دیکھا تو اس کے وکیل کا فون تھا ۔۔۔
” سر جو پیپر ریڈی ہیں ۔۔۔ ” دوسری طرف سے بات سن کر اس کی نیلی آنکھوں میں چمک سے کندی تھی ۔ ۔۔ کچھ دیر پہلی جو ٹیس کرنے والی مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی ۔۔ اب اس کی جگہ سرد سی مسکراہٹ آدمی تھی ۔۔۔
اس ے چہرے پر بس سرد تاثرات تھے ۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔ آپ سنبھال کر رکھیں ۔۔ پھر کل ملتے ہیں ۔۔۔ ” سنجیدگی سے بولتے اس نے بات مکمل کر کے کال کٹ کی ۔۔۔
اور ڈیرییک کی طرف دیکھا جو بڑی مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
” تمہارے ارادے مجھے نیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔ ” وہ اسی طرح اس کی طرف مشوک نظروں سے دیکھتا بولا ۔۔
” نہ میں نیک نہ میرے ارادے ۔۔۔ ” وہ موبائیل جیب میں ڈال کر اس کے پاس دوبارہ سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” تم مجھے بتا رہے ہو کہ نہیں ۔۔۔۔ ” ڈیرییک نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن کراہ کر دوبارہ گر گیا ۔۔۔ جان نے اب بھی اس کی مدد نہیں کی تھی ۔۔۔
” نہیں ۔۔ ” دوٹوک یک لفظی جواب ۔۔
” کوئی نہیں ۔۔۔ میں خود پتا کر والوں گا ۔۔۔ ” اس بات پر جان نے بے نیازی سے کندھے اچک جیسے کہہ رہا ہو تمہاری مرضی ۔۔۔
تھوری دیر بعد نرس نے آکر اسے انجکشن لگایا تو وہ پھر نیند میں چلا گیا ۔۔۔
اور جان وہنی اس کے پاس بیٹھا کل کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔
وہ فیصلہ لے چکا تھا ۔۔
اب بس عمل کرنا رہ گیا تھا ۔۔۔
وہ بھی کل اس نے کر لینا تھا ۔۔
______________________________
آج پھر وہ لڑکی بھاگ رہی تھی ۔۔
پھر وہ ساۓ اس کے پیچھے تھے ۔۔
وہی جنگل ۔۔
وہی سایوں کا قابو کرنا ۔۔
اور ایک ایک کر کے اس کے اندر داخل ہونا ۔۔
لیکن ان سب کہ اس کے اندر جاتے ہی ۔۔ اس کے جسم کو آگ لگ گی ۔۔
وہ چیخ رہی تھی ۔۔ مسلسل ۔۔
اپنے جسم پر لگی آگ وہ کسی طرح بھجانا چاہتی تھی ۔۔
لیکن وہ اس کو جلا رہی تھی ۔۔۔
اسے ختم کر رہی تھی ۔۔
وہ چیختے ہوے اٹھی ۔۔
اسے یوں لگ رہا تھا کہ اب بھی اس کو لگی ہوئی ہے ۔۔
اس نے سائڈ ٹیبل پر پڑے پانی کا جگ اٹھیا ۔۔۔ اور اپنے اپر انڈیل دیا ۔۔لیکن جلن اب بھی لگ رہی تھی ۔۔
وہ دوڑتے ہوے باتھ روم گی ۔۔ اور شاور کے نیچے جا شاور کھولا ۔۔۔
اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔۔
ٹھنڈا پانی اس کے جسم پر پڑا رہا تھا ۔۔
لیکن یو لگ رہا تھا کہ وہ آگ اب بھی لگی ہے ۔۔۔
اس کے سارے کپڑے بھیگ گئے تھے ۔۔
وہ اسی طرح روتی ہوئۓ شاور کے نیچے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گی ۔۔۔
پہلے پہل تو یہ خواب ساۓ تک رہے تھے ۔۔ لیکن آج آگ لگنا ۔۔ اسے بے چین اور خوفزدہ کرنے کے ساتھ حراس کر رہا تھا ۔۔
زندگی کبھی اتنی مشکل بھی ہوگی اس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا ۔۔
اسے حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہیں جو آکر اسے کہتا ۔۔
“کہ ایما یہ خواب ہے کچھ نہیں ہوا اٹھ جاؤ “
اکیلا ہونا کسے کہتے ہیں ۔۔ یہ کوئی آج ایما سے پوچھتا ۔۔
تنہائی وہ زہر جو انسان کو دھیرے دھیرے ختم کرتی ہے ۔۔ سب سے پہلے وہ اعصاب پر حملہ کرتی ہے ۔۔ پھر وہ زہر آنکھوں میں اترتا ہے ۔۔ جس سے انسان کو ہر ہستہ شخص بڑا لگتا ہے یا تو وہ سب سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔۔ یا پھر کمزور پر جاتا ہے ۔۔ پھر یہ زہر آنکھوں سے ہوتا ہونٹوں اور جب دل میں جاتا ہے نا تو انسان بےحس ہو جاتا ہے ۔ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔۔جہاں ہر جزبہ مر جاتا ہے ۔۔
ہوٹل سے آنے کے بعد وہ سیدھا گھر آئی تھی ۔۔ اور روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں لگا ۔۔
آج ویسے بھی کلب سے آج چوٹی تھی ۔۔۔
اس نہیں پتا لگا کہ وہ کتنے گھنٹے سے ٹھنڈے شاور کے پانی کے نیچے کھڑی تھی ۔۔۔
جب اس کے ہاتھ پاؤں سن ہونا شروع ہوئے تو وہ ہوش میں آئی ۔۔۔
اور باتھ روم کی دیوار کا سہارا لے کر آہستہ سے اٹھی ۔۔ اور سہارے سے ہی چلتے ہوئے وہ واپس کمرے میں آئی ۔۔
کھڑکی سے پردے ہٹے ہوے تھے ۔۔
نیا دن شروع ہو چکا تھا ۔۔
لیکن کیا واقعی نیا دن شروع ہوا تھا ۔۔
سب کچھ ویسا ہی تو تھا ۔۔
زندگی اس کے لیے ایک امتحان بن چکی تھی ۔۔
ایما کو نہیں پتا تھا ۔۔
اس کے امتحان اب سہی معنی میں شروع ہونے والے ہیں ۔۔
اس کی زندگی میں طوفان اب سہی معنوں میں آنے والا ہے ۔۔۔
اس کے بعد اس سے سویا نہیں گیا ۔۔۔
اس لیے اس نے آفس جانے کے لیے تیار ہونا بہتر جانا ۔۔ ویسے بھی فارغ بیٹھ کر فضول سوچوں نے اسے مزید تنگ کرنا تھا ۔۔
فریش ہو کر جب وہ باتھ روم سے نکلی تو پہلی چھنک آئی ۔۔پھر دوسری پھر تیسری ۔۔ اور پھر یہ سسلہ چل نکلا ۔۔
چھینک چھنک کر اس کی چوٹی سی ناک لال ہوگی تھی ۔۔
اب اتنی دیر سردی میں وہ بھی لنڈن کی ۔۔ اور ٹھنڈے پانی کے نیچے بیٹھے رہو تو یہ تو ہونا ہی تھا ۔۔
اس نے بال ٹاول میں لپیٹے اور کچن میں آکر کافی بنانے لگی ۔۔ ساتھ میں اس نے میڈیسن بھی لے لی ۔۔
یہ اپارٹمنٹ دو کمروں جن میں ایک کچن اور باتھ روم پر مشتمل تھا ۔۔
وہ واپس کمرے میں آئی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر ۔ اس نے اپنے بال خشک کرنے چاہے لیکن جیسے ہی اس کی نظر شیشے میں اپنے عکس پر گی تو وہ حیران رہ گی ۔۔۔
یہ وہی تھی کیا ۔۔۔
چمکتی بھوری آنکھیں اب ویران اور رو رو کر سوجن کا شکار ہو چکی تھی ۔۔۔ آنکھیوں ایک نیچے ہلکے سے پڑے تھے ۔۔ زکام کی شدت سے سرخ ہوتی اس کی ناک اور گال ۔۔ اور برسوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔
ایک ہی رات میں وہ کیا بن گی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
