Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir NovelR50740 Last updated: 29 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rah Pla Ishq by Zaha Qadir

وہ تقریباً دوڑتے ہوئے آفس میں داخل ہوئی ۔اس نے جلدی سے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی ۔
""شکر ہے پہنچ گئی " ابھی آٹھ بجنے میں پانچ منٹ تھے ۔۔اس نے شکر کا سانس لیا ۔
""آج باس نے بھی آنا ہے ۔سنا ہے کہ وقت کے بہت پابند ہیں۔۔ ایک منٹ آگے پیچھے ہونا بھی برداشت نہیں کرتے "
ایما خود سے باتیں کرتے ہوئے لفٹ میں داخل ہوئی تھی کے اس کے ساتھ ہی بلیک پینٹ اور بلو ٹی شرٹ پہنے ایک شخص داخل ہوا ۔
اس شخص کے داخل ہوتے ہی وہ ایک طرف ہوگئی ۔ اس شخص نے ایک نظر اس معمولی سی لڑکی پر ڈالی جو اس کے آنے سے ایسے سائیڈ پر ہوئی تھی جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔
حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا ایما نے بس جہان کو جگہ دی تھی۔
اس شخص کو ایما کا انداز پسند نہیں آیا اور یہ اس کے ماتھے پر پڑے بل سے صاف پتا لگ رہا تھا ۔۔
ایما نے 5 فلور کا بٹن دبانے کے لیے ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ اسی وقت اس شخص نے بھی ہاتھ آگے کیا ۔۔
ایما نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا اور وہ سٹل ہوگئی ۔۔اتنا مکمل حسن اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
درازقد ٫ کسرتی جسم ٫ گندمی رنگت۔۔ پُرکشش نقوش اور کانچ سی نیلی آنکھیں , بھورے بال جو بے ترتیبی سے اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اور ہلکی بڑی ہوئی شیو ۔ایما نے اپنی اب تک کی زندگی میں اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا تھا۔۔
ایما کے اس طرح مسلسل دیکھنے سے اس کے ماتھے پر پڑے بل مزید گہرے ہوگئے
"Why you are continuously staring at me ??? "
""تم کیوں مسلسل مجھے گھوری جا رہی ہو ؟؟؟ ""
اس شخص نے اپنا رخ مکمل ایما کی طرف کر کے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا ۔۔
اس کا انداز اتنا انسلٹنگ تھا کہ ایما کا خفت کے مارے چہرہ لال سا ہو گیا تھا۔۔
ایما نے اپنی نظر اس پر سے ہٹا لی کہ مزید وہ کچھ نہ کہہ دے۔
جان ایما کی طرف سے سوری کے انتظار میں اسی جانب دیکھ رہا تھا لیکن جب اس کے گال لال ہوتے دیکھے تو حیران رہ گیا کہ اس نے ایسے بھی کیا کہہ دیا کہ۔۔
اس نے اپنی حیرت کو جلدی سے قابو کیا ۔
جب ایما آگے سے کچھ نہیں بولی تو جان نے برہم نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
""Hey girl ! I asked something ? ."""
اس نے ایما کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا ۔انداز ایسا تھا جیسے وہ کسی ملک کا بادشاہ ہے اور ایما اس کی کنیز ۔
ایما کو اس کا انداز بھڑکا گیا کب سے وہ کنٹرول کر رہی تھی اپنی زبان پر اب جیسے بس ہوگئی تھی۔۔
""I was not staring at you i was praising the beauty of nature"
""میں تمہں نہیں دیکھ رہی تھی میں تو خدا کی بنائی خوبصورتی دیکھ رہی تھی""
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے بات مکمل کی اور لفٹ سے نکل گئی جو کہ اس دوران کھل گئی تھی۔۔
اب جان کو اندازہ ہوا تھا کہ بظاہر معمولی دِکھنے والی لڑکی معمولی نہ تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *